ٹیکس ہمارا موجیں تاجروں کی

ٹیکس ہمارا موجیں تاجروں کی

پچھلے دنوں تاجروں نے سیلز ٹیکس اور ٹیکس نیٹ میں آنے کے خلاف ہڑتال کی جسکے فائدے اور نقصان کی بحث میں پڑے بغیر ہم اصل حقیقت کی طرف آتے ہیں کہ شبر زیدی کی سربراہی میں اس وقت ملک کی معاشی ٹیم ملک کی سمت درست کرنے میں مصروف ہے اور یہ جو ٹیکس کا نظام ہے اس سے غریب آدمی کو کوئی نقصان نہیں ہوسکتا بلکہ ایک سال بعد جب وہ اپنے گوشوارے جمع کروائے گا تو اسے اس پر بھی بہت سے فائدے مل سکیں گے اور یہ اسی صورت میں ممکن ہوسکے گا.
جب ہمارے ہول سیلر اور ریٹیلر ٹیکس دینے پر آمادہ ہو جائیں تو ملکی معیشت حیرت انگیز رفتار سے ترقی کرے گی جبکہ معاشرے پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونگے اس سے اشیائے ضروریہ کی قیمت کم ہو جائے گی بلکہ صنعت اور دیگر شعبوں پر ٹیکسوں کا بوجھ بھی کم ہو جائے گا۔

تاجروں کی جانب سے ٹیکسوں کی ادائیگی کے بعد حکومت کو بھی غریب عوام پربالواسطہ ٹیکس لگانے کی ضرورت نہیں رہے گی جس سے انہیں کو ریلیف ملے گا ٹیکسوں کے متوازن اور مناسب نظام کے بغیر دولت کی منصفانہ تقسیم ممکن ہی نہیں جبکہ اس وقت ملک میں ٹیکس کا جونظام نافذ ہے جس سے امیر اور غریب کے مابین فرق بڑھ رہا ہے.

اگرہمارے تاجر ٹیکس نیٹ میں آ جائیں تو بالواسطہ ٹیکس جو اس وقت مجموعی ٹیکسوں کا ساٹھ فیصد ہے کم ہونے سے یہ نظام متوازن ہو جائے گااور غریب عوام کو ریلیف ملے گا جو اپنی آمدنی کا بڑا حصہ بنیادی ضروریات پر لگا رہے ہیں بنیادی ضرورتوں سے مراد صحت، تعلیم اور انصاف ہے جسکے لیے عوام کو اپنی جیب سے پیسہ خرچ کرنا پڑتا ہے جوسراسر ایک ظلم ہے کیونکہ عوام جو ٹیکس کی مد میں پیسے دے رہی ہے وہ حکومت تک پہنچ ہی نہیں رہے وہ درمیان میں موجود کاروباری لوگ ہڑپ کررہے ہیں اس لیے ملک میں غربت بڑھتی ہے اور غریب لوگ پستے ہیں جنہیں اس بات کا علم ہی نہیں ہے کہ تاجر لوگ انکے ساتھ کتنا بڑا ظلم کررہے ہیں سیلز ٹیکس ہے کیا چیز جو ہم ہر خریداری پر دوکاندار کو ادا کرتے ہیں اور یہ دوکاندار سے ہوتا ہو بڑے سے بڑے تاجر کے پیٹ میں پہنچ جاتا ہے کیونکہ ہمیں اسکا علم ہی نہیں ہے فرض کریں سیل ٹیکس ہے 17 فیصد یعنی 100 پہ 17 روپے اب ہو کیا رہا ہے کہ بڑے بڑے دکاندار اور تاجر حضرات عوام سے تو اپنی مصنوعات پہ پورا ٹیکس وصول کرتے ہیں مثال کے طور پہ 1000 کی چیز پہ 170 ٹیکس اور قیمت بنے گی 1170 رروپے لیکن دہائیوں سے یہ کیا کر رہے ہیں؟

عوام سے ٹیکس تو لے لیتے ہیں لیکن حکومت کو نہیں دیتے کیوں کہ 97 فیصد تاجر انکم ٹیکس میں رجسٹرڈ ہی نہیں اور نہ سیل ٹیکس میں اور جو رجسٹریشن کروا چکے وہ بھی اپنی سیل اور آمدن چھپا لیتے ہیں جس پر حکومت نے کہا کہ ہر تاجر یا دکاندار اپنی رجسٹریشن کروائے (جو کہ مفت ہے) اور 50 ہزار سے زیادہ مالیت کا سامان بیچنے پہ باقاعدہ گاہک سے شناختی کارڈ کی کاپی لیں اور دیگر تمام بلز بھی گاہک کو دیں اور باقاعدہ ٹیکس نمبر ان بلز پہ موجود ہو اور بڑی مالیت کی تمام ادائیگیاں بینک سے کی جائیں تاکہ حکومت کو پتا ہو کہ کون کتنا کما رہا ہے؟ تاکہ انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس کو آسان اور قابل وصولی بنایا جا سکے.

لیکن یہ بات تاجروں کو گراں گزر رہی ہے کیونکہ ان کو بھی ہمارے سابق حکمرانوں کی طرح لوٹ مار کی عادت ہو چکی ہے جنہوں نے کئی نسلوں سے ٹیکس نہیں دیا تو اب کیسے وہ ٹیکس دیں گے اور اسی بات پر وہ احتجاج کر رہے ہیں.

ایمنسٹی سکیم : ٹیکس گزاروں کے تحفظات

اور ہاں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ 6 لاکھ سے کم سالانہ کمائی پہ کوئی ٹیکس نہیں ہے اور 6 سے 7 لاکھ کمائی پر بھی بس 3 ہزار سالانہ ٹیکس ہے اور سیلز ٹیکس پہ تاجروں کا کوئی حق نہیں یہ عوام کا پیسہ ہے اور عوام یہ پیسہ حکومت کو دینے کے لیے ادا کرتی ہے اس لیے اب عوام بھی سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے آئندہ صرف اسی بندے سے خریداری یا لین دین کریں جس کی کمپنی یا دکان باقاعدہ رجسٹرڈ ہو اور اس کے پاس ٹیکس نمبر ہو.

اگر کسی پہ شک ہو تواسکا ٹیکس نمبر متعلقہ ٹیکس آفس سے چیک کروایا جا سکتا ہے اگر عوام ایسا کریگی توپھر ان کا ٹیکس تاجروں کی جیبوں میں جانے کی بجائے حکومت کو ہی جائے گا ٹیکسوں کی یہ چوری صرف غریب اور پسماندہ ممالک میں ہی ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ جہالت،غربت اور چور بازاری کی وجہ سے وہ قومیں کبھی بھی ترقی نہیں کرسکتی اور جو ملک ترقی کرگئے ہیں اور آج وہاں پر ہر سہولت عوام کی دہلیز پر ہے ایسے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں اگر برگر کی ریڑہی بھی لگانی ہو تو باقاعدہ رجسٹریشن ہوتی ہے جو کہ مفت ہی ہوتی ہے اس کا مقصد صرف اور صرف ٹیکس کولیکشن کو بہتر بنانا ہوتا ہے اگر ریڑہی والے کی کمائی 6 لاکھ سے کم ہو گی تو اس پہ کوئی انکم ٹیکس نہیں لگے گا یہی اصول ہر دکاندار کے لیے بھی ہے انکم ٹیکس صرف آپ کی بچت پہ لگے گا نا کہ ٹوٹل سیل پہ اور سیل ٹیکس تو جب ایک چیز بنتی ہے اور وہ اگر سیل ٹیکس میں شامل ہو تو وہ سیل ٹیکس اس پہ لگ جاتا ہے اور اس کی قیمت بڑھ جاتی ہے اس لیے عوام ایسے مفاد پرست تاجروں کا بلکل ساتھ نہ دیں جو اپنے ذاتی فائدے یا کسی اور کے ایجنڈے پر کام کررہے ہوں یہ لوگ سال ہا سال سے عوام کا پیسہ مفت میں ہڑپ کر کے اپنے خزانے بھرتے آئے ہیں اوراب پہلی بار ان کو نکیل ڈالنے کی تیاری کی گئی ہے تو یہ چیخ رہے ہیں سیل ٹیکس پچھے 72 سالوں سے لگا ہوا ہے یہ کوئی نیا ٹیکس نہیں ہے پرانا ہے.

اس بار حکومت نے عوام کی بجائے ان تاجروں پر زوردیا ہے کہ جو پیسہ یہ عوام سے لے کر اپنی تجوریوں میں ڈال لیتے ہیں وہ حکومت کو دیں اس میں نہ تو ان تاجروں کا کوئی نقصان ہے اور نا عوام کا ہاں بس ان کو جو سالانہ اربوں روپیہ مفت میں ملتا تھا وہ نہیں ملے گا یہ سیل ٹیکس عوام نے تو بھرنا ہی ہے اگر یہ حکومت کے کھاتہ میں جائیگا تو وہی پیسہ عوام پر لگے گا ورنہ ٹیکس ہمارا اور موجیں تاجروں کی ہوتی رہیں گی۔(تحریر۔روہیل اکبر 03004821200)

loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں