طاقتوربیوروکریسی اورکمزورحکومت

طاقتوربیوروکریسی

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے 8 ماہ کے دوران پنجاب میں تین انسپکٹر جنرل آف پولیس تبدیل کر دیئے گئے۔

آئی جی پولیس پنجاب امجد جاوید سلیمی کی جگہ کیپٹن (ر) عارف نواز کو دوبارہ تعینات کردیا گیاجبکہ چیف سیکریٹری پنجاب یوسف نسیم کھوکھر کو بھی تبدیل کیے جانے کا امکان ہے۔

تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی حکومت کے 8 ماہ کے دوران پنجاب میں تین انسپکٹر جنرل آف پولیس تبدیل ہوچکے ہیں۔ نگران دور حکومت میں تعینات ہونے والے آئی جی کیپٹن (ر) عارف نواز کو جون2018 میں تبدیل کرکے کلیم امام کو تعینات کیا گیا تھا۔ پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت قائم ہوئی تو ستمبر2018 میں کلیم امام کو ہٹا کر محمد طاہر نورانی کو آئی جی پنجاب لگایا گیا لیکن ایک ہی ماہ بعد اکتوبر 2018 میں محمد طاہر کو بھی تبدیل کرکے امجد جاوید سلیمی کو آئی جی تعینات کیا گیا لیکن ان کا کام بھی حکومت کو پسند نہ آیا جس پر انہیں بھی تبدیل کرکے گزشتہ روز کیپٹن (ر) عارف نواز کو آئی جی پولیس پنجاب تعینات کردیا گیا۔

بیوروکریسی میں وسیع پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کے بعد اب آئی جی پنجاب کی تبدیلی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پنجاب پر تحریک انصاف کی حکومت اپنی گرفت مضبوط نہیں کرپارہی جس کے باعث انتظامی امور اور انتہائی اہم معاملات رکے دکھائی دیتے ہیں،گویا سب کچھ جمود کا شکار ہے ۔کاش ہمارے حکمرانوں کو کوئی سمجھا سکتا کہ سرکاری افسروں کی اکھاڑپچھاڑ حتیٰ کہ وزرا کی اکھاڑ پچھاڑ سے بھی کچھ حاصل نہیں ہوتا۔

ان اقدامات سے نہ توحکومت کی کارکردگی ثابت ہوتی ہے اور نہ ہی ان سے عوامی توجہ کسی اور طرف مبذول کی جاسکتی ہے۔اس سے چند محدود سرکاری حلقوں میں ہلکی پھلکی حرکت ضرور نظر آتی ہے مگر وہ بھی وقتی سی اور ان اقدامات سے فرق صرف ان چند سرکاری افسروںکو پڑتا ہے جنہیں دائیں بائیں کیا جاتا ہے یا جن میں آئندہ ایسا ہونے کی تشویش پیدا ہوجاتی ہے۔

مگر چند افسروں کے متاثر ہونے سے کسی حکومت کی مجموعی کارکردگی میں کیافرق پڑسکتا ہے۔تاریخ پر نظر دوڑائیں کیا 303اور اس کے بعد 1300افسران کی بیک جنبشِ قلم برطرفی کے بعد ملک میں کوئی انقلاب آگئے تھے۔ اس سے چند گھروں میں یقیناً پریشانی پیدا ہوئی اورچند متاثرین وکلا کے ہاں اور عدالتوں میں بھی آنے جانے لگے لیکن زندگی بہت جلد معمول پر آجاتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ زندگی بہت جلد نئے معمولات کے ساتھ مانوس ہوجاتی ہے۔ اگلے روز پنجاب میں کئی اہم سرکاری افسروں کے نیچے سے کرسیاں کھینچ لی گئیں ۔ کئی ایک جو اِدھر ادھر کم اہم عہدوںپریا انتظار میںبیٹھے تھے انہیں بہتر جگہوں پر فائز کر دیا گیا۔مگر اس سے کیا ہوجائے گا جو پہلے نہیں ہورہا تھا۔

حساس صورتحال میں ہیجان انگیزی

پہلے افسر بھی اسی حکومت کے بٹھائے ہوئے تھے اب اگر چند ماہ میں وہ حکومت کی نظر میںنااہل ہوگئے ہیں تو نااہل افسروں کی تقرری اورنتیجتاً ان چند ماہ کا ضیاع بھی پاکستان تحریک ِانصاف کی حکومت کے کھاتے ہی میںجائے گا۔

ان افسروں کی جو بھی ناکامیاں ہیں وہ وزیر اعظم عمران خان، وزیر اعلیٰ عثمان بزدار اور ان کی ٹیم کی ناکامیاں ہی رہیں گی۔سول سرونٹس کے چہرے نہیں ہواکرتے، ان کے کوئی نام نہیں ہوتے۔ لوگ صرف انہیں ان کے عہدوں سے پہچانتے ہیں۔ عوام میں شناخت صرف عوامی نمائندوں کی ہوتی ہے۔

عوام صرف انہیں پہچانتے ہیں جو ان سے یا ان جیسوں سے ووٹ مانگتے ہیں یا جن کے حق میں یا خلاف عوام نے ووٹ دیئے ہوں۔عوام صرف انہیں پہچانتے ہیں لہذا اگر فکر کرنی ہے تو اپنی فکر کریں۔ اس تازہ ترین اقدام سے ظاہر ہے کہ حکومت کو فکر ضرور دامن گیر ہے۔ حالیہ اکھاڑ پچھاڑ اسی فکر کی دلیل ہے لیکن حکومت کو اگر احساس ہو ہی گیا ہے جو عام شہری کو کئی ماہ سے ہے تو پھر ہوشمندی سے کام لیں کام وہ کریں جو دنیا بھر میں صحیح طریقہ جانا جاتا ہے۔

حکومت کو چاہیے کہ سب سے پہلے ہر عہدے کی اہم ذمہ داریوں کی فہرست تیار کرے۔ اس کے بعد اپنے پاس موجود افسران میں سے ان ذمہ داریوں کی روشنی میں موزوں ترین افسران کی فہرست تیار کرے۔

اس کے بعد ان سے پوچھے کہ وہ متعلقہ شعبے کے مسائل کو کس طرح حل کریں گے انہیں کتنا وقت درکار ہوگا اور اس کے لیے ان کی اہم ضروریات کیا ہوں گی۔ دنیا بھر میں ہمارے جیسے حالات میں نتائج حاصل کرنے کا یہی واحد طریقہ ہے۔ لیکن ہمارے ہاں ایک قدیم اوربوسیدہ طریقہ کار عرصے سے رائج ہے جو مرکزی عہدیدار اس وقت اعلیٰ عہدوں پر سول سرونٹس کی تقرری کے فیصلے کر رہے ہیںوہ خود اسی بوسیدہ اور ناکارہ طریقہ کار کی نشانیاں ہیں۔

ہمارے ہاں چناﺅ ایک دوسرے کے کہنے سننے پر ہی ہوتے ہیں۔ ہر چناﺅ کے پیچھے ایک جیسی کہانی پائی جاتی ہے۔موزونیت جانچنے والی بات توہمارے ہاں شروع ہی نہیںہوتی تو موزونیت کی بنیاد پر فیصلے کیسے ہوں گے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)
loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں