چیخیں نہیں ، بھوک انقلاب لاتی ہے

انقلاب

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے تصدیق کر دی ہے کہ حکومت گیس اور بجلی کے نرخ بڑھانے جا رہی ہے،جس سے مہنگائی اور بڑھے گی، اور عوام کی چیخیں نکلیں گی۔

وزیر خزانہ نے اپنی روایت کے مطابق اِس ساری خرابی کا ملبہ سابق حکومت پر ڈالا اور موقف اختیار کیا کہ گزشتہ حکومت نے انتخابات کی خاطر راست اقدام نہیں کئے اور نرخ نہیں بڑھائے،جس کی وجہ سے توانائی کے شعبہ میں 460 ارب روپے کا خسارہ ہوا، اور گیس کی کمپنیوں نے 150 ارب روپے کا نقصان کیا، ان کا موقف ہے کہ جب معیشت مستحکم ہو رہی ہو تو ایسا ہی ہوتا ہے، جہاں تک آئی ایم ایف کا تعلق ہے تو وزیر خزانہ نے بتایا کہ اب اس سے اچھے تعلقات ہو گئے ہیں،آئی ایم ایف کی طرف سے اخراجات کم کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

محترم وزیر خزانہ نے تو بریفنگ کے دوران شاید پہلی مرتبہ درست فرمایا کہ عوام کی چیخیں نکلیں گی،لیکن یہ بھی آدھا سچ ہے،کیونکہ چیخیں تو اب بھی نکل رہی ہیں اور نچلا متوسط طبقہ اور نچلا طبقہ پس کر رہ گیا ہے اب تو ان کے اخراجات ہی پورے نہیں ہوتے کہ وزیر خزانہ کی حکمتِ عملی نے بچوں کے پیمپر تک اتنے مہنگے کر دیئے کہ کانوں کو ہاتھ لگایا جا رہا ہے۔ یہاں تو خوراک بھی اتنی مہنگی ہو گئی کہ غریب غربا کو تو خالی سبزی یا دال پکانے کے تصور سے بھی خوف ہی آتا ہے۔ وزیر خزانہ نے سارا الزام سابق حکومت پر دھرا،لیکن خود اپنی حکمت عملی اور اپنی تقریروں اور ماضی کے حسابات کا ذکر نہیں کیا۔

جب پٹرولیم مصنوعات کے حوالے سے حساب لگا کر 55 روپے فی لیٹر پٹرول بیچنے کا اعلان بار بار کرتے تھے، اس کے علاوہ وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف کا ذکر کیا تو اس ادارے کی شرائط تو وہ بیل آؤٹ پیکیج کا معاہدہ ہونے سے پہلے ہی پوری کر چکے اور اب مزید اضافے کی نوید سنا رہے ہیں۔یہ صاحب تو اپنی جگہ حکمت عملی کا مظاہرہ کر رہے ہیں جیسے یہ ملک نہیں، کوئی کارپوریٹ کمپنی ہو، اس پر مستزاد یہ کہ وزیراعظم عمران خان عوام کو یہ تسلی دیتے ہیں، صبر کرو اچھے دن آئیں گے۔ان کو شاید کچھ پروا نہیں، ہر روز غریبوں کی بہتری کا نام لیا جاتا ہے اور بہتری یہ ہے کہ بے روزگاری بڑھ گئی۔ بازار میں کساد بازاری ہے،غریب کی آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، اِسی لئے لوگ پوچھتے ہیں: یہ ہے نیا پاکستان۔۔۔ اب وزیر خزانہ نے مزید مہنگائی کی خبر دے کر چیخوں کا بھی ذکر کر دیا ہے۔

گیس کے بلوں پر تو واویلا اور ماتم ہو چکا اب یہ احساس ہوتا ہے کہ آئندہ گرمیوں میں لوگ بجلی کے نرخوں کے باعث پنکھے بھی نہیں چلا سکیں گے۔ یہ محترم وزیر خزانہ کی اہلیت ہے،ان کو کوئی پروا نہیں کہ ان حضرات کے چولہے نہیں اوون جلتے ہیں اور ائر کنڈیشنر صرف ٹھنڈی ہی نہیں، گرم ہوا دینے والے بھی ہیں۔

چیخیں تو رونے سے بھی آگے کی منزل ہے۔ یہ تحریک انصاف کو آخر کیا ہوگیا ہے، بلکہ یہ پوچھنا چاہئے کہ ان کے وزراء کی کامن سینس کہاں چلی گئی ہے۔ انہیں بولنے پر کنٹرول نہیں یا پھر انہیں یہی معلوم نہیں کہ بولنا کیا ہے؟ جو باتیں کسی زمانے میں اپوزیشن حکومتوں کے بارے میں کہتی تھی، وہ یہ وزراء خود ہی اپنی حکومت کے بارے میں کہے جارہے ہیں، مثلًا ہم نے تو آج تک یہی سنا تھا کہ حکومت نے مہنگائی کرکے عوام کی چیخیں نکلوا دی ہیں، یہ بات ہمیشہ اپوزیشن کی زبان سے نکلتی تھی اور اسے عوام سیاسی مخالفت کا شاخسانہ سمجھ کر سن لیتے تھے۔

اب یہی بات حکومت کے وزیر خزانہ نے کہی ہے۔ ان کی زبان سے نکلا ہوا لفظ تو سیدھا دل میں ترازو ہوتا ہے۔ حیرت ہے کہ وہ بات کرنے کا سلیقہ بھی نہیں جانتے۔

مشکل معاشی حالات کا ذکر وہ کسی اور انداز میں بھی کرسکتے تھے۔ عوام کی چیخیں نکلنے کا شوشہ چھوڑ کر تو انہوں نے عوام کی ان امیدوں اور توقعات کا ستیاناس کردیا ہے جو انہوں نے موجودہ حکومت سے باندھ رکھی ہیں۔کوئی ظالم سے ظالم ڈاکٹر بھی مریض کو پہلے سے اس کی حالت بتا کر نہیں ڈراتا، وقت آنے پر اسے سب کچھ معلوم ہو جاتا ہے۔

حکومت اگر عوام کو معاشی ریلیف نہیں دے سکتی تو کم از کم وزیرخزانہ اپنا منہ تو بند رکھ سکتے ہیں۔ مہنگائی اتنی بڑھے گی کہ عوام چیخیں گے۔۔۔ لیکن انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ بھوک انقلاب لاتی ہے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں