غسل خانہ

گھوگا

صدر دروازے کے اندر داخل ہوتے ہی سڑھیوں کے پاس ایک چھوٹی سی کوٹھڑی ہے جس میں کبھی اُپلے اور لکڑیاں کوئلے رکھے جاتے تھے۔ مگر اب اس میں نل لگا کر اس کو مردانہ غسل خانے میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ فرش وغیرہ مضبوط بنا دیا گیا ہے تاکہ مکان کی بنیادوں میں پانی نہ چلا جائے۔ اس میں صرف ایک کھڑکی ہے جو گلی کی طرف کھلتی ہے۔ اس میں زنگ آلود سلاخیں لگی ہوئی ہیں۔ میں پانچویں جماعت میں پڑھتا تھا جب یہ غسل خانہ میری زندگی میں د اخل ہوا۔ آپ کو حیرت ہو گی کہ غسل خانے انسانوں کی زندگی میں کیونکر داخل ہو سکتے ہیں۔ غسل خانہ تو ایسی چیز ہے جس میں آدمی داخل ہوتا ہے اور دیر تک داخل رہتا ہے۔ لیکن جب آپ میری کہانی سُن لیں گے تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ یہ غسل خانہ واقعی میری زندگی میں داخل ہُوا اور اس کا ایک اہم ترین جزو بن کے رہ گیا۔ یوں تو میں اس غسل خانے سے اس وقت کا متعارف ہوں جب اس میں اُپلے وغیرہ پڑے رہتے تھے اور میری بلی نے اس میں بھیگے ہُوئے چوہوں کی شکل کے چار بچے دیے تھے۔ ان کی آنکھیں دس بارہ روز تک مندی رہی تھیں چنانچہ جب میرا چھوٹا بھائی پیدا ہوا تھا۔ اس کی آنکھیں کھلی دیکھ کر میں نے امی جان سے کہا تھا۔

’’امی جان میری بلی ٹیڈی نے جب بچے دیے تھے تو ان کی آنکھیں بند تھی اس کی کیوں کھلی ہوئی ہیںء‘‘

یعنی میں بچپن ہی سے اس غسل خانے کو جانتا ہُوں لیکن یہ میری زندگی میں اس وقت داخل ہوا۔ جب میں پانچویں جماعت میں پڑھتا تھا اور ایک بھاری بھر کم بستہ بغل میں دبا کر ہر روز اسکول جایا کرتا تھا۔ ایک روز کا ذکر ہے میں نے اسکول سے گھر آتے ہوئے سردار ودہا واسنگھ پھل فروش کی دکان سے ایک کابلی انار چُرایا۔ میں اور میرے دو ہم جماعت لڑکے ہر روز کچھ نہ کچھ اس دکان سے چرایا کرتے تھے لیکن بھائی ودہاواسنگھ جو پھلوں کے ٹوکروں میں گِھرا ایک بڑی سی پگڑی اپنے کیسوں پر رکھے سارا دن افیم کے نشے میں اونگھتا رہتا تھا کو خبر تک نہ ہوتی تھی۔ مگر بات یہ ہے کہ ہم بڑی بڑی چیزیں نہیں چراتے تھے۔ کبھی انگور کے چند دانے اُٹھا لیے کبھی لوکاٹ کا ایک گُچھا لے اڑے۔ کبھی مٹھی بھر خوبانیاں اٹھائیں اور چلتے بنے۔ لیکن اس دفعہ چونکہ میں نے زیادتی کی تھی اس لیے پکڑا گیا۔ ایک دم بھائی ودہاوا سنگھ اپنی ابدی پینک سے چونکا اور اتنی پُھرتی سے نیچے اتر کر اس نے مجھے رنگوں ہاتھوں پکڑا کہ میں دنگ رہ گیا۔ ساتھ ہی میرے حواس باختہ ہو گئے۔ پہلے تو میں اس چوری کو کھیل سمجھا تھا لیکن جب میلی داڑھی والے سردار ووہاواسنگھ نے اپنی پھولی ہوئی رگوں والے ہاتھ سے میری گردن ناپی تو مجھے احساس ہُوا کہ میں چور ہوں۔ بچپن ہی سے مجھے اس بات کا خیال رہا ہے کہ لوگوں کے سامنے میری ذلت نہ ہو۔ چنانچہ سرِ بازار جب میں نے خود کو ذلیل ہوتے دیکھا تو فوراً بھائی ووہاوا سنگھ سے معافی مانگ لی۔ آدمی کا دل بہت اچھا تھا۔ انار میرے ہاتھ سے چھین کر اس نے وہ میل جو اس کے خیال کے مطابق انار کو لگ گیا تھا اپنے کرتے سے صاف کیا اور بڑبڑاتا ہوا چلا گیا۔

’’وکیل صاحب آئے تو میں ان سے کہونگاکہ آپ کے لڑکے نے اب چوری شروع کردی ہے۔ ‘‘

میرا دل دھک سے رہ گیا۔ میں تو سمجھا تھا کہ سستے چھوٹ گئے۔ وکیل صاحب یعنی میرے ابا جی سردار ودہاوا سنگھ نہیں تھے۔ وہ نہ افیم کا نشہ کرتے تھے اور نہ انھیں پھلوں ہی سے کوئی دلچسپی تھی۔ میں نے سوچا اگر اس کمبخت ودہاوا سنگھ نے ان سے میری چوری کا ذکر کردیا تو وہ گھر میں داخل ہوتے ہی امی جان سے کہیں گے۔

’’کچھ سنتی ہو۔ اب تمہارے اس برخوردار نے چوری چکاری بھی شروع کردی ہے۔ سردار ودہاواسنگھ نے جب مجھ سے کہا کہ وکیل صاحب آپکا لڑکا انار اٹھا کے بھاگ گیا تھا تو خدا کی قسم میں شرم سے پانی پانی ہو گیا۔ میں نے آج تک اپنی ناک پرمکھی بیٹھنے نہیں دی۔ لیکن اس نالائق نے میری ساری عزت خاک میں ملا دی ہے۔ ‘‘

وہ مجھے دو تین طمانچے مار کر مطمئن ہو جاتے مگر امی جان کا ناک میں دم کردیتے۔ اس لیے کہ وہ ہماری طرف داری کرتی تھی۔ وہ ہمیشہ اس تاک میں رہتے تھے کہ ان کی اولاد( ہم چھ بیٹے تھے) سے کوئی چھوٹی سی لغزش ہو اور وہ آنگن میں اپنے گنجے سر کا پسینہ پونچھ پونچھ کر امی جان کو کوسنا شر وع کردیں جیسے سارا قصور ان کا ہے۔ کوسنے کے بعد بھی ان کا جی ہلکا نہیں ہوتا تھا۔ اس روز کھانا نہیں کھاتے تھے اور دیر تک خاموش آنگن میں سیمنٹ لگے فرش پر اِدھر اُدھر ٹہلتے رہتے تھے۔ جس وقت بھائی ودہاوا سنگھ نے وکیل صاحب کا نام لیا میری آنکھوں کے سامنے ابا جی کا گنجا سر آگیا جس پر پسینے کی ننھی ننھی بوندیں چمک رہی تھیں ان کو ہمیشہ غصے کے وقت اس جگہ پر پسینہ آتا ہے۔ بستہ میری بغل میں بہت وزنی ہو گیا۔ ٹانگیں بے جان سی ہو گئیں۔ دل دھڑکنے لگا۔ شرم کا وہ احساس جو چوری پکڑے جانے پر پیدا ہُوا مٹ گیا اور اس کی جگہ ایک تکلیف دہ خوف نے لے لی۔ ابا جی کا گنجا سر۔ اس پر چمکتی ہوئی پسینے کی ننھی ننھی بوندیں۔ آنگن کا سیمنٹ لگا فرش۔ اس پر ان کا غصے میں اِدھر اُدھر چھیڑے ہوئے بیر شیر کی طرح چلنا اور رک رک کر امی جان پر برسنا۔ سخت پریشانی کے عالم میں گھر پہنچا غسل خانے کے پاس ٹھہر کر میں نے ایک بار سوچا کہ اگر اس کمبخت پھل فروش نے سچ مچ ابا جی سے کہہ دیا تو آفت ہی آجائے۔ دو تین روز کے لیے سارا گھر جہنم کا نمونہ بن جائے گا۔ ابا جی اور سب کچھ معاف کرسکتے تھے۔ لیکن چوری کبھی معاف نہیں کرتے تھے۔ ہمارے پرانے ملازم نبّو نے ایک بار دس روپے کا نوٹ امی جان کے پان دان سے نکال لیا تھا۔ امی جان نے تو اسے معاف کردیا تھا لیکن ابا جی کو جب اس چوری کا پتا چلا تو انھوں نے اسے نکال باہرکیا

’’میں اپنے گھرمیں کسی چور کو نہیں رکھ سکتا۔ ‘‘

ان کے یہ الفاظ میرے کانوں میں کئی بار گونج چکے تھے۔ میں نے اوپر جانے کے لیے زینے پر قدم ہی رکھا کہ ان کی آواز میرے کانوں میں آئی۔ جانے وہ میرے بڑے بھائی ثقلین سے کیا کہہ رہے تھے لیکن میں یہی سمجھا کہ وہ بنو کو گھر سے باہر نکال رہے ہیں اور اس سے غصے میں یہ کہہ رہے ہیں

’’میں اپنے گھر میں کسی چور کو نہیں رکھ سکتا۔ ‘‘

میرے قدم منوں بھاری ہو گئے۔ میں اور زیادہ سہم گیا اور اوپر جانے کے بجائے نیچے اُتر آیا۔ خدا معلوم کیا جی میں آئی کہ غسل خانے کے اندر جا کر میں نے صدقِ دل سے دعا مانگی کہ ابا جی کو میری چوری کا علم نہ ہو۔ یعنی ودہاوا سنگھ ان سے اس کا ذکر کرنا بھول جائے۔ دعا مانگنے کے بعد میرے جی کا بوجھ کچھ ہلکا ہو گیا۔ چنانچہ میں اوپر چلا گیا۔ خدا نے میری دعا قبول کی۔ ودہاوا سنگھ اور اس کی دکان ابھی تک موجود ہے۔ لیکن اس نے ابا جی سے انار کی چوری کا ذکر نہیں کیا۔ غسل خانہ یہیں سے میری زندگی میں داخل ہوتا ہے۔ ایک بارپھر ایسی ہی بات ہوئی۔ میں زیادہ لطف لینے کی خاطر پہلی دفعہ بازارمیں کھلے بندوں سگریٹ پیے جارہا تھا کہ ابا جی کے ایک دوست سے میری مڈبھیڑ ہو گئی۔ اس نے سگرٹ میرے ہاتھ سے چھین کرغصّے میں ایک طرف پھینک دیا اور کہا۔

’’تم بہت آوارہ ہو گئے ہو۔ بڑوں کا شرم و لحاظ اب تمہاری آنکھوں میں بالکل نہیں رہا۔ خواجہ صاحب سے کہہ کر آج ہی تمہاری اچھی طرح گوشمالی کراؤں گا۔ ‘‘

انار کی چوری کے مقابلے میں کھلے بندوں سگریٹ پینا اور بھی زیادہ خطرناک تھا۔ خواجہ صاحب یعنی میرے ابا جی خود سگریٹ پیتے تھے مگر اپنی اولاد کے لیے انھوں نے اس چیز کو قطعی طور پرممنوع قرار دے رکھا تھا۔ ایک روز میرے بڑے بھائی کی جیب میں سے انھیں سگرٹ کی ڈبیا مل گئی تھی جس پر انھوں نے ایک تھپڑ لگا کر فیصلہ کن لہجے میں یہ الفاظ کہے تھے۔

’’ثقلین اگر میں نے تمہاری جیب میں پھر سگریٹ کی ڈبیا دیکھی تو میں تمہیں اس روز گھر سے باہر نکال دوں گا۔ سمجھ گئے؟‘‘

ثقلین سمجھ گیا تھا۔ چنانچہ وہ ہر روز صرف ایک سگرٹ لاتا تھا اور پائخانے میں جا کر پیا کرتا تھا۔ میں ثقلین سے عمر میں تین برس چھوٹا ہُوں۔ ظاہر ہے کہ میرا سگریٹ پینا اور وہ بھی بازاروں میں کھلے بندوں۔ ابا جی کسی طرح برداشت نہ کرتے۔ ثقلین کو تو انھوں نے صرف دھمکی دی تھی مگر مجھے وہ یقیناًگھر سے باہر نکال دیتے۔ گھر میں داخل ہونے سے پہلے میں نے غسل خانے میں جا کرصدق دل سے دعا مانگی کہ اے خدا ابا جی کو میرے سگریٹ پینے کا کچھ علم نہ ہو۔ دُعا مانگنے کے بعد میرے دل پر سے خوف کا بوجھ ہلکا ہو گیا اور میں اوپر چلا گیا۔ آپ کہیں گے کہ میں خاص طور پر غسل خانے میں داخل ہو کر ہی کیوں دعا مانگتا تھا۔ دعا کہیں بھی مانگی جاسکتی ہے۔ درست ہے لیکن مصیبت یہ ہے کہ میں دل میں اگر کوئی بات سوچوں تو اس کے ساتھ اور بہت سی غیر ضروری باتیں خود بخود آجاتی ہیں۔ میں نے گھر لوٹتے ہوئے راستے میں دعا مانگی تھی مگر میرے دل میں کئی اوٹ پٹانگ باتیں پیدا ہو گئی تھیں۔ دعا اور یہ باتیں غلط ملط ہوکر ایک بے ربط عبارت بن گئی تھی۔

’’اللہ میاں۔ میں نے سگریٹ۔ بیڑا غرق ایک پوری ڈبیا سگرٹوں کی میرے نیکر کی جیب میں پڑی ہے۔ اگر کسی نے دیکھ لی تو کیا ہو گا۔ کہیں ثقلین ہی نہ لے اڑے۔ اللہ میاں۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ سگریٹ پینے میں کیا برائی ہے؟ ابا جی نے چھٹی جماعت سے پینے شروع کیے تھے۔ اللہ میاں۔ سگرٹ والے کے ساڑھے تیرہ آنے میری طرف نکلتے ہیں۔ ان کی ادائیگی کیسے ہو گی اور اسکول میں مٹھائی والے کے بھی چھ آنے دینا ہیں۔ مٹھائی اس کی بالکل واہیات ہے لیکن میں کھاتا کیوں ہوں؟۔ اللہ میاں مجھے معاف کردے۔ جو سگریٹ ابا جی پیتے ہیں ان کا مزا کچھ اور ہی قسم کا ہوتا ہے۔ پان کھا کر سگریٹ پینے کا لطف دوبالا ہو جاتا ہے۔ اللہ میاں۔ اب کے نہر پہ جائیں گے تو سگریٹوں کا ڈبہ ضرور خریدیں گے۔ کب تک سگریٹ والا ادھار دیتا رہے گا۔ امی جان کا بٹوہ۔ اللہ میاں مجھے معاف کردے۔ ‘‘

میں دل ہی دل میں خاموش دعا مانگوں تو یہی گڑبڑ ہو جاتی ہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ مجھے غسل خانے کے اندر جانا پڑتا تھا۔ دروازہ بند کرکے میں وہاں اپنے خیالات کو آوارہ نہیں ہونے دیتا تھا۔ میلی چھت کی طرف نگاہیں اٹھائیں۔ سانس روکا اور ہولے ہولے دعا گنگنانا شروع کردی۔ عجیب بات ہے کہ جو دعا میں نے اس غلیظ غسل خانے میں مانگی، قبول ہوئی۔ انار کی چوری کا ابا جی کوکچھ علم نہ ہوا۔ سگریٹ پینے کے متعلق بھی وہ کچھ جان نہ سکے اس لیے کہ ان کا دوست اس روز شام کو کلکتے چلا گیا جہاں اس نے مستقل رہائش اختیار کرلی۔ غسل خانے سے میرا اعتقاد اور بھی پختہ ہو گیا۔ جب میں نے دسویں جماعت کا امتحان دینے کے دوران میں دعا مانگی اور وہ قبول ہُوئی۔ جیومیٹری کا پرچہ تھا۔ میں نے غسل خانے میں جا کر تمام پراپوزیشنیں کتاب سے پھاڑ کر اپنے پاس رکھ لیں اور دعا مانگی کہ کسی ممتحن کی نظر نہ پڑے اور میں اپنا کام اطمینان سے کرلوں۔ چنانچہ یہی ہُوا۔ میں نے پھاڑے ہُوئے اوراق نکال کرکاغذوں کے نیچے ڈیسک پر رکھ لیے اور اطمینان سے بیٹھا نقل کرتا رہا۔ ایک بار نہیں پچیسویں بارمیں نے اس غسل خانے میں حالات کی نزاکت محسوس کرکے دُعا مانگی جو قبول ہوئی۔ میرے بڑے بھائی ثقلین کو اس کا علم تھا مگر وہ میری ضعیف الاعتقادی سمجھتا تھا۔ بھئی کچھ بھی ہو۔ میرا تجربہ یہی کہتا ہے کہ اس غسل خانے میں مانگی ہوئی دعا کبھی خالی نہیں گئی۔ میں نے اور جگہ بھی دعائیں مانگ کر دیکھی ہیں لیکن ان میں سے ایک بھی قبول نہیں ہوئی۔ کیوں؟۔ اس کا جواب نہ میں دے سکتا ہوں اور نہ میرا بڑا بھائی ثقلین۔ ممکن ہے آپ میں سے کوئی صاحب دے سکیں۔ چند برس پیچھے کا ایک دلچسپ واقعہ آپ کو سناتا ہوں۔ میرے چچا جان کی شادی تھی۔ آپ سنگاپور سے اس غرض کے لیے آئے تھے۔ چونکہ ان کا اور ہمارا گھر۔ بالکل ساتھ ساتھ ہے اس لیے جتنی رونق ان کے مکان میں تھی اتنی ہی ہمارے مکان میں بھی تھی بلکہ اس سے کچھ زیادہ ہی کہیے کیونکہ لڑکی والے ہمارے گھر آگئے تھے آدھی آدھی رات ڈھولک کے گیت گائے جاتے تھے۔ ہونے والی دلہن سے چھیڑ چھاڑ۔ عجیب و غریب رسمیں۔ تیل۔ مہندی اور خدا معلوم کیا کیا کچھ۔ بچوں کی چیخ و پکار۔ الہڑ لڑکیوں کی نئی گرگابیوں اور سینڈلوں میں ایک چلت پھرت۔ اوٹ پٹانگ کھیل۔ غرض کہ ہر وقت ایک ہنگامہ مچا رہتا تھا۔ جب اس قسم کی خوشگوار افراتفری پھیلی ہو تو لڑکیوں کو چھیڑنے کا بہت لطف آتا ہے بلکہ یُوں کہیے کہ شادی بیاہ کے ایسے ہنگاموں ہی پر لڑکیوں کو چھیڑنے کا موقع ملتا ہے۔ ہمارے دور کے رشتہ دار شالباف تھے۔ ان کی لڑکی مجھے بہت پسند تھی۔ اس سے پہلے تین چار مرتبہ ہمارے یہاں آچکی تھی۔ اس کو دیکھ کر مجھے یہ محسوس ہوتا تھا کہ وہ ایک رُکی ہوئی ہنسی ہے۔ نہیں۔ میں اپنے مافی الضمیر کو اچھی طرح بیان نہیں کر سکا۔ اس کا سارا وجود کھلکھلا کر ہنس اُٹھتا اگر اس کو ذرا سا چھیڑ دیا جاتا۔ بالکل ذرا سا یعنی اس کو اگر صرف چُھو لیا جاتا تو بہت ممکن ہے وہ ہنسی کا فوارہ بن جاتی۔ اس کے ہونٹوں اور اس کی آنکھوں کے کونوں میں۔ اس کی ناک کے ننھے ننھے نتھنوں میں۔ اس کی پیشانی کی مصنوعی تیوریوں میں۔ اس کے کان کی لووں میں ہنسی کے ارادے مرتعش رہتے تھے۔ میں نے اس کے چھیڑنے کا پورا تہیہ کرلیا۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ سیڑھیوں کی بتی خراب ہو گئی۔ بلب فیوز ہوا یا کیا ہوا بہر حال اچھا ہوا کیونکہ وہ بار بار کہیں نیچے آتی تھی اور کبھی اوپر جاتی تھی۔ میں غسل خانے کے پاس اندھیرے میں ایک طرف ہوکرکھڑا ہو گیا۔ وہ اوپر جاتی یا نیچے آتی مجھ سے اسکی مڈبھیڑ ضرور ہوتی اور میں اندھیرے میں اس سے فائدہ اٹھا کر اپنا کام کر جاتا۔ بات معقول تھی چنانچہ میں کچھ دیر دم سادھے اسکا منتظر رہا۔ اور اس دوران میں اپنی آنکھوں کو تاریکی کا عادی بناتا رہا۔ کسی کے نیچے اترنے کی آواز آئی۔ کھٹ۔ کھٹ۔ کھٹ۔ میں تیار ہو گیا۔ ابا جی تھے۔ انھوں نے پوچھا۔ کون ہے؟۔ میں نے کہا۔

’’جی عباس‘‘

۔ انھوں نے اندھیرے میں ایک زور کا طمانچہ میرے منہ پر مارا اور کہا۔

’’تمہیں شرم نہیں آتی۔ یہاں چھپ کر لڑکیوں کو چھیڑتے ہو۔ ثریا ابھی ابھی اپنی ایک سہیلی سے تمہاری اس بیہودہ حرکت کا ذکر کررہی تھی۔ اگر اس نے اپنی ماں سے کہہ دیا تو جانتے ہو کیا ہو گا؟۔ واہیات کہیں کے!۔ تمہیں اپنی عزت کا خیال نہیں اپنے بڑوں کی آبرو ہی کا کچھ لحاظ کرو۔ اور ثریا کی ماں نے آج ہی ثریا کے لیے تمہیں مانگا ہے۔ لعنت ہو تم پر۔ ‘‘

کھٹ کھٹ کھٹ۔ کسی کے نیچے اُترنے کی آواز آئی۔ ابا جی نے میرے حیرت زدہ منہ پر ایک اور طمانچہ رسید کیا اور بڑبڑاتے چلے گئے۔ کھٹ کھٹ کھٹ۔ ثریا تھی۔ میرے پاس سے گزرتے ہوئے ایک لحظے کے لیے ٹھٹکی اور حیا آلود غصے کے ساتھ یہ کہتی چلی گئی۔

’’خبردار جو اب آپ نے مجھے چھیڑا۔ امی جان سے کہہ دونگی۔ ‘‘

میں اور بھی زیادہ متحیر ہو گیا۔ دماغ پر بہت زور دیا مگر کوئی بات سمجھ میں نہ آئی۔ اتنے میں غسل خانے کا دروازہ چرچراہٹ کے ساتھ کھلا اور ثقلین باہر نکلا۔ میں نے اس سے پوچھا۔

’’تم یہاں کیا کررہے تھے؟‘‘

اس نے جواب دیا۔

’’دُعا مانگ رہا تھا۔ ‘‘

میں نے پوچھا۔

’’کس لیے۔ ‘‘

مسکرا کر اس نے کہا۔

’’ثریا کو میں نے چھیڑا تھا۔ ‘‘

میں آپ سے جھوٹ نہیں کہتا۔ اس غسل خانے میں جو دعا مانگی جائے ضرور قبول ہوتی ہے۔

سعادت حسن منٹو
loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں