پاکستان کی خارجہ پالیسی پر بڑھتا امریکی دباؤ

خارجہ پالیسی

کچھ عرصہ پہلے تک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی پاکستان کے خلاف ایسی غیر حقیقی باتیں کیا کرتے تھے لیکن پاکستان کی مثبت خارجہ پالیسی، دور اندیشانہ سفارت کاری……

امریکی حکومت کی جانب سے افغان جنگ کے پرامن اختتام کے لیے اسلام آباد کے ساتھ روابط کے فروغ کے باوجود امریکی کانگریس میں پاکستان کو امریکہ کے اہم غیر نیٹو اتحادیوں کی فہرست سے خارج کرنے کے لیے بل پیش کردیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق مذکورہ بل حکومت کی طرح ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے کانگریس کے رکن اینڈی بگز نے پیش کیا جس میں اس فہرست میں دوبارہ شمولیت کے لیے نئی شرائط پیش کی گئیں۔ بل کے مطابق اگر کوئی امریکی صدر پاکستان کو دوبارہ اس فہرست میں شامل کرنا چاہے گا تو اسے کانگریس میں اس بات کی تصدیق پیش کرنی ہوگی کہ پاکستان کامیابی کے ساتھ ملک میں حقانی نیٹ ورک کے محفوظ ٹھکانوں اور آزادانہ نقل و حرکت روکنے کے لیے فوجی کارروائیاں جاری رکھے گا۔ اس کے علاوہ صدر کے لیے اس بات کی یقین دہانی کروانا بھی ضروری ہوگا کہ پاکستان نے حقانی نیٹ ورک کے اہم رہنماؤں اور جنگجوؤں کی گرفتاری اور ان کے خلاف قانونی کارروائی میں اہم پیش رفت کی ہے۔

چنانچہ اتحادیوں کی اس فہرست میں دوبارہ شامل ہونے کے لیے کانگریس کے ایک اور تصدیق نامے کی ضرورت ہوگی کہ پاکستان نے حقانی نیٹ ورک کو پاکستانی سرزمین کے استعمال سے روکنے کا عہد پورا کیا اور افغانستان کے ساتھ مل کر پاک افغان سرحد پر عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے بھرپور تعاون کیا۔ امریکی قانون سازی پیش کردہ ایچ۔ آر۔ 73 نامی یہ قرارداد ضروری کارروائی کے لیے ایوان کی کمیٹی برائے امورِ خارجہ کو ارسال کردی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: اخبار کا رنگ پیلا پڑ جا نے کی وجہ جانیئے

پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بدلتی سمت کے پیش نظر ٹرمپ انتظامیہ مسلسل دباؤ بڑھانے میں مصروف ہے۔مذکورہ قرارداد بھی اسی تسلسل کا شاخسانہ ہے ۔واضح رہے کہ اس سے قبل سابق امریکی سفیر کیمرون منٹر نے کہا تھا کہ اب وقت ہے کہ پاکستان گڈگورننس پر کام کرے، پاکستان کو ایماندارانہ طور پر امریکہ کے فنڈز خرچ کرنے چاہئیں، امریکہ نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ تعاون کیا۔ امریکہ کو لگتا ہے دہشت گردی کی روک تھام کے لئے پاکستان تعاون نہیں کرنا چاہتا۔

امریکہ کی امداد سے انکارنہیں کیا جا سکتا، مگر امریکہ کی طرف سے وہ ادائیگیاں بھی روک لی گئیں جو تنصیبات اور راہداری کے استعمال و خدمات کی فراہمی کی مد میں واجبات الادا تھیں۔ امریکہ کے اس رعونت آمیز روئیے کے باوجود پاکستان کی طرف سے سروسز کی فراہمی جاری تاحال جاری ہے۔ کیمرون منٹر نے ایک طرف خواہش کا اظہار کیا کہ پاکستان میں جمہوریت مضبوط ہو جبکہ دوسری طرف یہ اعتراف بھی کیا کہ ماضی میں امریکہ کو جب بھی کچھ کرنا ہوا تو پاک فوج سے ہی رابطہ کرنا پڑا۔ فوج سے رابطوں سے کیا کسی بھی ملک میں جمہوریت مضبوط ہو سکتی ہے۔

حقیقت تو وہ ہے جس کا اظہار سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کیا کہ پاکستان میں امریکہ کو جتنی عزت دی جاتی ہے اتنی کا وہ حقدار نہیں۔ امریکہ کا ساتھ دیتے ہوئے پاکستان خود بدترین دہشت گردی کا شکار ہوا۔ اس کے باوجود امریکہ کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کرتا نظرنہیں آتا۔ پاکستان تعاون نہ کرتا تو امریکہ کے لئے افغانستان پریلغار اور بعد ازاں طالبان حکومت کا خاتمہ اور مرضی کی حکومت کے قیام کا موقع نہ ملتا۔ امریکہ بغیر دلیل کے کیسے کہہ سکتا ہے کہ پاکستان تعاون نہیں کر رہا۔

دراصل پاکستان دشمن بھارتی لابی کے زیر اثر اس طرح کا زہریلا پروپیگنڈہ ایک عرصہ سے کیا جا رہا ہے۔کچھ عرصہ پہلے تک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی پاکستان کے خلاف ایسی غیر حقیقی باتیں کیا کرتے تھے لیکن پاکستان کی مثبت خارجہ پالیسی، دور اندیشانہ سفارت کاری اور خطے کے امن کے حوالے سے اس کی اسٹرٹیجک اہمیت کے پیش نظر خود انہوں نے پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کی ضرورت کو تسلیم کیا اور افغان عمل کے لئے پاکستان سے عملی مدد کی درخواست کی ۔ دہشت گردی کے خلاف سب سے زیادہ قربانیاں پاکستان ہی نے دیں۔

اس نے جو مالی نقصانات اٹھائے امریکہ نے اس کے ازالے کے لئے پاکستان کو عشر عشیر بھی ادا نہیں کیا۔ جانی نقصانات کی تلافی ہو ہی نہیں سکتی۔

پاکستان نے اپنے قیام کے وقت امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ کے ماحول میں امریکہ کی دوستی کو ترجیح دی، امریکہ نے ہماری کتنی قدر کی یہ سب کو معلوم ہے۔ پاکستان نے سب سے تعلقات کے اصول کے تحت چین سے مثالی دوستی قائم کی۔ اب روس کے ساتھ بھی اس کے بہت اچھے تعلقات ہیں، افغان امن کے حوالے سے اس کے ساتھ شراکت داری اس کا بین ثبوت ہے۔ امریکہ بعض معاملات میں پاکستان سے بغض رکھتا ہے مگر دوسرے مغربی ممالک اس حوالے سے پاکستان کے موقف کی حمایت کرتے ہیں یہ ہماری کامیاب سفارت کاری کا حاصل ہے۔ امریکہ اس خطے میں بھارت کو چین کے مقابلے میں کھڑا کرنے کے لئے تمام وسائل استعمال کر رہا ہے اور اس کے ایما پر پاکستان پر دباؤ ڈالنا چاہتا ہے۔

اس وقت پاکستان کے ملکی حالات بڑی کشمکش کا شکار ہیں جس کی اہم وجوہات امریکی اسٹیبلشمنٹ اور ہماری ملکی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان معاملات طئے نہیں پارہے ، جس کی اہم وجہ سی پیک منصوبہ ہے۔ غور کریں تو سی پیک منصوبہ پر زیادہ پیش رفت پچھلے دور حکومت میں ہوئی۔امریکہ کے ساتھ ہمارے تعلقات بھی پچھلے دور حکومت سے کافی ناخوشگوار رہے ہیں، جس کی وجہ پاکستان میں چین کا بڑھتا اثر رسوخ ہے۔ ان سب معاملات کی پیش نظر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ میں امریکی لابی مسلسل اپنا کردارادا کررہی ہے۔

بہرحال یہ واضح ہے امریکہ کی طرف سے بڑھتا دباؤ پاکستان کی ملکی معیشت کو رگڑ رہا ہے جس کا اثر حکومت کو دن بدن کمزور کرتا جارہا ہے، پاکستان میں موجود اسٹیبلشمنٹکی وہ لابی جو سی پیک منصوبے کو جاری رکھ کر اس سے استفادہ حاصل کرنا چاہتی ہے وہ آج بھی کوشش کررہے ہیں کہ تبدیلی ویژن کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا جائے لیکن چونکہ چینی لابی، امریکی لابی کے آگے کمزور پڑ رہی ہے جن کو امریکہ نے دہائیوں سے پالا ہے۔ آنے والے ماہ انتہائی اہم ہیں جس میں اس حکومت کے مستقبل کا فیصلہ بھی ہے، دیکھتے ہیں ہم کس کی کشتی میں سوار ہوتے ہیں اور ہمیں کون سے جزیرے پر اتارا جائے گا۔

Spread the love
  • 10
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں