کیا پاکستان میں ترکش اسلامی صدارتی نظام آسکتا ہے؟

صدارتی نظام

پاکستان کی فضا میں صدارتی نظام کو اپنانے کے لیے بہت سے لوگ ہوا دے رہے ہیں کہ ملک میں پارلیمانی نظام کی بجائے صدارتی نظام ہونا چاہیے۔ یہی نہیں عمران خان نے خود اپنی الیکشن مہم کے دوران کہا تھا کہ ملک میں ریاست مدینہ کی طرز کا اسلامی نظام ہونا چاہیے۔ اس اسلامی صدارتی نظام کو اپنانے کے لیے سوشل میڈیا پر بہت بحث ہو رہی ہے اور کئی لوگ تو اس کی باقاعدہ تشہیر کر رہے ہیں کہ ملکی نظام اب صدارتی ہونا چاہیے جس میں عدل و انصاف ہو گا۔

سب سے پہلے بات کرتے ہیں ،کیا ہوتا ہے اسلامی صدارتی نظام اور اس نظام  میں پارلیمانی نظام سے کون سے چیزیں مختلف ہیں۔ پاکستان کا موجودہ نظام پارلیمانی نظام حکومت ہے جس میں اختیارات وزیراعظم کے پاس ہوتے ہیں جو ملکی معاملات ایک کابینہ کے ساتھ مل کر حل کرتا ہے ۔ پارلیمانی نظام حکومت برطانیہ کی ایجاد ہے ۔

اسلامی ںظام حکومت اسلامی طرز پر مبنی نظام جو ریاست مدینہ میں چل رہا ہے اور صدارتی نظام کی مثال آج ترقی میں جس نظام کو اپنایا گیا ہے۔ وہ صدارتی نظام ہے۔ اس نظام میں صدر کے پاس تمام طاقت ہوتی ہے اور صدر کو عوام اپنے ووٹ سے منتخب کرتے ہیں۔ اس میں صدر اپنی مرضی سے قابل اور ماہر لوگوں کو وزراء منتخب کرتا ہے۔ اس کے علاوہ صدر عدالتی نظام میں بھی مداخلت کرسکتا ہے۔

اعداد و شمار کی رو سے دنیا کے 75 فیصد ملکوں میں صدارتی نظام رائج ہے۔ جس میں صدر حکومت اور مملکت دونوں کا سربراہ ہوتا ہے۔ صدارتی نظام کی ایک خوبی یہ ہے کہ عوام کو دوبارہ ووٹ ڈالنے کا موقع ملتا ہے اور اسی وجہ سے حکومت سازی میں عوام کے منتخب کردہ صدر کی طاقت بڑھے گی۔ اسلامی ممالک میں صدرارتی نظام کی بات کی جائے تو 2018 میں ترکی میں صدارتی نظام رجب طیب اردوان کی طرف سے ایک ریفرنڈم کے ذریعے اپنا لیا گیا ہے۔

 جو کامیابی سے چل رہا ہے۔ یہ صدرارتی نظام 24 جون 2018 میں ترکی کے عام انتخابات جن میں جسٹس ڈویلپمنٹ پارٹی AKP نے واضح اکثریت حاصل کی اور اس ملک میں صدارتی نظام متعارف کروایا۔ نئے صدارتی نظام میں رجب طیب اردوان نئے صدر منتخب ہوئے۔

ترکی کا صدارتی نظام کچھ اس طرز کا ہے۔ جس میں صدر پانچ سال کے لیے عوام کے ووٹ سے منتخب ہو تا ہے۔ اس میں وزیراعظم کے عہدے کو ختم کر دیا گیا ہے،۔ صدر تمام پالیسیوں کے مرتب کرنے اس کے علاوہ تمام ملکی معاملات جن میں سیکیورٹی، خارجی امور، صحت اور تعلیم میں اپنا کردار ادا کرے گا۔

ترکی کے موجودہ صدر رجب طیب اردوان اور پاکستانی وزیراعظم عمران خان میں بہت مماثلت بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ وہ یہ کہ دونوں ملک کے فرسودہ نظام کے خلاف ہیں اور ملک کے استحکام کے لیے کوشیش کر رہے ہیں۔ اگرچہ طیب اردوان نے 2001 میں پارٹی بنائی اور 2002 میں انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور انہیں ملکی سیاست اور عالمی معملات کے بارے میں زیادہ معلومات ہیں۔ دوسری طرف عمران خان نے 1996 میں پارٹی بنائی اور 23 سال کی محنت کے بعد 2018 کے انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کی۔

 عمران خان کے نزدیک پارلیمانی نظام سے صدراتی نظام بہتر ہے اور ان کا خیال ہے کہ صدرارتی نظام میں انہیں وہ طاقت مل جائے گی. جس سے وہ ملک میں فرسوردہ نظام کو ختم کر سکیں گے۔ کیونکہ پارلیمانی نظام میں جس کے پاس پیسہ ہے. وہ پاکستان کی حکومت میں بیٹھا ہے اور ان کا سیاست کا یہ سلسلہ نسل در نسل چل رہا ہے۔

یہاں یہ بات قابل بحث ہے کہ پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد پاکستان کو بہت سےمسائل کا سامنا کرنا پرا۔ ان میں سب سے بڑا مسئلہ آئین کا تھا۔ سب سے پہلے ملک کو 1935 کے انڈین گورنمنٹ ایکٹ کے مطابق چلایا گیا۔ اس کے بعد1949 میں قرارداد مقاصد پیش کی گئی۔ یہ دونوں پارلیمانی طرز کی حکومت تھیں ۔

پاکستان کا پہلا باضابطہ آئین 1956 مین پیش کیا گیا۔ یہ آئین بھی پارلیمانی حکومت پر مبنی تھا۔ لیکن اس کے ڈھائی سال بعد ہی ملک میں جنرل ایوب خان نے مارشل لاء نافذ کر دیا اور اسی دوران 1962 کا آئین وجود میں آیا۔ یہ آئین صدراتی نظام پر مبنی تھا۔ اس کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے 1973 کا پارلیمانی آئین متعارف کرایا۔ یہ آئین آج بھی ملک میں کامیابی سے چل رہا ہے۔ اس آئین کے بعد ملک میں دو بار مارشل لاء نافذ ہوا۔ ایک جنرل ضیاء الحق 1977 سے 1988 تک اور دوسرا جنرل پرویز مشرف کے دور میں 1999 سے 2001 تک ۔

ان تمام باتوں سے آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ تاریخ میں صدراتی نظام کس نے اپنایا اور صدارتی نظام کیوجہ سے کس طرح سے جرنیلوں نے حکومت کرنے کے راستے ہموار کئے۔ اس طرح ملکی تاریخ  میں پارلیمانی اور صدراتی نظام میں ایک جنگ سے رہی۔  پہلی دفع 2008 میں پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنا جمہوری پارلیمانی دورِ حکومت مکمل کیا۔

پاکستان میں آمریت اور صدارتی نظام میں چولی دامن کا ساتھ رہا ہے۔ یہاں کچھ مفکرین کا کہنا ہے کہ ملک کے لیے پارلیمانی ںظام ہی بہتر ہے کیونکہ ملک میں اس وقت جو صدراتی نظام کی فضا بنی ہوئی ہے۔ اس میں آمریت اپنا تسلط کرنا چاہتی ہے۔

آئین میں 18ویں ترمیم کو بدلنے پرزور دیا جارہا ہے۔ جو صوبوں کو خودمختاری دیتی ہے اور صدر کے اختیارات کم کرتی ہے۔ اسے ختم کرنے کی کوشیش کی جارہی ہے تاکہ صدارتی نظام کو اپنایا جائے۔ لیکن دوسری طرف اپوزیشن اس کے خلاف ہے۔ جن میں پیپلزپارٹی اسے سازش کہتے ہوئے اس نظام کے خلاف آواز اٹھا رہی ہے۔

صدارتی نظام کے حامی کہتے ہیں کہ ملک میں اس نظام کے آنے سے ملکی حالات بدل جائیں گے۔ وراثتی سیاست ختم ہوگی۔ نئے دور کا آغاز ہوگا۔ ملک میں ہر خاص و عام کو اس کا حق ملے گا۔ انصاف ملے گا۔

یہاں ایک بات بہت اہم ہے کہ پاکستان بننے کے بعد ابھی تک اس کی سیاست میں ایسے لوگ آرہے ہیں جو صرف پیسے کے زور پر ملک کے اعلیٰ ایوانوں میں بیٹھے ہیں۔ تعلیم کی کمی اور جعلی ڈگریوں سے ملک کا نظام چلا رہے ہیں اور قابل لوگوں کے آگے آنے سے روک رکھا ہے۔

پارلیمنٹ میں بیٹھے لوگوں کو جو عوام کے ووٹ سے ملک کے نظام کو چلا رہے ہیں۔ اس بات پر سوچنا چاہیے کہ عوام کیا چاہتے ہیں؟۔ کن تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ جو ملکی حالات بدلے۔ کیا ہمارا پالیمانی نظام صحیح ہے۔ کیا اس میں تبدیلی ہونی چاہیے  اور کیا پارلیمانی نظام سے صدارتی نظام بہتر ہے تو کیسے۔۔۔ اور کیا اس پر ریفرینڈم نہیں کروایا جانا چاہیئے؟۔

اس ریفرنڈم کے ذریعے یہ جانا جائے گا کہ عوام پارلیمانی نظام کی حامی ہیں یا صدارتی نظام کے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں