کیا تبدیلی کے ٹھیکیدار ناکام ہو چکے ہیں؟

یہ وہ سوال ہے جو آج کل ہر نجی اور غیر نجی محفل میں زیر بحث ہے اور اس کی ایک وجہ وہ مایوسی بھی ہے جو عوام میں روز بروز بڑھ رہی ہے۔

یہ مایوسی اس وقت مزید بڑھ جاتی جب بعض لکھاری حکومتی وزرا کی آف دا ریکارڈ گفتگو کے حوالے دیتے ہیں تاکہ یہ ظاہر کیا جائے کہ آنے والے کل کے حوالے سے جتنا عام آدمی مایوس ہے اتنی ہی مایوسی عمران خان کی اس ٹیم میں بھی ہے جو نیا پاکستان بنانے نکلی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت کے پہلے سال پر نظر ڈالی جائے تو اس میں کچھ نیا نہیں ہے سب کچھ پرانے پاکستان والا ہی چل رہا ہے۔ اگر بات صرف مہنگائی یا بے روزگاری کی ہو تو حکومت کی یہ دلیل مانی جا سکتی ہے کہ خزانہ خالی ہے مگر یہاں تو معاملہ گڈ گورننس کا بھی ہے جو اب پہلے سے بھی بیڈ ہو چکی ہے۔ وزیر اعظم پورٹل سے عوامی مسائل کے ازالے کی امید تھی اور سنا ہے اس نے سرکاری افسران کا خون بھی خشک کیے رکھا مگر اب انہوں نے اس میں بھی کوئی چور دروازہ کھول لیا ہے۔ اب وہ شکایات تو حل ہو جاتی ہیں جو عمومی نوعیت کی ہوتی ہیں مگر جہاں افسرشاہی کی اپنی دم پر پاؤں آتا ہو ایسی شکایات کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا جاتا ہے۔

photo: File

پاکستان جس مالی اور انتظامی بد حالی کا شکار ہے وہ انقلابی تبدیلیوں کا متقاضی ہے سنا ہے کہ ڈاکٹر عشرت حسین ان دنوں کسی ایسے ہی ڈرافٹ کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ کیونکہ جب تک اس افسر شاہی کا قبلہ درست نہیں ہو گا جس کے ہاتھ میں سیاہ و سفید کی چابی ہے بہتری کی امید نہیں رکھی جا سکتی۔ صحافتی ذمہ داریوں کے تحت اکثر و بیشتر مختلف اداروں کے سربراہوں اور ان کے ماتحتوں سے گفت و شنید رہتی ہے حیرت ہوتی ہے کہ کیسے کیسے نمونے بڑے بڑے عہدوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ اکا دکا مثالوں کو چھوڑ کر کلیدی عہدوں پر براجمان افراد کے پاس ادارے کو سود مند بنانے کا کوئی ویژن نہیں ہوتا ان کی توجہ ہوتی بھی ہے تو صرف اس بات پر کہ اپنی چوری کی لکیر کیسے مٹانی ہے۔

اگر کوئی حکومت باہر سے کسی ادارے کے سربراہ کو لے بھی آتی ہے تو اخلاقی اور ذہنی طور پر کرپٹ نظام اس کا وہی حشر کرتا ہے جو حالیہ مہینوں میں پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ کے صدر ڈاکٹر سعید اختر کا ہوا ہے۔ جس زمانے میں ڈاکٹر سعید اختر کو رسوا کیا جا رہا تھا انہی دنوں عمران خان یہ توقع کر رہے تھے کہ امریکہ و یورپ سے قابل ترین پاکستانیوں کو وطن لایا جائے اور انہیں ملکی تعمیر نو کی ذمہ داری دی جائے۔

نائن ایلون کے بعد بڑی تعداد میں لوگ اپنے وطن منتقل ہوئے انہوں نے پوش علاقوں میں گھر خریدے اپنے بچوں کو اچھے اچھے سکولوں میں داخل کرایا، چھوٹے بڑے کاروبار بھی شروع کیے جس کی وجہ سے پیسے کی ریل پیل ہو گئی مگر جب نظام نے ان کے ساتھ غلاموں جیسا سلوک کیا تو انہوں نے واپس اپنے اپنے ممالک میں سیکنڈ کلاس شہری کے طور پر زندگی گزارنے کو ترجیح دی۔ اگر آج بھی آپ پوش علاقوں میں گھر کرائے پر لیں تو پتہ چلتا ہے کہ گھر کا مالک ملک سے باہر ہے یہ گھر انہوں نے کرائے پر چڑھانے کے لیے نہیں بلکہ رہنے کے لیے بنائے تھے مگر انہیں یہاں رہنے نہ دیا گیا۔

photo: File

افسرشاہی کی بنیادیں انڈین سول سروس کے ڈھانچے پر استوار ہیں اور یہ ڈھانچہ نوآبادیاتی ضرورتوں کو مد نظر رکھ کر بنایا گیا تھا اور پھر مزید حیرت یہ کہ جب پاکستان بنا تو ہمارے حصے میں وہ افسرشاہی آئی جو اوپن میرٹ کی بجائے مسلم کوٹہ پر منتخب شدہ تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ڈھانچہ مزید گلتا سڑتا گیا اور آج اس نہج پر ہے کہ اس پورے ڈھانچے کو کوڑے دان میں پھینکنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

 عمران خان کی ناکامی دراصل اس نظام کی جیت ہے جس پر یہ گلا سڑا ڈھانچہ استوار کیا گیا ہے۔ ملک کے بڑے تاجروں کی کھاتے کھلے تو وہ اس چشمے پر بلکتے بلکتے گئے جہاں سے تمام چشمے پھوٹتے ہیں۔ چھوٹے تاجروں نے جب بڑوں کی پیاس بجھتی دیکھی تو انہوں نے بھی مطالبات کے لیے ہڑتال کا اعلان کر دیا۔  تمام بالادست طبقے پرانا پاکستان چاہتے ہیں اور اب انہوں نے اس کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دی ہے اور ا س کے لیے وہ نیا پاکستان چاہنے والوں پر عرصہ حیات روز بروز تنگ کرتے جا رہے ہیں تاکہ ایک روز یہ خود ہی کہنے لگیں کہ خدا کے لیے ہمیں پرانا پاکستان لوٹا دو۔

photo: File

دھرنوں اور مارچوں پر سرمایہ کاری ہو رہی ہے، افسرشاہی مسائل کو حل کرنے کی بجائے ان پر تیل چھڑک رہی ہے، اسلام آباد جیسا محفوظ شہر بھی مجرموں کے رحم و کرم پر ہے۔ اس وقت عمران خان کا وہی حال ہے جو بہت سارے خونخوار لگڑ بگڑوں میں گھرے ہوئے شیر کا ہوتا ہے۔

پانچ سات لگڑ بگڑ شیر کے آگے غراتے ہیں ایسے میں ایک دو پیچھے سے حملہ کر کے زخم لگاتے ہیں۔ یہ مشق کئی گھنٹے جاری رہتی ہے اگر کوئی دوسرا شیر مدد کو نہ آئے تو آخر کار شیر زخموں سے چور ہو کر لگڑ بگڑوں کا نوالہ بن جاتا ہے۔ جنگلوں میں یہ منظر روز رونما ہوتے ہیں فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ ہر واقعے میں شیر بھی بدل جاتے ہیں اور لگڑ بگڑ بھی، جنگل جنگل ہی رہتا ہے۔

(Visited 1,582 times, 1 visits today)
loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں