پاکستان ، نوجوان اور سیاست

سیاسی گفتگو ٹیلیویژن پر بیٹھے اینکروں ، خود سیاست دان یا گھر میں بیٹھے بزرگوں کا شیوہ ہوا کرتا تھا اور نوجوان ؟ نوجوانوں کا کام سیاست پر بات چیت کرنا تھوڑی ہوتا ہے انکا سیاست سے واسطہ الیکشن کے دنوں میں حلے بازی اور سیاسی ریلیوں میں شرکت تک محدود ہوتا ہے مگر سنجیدہ سیاسی گفتگو ان کے لیئے نہیں البتہ میرے نزدیک آج کے حالات نے ہم نوجوانوں کو نا چاہتے ہوئے بھی سیاسی گفتگو میں حصہ لینے پر مجبور کر دیا ہے۔

پاکستان جب معرض وجود میں آیا تو یہ وہم و گمان میں بھی نا تھا کہ ایک دور ایسا بھی آئے گا جب حکمران تبدیلی کے نام پر عوام کی چٹنی بنا دیں گے ۔ چند لوگ اپنی سیاست کا محور اپنے مرحوم رشتے داروں کو بنا لیں گے ۔ حتی کے ایک گروہ تو اس قدر نیچ حرکتوں پر اتر آئے گا کہ جیل میں ہونے کے باوجود الزام تراشی کی روایت کو ہاتھ سے نہ چھوڑے گا ۔ جمہوری نظام کے نام پر اپنوں کو نوازا جائے گا اور اقتدار میں آکر عوام کی فلاح و بہبود کے بجائے اپنے بینک بھرے جائیں گے ۔ اور انکی مات بھی کرنا لازم ہے جو کہ اسلام کو اپنی سیاست چمکانے کے لیئے استعمال کر رہے ہیں۔
کیا ہے ہے وہ پاکستان جسکا خواب اقبال نے دیکھا ؟ ۔ اور اس کو حاصل کرنے کے لیئے قائد نے جدوجہد کی ؟ اور کیا اس پاکستان میں کوئی سیاست پر بات کیئے بغیر رہ سکتا ہے ۔؟
میں سیاسی بات کرنا نہیں چاہتا مگر یہ کہنے میں ہچکچاوں گا نہیں کہ تبدیلی سرکار ، جن سے عوام کی بے شمار امیدیں وابستہ تھیں وہ احتساب کے نام پر سیاسی انتقام میں اس قدر مگن ہو گئے کہ عوام سے کیئے گئے وعدوں کو بھول ہی گئے ۔ واہ رے میرے پیارے کپتان واہ ۔
اور ان کے تو کیا ہی کہنے جو آج تک یہ ہی نا سمجھ سکے کہ نسل والدہ سے نہیں والد سے چلتی ہے اور نام کے آگے والد کا نام لگتا ہے ، نانا کا نہیں ۔ جناب آپ کے بارے میں بھی سیاسی بیان دینے سے اجتناب چاہوں گا لیکن آپکی حرکات مجھے آپ پر تنقید کرنے پر مجبور کر دیتی ہیں ۔ وزیر اعظم یا حکومت پر تنقید کا کوئی موقع تو آپ چھوڑتے نہیں ۔ مگر کبھی اپنے والد سے اپنی والدی کے قتل کا تو پوچھئے ۔ اور وہ چھوڑیں یہ بتائیں کہ بی-آر-ٹی منصوبے پر تنقید کرنے سے پہلے یہ بتائیں کہ سندھ میں 30 سے 55 سال حکومت کرنے کے بعد آپ نے کون سے چھنڈے گاڑھ دیئے ۔ جناب پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں ۔

خدارا! موجودہ صورتحال میں ایک قوم بن کر سوچیں!

نون لیگیوں کی حرکات نے ان پر سیاسی تبصروں کو راہ دی ہے آپ اپنی تقاریر میں عوام کی عدالت اور عوام کے فیصلوں کا ذکر کرتے ہیں اور بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ عوام نے فیصلہ سنا دیا ہے مگر اگر عوام حقیقتًا فیصلہ سنا دیتی تو آپ الیکشن میں بدترین شکست سے دوچار نا ہوتے اور شائد عوامی ردعمل کے باعث اب جیل سے باہر ہوتے ۔
اور مولوی حضرات آہا ۔۔۔ انکی تو بات ہی نہ کیجیئے ان کو تو سیاست سے میلوں دور ہی رہنا چاہیئے اسلام کو سیاست میں گھسیٹ کر رکھ دیا ہے سر پہ پگھڑی کاندھے پہ صافہ اور لمبی داڑھی رکھ کر کوئی گالیاں دیتا پھرتا ہے تو کوئی پہلی بار اپوزیشن میں بیٹھ کر غمزدہ ہے ۔ اب انہوں نے داڑھی ، پگھڑی اور صافے کا مزاق تو بنا دیا ہے اگر چند سال اور ٹھہر گئے تو اسلام کے خوبصورت دین کا مزاق بنا دیں گے ۔

میں ایک نوجوان ہوں ! اس مٹی کا بیٹا ہوں ! میرا اور میرے ہم عمروں کا سیاست پر گفتگو کرنا نہ صرف اس قوم کے لیئے مفید ہے بلکہ لازم ہے ۔ کیونکہ آج ہم بات کریں گے تو کل عملی طور پر اس میدان میں آئیں گے ۔ کیونکہ دور حاضر میں کوئی حکمران اس لائق نہیں کہ 22 کروڑ عوام کی کمان سنبھال سکے ۔ نوجوان اب بولے گا ۔ اور انقلاب برپا کر کے رہے گا ۔ پاکستان زندہ باد

تحریر: عبدالمعیز

(Visited 17 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں