سونورل

شلجم

بشریٰ نے جب تیسری مرتبہ خواب آور دوا سونورل کی تین ٹکیاں کھا کر خود کشی کی کوشش کی تو میں سوچنے لگا کہ آخر یہ سلسلہ کیا ہے۔ اگر مرنا ہی ہے تو سنکھیا موجود ہے۔ افیم ہے۔

ان سُموم کے علاوہ اور بھی زہر ہیں جو بڑی آسانی سے دستیاب ہیں، ہر بار سو نورل، ہی کیوں کھائی جاتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ خواب آور دوا زیادہ مقدار میں کھائی جائے تو موت کا باعث ہوتی ہے لیکن بشریٰ کا تین مرتبہ صرف اسے ہی استعمال کرنا ضرور کوئی معنی رکھتاتھا۔ پہلے میں نے سوچا چونکہ دو مرتبہ دوا کھانے سے اس کی موت واقع نہیں ہوئی اس لیے وہ احتیاطاً اسے ہی استعمال کرتی ہے اور اسے اپنے اقدامِ خود کشی سے جو اثر پیدا کرنا ہوتا ہے، موت کے اِدھر اُدھر رہ کر کرلیتی ہے۔ لیکن میں سوچتا تھا کہ وہ اِدھر اُدھر بھی ہوسکتی تھی۔ یہ کوئی سو فیصد محفوظ طریقہ نہیں تھا۔ تیسری مرتبہ جب اس نے بتیس گولیاں کھائیں تو اُس کے تیسرے شوہر کو جو پی ڈبلیو ڈی میں سب اوور سیر ہیں، صبح ساڑھے چھ بجے کے قریب پتہ چلا کہ وہ فالج زدہ بھینس کی مانند بے حس و حرکت پلنگ پر پڑی تھی۔ اُس کو یہ خواب آور دوا کھائے غالباً تین چار گھنٹے ہوچکے تھے۔ سب اوور سیر صاحب سخت پریشان اور لرزاں میرے پاس آئے۔

مجھے سخت حیرت ہوئی، اس لیے کہ بشریٰ سے شادی کرنے کے بعد وہ مجھے قطعاً بھول چکے تھے۔ اس سے پہلے وہ ہر روز میرے پاس آتے اور دونوں اکٹھے بیئر یا وسکی پیا کرتے تھے۔ ان دنوں وہ مفلوک الحال تھے۔ سائیکل پر دفتر جاتے اور اسی پر گھر واپس آتے۔ مگر جب اُن کی بشریٰ سے دوستی ہوئی اور وہ اُس سے شادی کرکے اُسے اپنے گھر لائے تو نقشہ ہی بدل گیا۔ اُن کا بھی اور اُن کے گھرکا بھی۔ اب وہ بہت عمدہ سُوٹ پہنتے تھے۔ سواری کے لیے موٹر بھی آگئی۔ گھر بڑھیا سے بڑھیا فرنیچر سے آراستہ ہو گیا۔ ریس کھیلنے لگے۔ دیسی رم کے بجائے اب سکاچ وسکی کے دور ان کے یہاں چلتے تھے۔

بشریٰ بھی پینے والی تھی اس لیے دونوں بہت خوش رہتے تھے۔ سب اوورسیر قمر صاحب کی عمر پچاس برس کے لگ بھگ ہو گی۔ بشریٰ ان سے غالباً پانچ برس بڑی تھی۔ کسی زمانے میں شاید اس کی شکل و صورت قابل قبول ہو۔ مگر اس عمر میں وہ بہت بھیانک تھی۔ چہرے کی جھریوں والی گال پر شوخ میک اپ، بال کالے کیے ہوئے، بند بند ڈھیلا جیسے اوس میں پڑی ہوئی پتنگ، ڈھلکا ہوا پیٹ، انگیا کے کرینوں سے اُوپر اُٹھائی ہوئی چھاتیاں۔

آنکھوں میں سُرمے کی بد خط تحریر۔ میں نے جب بھی اس کو دیکھا وہ مجھے نسوانیت کا ایک بھدا کارٹون سا دکھائی دی۔ قمر صاحب نے جیسا کہ ظاہر ہے اس میں اس کے سوا اور کیا خوبی دیکھی ہو گی کہ وہ مالدار تھی۔ اُس کا باپ پنجاب میں ایک بہت بڑا زمیندار تھا۔ جس سے وراثت میں اس کو بہت زمینیں ملی تھیں۔ ان سے چھ سات سو روپیہ ماہوار کی مستقل آمدن ہوجاتی تھی۔ اس کے علاوہ بینک میں بھی اس کا دس، پندرہ ہزار روپیہ موجود تھا۔ اور قمر صاحب ایک معمولی سب اوور سیر تھے۔ بیوی تھی چھ بچے تھے، جن میں دو لڑکے تھے جو کالج میں تعلیم حاصل کررہے تھے۔ اُن کے گھر میں افلاس ہی افلاس تھا۔

ویسے شوقین مزاج تھے اور شاعر بھی۔ شام کو شراب بہت ضروری سمجھتے تھے اس لیے آپ خود ہی اندازہ کرسکتے ہیں کہ ان کے بال بچوں کے لیے کیا بچتا ہو گا۔ قمر صاحب نے یوں تو ظاہر کیا تھا کہ وہ بشریٰ کو شرعی طور پر اپنے رشتہ مناکحت میں لاچکے ہیں لیکن مجھے شک تھا اور اب بھی ہے کہ یہ محض ایک ڈھونگ تھا۔ قمر صاحب بڑے ہوشیار اور چالاک آدمی ہیں۔ اپنی زندگی کے پچاس برسوں میں نا جانے وہ کتنے پاپڑ بیل چکے ہیں۔ سرد و گرم چشیدہ ہیں۔ گرگ باراں دیدہ ہیں۔

بشریٰ سے شادی کا جھنجھٹ پالنا کیسے منظور کر سکتے تھے۔ بشریٰ سے شادی کرکے قمر صاحب کے گھر میں حالت بہت حد تک سدھر چکی تھی۔ اُن کی تین بچیاں جو سارا دن آوارہ پھرتی رہتی تھیں عیسائیوں کے کسی سکول میں داخل کرادی گئی تھیں۔ ان کی پہلی بیوی کے کپڑے کے صاف ستھرے ہو گئے تھے۔ کھانا پینا بھی اب عمدہ تھا۔ میں خوش تھاکہ چلو اب ٹھیک ہے۔ دوسری شادی کی ہے، کچھ بُرا نہیں ہوا۔ بشریٰ کو ایک خاوند مل گیا ہے باسلیقہ اور ہوشیار ہے اور قمر صاحب کو ایک ایسی عورت مل گئی جو بد صورت سہی مگر مالدار تو ہے۔

مگر ان کا یہ سلسلہ زیادہ دیر تک مستحکم نہ رہا۔ کیونکہ ایک روز سننے میں آیا کہ ان کے درمیان بڑے زوروں کا جھگڑا ہوا۔ نوبت یہاں تک پہنچی کے دونوں نے سونورل کافی مقدار میں کھالی۔ کمرے میں فرش پر قمر صاحب بے ہوش پڑے تھے اور ان کی اہلیہ محترمہ پلنگ پر لاش کی مانند لیٹی تھیں۔ فوراً دونوں کو ہسپتال داخل کرایاگیا۔ جہاں سے وہ ٹھیک ٹھاک ہوکر واپس آگئے مگر ابھی پندرہ روز بمشکل گزرے ہوں گے کہ پھر دونوں نے سونورل سے شغل فرمالیا۔

معلوم نہیں وہ ہسپتال پہنچائے گئے یا گھر میں ان کا علاج ہوا بہرحال بچ گئے۔ اس کے بعد غالباً ایک برس تک ان کے یہاں ایسا کوئی حادثہ پیش نہ آیا۔ لیکن ایک روزعلی الصبح مجھے پتہ چلا کہ بشریٰ نے سونورل کی بتیس ٹکیاں کھالی ہیں۔ قمر صاحب سخت پریشان اور لرزاں تھے۔ ۔ ان کے حواس باختہ تھے۔ میں نے فوراً ہسپتال ٹیلی فون کیا اور ایمبولنس گاڑی منگوائی، بشریٰ کو وہاں پہنچایاگیا۔ ہاؤس سرجن اپنے کوارٹر میں تھے میں نے ان کو وہاں سے نکالا اور سارا ماجرا سُنا کر جلدی ہسپتال چلنے کے لیے کہا۔ ان پر میری عجلت طلب درخواست کا کوئی اثر نہ ہوا۔ بڑے بے رحم انداز میں کہنے لگے۔

’’منٹو صاحب مرنے دیجیے اس کو۔ آپ کیوں گھبرا رہے ہیں۔ ‘‘

اُن کو معلوم تھا کہ بشریٰ اس سے پیشتر دو مرتبہ زہر خوری کے سلسلے میں ہسپتال آچکی ہے۔ میں نے ان سے بشریٰ کے بارے میں کچھ نہ پوچھا اور تھوڑی دیر بعد واپس گھر چلاآیا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ مجھے بشریٰ کا حدود اربعہ معلوم نہیں تھا اور اُس کی زندگی کے سابقہ حالات میرے علم سے باہرتھے۔ میری اس کی متعدد مرتبہ ملاقات بھی ہوچکی تھی۔ وہ مجھے بھائی سعادت کہتی تھی۔

اس کے ساتھ کئی دفعہ پینے پلانے کا اتفاق بھی ہوچکا تھا۔ اس کی ایک لڑکی پرویز تھی۔ اس کی تصویر میں نے پہلی مرتبہ اُس روز دیکھی جب وہ قمر صاحب کے گھر میں بحیثیت بیوی آئی۔ نیچے دو کمروں میں سامان وغیرہ سجایا جارہا تھا۔ میں نے دیکھا ایک قبول صورت جوان لڑکی کا فوٹو معمولی سے فریم میں مینٹل پیس پر پڑا ہے۔ جب بیئر کا دور چلا تو میں نے بشریٰ سے پوچھا کہ یہ فوٹو کس کا ہے۔ اس نے مجھے بتایا کہ اُس کی لڑکی پرویز کاہے۔ جس نے خود کشی کرلی تھی۔ میں نے جب اس کی وجہ دریافت کی تو مجھے قمر صاحب اور بشریٰ سے جو باتیں معلوم ہوئیں، ان کو اگر کہانی کے انداز میں بیان کیا جائے تو کچھ اس قسم کی ہوں گی۔ پرویز بشریٰ کی پہلوٹھی کی لڑکی تھی جو اس کے پہلے خاوند سے پیدا ہوئی۔

وہ بھی کافی دولت مند زمیندار تھا۔ وہ مرگیا۔ مجھے دوسرے ذرائع سے معلوم ہوا کہ بشریٰ کا یہ پہلا خاوند جس کا نام اللہ بخش تھا اس سے شادی کے چند برسوں بعد ہی سخت متنفر ہو گیا تھا۔ اس لیے اس کی زندگی ہی میں بشریٰ نے کسی اور شخص سے آنکھ لڑانا شروع کردی تھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بشریٰ کو اپنے خاوند کی نفرت اور حقارت سے بچنے کے لیے علیحدگی اختیار کرنا پڑی۔ مرتے وقت اللہ بخش نے بشریٰ کو ایک کوڑی نہ دی۔ لیکن اپنی بچی پرویز کے لیے کچھ جائیداد الگ کردی۔ بشریٰ نے دوسری شادی کرلی۔ چونکہ تعلیم یافتہ اور روشن خیال تھی اس لیے پشاور کا ایک کامیاب بیرسٹر اُس کے دام میں گرفتار ہو گیا۔ اس سے اس کے یہاں دو لڑکے پیدا ہوئے۔ مگر اس دوسرے شوہر کے ساتھ بھی وہ زیادہ دیر تک جم کے نہ رہ سکی۔ چنانچہ اس سے طلاق حاصل کرلی۔ دراصل وہ آزاد زندگی بسر کرنا چاہتی تھی۔ یہ بیرسٹر ابھی تک زندہ ہے۔ دونوں لڑکے جو اب جوان ہیں اُس کے پاس ہیں۔

یہ اپنی ماں سے نہیں ملتے۔ اس لیے کہ اس کا کردار اُنھیں پسند نہیں۔ یہ تو ہے بشریٰ کی زندگی کا مختصر خاکہ۔ اس کی بیٹی پرویز کی کہانی ذرا طویل ہے اس کا بچپن زیادہ تر دیہات کی کھلی فضاؤں میں گزرا۔ بڑ ی نرم و نازک بچی تھی۔ سارا دن سرسبز کھیتوں میں کھیلتی تھی۔ اس کا ہمجولی کوئی نہ تھا۔ مزارعوں کے بچوں سے میل جول اس کے والدین کو پسند نہیں تھا۔ جب وہ کچھ بڑی ہوئی تو اُسے لاہور کے ایک ایسے سکول کے بورڈنگ ہاؤس میں داخل کرادیاگیا جہاں بڑے بڑے امیروں کے بچے پڑھتے تھے۔ ذہین تھی۔ طبعیت میں جوہر تھا۔ جب سکول سے نکل کر کالج میں داخل ہوئی تو وہ ایک خوبصورت دوشیزہ میں تبدیل ہوچکی تھی۔ جس کا مضطرب دل و دماغ ہر وقت آئیڈیل کی تلاش میں رہتا تھا۔ بہت سُریلی تھی۔ جب گاتی تو سننے والے اس کی آواز سے مسحور ہوجاتے۔ رقص بھی اُس نے سیکھا تھا۔ ناچتی تو دیکھنے والے مبہوت ہوجاتے۔ اس کے اعضا میں بلا کی لوچ تھی۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ جب وہ ناچتی تو اُس کے اعضا کی خفیف سے خفیف حرکت بھی دیکھنے والوں سے ہم کلام ہوتی تھی۔

بہت بھولی بھالی تھی۔ اس میں وہی سادگی اور سادہ لوحی تھی جو گاؤں کے اکثر باشندوں میں ہوتی ہے۔ انگریزی سکول میں پڑھی تھی۔ کالج میں تعلیم حاصل کی تھی۔ اُس کی سہلیوں میں بڑی تیز، شریر اور کائیاں لڑکیاں موجود تھیں۔ مگر وہ ان سب سے الگ تھی۔ وہ بادلوں سے بھی اوپر اُس فضا میں رہتی تھی جو بڑی لطیف ہوتی ہے۔ اُس کو دھن دولت کی کو ئی پرواہ نہیں تھی۔ وہ ایک ایسے نوجوان کے خواب دیکھتی تھی جس کو معبود بنا کر اُس کی ساری زندگی عبادت میں گزر جائے۔ عشق و محبت کی جائے نماز پر وہ مجسم سجدہ تھی۔ اس کی ماں اسے ایبٹ آباد لے گئی تو وہاں مردوں اور عورتوں سے ملی جلی محفل منعقد ہوئی۔

پرویز کو مجبور کیا گیا کہ وہ اپنا رقص دکھائے۔ اُس نے حاضرین پر نگاہ دوڑائی۔ ایک خوش پوش پٹھان نوجوان دُور کونے میں کھڑا تھا۔ اس کی آنکھوں میں چمک اور چہرے پر دمک تھی۔ ایک لمحے کے لیے پرویز کی نظریں اُس پر رُک گئیں۔ نوجوان نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اُسے کچھ کہا اور پرویز جو انکار کرنے والی تھی سب کچھ بھول کر بڑے دلفریب انداز میں رقص کرنے لگی۔ اس دوران میں اُس نے اپنے لچکیلے اور گداز جسم کے بھاؤ اور ہر رنگ سے اپنی رُوح کے اندر چھپی ہوئی خواہشوں کو ایک ایک کر کے باہر نکالا اور اُس پٹھان نوجوان کی محترم اور مسحور آنکھوں کے سامنے ترتیب وار سجادیا۔ اس نوجوان کا نام یوسف غلزئی تھا۔ اچھے دولت مند قبیلے کا ہونہار فرد۔ فارغ التحصیل ہوکر اب بڑھ چڑھ کے ملکی سیاست میں حصہ لے رہا تھا۔ عورت اس کے لیے عجوبہ نہیں تھی۔ لیکن پرویز نے اُسے موہ لیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں کی شادی بڑے دھوم دھڑکے سے ہوئی اور وہ میاں بیوی بن کر ابیٹ آباد میں رہنے لگے۔ پرویز بہت خوش تھی۔ اس قدر خوش کہ اس کا جی چاہتا تھا ہر وقت رقصاں رہے۔ ہر وقت اُس کے ہونٹوں سے سہانے اور سماعت نواز گیت چشموں کی طرح پھوٹتے رہیں۔ وہ یوسف تھا۔ تو پرویز اُس کی زُلیخا تھی۔ اُس کی عبادت میں دن رات مصروف رہتی تھی۔

اس نے اپنی طرف سے اس کے قدموں میں تمام نسائیت کا جوہر نکال کر ڈال دیا تھا۔ اُس سے زیادہ کوئی عورت کیا کرسکتی ہے۔ شروع شروع میں وہ بہت خوش رہی، اتنی خوش اور مسرور کہ اُسے یہ محسوس تک نہ ہوا کہ اسے ازدواجی زندگی بسر کرتے ہوئے پورے تین برس گزر چکے ہیں۔ اُس کے ایک بچی ہوئی مگر وہ اپنے یوسف کی محبت میں اس قدر مستغرق تھی کہ کبھی کبھی اُس کے وجود سے بالکل غافل ہوجاتی تھی۔ عجیب بات ہے کہ جب یہ لڑکی پیدا ہوئی تو اُس نے یہ محسوس کیا کہ اُس کے پیٹ سے بچی کے بجائے یوسف نکلا ہے۔ اس کی محبت کو جنم دیا ہے۔ اس سے آپ پرویز کی والہانہ محبت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ لیکن اس کے معبود کے قدم ثابت نہ رہے۔ وہ طبعاً عیش پرست تھا۔

وہ مصری کی مکھی کی طرح نہیں بلکہ شہد کی مکھی کی طرح باغ کی ہر کلی کا رس چوسنا چاہتا تھا۔ چنانچہ کروٹ بدل کر اور پرویز کی محبت کی زنجیریں توڑنے کے بعد وہ پھر اپنے پہلے اشغال میں مصروف ہو گیا۔ اس کے پاس دولت تھی، جوانی تھی، پُرکشش شخصیت کا مالک تھا۔ ملکی سیاسیات میں سرگرم حصہ لینے کے باعث اس کانام دن بہ دن روشن ہو رہا تھا۔ اُس کو پرویز کی والہانہ محبت یکسر جہالت پر مبنی دکھائی دی۔ وہ اُس سے اُکتا گیا۔ ہر وقت کی چوما چاٹی، منٹ منٹ کی بھینچا بھانچی اس کو سخت کھلنے لگی۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ پرویز اُسے مکڑی کی مانند اپنی محبت کے جالے میں بند کر دے جہاں وہ مرنڈا ہو جائے۔

اس کے بعد اُسے سفوف میں تبدیل کرکے نسوار کے طور پر استعمال کرنا شروع کردے۔ پرویز کو جب معلوم ہوا کہ یوسف سالم کا سالم اُس کا نہیں تو اُسے سخت صدمہ ہوا۔ کئی دنوں تک وہ اس کے باعث گم سم اور نڈھال رہی۔ اُس کو یوں محسوس ہوا کہ اس کے آئیڈیل کو ہتھوڑوں کی ظالم ضربوں نے چکنا چور کر کے ڈھیر کردیا ہے۔ اُس نے یوسف سے کچھ نہ کہا۔ اُس کی بے اعتنائیوں اور بے وفائیوں کا کوئی ذکر نہ کیا۔ وہ کوئی حتمی فیصلہ کرنا چاہتی تھی۔ طویل عرصے تک تنہائیوں میں رہ کر اس نے حالات پر غور کیا۔ یوسف سے چھٹکارا حاصل کرنا کوئی مشکل کام نہیں تھا۔ لیکن وہ اس کی جدائی برداشت نہیں کرسکتی تھی۔

اُس کو معبود کا رتبہ عطا کرنے والی وہ خود تھی۔ خدا کو اس کا بندہ کیسے رد کرسکتا ہے۔ جب کہ وہ ایک بار صدقِ دل سے اُس کی خدائی تسلیم کرچکا ہو، اُس کے حضور ہر وقت سجدہ ریز رہاہو۔ اُس نے فیصلہ کرلیا کہ وہ یوسف کے لیے نہیں صرف اپنے اس جذبے کی خاطر، جس نے یوسف کو خدائی کا رتبہ بخشا تھا، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اُس کے ساتھ رہے گی۔ وہ اس کے لیے بڑی سے بڑی قیمت دینے کے لیے بھی تیار تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اس بے چاری نے یوسف کی آغوش کے لیے ہر اس عورت کے لیے آسانیاں پیدا کیں جو اس میں تھوڑی دیر کے لیے حرارت محسوس کرناچاہتی تھی۔ یہ بڑی بے غیرتی تھی۔ مگر اُس نے اپنے ٹوٹے پھوٹے آئیڈیل کو مکمل شکست و ریخت سے بچانے کی خاطر فرار کا یہ عجیب و غریب راستہ اختیار کیا اور ہر قسم کی بے غیر تی برداشت کی۔ وہ اُس کی چند روزہ محبوباؤں سے بڑے پیار و محبت سے پیش آتی۔ اُن کی خاطر تواضع کرتی۔

ان کی عصمت باختہ تلون مزاجیوں کو سر آنکھوں پر رکھتی اور اُن کو اور اپنے خاوند کو ایسے موقع بہم پہنچاتی کہ اُس کی موجودگی ان کے عیش و عشرت میں مخل نہ ہو پاتی۔ ان عورتوں کے لیے اپنے سینے پر پتھر رکھ کر وہ قسم قسم کے کھانے تیار کرتی، اس کا خاوند ان واہیات عورتوں کو خوش رکھنے کے لیے جب اُسے حکم دیتا کہ ناچے اور گائے تو وہ ضبط سے کام لے کر کسی بھی لمحے برس پڑنے والی مصنوعی آنکھیں خوش دکھاتی۔ زخمی دل پر بھاہے لگاتی۔ غم و غصے سے کانپتے ہوئے ہونٹوں پر مصنوعی مسکراہٹیں پیدا کرتی، مسرت و انبساط سے بھرے ہوئے گیت گاتی اور بڑے طربناک انداز میں رقص کرتی۔ اس کے بعد وہ تنہائی میں اس قدر روتی، اس قدر آہیں بھرتی کہ اُسے محسوس ہوتا کہ وہ اب نہیں جیئے گی۔ مگر ایسے طوفان کے بعد اُس میں ایک نئی قوتِ برداشت پیدا ہوجاتی تھی اور وہ یوسف کی دلالی میں اپنا منہ کالا کرناشروع کردیتی تھی اور خود کو یقین دلانے کی کوشش کرتی تھی کہ یہ کالک نہیں بڑا ہی خوش رنگ غازہ ہے۔

اس دوران میں اُس کی ماں اُس سے ملنے کے لیے کئی مرتبہ آچکی تھی۔ مگر اُس نے اپنے خاوند کے متعلق اُس سے کبھی شکایت نہیں کی تھی۔ وہ اپنے راز یا دُکھ میں کسی کو شریک نہیں کرنا چاہتی تھی۔ ان حالات میں وہ اپنے خاوند کی ذات کے ساتھ کسی اور کو کسی طریقے سے بھی وابستہ دیکھنا پسند نہیں کرتی تھی۔ وہ یہ سوچتی کہ خاوند میرا ہے۔ وہ دُکھ بھی میرا ہے۔ جو وہ مجھے پہنچا رہا ہے وہ اگر دوسری عورتوں کو بھی اسی قسم کا دُکھ پہنچائے تو مجھے حسد ہو گا۔ لیکن وہ ایسا نہیں کرتا۔ اس لیے میں خوش ہوں۔ بشریٰ ان دنوں فارغ تھی۔ یعنی اُس نے کوئی اپنا شوہر نہیں کیا ہوا تھا۔ اس کا وقت سیرو تفریح میں گزر رہا تھا۔ دس پندرہ دن ایبٹ آباد پرویز کے ساتھ رہتی۔ یوسف کے ساتھ اِدھر اُدھر گھومتی پھرتی۔

دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے۔ وہ گھنٹوں علیحدہ کمرے میں بیٹھے تاش کھیلنے میں گزارتے اور پرویز ان کی خاطر تواضع میں مصروف رہتی۔ وہ چاہتی تھی کہ اُس کی ماں زیادہ دیر تک اس کے پاس ٹھہرے تاکہ سوسائٹی کی ان عورتوں کا جو چکلے کی رنڈیوں سے بھی بدتر ہیں، اس گھر میں داخلہ بند رہے۔ مگر وہ ایک جگہ بہت عرصے تک ٹک کر نہیں رہ سکتی تھی۔

جب وہ چلی جاتی تو دوسرے تیسرے روز یوسف بھی اپنی پرانی ڈگر اختیار کرلیتا۔ پرویز دوسرا روپ دھار لیتی اور اپنے خاوند کی نت نئی سہلیوں کے قدموں کے لیے پاانداز بن جاتی۔ اُس نے اس زندگی کو آہستہ آہستہ اپنا لیا ہے۔ اب اسے زیادہ کوفت نہیں ہوتی تھی۔ اس نے خود کو سمجھا بجھا کر راضی کرلیا تھا کہ اُسے زندگی کے ڈرامے میں یہی رول ادا کرنا تھا جو وہ کررہی تھی۔ چنانچہ اُس سے اُس کے دل و دماغ سے وہ کدورت جو پہلے پہلے بہت اذیت دہ تھی، قریب قریب دُھل گئی تھی، وہ خوش رہتی اور اپنی ننھی بچی کی طرف زیادہ توجہ دینے لگی تھی۔ ایک دن اُسے کسی ضروری کام سے اچانک لاہور جانا پڑا۔ دو دن کے بعد لوٹی تو شام کا وقت تھا۔ یوسف کا کمرہ بند تھا۔

مگر اس میں اُس کے مخمور قہقہوں کی آواز سُنائی دے رہے تھی۔ پرویز نے دروازے کی ایک درز سے جھانک کر دیکھا تو سرتا پا لرز گئی اُس کا پیازی رنگ ایک دم کاغذ کی مانند بے جان سفیدی اختیار کرگیا۔ یہ سارے واقعات مجھے معتبر ذرائع سے معلوم ہوئے۔ بشریٰ نے مجھے جو کچھ بتایا اس سے مختلف تھا اس کا بیان ہے کہ دل ہی دل میں کڑھ کڑھ کر وہ اپنی جان سے بیزار ہو گئی تھی اُس نے یوسف کی خاطر بڑی سے بڑی ذلت قبول کرنا گوارا تو کر لیاتھا، مگر اس کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ ایک رات اُس نے شراب کے نشے میں بدمست اپنی کسی چہیتی کو آغوش میں لیے پرویز سے کہا کہ ناچے اور ننگی ناچے وہ اس کے کسی حکم کو نہیں ٹالتی تھی۔ یوسف اُس کا خدا تھا، چنانچہ اُس نے اس کے حکم کی تعمیل کی۔

آنکھوں سے آنسو رواں تھے اور اس کا عریاں بند رقصاں تھا۔ ناچ ختم ہوا تو اس نے خاموشی سے کپڑے پہنے اور باہر نکل کر زہر کھالیا اور مرگئی۔ معلوم نہیں حقیقت کیا تھی لیکن جو کچھ معتبر ذرائع سے معلوم ہوا یہ ہے کہ جب پرویز نے یوسف کے کمرے میں جھانک کر دیکھا تو اُسی وقت فیصلہ کرلیا کہ وہ زندہ نہیں رہے گی، چنانچہ اُسی وقت وہ موٹر میں سیدھی ایک کیمسٹ کی دُکان پر گئی اور اُس نے سونورل کی پوری ڈبیہ طلب کی۔

قیمت ادا کرنے لگی تو اُسے معلوم ہوا کہ افراتفری کے عالم میں وہ اپنا پرس وہیں گھر پر بھول آئی ہے، چنانچہ اس نے کیمسٹ سے کہا کہ میں مسز یوسف غلزئی ہوں۔ پرس ساتھ نہیں لائی۔ بل بھیجوا دیجیے گا۔ یوسف صاحب ادا کردیں گے۔ گھر آ کے اُس نے خادمہ کو ڈبیہ کی ساری گولیاں دیں اور اس سے کہا اچھی طرح پیس کے لاؤ۔ یہ سفوف اُس نے گرم گرم دُودھ میں ڈالا اور پی گئی۔

تھوڑی دیر بعد نوکر آیا اور اُس نے پرویز سے کہاکہ آپ کی والدہ آئی ہیں یوسف صاحب آپ کو بلاتے ہیں۔ پرویز کی آنکھیں بالکل خشک تھیں۔ مگر ان میں غنودگی تھی۔ اس لیے کہ زہر کا اثر شروع ہو گیاتھا۔ منہ دھو کر اور بال سنوار کر وہ اندر گئی۔ اپنی ماں سے بغل گیر ہوئی اور یوسف کے ساتھ قالین پر بیٹھ گئی۔ ماں سے باتیں کرتے کرتے ایک دم پرویز کو چکر آیا اور وہ بے ہوش ہوکر ایک طرف لڑھک گئی۔ ماں نے تشویش کا اظہار کیا، اس لیے کہ اس کی بچی کا رنگ نیلا ہو رہا تھا۔ مگر یوسف نے جو نشے میں چور تھا، کسی قسم کے تردد کااظہار نہ کیا اور بشریٰ سے کہا

’’کچھ بھی نہیں ہوا اسے، بن رہی ہے۔ ‘‘

پھر اُس نے بڑے زور سے پرویز کا شانہ جھنجھوڑا اور حاکمانہ کہا

’’اُٹھ۔ ‘‘

مجھے یہ ایکٹنگ پسند نہیں۔ ‘‘

بشری نے بھی اُس کو آوازیں دیں اُس کو ہلایا جلایا۔ آخر ڈاکٹر کو بلایا گیا۔ مگر وہ جب آیا تو پرویز اللہ کو پیاری ہوچکی تھی۔ پرویز کی خودکشی کے متعلق کئی قصے مشہور ہیں۔ لیکن اس کا جو پہلو مجھے معتبر ذرائع سے منکشف ہوا میری سمجھ میں آگیا تھا۔ اس لیے میں خاموش رہا اور انتظار کرتا رہا کہ اس کی تصدیق کب ہوتی ہے۔ قمر صاحب بشریٰ کو ہسپتال سے واپس لائے تو میں ان سے ملا۔ ان کے پاس اب موٹر نہیں تھی۔ میں نے اس بارے میں استفسار کیا تو انھوں نے شاعرانہ بے اعتنائی اختیار کرتے ہوئے جواب دیا

’’جس کی تھی لے گئی‘‘

میں نے پوچھا۔

’’کیا مطلب؟‘‘

جواب ملا۔

’’مطلب یہ کہ موٹر میری کب تھی۔ وہ تو ان محترمہ کی تھی۔ میں نے کچھ عرصہ سے اس کا استعمال ترک کردیا تھا۔ اپنی سائیکل پر دفتر جاتا اور اسی پر واپس آتا تھا۔ جب ان کو ضرورت ہوتی تو میں ڈرائیور کے فرائض ادا کرتا تھا۔ ‘‘

میں کچھ کچھ سمجھ گیا

’’کیا ناچاقی ہو گئی؟‘‘

’’ہاں کچھ ایسا ہی سمجھیے۔ میں نے ان کو طلاق دے دی ہے۔ ‘‘

بعد میں مجھے جب قمر صاحب سے مفصل گفتگو کرنے کا موقع ملا تو انھوں نے مجھے بتایا کہ نکاح وکاح کوئی نہیں ہوا تھا۔ طلاق نامہ انھوں نے صرف اس لیے لکھا کہ لوگوں میں اس بات کی تشہیر نہ ہو کہ وہ غیر شرعی طور پر ان کے ساتھ قریب قریب دو برس رہیں۔ میں زیادہ تفصیل میں جانا نہیں چاہتا۔ ان کے درمیان جو فیصلہ کن لڑائی جھگڑا ہوا اُس کی وجہ یہ تھی کہ بقول قمر صاحب، ان کی محترمہ نے حیدر آباد کے ایک ادھیڑ عمر کے مہاجر رئیس سے جسمانی رشتہ قائم کر لیا تھا اس لیے اُن کے لیے قمر صاحب کی ذات میں وہ کشش ختم ہو گئی تھی جو کسی زمانے میں اُن کو نظر آتی تھی۔ بلکہ یوں کہئے کہ جس کو دیکھ کر اُن کی آنکھیں چندھیا گئی تھیں۔ مجھے افسوس ہوا، اس لیے کہ بعد میں مجھے پتہ چلا کہ قمر صاحب نے اپنی تینوں ہونہار بچیوں کو سکول سے اُٹھا لیا ہے خود گولڈ فلیک کے بدلے بگلے کے سستے سگریٹ پیتے ہیں پہلے تفریح کے اتنے سامان مہیا تھے، پر اب شُتربے مہار کی طرح بے مطلب اِدھر اُدھر چکر لگاتے رہتے ہیں۔ محترمہ بشریٰ کے متعلق انھوں نے مجھے بہت کچھ بتایا لیکن میں یہ نہ سمجھ سکا کہ جب علیحدگی کا فیصلہ ہوچکا تھا اور حیدر آباد کے مہاجر رئیس صاحب نے بشریٰ کے ساتھ باقاعدہ راتیں گزارنا شروع کر رکھی تھیں تو اُن کو سونورل کی بتیس گولیاں کھا کر خودکشی کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔ بظاہر خطرناک فعل قمر صاحب کے اس اعتراض کا ردِ عمل معلوم ہوتا ہے جو ان کو بشریٰ کے چال چلن پر تھا۔ لیکن ایمان کی بات ہے کہ مجھے اس کے عقب میں ایسا کوئی دل شکن عنصر نظر نہیں آتا جو انسان کو موت کی گود میں سو جانے پر مجبور کر دے۔ اس پر قمر صاحب بھی کوئی روشنی ڈالنے سے معذور ہیں۔ ایک دن باتوں باتوں میں ان سے میں آخر پوچھ ہی بیٹھا

’’سونورل کھانے کی روایت جو بشریٰ کی بیٹی پرویز نے قائم کی آپ نے اور بشریٰ نے جاری رکھی۔ لیکن آپ یہ بتائیے کہ وہ کونسی وجہ تھی جس نے اس غریب کو اتنے خطرناک اقدام کے لیے تیار کر دیا۔ آپ کئی بار مجھے بتا چکے ہیں کہ پرویز اپنے شوہر یوسف غلزئی کی حرام کاریوں کی عادی ہو چکی تھی۔ بلکہ وہ خود اس معاملے میں اس کی معاونت کرتی تھی۔ کوئی عورت جب اس حد تک پہنچ کر داشتہ بن جائے، خرابے کی انتہا کو پہنچ کر ضمیر کی نہایت ہی خوفناک صورت اختیار کرے، خودکشی کو وہ زبوں ترین فعل سمجھے، اس کو کبھی اس کا خیال تک نہیں آسکتا۔ میرا اپنا خیال ہے، بلکہ یقین ہے کہ اس کی ماں بشریٰ نے جسے آپ محترمہ کہتے ہیں یوسف سے ایسے تعلقات پیدا کر لیے تھے جنھیں عام لوگ ناجائز کہتے ہیں‘‘

قمر صاحب نے صرف ان الفاظ میں میری تصدیق کی

’’یہ بالکل دُرست ہے۔ ایک دن شراب کے نشے میں بشریٰ نے اس کا اقرار کیا تھا اور بہت روئی تھی۔ ‘‘

اُس دن شام کو معلوم ہوا کہ حیدر آباد کے مہاجر رئیس صاحب نے سونورل کی چوبیس گولیاں کھا لی ہیں۔ بشریٰ نے حسب معمول بتیس کھائی تھیں۔ دونوں ہسپتال میں بے ہوش پڑے تھے۔ دوسرے روز رئیس صاحب اللہ کو پیارے ہو گئے۔ چوبیس ہی میں ان کا کام تمام ہو گیا مگر بشریٰ بچ گئی۔ آج کل وہ مرحوم کا سوگ منارہی ہے۔ جس شخص کے پاس اُس نے موٹر بیچی تھی وہ دن رات اُس کے پاس دل جوئی کے لیے موجود رہتا ہے۔

سعادت حسن منٹو
loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں