بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے سے پاکستانی مؤقف پر مہر لگ گئی، شاہ محمود

شاہ محمود قریشی

وزير خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہےکہ بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ کشمیر میں حالات معمول پر لانے کا حکم دیکر مودی سرکار کے مقدمے پر پانی پھیر دیا ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کل بھی کہا تھا کہ ہندوستان میں تقسیم ہے اور آج وہاں کی سپریم کورٹ نے اس تقسیم پر مہر لگا دی ہے، بھارت جنیوا میں راگ الاپ رہا تھا کہ جموں کشمیرمیں حالات نارمل ہیں لیکن بھارتی سپریم کورٹ نے مودی حکومت کوحکم دیا ہے کہ کشمیر میں حالات کو معمول پر لایا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حالات کو معمول پر لانے کا مطلب ہے کہ کرفیو ہٹایا جائے اور بنیادی حقوق بحال کیے جائيں، مسجدوں کو تالے نہ لگائے جائيں، اسپتال تک رسائی دیں، بند بازاروں کو کھولا جائے اور مقبوضہ کشمیر کی لیڈر شپ کو رہا کیا جائے ۔

احتساب عدالت کا شاہد خاقان عباسی کو پیرول پر رہا کرنے کا حکم

ان کا کہنا کہ اب نریندر مودی کس منہ سے ہوسٹن میں جلسہ کریں گے کہ ان کا اپنا سپریم کورٹ ان کی کارروائی پر عدم اعتماد کر رہا ہے، آج سپریم کورٹ نے ان کے مقدمے پر پانی پھیر دیا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر بھارتی حکومت میں ہمت، حوصلہ اور جرات ہے تو غلام نبی آزاد کے ساتھ بین الاقوامی میڈيا کو بھی مقبوضہ کشمیر جانے دیا جائے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے سے پاکستان کے مؤقف کی تائید ہوئی ہے، پاکستان تو قدم بہ قدم آگے بڑھ رہا ہے، ہمیں کامیابی ملی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 17 ستمبر کو یورپی پارلیمنٹ میں کشمیر پر بحث ہو گی جب کہ وزیراعظم 27 تاریخ کو جنرل اسمبلی میں اپنا مؤقف پیش کریں گے، عمران خان کے نیو یارک پہنچںے سے پہلے بھارت بے نقاب ہو چکا ہو گا۔

اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمیں قومی ایجنڈے کو فوقیت دینی چاہیے، یہ وقت کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اپوزيشن ملک کے اندرونی انتشار سے اجتناب کریں کیونکہ کشمیری قوم اُن سے توقعات لگائے ہوئے ہیں۔

(Visited 19 times, 1 visits today)
loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں