کرتار پور راہداری : مثبت اقدام

کرتارپور راہداری
کرتارپور راہداری پر پہلے پاک بھارت باضابطہ مذاکرات گزشتہ روز بھارت کے سرحدی علاقے اٹاری میں ہوئے ۔ قبل ازیں یہ مذاکرات دہلی میں ہونا تھے لیکن بھارت کے اصرار پر انہیں اٹاری منتقل کردیا گیا۔
وفد میں شامل دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے واہگہ بارڈر پر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ہماری یہ ملاقات کرتار پور سرحد کھولنے کے لئے ہے۔ ہماری سوچ ہے کہ ایک ایسا شجر لگایا جائے جس کا سایہ ہمارے ہمسائے کے گھر بھی جائے۔ ہم مثبت پیغام لے کر جارہے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ بھارت بھی قدم آگے بڑھائے گا، تاہم دونوں ملکوں کے وفود میں اس معاملے پر پہلی ملاقات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئی ۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے مذاکرات کے بعد بتایا کہ بعض معاملات پر اعتراضات موجود ہیں جن پر2اپریل کو اگلی ملاقات میں مزید بات چیت ہوگی۔ دونوں ملکوں کے مابین کشیدگی میں کمی خطے کے امن کے لئے ضروری ہے۔ کوئی بھی ذی شعور اس حقیقت کو نہیں جھٹلا سکتا کہ دنیا کو اس وقت جن مسائل کا سامنا ہے ان کے لئے پائیدار قیام امن ناگزیر ہے۔ امن معاشی سرگرمیوں کو فروغ دے کر خوشحالی لاتا ہے۔
پاکستان ہمیشہ اس نظرئیے پر عمل پیرا رہاکہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات دوستانہ ہونے چاہئیں تاکہ دونوں ملک ایک دوسرے کے معاون و مددگار بن کر خوشحالی و ترقی کی راہ پر گامزن رہیں۔ افسوس ایسا نہ ہوسکا۔
حقیقت یہ ہے کہ ماضی کی تلخیاں بھلائے بغیر آگے بڑھنا ممکن نہیں۔ پاکستان نے کرتار پور راہداری پر مذاکرات کے لئے وفد روانہ کیا ہے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں