ریسکیو کے 15 سال اور خدمت انسانیت کا سفر

ریسکیو

وطن عزیزپاکستان میں آج سے پندرہ سال پہلے 14اکتوبر 2004کو ایمرجنسی سروس کی بنیاد رکھی گئی اور پاکستان کے دل شہرِ لاہور سے پنجاب ایمر جنسی سروس کا آغاز ایمر جنسی ایمبو لینس سروس کے طور پر کیا گیا۔

نا امید ی کی فضا ء میں جہاں کوئی شہری روڈ ٹریفک حادثے میں کسی متاثرہ شخص کی مدد کرنے سے اس لئے ڈرتا تھا کہ وہ مدد اسکے لئے زحمت نہ بن جائے اور اسے قانونی کاروائی کے عمل سے نہ گزرنا پڑے ایسے میں ایمر جنسی سروس کا قیام جسکی سروسز صرف ایک آسان یاد رہنے والے نمبر 1122پر امیر و غریب کو یکساں حاصل ہوں یقینا ایک خواب سالگتا ہے۔پھر 2005کے ہولناک زلزلے نے ایسی سروس کی اہمیت کو مزید اجاگر کر لیا۔خواب نے حقیقت کا روپ دھار ا اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہی نے ڈاکٹر رضوان نصیر کو سیاسی پشت پناہی فراہم کرتے ہوئے بھر پور سپورٹ کیا اور جلد ہی ایمر جنسی سروس کا عوام دوست پروجیکٹ عوام الناس کے لئے وجود میں آیا۔

تاریخ کے اوراق پلٹیں توایمرجنسی سروس سے پہلے کوئی ایسا جامع منظم نظام موجود نہیں تھاجو کسی بے یارومدد گار حادثے کے شکار انسان کی بلا معاوضہ،بلا تفریق مدد کرے۔ایسے نامناسب حالات میں زندگی بچانے والے آلات سے لیس ایمبولینس اور تربیت یافتہ ایمرجنسی پیرامیڈیکس اور ریسکیورز کا ایک نمبر 1122پر ایمرجنسی کال پرلبیک کہنااور بروقت رسپانس اور فوری مدد کرنا آج پندرہ سال بعد بھی ایک خواب ہی لگتا ہے۔لیکن یہ خواب حقیقت بن چکا ہے کیونکہ سروس لاہور سے لے کر پنجاب کے تمام اضلاع اور تحصیل کی سطح پر شروع کی جا چکی ہے نہ صرف پنجاب میں بلکہ ایمرجنسی سروسز اکیڈمی کے ذریعے دوسرے صوبوں کو تکنیکی اور تربیتی مدد فراہم کی گئی ہے۔اور آج الحمد اللہ 18000ریسکیورز تربیت حاصل کرنے کے بعد اپنے اپنے صوبوں میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔سروس کی کامیابی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ایمرجنسی سروس ایکٹ 2006کے تحت پنجاب ایمرجنسی سروس کو پنجاب اسمبلی سے متفقہ طور پر منظور کیا گیا تھا۔ریسکیو کا عملہ صرف ریسکیو سروس فراہم نہیں کر رہا بلکہ عوام کو احساس تحفظ فراہم کرنے زندگیاں بچا کر سیفٹی کو فروغ دینے کے لیے مشغول عمل ہے۔آج ریسکیو سروس پاکستان کی سب سے بڑی اور سارک ممالک کی سب سے نمایاں اور پہلی سروس ہے جو انسانیت کی خدمت میں صف اول کی حیثیت رکھتی ہے۔
لاہور میں 200ریسکیورز کے ساتھ جوسسٹم شروع کیا گیا تھا اس کی تھرڈ پارٹی جائزے کے بعد جب بہترین سروس ٹھہری تو راولپنڈی اور فیصل آباد میں سروس شروع کی ان دونوں بڑے شہروں میں سروس کے میعار کے ساتھ پنجاب کے 12بڑے اضلاع میں بہت تیزی سے ایمرجنسی سروس کا قیام عمل میں لایا گیااورپھر باقی اضلاع اور اب تحصیل تک یہ سروسز موجود ہیں۔سروس کا ہر دن تمام افسران اور ریسکیورز کی دن رات محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ان پندرہ سالوں میں بہت سی حکومتیں تبدیل ہوئیں اور ہر ایک نے ہی کچھ عرصہ میں اسکی افادیت جانچنے کے بعد اس کو مزید بہتر کرنے کی اپنے تہ دل سے کوشش کی۔
200ریسکیورز سے 18000ریسکیورز کی تربیت جدید طرز پر ایمرجنسی سروسز اکیڈمی کا قیام نت نئے اقدامات سب سروس کے اعلی معیار کو برقرار رکھنے کے لیے لیئے گئے اور اس میں ہر ضلع کے ہر ریسکیورز نے اپنا حصہ ڈالا ہے یہ قوم کے وہ گمنام ہیرو ز ہیں جو اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کوبالائے طاق رکھتے ہوئے انسانیت کی خدمت کو جاری و ساری رکھے ہوئے ہیں۔
اس سفر میں ایمرجنسی سروسز اکیڈمی نے 8ریسکیو چیلنج،2کمیونٹی والینٹیر کے چیلنج ایک سارک چیلنج کا انعقاد کیا۔تاکہ اضلاع، صوبوں اور سارک ممالک کے مابین کوآرڈینینس کو بہتر بنایا جا سکے۔بلاشبہ ایمرجنسی سروسز کی اعلی میعار کو یکساں فراہمی کے لیے ایسے مقابلہ جات انتہائی اہم ہوتے ہیں۔نیشنل ریسکیو چیلنج میں رحیم یار خان،فیصل آباد،گوجرانوالہ،خیبر پختوخواہ نے اپنے نا م کیے جبکہ 2019میں راولپنڈی کی ٹیم دوسری پو زیشن کے ساتھ پنجا ب میں پہلے نمبر پر رہی۔کمیونٹی والینٹیر کے دو مقا بلے ڈسٹر کٹ چنیوٹ کی ٹیم اور ڈسٹرکٹ لیہ کی ٹیم نے اپنے نا م کیے۔ان تما م اضلا ع نے یقیناسروس کا نام روشن کر نے میں بہت محنت کی ہے۔اور سب کی کا و شیں قا بل تعریف ہیں۔یہ سلسلہ یہا ں تک ختم نہیں ہو تا بلکہ اس سروس کو ریسکیورز نے اپنے خون سے سینچ کر اعلی معیا ر کو بر قرار رکھا ہے۔سروسز کی 19 شہدا کی لا زوال قربا نیاں اس با ت کی دلیل ہیں کہ ریسکیورز انسانی خدمت کے لیے اپنی جانوں کی پرواہ تک نہیں کرتے۔اس حوالے سے پہلا سانحہ گگھڑ پلازہ کا فائر اینڈ ریسکیو آپریشن ہے جس میں 13 فائر فائٹر ز شہید ہوئے اور ان میں 4ریسکیو سروس کے تھے جنہیں حکومت پاکستان نے تمغہ شجاعت سے نوازا تھا۔
ہم اپنے شہدا ء کو سلام پیش کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ جنت الفردوس میں انہیں اعلی مقام عطا کرے۔(آمین) شہداء کی بے مثال سروسز تمام ریسکیورز کے لیے مشعل راہ ہیں ریسکیورز نے ان تمام حقائق کے ساتھ ساتھ اپنی کوششیں جاری رکھی اور انہیں پیشنٹ ٹرانسفر سروسز بھی محکمہ صحت سے لے کر دے دی گئی۔تاکہ ایک ہسپتال سے بہتر معالجے کے لیے اگر کسی کو ایمبولینس کی ضرورت ہے تو بر وقت اس کو مہیا کی جائے کتنی عجیب بات ہے کہ اسی ہسپتال کی ایمبولینس جب ریسکیو رز کو دی
گئی تو ہر شہری کو با آسانی دستیاب ہو گئی بلکہ گورنمنٹ ہسپتال میں ایمرجنسی ڈسک لگوائے گئے تاکہ جس مریض کو ضرورت ہو فوری طور پر ڈاکٹر ریفر کرے تو ایمبولینس اسے وہاں مل جائے اور شہریوں نے اس اقدامات کو انتہائی سراہا۔اس کے ساتھ ساتھ موٹر بائیک ایمبولینس سروس شروع کی گئی جو 4منٹ میں جائے حادثہ پر پہنچ کر ریسکیو کر رہے ہیں یہ سروس بھی شہریوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں بلکہ35فیصد ایسے آپریشن ہیں جس میں موٹر بائیک سٹاف بر وقت ریسکیو سروسز فراہم کرتے ہیں اور مزید ہسپتال میں شفٹ کرنے کی ضرورت نہیں رہتی جس کی بدولت ہسپتال پر بوجھ بھی خاطر خواہ کم ہوا ہے۔ ایمر جنسی ریسپانس کو مزید بہتر بنانے اور مقامی سطح پر سیفٹی کو فروغ دینے کے لیے کمیونٹی سیفٹی پروگرام کے تحت پنجاب کے تمام یونین کونسل میں کمیونٹی ایمر جنسی ریسپانس ٹیمز قائم کی گئی ہیں اور مزید 8 لاکھ سے زائد کمیونٹی فرسٹ ایڈ کی تربیت کی گئی ہے۔

loading...

سی پیک۔ گیم چینجر کی تکمیل میں سست روی کا تاثر!!

ایمر جنسی سروس یہ کام بھی پنجاب ایمر جنسی سروس ایکٹ میں موجود شق کے مطابق کر رہی ہے۔ آج مقامی سطح سے لے کر صوبوں اور اب پنجاب ایمر جنسی کی ٹیم اقوام متحدہ کے انٹر نیشنل سرچ اینڈ ریسکیو ایڈوائزی گروپ کے فورم پر رجسٹر ہے اور اقوام متحدہ کے متعلقہ سکریڑیٹ میں مختلف ممالک کے ماہرین کی سپورٹ ریسکیو سروس کو فراہم کی اور آج ریسکیو ٹیم بین الاقوامی میعار کو پورا کرنے کے قابل ہو چکی ہے۔اور انشاء اللہ اکتوبر کے آخرمیں فائنل ایکسرسائز ہوگی جس میں اقوام متحدہ دس ماہرین کو ریسکیو ٹیم کو چیک کرنے کے لیے بھیج رہا ہے۔جو ٹیم کے ڈزاسٹر ریسپانس کے ہر مرحلے کا بغور جائزہ لے کر اپنا رزلٹ دیں گے ٹیم کی کامیابی پاکستان کے لیے ایک نیا سنہرا باب ہے۔کیونکہ اس طرح پاکستان انسانی خدمت کے گلوبل نیٹ ورک کا حصہ بن جائے گا۔ اور کسی سانحے کی صورت میں پاکستان سے ماہرین کی ٹیم بھی بلوائی جاسکتی ہے۔ بلکہ اسی طرح جس طرح 2005 کے زلزے میں پاکستان نے باہر ممالک سے سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم منگوائی تھی۔
75 لاکھ سے زائد کو ریسکیو کرنے اور آگ کے حادثات میں 1400 ارب کے نقصانات بچانے کے بعد18000 سے زائد ریسکیو رز کی خصوصی تربیت یونین کونسلز میں کمیونٹی فرسٹ ایڈز کی تربیت5 لاکھ 80 ہزار افراد کو سینٹ ٹرانو سروسز کی فراہمی اور گمشدہ لاوارث افراد کے لیے ریسکیو لاسٹ ہیلپ لائن 1192 کے قیام کے بعد اب سروس اقوام متحدہ کی رجسڑیشن کے بعد فائنل مراحل پر ہے جس پر قوم سے گزارش ہے کہ وہ اپنی دعاؤں میں ریسکیو ٹیم کو رکھیں تاکہ انسانیت کی بے مثال خدمت کے میدان میں دنیا بھر میں اعلی مقامات پر پاکستان کا جھنڈا فخر سے بلند کر سکیں انشاء اللہ
ریسکیو رز زندہ آباد
پاکستان پا ئندہ آباد

تحریر: مس دیبا شہناز اختر

(Visited 1,297 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں