مانع حمل کی گولیاں استعمال کرنے والے یہ نہیں جانتے …!

آج کل کے ماڈرن دور میں مانع حمل کی گولیوں کا استعمال بڑھتا جارہا ہے۔ خواتین اب ان گولیوں کا استعمال بہت زیادہ کرتی ہیں۔ ماہرین نے تحقیق سے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ مانع حمل کی گولیاں استعمال کرنے والی خواتین میں دوسروں کے چہروں سے ان کے تاثرات اور جذبات  کو سمجھنے کی صلاحیت بہت زیادہ متاثر ہورہی ہے اور خواتین اس بات سے ناواقف ہیں۔

 مانع حمل گولیوں  کے مضر اثرات پر ایک عرصے سے بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ مانع حمل کی گولیوں کے نقصانات کے متعلق ماہرین نے پہلے بھی کے انکشافات کیے ہیں جیسے کہ مزاج کا اتار چڑھاؤ،  سینے میں درد متلی چکر آنا وغیرہ

جرمنی کی گریفسوالڈ یونیورسٹی کے کچھ سائنس دانوں نے 18 اور 38 سال کے درمیان عمر کی 95 صحت مند خواتین میں اس موضوع پر نظر ڈالی ہے۔ اس تحقیق کے نتائج فرنٹیرز آف نیورو سائنس نامی جریدے میں شائع ہوئے ہیں۔

تحقیق کاروں کا خیال ہے کہ اس جائزے میں شریک ہونے والی خواتین کی کم تعداد کے باوجود اس کے نتائج مستقبل میں مانع حمل گولیوں کے استعمال سے متعلق رہنمائی میں مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔

اس جائزے میں شریک خواتین میں سے 42 کا کہنا تھا کہ وہ مانع حمل گولیاں استعمال کرتی ہیں جب کہ 53 کے مطابق وہ ایسا نہیں کرتیں۔اس گروہ کو 37 بلیک اینڈ وائٹ تصاویر دکھائی گئیں جن میں لوگوں کے چہرے کا آنکھوں کے اردگرد کا حصہ دکھایا گیا تھا۔

ہر تصویر کے ساتھ چار عنوان دیے گئے تھے جو فخر یا حقارت جیسے مرکب جذباتی تاثرات کو بیان کرتے تھے۔ ان میں سے تین دھیان ہٹانے کے لیے تھے جب کہ ایک مطلوبہ عنوان تھا۔

کس عمر کے بعد جنسی تعلق مردوں کے لیے موت کا سبب ہوتا ہے ؟

مانع حمل
Photo: File

ان خواتین سے کہا گیا تھا کہ انہیں تصویر کے موزوں ترین عنوان کو ظاہر کرنے والا بٹن جلد از جلد دبانا ہے۔ اس جائزے کے نتائج سے معلوم ہوا کہ مانع حمل گولیاں استعمال کرنے والی خواتین میں چہرے کے تاثرات کو درست طور پر سمجھنے کا امکان دوسری شرکا خواتین کے مقابلے میں کم تھا۔

اس تحقیق کے سینیئر مصنف ڈاکٹر الیگزینڈر لیشک کا کہنا تھا: ’منہ سے لی جانے والی دافع حمل ادویات اگر جذباتی کیفیات کو پہچاننے میں واضح کمی کا باعث بنتیں تو ہمیں غالباً اپنی شریکِ حیات سے روزمرہ میل جول ہی میں اس کا پتہ چل جاتا۔ اس لیے ہم نے فرض کر لیا کہ یہ کمی بہت معمولی سی ہو گی۔ چنانچہ ہمیں خواتین میں جذبات کی شناخت کا کوئی ایسا تجربہ کرنا تھا جو اس قسم کی کمی کا ادراک کر سکے۔

اسی لیے ہم نے چہرے کے آنکھ والے حصے کے مرکب تاثرات سے جذبے کی شناخت کا ہنرآزما کام تجویز کیا۔ آسان تاثرات کو پہچاننے میں دونوں گروہ ایک جیسے تھے لیکن منہ سے مانع حمل ادویات لینے والی خواتین میں دشوار تاثرات کو درست طور پر شناخت کرنے کا امکان کم پایا گیا۔‘

(Visited 1,851 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں