یکساں نصاب یا سنہرہ خواب؟

تعلیم

قوموں اور ملکوں کی ترقی و خوشحالی کا ایک سچا حوالہ علم و ہنر ہے۔یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ دنیا میں بالادست مقام انہی قوموں اور ملکوں کا مقدر بنا جنہوں نے علم کا دامن تھاما اور اس پر استقامت اختیار کی.

اگر سرکاری تعلیمی اداروں میں سہولیات اور تعلیم کا معیار بہتر ہوتا تو عوام ان کی طرف مائل ہوں گے پاکستان میں وقتاً فوقتاً متعدد پالیسیاں بنائی تو گئیں لیکن کسی پر بھی خاطرخواہ عملدرآمد نہ ہو پایا نتیجتاً تعلیم کا معیار گرتا چلا گیااور اسی دوران نجی تعلیمی ادارے قائم ہونا شروع ہوگئے جواز یہ دیا گیا کہ سرکاری تعلیمی اداروں کی کمی اسی صورت میں دور کی جا سکتی ہے جس کا نقصان یہ ہوا کہ نئے سرکاری تعلیمی ادارے نہ بنائے گئے بلکہ پہلے سے موجود ادارے بھی مزید زبوں حالی کا شکار ہو گئے لاکھوں کی تعداد میں پرائیوٹ اسکول کھولے گئے جس میں رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ دونوں شامل ہیں اور گھوسٹ اسکولوں تک کی خبریں بھی سامنے آئیں جس کا فائدہ نجی تعلیمی اداروں نے خوب اٹھایا اور تعلیم کو کاروبار کے ترازو میں تول دیا.

سستی تعلیم ماضی کا سنہرا خواب بن کر رہ گئے سرسید احمد خان جس پاکستان کو پڑھنے لکھنے کی ترغیب دیتے دیتے اس دنیا سے رخصت ہوگئے اسی پاکستان کی نوجوان نسل کا مستقبل آج کاروبار بن گیا. جبکہ سپریم کورٹ نے 5 ہزار سے زائد فیس لینے والے نجی سکولوں کو فیس میں 20 فیصد کمی کرنے اور 2 ماہ کی چھٹیوں کی فیس کا 50 فیصد والدین کو واپس کرنے کا حکم دے دیا کہا عدالت فیصلہ خود کرے گی کہ فیس میں مناسب کمی کتنی ہو گیا.ابتدا۶ میں تعلیمی اداروں کے ٹیکس کی جانچ پڑتال کرنے اور ایف آئی اے کو سکولوں کا ریکارڈ تحویل میں لینے کا بھی حکم دیا گیا ہے ایک کمرے کے سکول سے اتنا پیسہ بنایا اب یہ صنعت کار بن گئے ہیں. پاکستان کے تمام شہروں میں نظام تعلیم میں نجی سکول مافیا نے اپنا راج بٹھایا ہوا ہے جہاں نہ والدین کی کچھ سنی جاتی ہے نہ ہی معصوم نوجوانوں کے مستقبل کی ذرہ بھر بھی فکر کی جاتی ہے اگر قوم تعلیمی سمت پر چلنا شروع ہو جائے۔ تو پھر منزل تک پہنچنا۔ آسان اور یقینی ہوگا۔

تعلیم
Getty Image
یکساں نصاب یا سنہرہ خواب؟

تاہم نجی سکولوں کے لئے ریگولیٹری باڈی کو فعال ہونا پڑے گا اور سپریم کورٹ کے آرڈرز پر من و عن عمل درآمد کرانا ہوگا سرکاری تعلیمی اداروں میں سہولیات اور تعلیم کا معیار بہتر ہو گا تو عوام ان کی طرف مائل ہوں گے عدالت نے اپنے عبوری حکم نامے میں کہا ہے کہ کہ کوئی سکول بند نہ کیا جائے اور اگر ایسا کیا گیا تو عدالت حرکت میں آئے گی اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائیگی طلبا کو نجی اسکول کی جانب سے ہراساں کئے جانے کے خلاف والدین نجی اسکول کے خلاف سندھ ہائی کورٹ پہنچ گئے، جہاں عدالت نے اسکول انتظامیہ سے جواب مانگتے ہوئے ڈی جی پرایؤیٹ اسکولز کو بھی رواں ماہ انیس دسمبر کو طلب کیا نجی سکولوں کے مالکان اربوں روپے کماتے ہیں لیکن طالب علموں کو دو روپے کی رعایت دینے کو تیار نہیں ہیں.وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے عدالت میں رپورٹ جمع کراتے ہوئے بتایا کہ نجی سکول اور اکیڈمیاں 9 ہزار سے لیکر 45 ہزار روپے تک فیس وصول کرتے ہیں۔

loading...

یہ بھی پڑھیں:- کیا آپ کا بچہ تعلیمی میدان میں کمزور ہے؟سائنس دانوں نے مشکل بات کا آسان حل بتا دیا

پاکستان کے بڑے شہروں میں نجی سکولوں میں پڑھنے والے بچوں کے والدین نے فیسوں میں بلا جواز اضافے اور دوسرے اخراجات کی مد میں بے جا وصولیوں کے خلاف احتجاج شروع کردیا ہے پرائیویٹ سکولوں نے والدین کو اے ٹی ایم مشین سمجھ رکھا ہے، جب چاہا جتنا چاہا بل لگا کر بھجوا دیتے ہیں۔ ہم اپنے بچوں کی ماہانہ فیس ادا کرتے ہیں، پھر اس کے بعد ہر سال سالانہ فیس ہم سے علیحدہ وصول کی جاتی ہے، اس کے بعد گرمیوں کی فیس علیحدہ ہے ساتھ ہی ہر سال کے شروع میں ہزاروں روپے سیکنڈ ہینڈ یا اس بھی پرانی کتابوں کے کرائے کی مد میں وصول کیے جاتے ہیں جنھیں سال کے آخر میں واپس لے لیا جاتا ہے پرائیویٹ سکول فیسوں میں اضافے کرتے جا رہے ہیں اور والدین رو رہے ہیں؟

کراچی کے نجی اسکول من مانیوں کے بعد بدمعاشی پر اْتر آئے، اضافی فیس مانگی نہ دینے پر طلبا کو ہراساں کرنا شروع کردیا۔ ملک میں بھر میں نجی سکولوں کی بھاری فیسوں کی وجہ سے اپنے بچوں کو معیاری تعلیم دلوانے کے خواہشمند والدین پریشانی کا شکار ہیں.محض گنتی کے چند والدین سے شروع ہونے والی یہ مہم آج ایک منظم اور پْرامن قانونی لڑائی میں تبدیل ہوچکی ہے۔ صرف کراچی میں ایک معروف نجی اسکول نیٹ ورک کے خلاف تقریباً 500 والدین یکجا ہوچکے ہیں۔ اِن والدین کا مؤقف واضح ہے۔ فیسوں میں من مانا اضافہ روکا جائے.حکومت کو چاہئے کہ دنیا بھر کی ترقی یافتہ اقوام کی طرز پر تعلیم کو اپنی نگرانی میں رکھے، نئے تعلیمی ادارے بنائے اور تعلیم کے معیارپر کوئی سمجھوتہ نہ کرے اْمید افزاء بات یہ ہے کہ اتنے برسوں میں پہلی دفعہ والدین منظم ہوئے اور انہیں ایسپا (آل اسکول پیرنٹس ایسوسی ایشن) بنانے کا خیال آیا۔ اپنے قانونی حقوق سے آگاہی اور عدالتی نظام پر عام آدمی کا یقین بھی اِس حوالے سے بہت خوش آئند ہے.

اسکول انتظامیہ کے امتیازی رویے سے تنگ آکر کئی بچے اسکول چھوڑ گئے جبکہ باقیوں کو اِس معاملے میں بھی عدالت عظمیٰ کا سہارا لینا پڑا۔ غرض یہ کہ اِس تمام تر قصے میں بچوں کا تعلیمی مستقبل داؤ پر لگا نظر آتا ہے۔ اتنے اندیشوں اور دیگر والدین کے تلخ تجربوں کے باوجود سینکڑوں کی تعداد میں والدین کا دیگر نجی اسکولوں کے خلاف کھڑا ہونا کسی معجزے سے کم نہیں ضروری ہے کہ اِس تعلیمی ناانصافی کے خلاف یک زبان ہوکر آواز بلند کریں قبل اِس کے کہ معیاری تعلیم کا حصول عام آدمی کے لیے محض خواب ہوجائے۔

یکساں نصاب یا سنہرہ خواب؟ تحریر: مہک سہیل ،کراچی
بشکریہ پریس لائن انٹرنیشنل

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں