کیا ہمارے ووٹ معنی رکھتے ہے؟

ضمنی الیکشن

‎آنے والے دنوں میں، پاکستان کی عوام کو سنجیدگی سے سوچنا پڑے گا کہ انہیں الیکشن میں ووٹ کسے ڈالنا چاہیئے اور کسے نہیں اور اس کی وجہ یہ کہ انتخابات کے بعد سب اپنے وعدے بھول جاتے ہیں۔

‎ووٹ ڈالنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے اور یہ ملک کی امانت ہوتا ہے۔ کوئی بھی شخص اس کی اہمیت سے انکار نہیں کر سکتا اور لوگ بھی یہ بات جانتے ہیں کہ ووٹ کی کیا اہمیت ہے۔ لیکن گزشتہ کئی دہائیوں سے ملک کی سیاسی صورتحال بد سے بد تر ہوتی جارہی ہے۔

‎لوگوں کی تین قسمیں ہوتی ہیں ۔
‎1) پہلی قسم ان لوگوں کی ہے جو کبھی ووٹ نہیں ڈالتے۔ یعنی وہ لوگ جو تبدیلی کے لئے کچھ نہیں بولتے اور نا کچھ کرتے ہیں۔

‎2) دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو پارلیمانی نظام کے ذریعے تبدیلی لانے کا فیصلہ کرتے ہیں ۔

‎3) تیسری قسم ان لوگوں میں سے ہے جو حکومت کی طرف سے نافذ شدہ قوانین اور قواعد و ضوابط سے مایوس ہیں.

کسی بھی ملک میں عام انتخابات انتہائی اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ لوگ سیاستدانوں کی حمایت کرنے کے لئے ووٹ ڈالتے ہیں۔ وہ سمجھتےہیں کہ سیاستدان ملک کو ترقی اور خوشحالی کے راہ پر گامزن کریں گے۔ لیکن پاکستان میں بد قسمتی سےایسا نہیں ہوتا۔

‎سیاستدانوں سے متعلق میں اب بھی سمجھتا ہوں کہ یہ جھوٹوں کا ایک گروہ ہے۔ جو صرف اور صرف اپنے مفادات کے بارے میں سوچتا ہے۔ لوگوں کے بارے میں یہ نہیں سوچتے۔ میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں اور مجھے بالکل بھی نہیں سوچنا کہ کیا ہو رہا ہے۔ مجھے تو بس محنت کرنی ہے۔ یہ بات کہی شان کیری کارٹر جسے لوگ جے زیڈ کے نام سے جانتے ہیں۔ یہ ایک امریکی ریپ گانے والے، گانے لکھنے والے، گانے پروڈیوس کرنے والے ایک کاروباری شخصیت ہیں۔

‎ 1947 میں پاکستان نے جمہوریہ اور آمرانہ قواعد کے دونوں اصولوں کی جانچ پڑتال کی ہے۔ ملک نے تاریخی طور پر ووٹروں کا ٹرن آؤٹ بھی دیکھا ہے۔ 2008 ء میں جمہوری نظام کے واپس آنے کے بعد اور اس وقت کی کامیابی کے بعد پاکستان اب بھی ایک نازک حالت میں ہے۔

‎2008 کے الیکشن میں میں جب اپنا ووٹ ڈالنے گیا۔ تو میں یہ دیکھ کر بہت حیران ہوا کہ میرے والد صاحب کا ووٹ پہلے ہی کاسٹ ہو چکا تھا۔ جبکہ میرے والد صاحب 2006 میں ہی انتقال کر چکے تھے۔ پھر میں نے پولنگ سٹاف سے شکایت کی تو انہوں نے ایک کان سے سنا اور دوسرے سے نکال دیا اور مجھ سے کہا کہ چپ چاپ اپنا ووٹ ڈالو اور جاؤ یہاں سے۔ یہ بس ایک واقعہ ہے۔ مگر ایسے ہی اور بھی بہت سے واقعات ہوں گے۔ ایسے واقعات میں سخت غفلت برتی گئی ہے کیونکہ یہ نہ صرف حکومت کے معاملات میں عدم توازن پیدا کرتی ہے۔ بلکہ عوام کے ووٹ کی حاکمیت کو بھی دور کر دیتی ہے۔

‎” جمہوریہ اور آمریت کے درمیان فرق ہی یہ ہے کہ ایک جمہوریہ میں آپ پہلے ووٹ دیتے ہیں اور بعد میں حکم دیتے ہیں۔ جبکہ آمريت میں آپ کو اپنے ووٹ کو ضائع کرنے کی ضرورت نہیں ہے. “( یہ ہینری چارلس بکوسوکی نے کہا جو کہ جرمنی میں پیدا ہوئے اور امریکی شاعر، ناول نگار، اور مختصر کہانی کے مصنف بھی ہیں )۔

‎لیکن کچھ بھی ہو جائے۔ میں اپنا ووٹ دینے کا حق جاری رکھوں گا اور کبھی نہیں بھولوں گا۔ یہ ہمارے انتخابی نظام میں تبدیلی لانے کے لئے سب سے اچھا طریقہ ہے اور میں اس دن کا انتظار کروں گا۔ جب میرے خواب سچ ہوں گے۔ میں اس وقت کا بھی انتظار کروں گا جب تک کہ ہم بغیر کسی خوف کے بات کرنے کے حق رکھتے ہیں۔

مترجم
ذونیرہ شبیر

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں