عمران خان اور یکساں نظام تعلیم

تحقیق

محمد سعید، ایم اے ایم ایڈ

گزشتہ ہفتے وفاقی وزیر تعلیم جناب شفقت محمود ایک پریس کانفرنس میں یکساں نطام تعلیم کے اہم ترین موضوع پر مشکلات کا اظہار کر رہئے تھے۔ مشکلات کیا دراصل اپنی بے بسی کا رونا رو رہے تھے۔

قومی یک جہتی اور ہم آہنگی کا یہ اہم ترین پہلو گزشتہ 70 برس سے نظر انداز چلا آرہا ہے۔ قومی زبان اردو کو کاغذی کاروائی تک محدود رکھا گیا۔ لیکن اسے باقاعدہ طور پر نافذ نہیں کیا گیا۔ پاکستان میں یکساں نصاب کو مجرمانہ طور پر نطر انداز کیا گیا۔ جس کا نتیجہ قومی انتشار اور خلفشار ہے۔ جب ایسے متذکرہ موضوع نطر انداز ہونگے تو لسانی اور علاقائی تعصبات ہی ابھریں گے۔

بدقسمتی سے پاکستان کے وجود میں آتے ہی مشرقی پاکستان میں بنگلہ زبان کا مسئلہ کھڑا کرکے قائد اعظم کا ڈھاکہ میں ہونے والا جلسہ لسانی فسادات کا شکار ہو گیا۔ قائد اعظم کے جلسہ کے شامیانے اکھاڑنے والوں کا سرخیل شیخ مجیب الرحمان ہی تھا۔ جو بعد میں پاکستان کو کنفیڈریشن کی شکل دینے کے لئے 6 نکات کا ایجنڈا لیکر سامنے آگیا۔ لسانی اور علاقائی تعصبات کو اس قدر ابھارا گیا کہ 1970 کے انتخابات میں دو علاقائی جماعتیں عوامی لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی ایک دوسرے کے مد مقابل آکھڑی ہوئیں۔ ایک طرف بنگلہ بدھو کے 6 نکات دوسری طرف ذولفقار علی بھٹو کا نعرہ ادھر تم، ادھر ہم۔ اس ٹکراؤ میں قائد اعظم کا پاکستان دو لخت ہو گیا۔ جس پر اندر را گاندھی نے نعرہ لگایا کہ ہم نے دو قومی نظریہ بحر ہند میں غرق کر دیا۔

قومی زبان اور یکساں نصاب تعلیم کی عدم موجودگی کی بنا پر سندھ میں لسانی اور علاقائی تعصب کو ابھارا جا رہا ہے اور وزیر تعلیم کی بلائی گئی میٹنگ میں سندھ کے وزیر اعلی کا دانستہ طور پر نہ آنا، ایک سوالیہ نشان ہے۔ اٹھارویں ترمیم بھی حائل ہو چکی ہے۔ سرکاری سکولوں کا کبھی یہ مقام تھا کہ سردار عبد الرب نشتر گورنر پنجاب کا بیٹا سنٹرل ماڈل سکول، لوئر مال میں زیر تعلیم تھے اور سکول فنکشن میں گورنر پنجاب سکول کی دعوت پر خود حاضر ہوتے تھے۔ یہ تھی سرکاری سکولوں کی اہمیت اور ان کی حوصلہ افزائی۔

پھر آہستہ آہستہ سرکاری سکولوں کو نظر انداز کرنے کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا۔ نتیجہ انگلش میڈیم سکول کے نام سے خاردار جھاڑیوں کی طرح سکول آگئے ۔ مختلف نظریات، مختلف سلیبس، مختلف طرز تعلیم اور او اے لیول کے نصاب رائج ہوئے۔ تعلیم کو کاروباری کی شکل دے دی گئی۔ اب تعلیمی ادارے کاروباری نفع بخش منڈیاں بن گیئں۔ ان کی وجہ سے قوم مختلف طبقات میں تقسیم در تقسیم ہوتی گئی۔ مختلف گرپوں نے مختلف ناموں سے سکول کھول کر اجارہ داری قائم کر لی۔ غریب طبقہ ان سکولوں اور کالجوں میں داخلے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ ہائوسنگ سو سائیٹوں کے بعد تعلیم کے میدان میں نئے ٹائیکون پیدا ہو چکے ہیں ۔ غریبوں کے لئے اب دوائی اور تعلیم نہ ملنے کی وجہ سے خودکشیاں رہ گئیں ہیں۔ جیسا کہ کراچی کی رہائیشی ایک ماں نے دوائی نہ ملنے سے بچے کو تڑپتا دیکھ کر خودکشی کر لی ۔ کیا یہ لوٹ مار کرنے والا طبقہ پاکستان میں یکساں نظام تعلیم آنے دے گا؟۔

دیکھنا یہ ہے کہ اس گھمبیر صورت حال میں عمران خان اور وزیر تعلیم شفقت محمود کیسے عہدہ بر آہوتے ہیں۔ یہ امتحان صرف حکومت کا نہیں، بلکہ ریاست پاکستان کا بھی ہے ۔

loading...

Spread the love
  • 5
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں