سونے کی انگوٹھی

مائی نانکی

’’چھتے کا چھتہ ہو گیا آپ کے سر پر۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ بال نہ کٹوانا کہاں کا فیشن ہے۔ ‘‘

’’فیشن ویشن کچھ نہیں۔ تمہیں اگر بال کٹوانے پڑیں تو قدرِ عافیت معلوم ہو جائے۔ ‘‘

’’میں کیوں بال کٹواؤں‘‘

’’کیا عورتیں کٹواتی نہیں۔ ہزاروں بلکہ لاکھوں ایسی موجود ہیں جو اپنے بال کٹواتی ہیں۔ بلکہ اب تو یہ فیشن بھی چل نکلا ہے کہ عورتیں مردوں کی طرح چھوٹے چھوٹے بال رکھتی ہیں۔ ‘‘

’’لعنت ہے ان پر۔ ‘‘

’’کس کی۔ ‘‘

’’خدا کی اور کس کی۔ بال تو عورت کی زینت ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ عورتیں کیوں اپنے بال مردوں کی مانند بنوالیتی ہیں ٗ پھر پتلو نیں پہنتی ہیں۔ نہ رہے ان کا وجود دنیا کے تختے پر۔ ‘‘

’’وجود تو خیر آپ کی اس بد دعا سے ان نیک بخت عورتوں کا دنیا کے اس تختے سے کسی حالت میں بھی غائب نہیں ہو گا۔ ویسے ایک چیز سے مجھے تم سے کُلّی اتفاق ہے کہ عورت کو پتلون جسے سلیکس کہتے ہیں ٗ نہیں پہننی چاہیے۔ اور سگریٹ بھی نہ پینے چاہئیں‘‘

’’اور آپ ہیں کہ دن میں پورا ایک ڈبا پھونک ڈالتے ہیں۔ ‘‘

’’اس لیے کہ میں مرد ہوں۔ مجھے اس کی اجازت ہے‘‘

’’کس نے دی تھی یہ اجازت آپ کو۔ میں اب آئندہ سے ہر روز صرف ایک ڈبیا منگا کر دیا کروں گی۔ ‘‘

’’اور وہ جو تمہاری سہیلیاں آتی ہیں ٗ ان کو سگریٹ کہاں سے ملیں گے؟‘‘

’’وہ کب پیتی ہیں۔ ‘‘

’’اتنا سفید جھوٹ نہ بولا کرو۔ ان میں سے جب بھی کوئی آتی ہے تم میرا سگریٹ کا ڈبا اٹھا کر اندر لے جاتی ہو۔ ساتھ ہی ماچس بھی۔ آخر مجھے آواز دے کر تمہیں بلانا پڑتا ہے اور میرا ڈبا مجھے واپس ملتا ہے اس میں سے پانچ چھ سگریٹ غائب ہوتے ہیں۔ ‘‘

پانچ چھ سگریٹ۔ جھوٹ تو آپ بول رہے ہیں۔ وہ تو بیچاریاں مشکل سے ایک سگریٹ پیتی ہیں۔ ‘‘

’’ایک سگریٹ پینے میں انہیں مشکل کیا محسوس ہوتی ہے۔ ‘‘

’’میں آپ سے بحث کرنا نہیں چاہتی۔ آپ کو تو اور کوئی کام ہی نہیں ٗ سوائے بحث کرنے کے۔ ‘‘

’’ہزاروں کام ہیں۔ تم کون سے ہل چلاتی ہو۔ سارا دن پڑی سوئی رہتی ہو۔ ‘‘

’’جی ہاں۔ آپ تو چوبیس گھٹنے جاگتے اور وظیفہ کرتے رہتے ہیں۔ ‘‘

’’وظیفے کی بات غلط ہے۔ البتہ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں صرف رات کو چھ گھنٹے سوتا ہوں۔ ‘‘

’’اور دن کو۔ ‘‘

’’کبھی نہیں۔ بس آنکھیں بند کر کے تین چار گھنٹے لیٹا رہتا ہوں کہ اس سے آدمی کو بہت آرام ملتا ہے۔ ساری تھکن دور ہو جاتی ہے۔ ‘‘

’’یہ تھکن کہاں سے پیدا ہوتی ہے۔ آپ کونسی مزدوری کرتے ہیں۔ ‘‘

’’مزدوری ہی تو کرتا ہوں۔ صبح سویرے اٹھتا ہوں۔ اخبار پڑھتا ہوں۔ ایک نہیں سپر۔ پھر ناشتہ کرتا ہوں۔ نہاتا ہوں اور پھر تمہاری روز مرہ کی چخ چخ کے لیے تیار ہو جاتا ہوں۔ ‘‘

’’یہ مزدوری ہوئی۔ اور آپ یہ تو بتائیے کہ روز مرہ کی چخ چخ کا الزام کہاں تک درست ہے۔ ‘‘

’’جہاں تک اسے ہونا چاہیے۔ شروع شروع میں۔ میرا مطلب شادی کے بعد دو برس تک بڑے سکون میں زندگی گزر رہی تھی لیکن پھر ایک دم تم پر کوئی ایسا دورہ پڑا کہ تم نے ہر روز مجھ سے لڑنا جھگڑنا اپنا معمول بنا لیا۔ پتہ نہیں اس کی وجہ کیا ہے۔ ‘‘

’’وجہ ہی تو مردوں کی سمجھ سے ہمیشہ بالا تر رہتی ہے۔ آپ لوگ سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔ ‘‘

’’مگر تم سمجھنے کی مہلت بھی دو۔ ہر روز کسی نہ کسی بات کا شوشہ چھوڑ دیتی ہو۔ بھلا آج کیا بات تھی جس پر تم نے اتنا چیخنا چلانا شروع کر دیا‘‘

’’گویا یہ کوئی بات ہی نہیں کہ آپ نے پچھلے چھ مہینوں سے بال نہیں کٹوائے ! اپنی اچکنوں کے کالر دیکھیے۔ میلے چِیکٹ ہو رہے ہیں۔ ‘‘

’’ڈرائی کلین کرا لوں۔ ‘‘

’’پہلے اپنا سر ڈرائی کلین کرایے۔ وحشت ہوتی ہے اللہ قسم آپ کے بالوں کو دیکھ کر۔ جی چاہتا ہے مٹی کا تیل ڈال کر ان کو آگ لگا دوں۔ ‘‘

’’تاکہ میرا خاتمہ ہی ہو جائے۔ لیکن مجھے تمہاری اس خواہش پر کوئی بھی اعتراض نہیں۔ لاؤ باورچی خانے سے مٹی کے تیل کی بوتل۔ آہستہ آہستہ میرے سر میں ڈالو اور ماچس کی تیلی جلا کر اس کو آگ دکھا دو۔ خس کم جہاں پاک۔ ‘‘

’’یہ کام آپ خود ہی کیجیے۔ میں نے آگ لگائی تو آپ یقیناًکہیں گے کہ تمہیں کسی کام کا سلیقہ نہیں۔ ‘‘

’’یہ تو حقیقت ہے کہ تمہیں کسی بات کا سلیقہ نہیں۔ کھانا پکانا نہیں جانتی ٗ سینا پرونا تمہیں نہیں آتا۔ گھر کی صفائی بھی تم اچھی طرح نہیں کرسکتیں ٗ بچوں کی پرورش ہے تو اس کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔ ‘‘

’’جی ہاں۔ بچوں کی پرورش تو اب تک ماشاء اللہ ٗ آپ ہی کرتے آئے ہیں ٗ میں تو بالکل ہی نکمی ہوں۔ ‘‘

’’میں اس معاملے میں کچھ اور نہیں کہنا چاہتا۔ تم خدا کے لیے اس بحث کو بند کرو‘‘

’’میں بحث کہاں کر رہی ہوں۔ آپ تو معمولی باتوں کو بحث کا نام دے دیتے ہیں‘‘

’’تمہارے نزدیک یہ معمولی باتیں ہوں گی ! تم نے میرا دماغ چاٹ لیا ہے۔ میرے سر پر ہمیشہ اتنے ہی بال رہے ہیں۔ اور تم اچھی طرح جانتی ہو کہ مجھے اتنی فرصت نصیب نہیں ہوتی کہ حجام کے پاس جاؤں۔ ‘‘

loading...

’’جی ہاں۔ آپ کو اپنی عیاشیوں سے فرصت ہی کہاں ملتی ہے۔ ‘‘

’’کن عیاشیوں سے۔ ‘‘

’’آپ کام کیا کرتے ہیں۔ کہاں ملازم ہیں۔ کیا تنخواہ پاتے ہیں۔ آپ کو تو ہر وہ کام بہت بڑی لعنت معلوم ہوتا ہے جس میں آپ کو محنت مشقت کرنی پڑے۔ ‘‘

’’میں کیا محنت مشقت نہیں کرتا۔ ابھی پچھلے دنوں اینٹیں سپلائی کرنے کا میں نے جو ٹھیکہ لیا تھا ٗ جانتی ہو میں نے دن رات ایک کر دیا تھا۔ ‘‘

’’گدھے کام کررہے تھے۔ آپ تو سوتے رہے ہوں گے۔ ‘‘

’’گدھوں کا زمانہ گیا۔ لاریاں کام کر رہی تھیں۔ اور مجھے ان کی نگرانی کرنا پڑتی تھی۔ دس کروڑ اینٹوں کا ٹھیکہ تھا۔ مجھے ساری رات جاگنا پڑتا تھا۔ ‘‘

’’میں مان ہی نہیں سکتی کہ آپ ایک رات بھی جاگ سکیں۔ ‘‘

’’اب اس کا کیا علاج ہے کہ تم نے میرے متعلق ایسی غلط رائے قائم کرلی ہے اور میں جانتا ہوں کہ تم ہزار ثبوت دینے پر بھی مجھ پر یقین نہیں کرو گی۔ ‘‘

’’میرا یقین آپ پر سے ٗ عرصہ ہوا اٹھ گیا ہے۔ آپ پرلے درجے کے جھوٹے ہیں۔ ‘‘

’’بہتان تراشی میں تمہاری ہم پلہ اور کوئی عورت نہیں ہو سکتی۔ میں نے اپنی زندگی میں کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ ‘‘

’’ٹھہریے۔ پرسوں آپ نے مجھ سے کہا کہ آپ کسی دوست کے ہاں گئے تھے لیکن جب شام کو آپ نے تھوڑی سی پی۔ تو چہک چہک کر مجھے بتایا کہ آپ ایک ایکٹریس سے مل کر آئے ہیں۔ ‘‘

’’وہ ایکٹریس بھی تو اپنی دوست ہے۔ دشمن تو نہیں۔ میرا مطلب ہے اپنے ایک دوست کی بیوی ہے۔ ‘‘

’’آپ کے دوستوں کی بیویاں عموماً یا تو ایکٹریس ہوتی ہیں ٗ یا طوائفیں‘‘

’’اس میں میرا کیا قصور۔ ‘‘

’’قصور تو میرا ہے۔ ‘‘

’’وہ کیسے۔ ‘‘

’’ایسے کہ میں نے آپ سے شادی کر لی۔ میں ایکٹریس ہوں نہ طوائف۔ ‘‘

’’مجھے ایکٹریسوں اور طوائفوں سے سخت نفرت ہے۔ مجھے ان سے کوئی دلچسپی نہیں۔ وہ عورتیں نہیں سلیٹیں ہیں جن پر کوئی بھی چند حروف یا لمبی چوڑی عبارت لکھ کر مِٹا سکتا ہے۔ ‘‘

’’تو اس روز آپ کیوں اس ایکٹریس کے پاس گئے۔ ‘‘

’’میرے دوست نے بلایا۔ میں چلا گیا۔ اس نے ایک ایکٹریس سے جو پہلے چار شادیاں کر چکی تھی ٗ نیا نیا بیاہ رچایا تھا مجھے اس سے متعارف کرایا گیا۔ ‘‘

’’چار شادیوں کے بعد بھی وہ خاصی جوان دکھائی دیتی تھی۔ بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ وہ عام کنواری جوان لڑکیوں کے مقابلے میں ہر لحاظ سے اچھی تھی۔ ‘‘

’’وہ ایکٹریسیں کس طرح خود کو چست اور جوان رکھتی ہیں۔ ‘‘

’’مجھے اس کے متعلق کوئی زیادہ علم نہیں۔ بس اتنا سنا ہے کہ وہ اپنے جسم اور جان کی حفاظت کرتی ہیں۔ ‘‘

’’میں نے تو سنا ہے کہ بڑی بد کردار ہوتی ہیں اول درجے کی فاحشہ۔ ‘‘

’’اللہ بہتر جانتا ہے۔ مجھے اس کے بارے میں کوئی علم نہیں۔ ‘‘

’’آپ ایسی باتوں کا جواب ہمیشہ گول کر جاتے ہیں۔ ‘‘

’’جب مجھے کسی خاص چیز کے متعلق کچھ علم ہی نہ ہو تو میں جواب کیا دوں۔ میں تمہارے مزاج کے متعلق بھی وثوق سے کچھ نہیں کہہ سکتا گھڑی میں تولہ گھڑی میں ماشہ۔ ‘‘

’’دیکھئے ! آپ میرے متعلق کچھ نہ کہا کیجیے۔ آپ ہمیشہ میری بے عزتی کرتے رہتے ہیں۔ میں یہ برداشت نہیں کر سکتی۔ ‘‘

’’میں نے تمہاری بے عزتی کب کی ہے۔ ‘‘

’’یہ بے عزتی نہیں کہ پندرہ برسوں میں آپ میرا مزاج نہیں جان سکے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ میں مخبوط الحواس ہوں۔ نیم پاگل ہوں ٗ جاہل ہوں اجڈ ہوں۔ ‘‘

’’یہ تو خیر تم نہیں۔ لیکن تمہیں سمجھنا بہت مشکل ہے۔ ابھی تک میری سمجھ میں نہیں آیا کہ تم نے میرے بالوں کی بات کس غرض سے شروع کی۔ اس لیے کہ جب بھی تم کوئی بات شروع کرتی ہو اس کے پیچھے کوئی خاص بات ضرور ہوتی ہے۔ ‘‘

’’خاص بات کیا ہو گی۔ بس آپ سے صرف یہی کہنا تھا کہ بال اتنے بڑھ گئے ہیں ٗ کٹوا دیجیے۔ حجام کی دکان یہاں سے کتنی دور ہے ٗ زیادہ سے زیادہ دو سو گز کے فاصلے پر ہو گی۔ جائیے۔ میں پانی گرم کرتی ہوں۔ ‘‘

’’جاتا ہوں۔ ذرا ایک سگریٹ پی لوں۔ ‘‘

’’سگریٹ وگریٹ آپ نہیں پئیں گے۔ لیجیے اب تک۔ ٹھہرئیے ٗ میں ڈبا دیکھ لوں۔ میرے اللہ۔ بیس سگریٹ پھونک چکے ہیں آپ۔ بیس۔ ‘‘

’’یہ تو کچھ زیادہ نہ ہوئے۔ بارہ بجنے والے ہیں۔ ‘‘

’’زیادہ باتیں مت کیجیے۔ سیدھے حجام کے پاس جائیے۔ اور یہ اپنے سر کا بوجھ اتروائیے۔ ‘‘

’’جاتا ہوں۔ کوئی اور کام ہو تو بتا دو۔ ‘‘

’’میرا کوئی کام نہیں۔ آپ اس بہانے سے مجھے ٹالنا چاہتے ہیں۔ ‘‘

’’اچھا تو میں چلا۔ ‘‘

’’ٹھہرئیے۔ ‘‘

’’ٹھہر گیا۔ فرمائیے۔ ‘‘

’’آپ کے بٹوے میں کتنے روپے ہوں گے۔ ‘‘

’’پانچ سو کے قریب۔ ‘‘

تو یوں کیجیے۔ بال کٹوانے سے پہلے انار کلی سے سونے کی ایک انگوٹھی لے آئیے۔ آج میری ایک سہیلی کی سالگرہ ہے۔ دو ڈھائی سو روپے کی ہو۔ ‘‘

’’میری تو وہیں ٗ انار کلی ہی میں حجامت ہو جائے گی۔ میں جاتا ہوں۔ ‘‘

سعادت حسن منٹو
(Visited 1 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں