فرشتہ

مائی نانکی

سرخ کھردرے کمبل میں عطاء اللہ نے بڑی مشکل سے کروٹ بدلی اور اپنی مندی ہوئی آنکھیں آہستہ آہستہ کھولیں۔ کہرے کی دبیز چادر میں کئی چیزیں لپٹی ہوئی تھیں جن کے صحیح خدوخال نظر نہیں آتے تھے۔ ایک لمبا، بہت ہی لمبا، نہ ختم ہونے والا دالان تھا یا شاید کمرہ تھا جس میں دھندلی دھندلی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ ایسی روشنی جو جگہ جگہ میلی ہورہی تھی۔ دور بہت دور، جہاں شاید کمرہ یا دالان ختم ہو سکتا تھا، ایک بہت بڑا تھا جس کا دراز قد چھت کو پھاڑتا ہوا باہر نکل گیا تھا۔ عطاء اللہ کو اس کا صرف نچلا حصہ نظر آرہا تھا جو بہت پُر ہیبت تھا۔ اس نے سوچا کہ شاید یہ موت کا دیوتا ہے جو اپنی ہولناک شکل دکھانے سے قصداً گریز کررہا ہے۔ عطاء اللہ نے ہونٹ گول کرکے اور زبان پیچھے کھینچ کر اس پُر ہیبت بت کی طرف دیکھا اور سیٹی بجائی، بالکل اس طرح جس طرح کتے کو بلانے کے لیے بجائی جاتی ہے۔ سیٹی کا بجنا تھا کہ اس کمرے یا دالان کی دھندلی فضا میں ان گنت دُمیں لہرانے لگیں۔ لہراتے لہراتے یہ سب بہت بڑے شیشے کے مرتبان میں جمع ہو گئیں جو غالباً اسپرٹ سے بھرا ہوا تھا۔ آہستہ آہستہ یہ مرتبان فضا میں بغیر کسی سہارے کے تیرتا، ڈولتا اس کی آنکھوں کے پاس پہنچ گیا۔ اب وہایک چھوٹا سا مرتبان تھا جس میں اسپرٹ کے اندر اس کا دل ڈبکیاں لگا رہا تھا اور دھڑکنے کی ناکام کوشش کررہا تھا۔ عطاء اللہ کے حلق سے دبی دبی چیخ نکلی۔ اس مقام پر جہاں اس کا دل ہوا کرتا تھا، اس نے اپنا لرزتا ہوا ہاتھ رکھا اور بے ہوش ہو گیا۔ معلوم نہیں کتنی دیر کے بعد اسے ہوش آیا مگر جب اس نے آنکھیں کھولیں تو کہرا غائب تھا۔ وہ دیوہیکل بت بھی۔ اس کا سارا جسم پسینے میں شرابور تھا اور برف کی طرح ٹھنڈا۔ مگر اس مقام پر جہاں اس کا دل تھا، ایک آگ سی لگی ہوئی تھی۔ اس آگ میں کئی چیزیں جل رہی تھیں، بے شمار چیزیں۔ اس کی بیوی اور بچوں کی ہڈیاں تو چٹخ رہی تھیں، مگر اس کے گوشت پوست اور اس کی ہڈیوں پرکوئی اثر نہیں ہورہا تھا۔ جھلسا دینے والی تپش میں بھی وہ یخ بستہ تھا۔ اس نے ایک دم اپنے برفیلے ہاتھوں سے اپنی زرد رو بیوی اور سوکھے کے مارے ہوئے بچوں کو اٹھایا اور پھینک دیا۔ اب آگ کے اس الاؤ میں عرضیاں کے پلندے کے پلندے جل رہے تھے۔ ہر زبان میں لکھی ہوئی عرضیاں۔ ان پر اس کے اپنے ہاتھ سے کیے ہوئے دستخط، سب جل رہے تھے، آواز پیدا کیے بغیر۔ آگ کے شعلوں کے پیچھے اسے اپنا چہرہ نظر آیا۔ پسینے سے۔ سرد پسینے سے تربتر۔ اس نے آگ کا ایک شعلہ پکڑا اور اس سے اپنے ماتھے کا پسینے پونچھ کر ایک طرف پھینک دیا۔ الاؤ میں گرتے ہی یہ شعلہ بھیگے ہوئے اسفنج کی طرف رونے لگا۔ عطاء اللہ کو اس کی یہ حالت دیکھ کر بہت ترس آیا۔ عرضیاں جلتی رہیں اورعطاء اللہ دیکھتا رہا۔ تھوڑی دیر کے بعد اس کی زرد رو بیوی نمودار ہوئی۔ اس کے ہاتھ میں گندھے ہوئے آٹے کا تھال تھا۔ جلدی جلدی اس نے پیڑے بنائے اور آگ میں ڈالنا شروع کردیے جو آنکھ جھپکنے کی دیر میں کوئلے بن کر سلگنے لگے۔ انھیں دیکھ کر عطاء اللہ کے پیٹ میں زور کا درد اٹھا۔ جھپٹا مار کر اس نے تھال میں سے آخری پیڑا اٹھایا اور منہ میں ڈال لیا۔ لیکن آٹا خشک تھا۔ ریت کی طرح۔ اس کا سانس رکنے لگا اور وہ پھر بے ہوش ہو گیا۔ اب اس نے ایک بے جوڑ خواب دیکھنا شروع کیا۔ ایک بہت بڑی محراب تھی جس پر جلی حروف میں یہ شعر لکھا تھا ؂ روز محشر کہ جاں گداز بود اولیں پرسش نماز بود وہ فوراً پتھریلے فرش پر سجدے میں گر پڑا۔ نماز بخشوانے کے لیے دعا مانگنا چاہی مگر بھوک اس کے معدے کو اس بری طرح ڈسنے لگی کہ بلبلا اٹھا۔ اتنے میں کسی نے بڑی بارعب آواز میں پکارا:

’’عطاء اللہ!‘‘

عطاء اللہ کھڑا ہو گیا۔ محرابوں کے پیچھے۔ بہت پیچھے، اونچے منبر پر ایک شخص کھڑا تھا۔ مادر زاد برہنہ، اس کے ہونٹ ساکت تھے مگر آواز آرہی تھی۔

’’عطاء اللہ! تم کیوں زندہ ہو؟ آدمی صرف اس وقت تک زندہ رہتا ہے جب تک اسے کوئی سہارا ہو۔ ہمیں بتاؤ، کوئی ایسا سہارا ہے جس کا تمہیں سہارا ہو؟۔ تم بیمار ہو۔ تمہاری بیوی آج نہیں تو کل بیمار ہو جائے گی۔ وہ جن کا کوئی سہارا نہیں ہوتا، بیمار ہوتے ہیں۔ زندر درگور ہوتے ہیں۔ اس کا سہارا تم ہو جو بڑی تیزی سے ختم ہورہا ہے۔ تمہارے بچے بھی ختم ہو رہے ہیں۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ تم نے خود اپنے آپ کو ختم نہیں کیا۔ اپنے بچوں اور اپنی بیوی کو ختم نہیں کیا۔ کیا اس خاتمے کے لیے بھی تمہیں کسی سہارے کی ضرورت ہے؟۔ تم رحم و کرم کے طالب ہو۔ بے وقوف! کون تم پر رحم کرے گا۔ موت کو کیا پڑی ہے کہ وہ تمہیں مصیبتوں سے نجات دلائے۔ اس کے لیے یہ مصیبت کیا کم ہے کہ وہ موت ہے۔ کس کس کو آئے۔ ایک صرف تم عطاء اللہ نہیں ہو، تم ایسے لاکھوں عطاء اللہ اس بھری دنیا میں موجود ہیں۔ جاؤ، اپنی مصیبتوں کا علاج خود کرو۔ دو مریل بچوں اور ایک فاقہ زدہ بیوی کو ہلاک کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ اس بوجھ سے ہلکے ہو جاؤ تو موت شرمسار ہو کر خود بخود تمہارے پاس چلی آئے گی۔ ‘‘

عطاء اللہ غصے سے تھرتھرکانپنے لگا۔

’’تم۔ تم سب سے بڑے ظالم ہو۔ بتاؤ، تم کون ہو۔ اس سے پیشتر کہ میں اپنی بیوی اور بچوں کو ہلاک کروں، میں تمہارا خاتمہ کردینا چاہتا ہوں۔ ‘‘

مادر زاد برہنہ شخص نے قہقہہ لگایا اور کہا

’’میں عطاء اللہ ہوں۔ غور سے دیکھو۔ کیا تم اپنے آپ کو بھی نہیں پہچانتے؟‘‘

عطاء اللہ نے اس ننگ دھڑنگ آدمی کی طرف دیکھا اور اس کی گردن جھک گئی۔ وہ خود ہی تھا، بغیر لباس کے۔ ان کا خون کھولنے لگا۔ فرش میں سے اس نے اپنے بڑھے ہوئے ناخنوں سے کھرچ کھرچ کر ایک پتھر نکالا اور تان کر منبر کی طرف دیکھا۔ اس کا سر چکرا گیا۔ ماتھے پرہاتھ رکھا تو اس میں سے لہو نکل رہا تھا۔ وہ بھاگا۔ پتھریلے صحن کو عبور کرکے جب باہر نکلا تو ہجوم نے اسے گھیر لیا۔ ہجوم کا ہر فرد عطاء اللہ تھا۔ جس کا ماتھا لہولہان تھا۔ بڑی مشکلوں سے ہجوم کو چیر کر وہ باہر نکلا۔ ایک تنگ و تاریک سڑک پر دیر تک چلتا رہا۔ اس کے دونوں کناروں پر حشیش اور تھوہر کے پودے اگے ہوئے تھے۔ ان میں کہیں کہیں دوسری زہریلی بوٹیاں بھی جمی تھیں۔ عطاء اللہ نے جیب سے بوتل نکال کر تھوہر کا عرق جمع کیا۔ پھر زہریلی بوٹیوں کے پتے توڑ کر اس میں ڈالے اور انھیں ہلاتا ہلاتا اس موڑ پر پہنچ گیا جہاں سے کچھ فاصلے پر اس کا مکان تھا۔ شکستہ اینٹوں کا ڈھیر۔ ٹاٹ کا بوسیدہ پردہ ہٹا کر وہ اندر داخل ہوا۔ سامنے طاق میں مٹی کے تیل کی کُپی سے کافی روشنی نکل رہی تھی۔ اس مٹیالی روشنی میں اس نے دیکھا کہ جھلنگی پلنگڑی پر اس کے دونوں مریل بچے مرے پڑے ہیں۔ عطاء اللہ کوبہت ناامیدی ہوئی۔ بوتل جیب میں رکھ کر جب وہ پلنگڑی کے پاس گیا تو اس نے دیکھا کہ وہ پھٹی پرانی گدڑی جو اس کے بچوں پر پڑی ہے، آہستہ آہستہ ہل رہی ہے۔ عطاء اللہ بہت خوش ہوا۔ وہ زندہ تھے۔ بوتل جیب سے نکال کر وہ فرش پربیٹھ گیا۔ دونوں لڑکے تھے۔ ایک چار برس، دوسرا پانچ کا۔ دونوں بھوکے تھے۔ دونوں ہڈیوں کا ڈھانچہ تھے۔ گدڑی ایک طرف ہٹا کر جب عطاء اللہ نے ان کو غور سے دیکھا تو اسے تعجب ہوا کہ اتنے چھوٹے بچے اتنی سوکھی ہڈیوں پر اتنی دیر سے کیسے زندہ ہیں۔ اس نے زہر کی شیشی ایک طرف رکھ دی اور انگلیوں سے ایک بچے کی گردن ٹٹولتے ٹٹولتے۔ ایک خفیف سا جھٹکا دیا۔ ہلکی سی تڑاخ ہوئی اور اس بچے کی گردن ایک طرف لٹک گئی۔ عطاء اللہ بہت خوش ہوا کہ اتنی جلدی اور اتنی آسانی سے کام تمام ہو گیا۔ اسی خوشی میں اس نے اپنی بیوی کو پکارا۔

’’جیناں! جیناں۔ ادھر آؤ۔ دیکھو میں نے کتنی صفائی سے رحیم کو مار ڈالا ہے۔ کوئی تکلیف نہیں ہوئی اس کو۔ ‘‘

اس نے ادھر ادھر دیکھا۔ زینب کہاں ہے؟۔ معلوم نہیں کہاں چلی گئی ہے؟۔ شاید بچوں کے لیے کسی سے کھانا مانگنے گئی ہو۔ یا ہسبپتال میں اس کی خیریت دریافت کرنے۔ عطاء اللہ ہنسا۔ مگر اس کی ہنسی فوراً دب گئی، جب دوسرے بچے نے کروٹ بدلی اور اپنے مردہ بھائی کو بلانا شروع کیا۔

’’رحیم۔ رحیم۔ ‘‘

وہ نہ بولا تو اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا۔ ہڈیوں کی چھوٹی چھوٹی سیاہ پیالوں میں اس کی آنکھیں چمکیں۔

’’ابا۔ تم آگئے۔ ‘‘

عطاء اللہ نے ہولے سے کہا۔

’’ہاں کریم، میں آگیا۔ ‘‘

کریم نے اپنے استخوانی ہاتھ سے رحیم کو جھنجھوڑا۔

’’اٹھو رحیم۔ ابا آگئے ہسپتال سے۔ ‘‘

عطاء اللہ نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔

’’خاموش رہو۔ وہ سو گیا ہے۔ ‘‘

کریم نے اپنے باپ کا ہاتھ ہٹایا۔

’’کیسے سو گیا ہے۔ ہم دونوں نے ابھی تک کچھ کھایا نہیں۔ ‘‘

’’تم جاگ رہے تھے؟‘‘

’’ہاں ابا۔ ‘‘

’’سو جاؤ گے ابھی تم۔ ‘‘

’’کیسے؟‘‘

’’میں سلاتا ہوں تمہیں۔ ‘‘

یہ کہہ کرعطاء اللہ نے اپنی سخت انگلیاں کریم کی گردن پر رکھیں اور اس کو مروڑ دیا۔ مگر تڑاخ کی آواز پیدا نہ ہوئی۔ کریم کو بہت درد ہوا۔

’’یہ آپ کیا کررہے ہیں۔ ‘‘

’’کچھ نہیں۔ ‘‘

عطاء اللہ حیرت زندہ تھا کہ اس کا یہ دوسرا لڑکا اتنا سخت جان کیوں ہے۔

’’کیا تم سونا نہیں چاہتے؟‘‘

کریم نے اپنی گردن سہلاتے ہوئے جواب دیا۔

’’سونا چاہتا ہوں۔ کچھ کھانے کو دے دو۔ سو جاؤں گا۔ ‘‘

عطاء نے اللہ زہر کی شیشی اٹھائی۔

’’پہلے یہ دوا پی لو۔ ‘‘

’’اچھا۔ ‘‘

کریم نے اپنا منہ کھول دیا۔ عطاء اللہ نے ساری شیشی اس کے حلق میں انڈیل دی اور اطمینان کا سانس لیا۔

’’اب تم گہری نیند سو جاؤ گے۔ ‘‘

کریم نے اپنے باپ کا ہاتھ پکڑا اور کہا۔

’’ابا۔ اب کچھ کھانے کو دو۔ ‘‘

عطاء اللہ کو بہت کوفت ہوئی۔

’’تم مرتے کیوں نہیں۔ ؟‘‘

کریم یہ سن کر سٹپٹا سا گیا۔

’’کیا ابا‘‘

’’تم مرتے کیوں نہیں۔ میرا مطلب ہے، اگر تم مر جاؤگے تو نیند بھی آجائے گی تمہیں۔ ‘‘

کریم کی سمجھ میں نہ آیا کہ اس کا باپ کیا کہہ رہا ہے۔

’’مارتا تو اللہ میاں ہے ابا۔ ‘‘

اب عطاء اللہ کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ کیا کہے۔

’’مارا کرتا تھا کبھی۔ اب اس نے یہ کام چھوڑ دیا ہے۔ چلو اٹھو۔ ‘‘

پلنگڑی پر کریم تھوڑا سا اٹھا تو عطاء اللہ نے اسے اپنی گود میں لے لیا اور سوچنے لگا کہ وہ اللہ میاں کیسے بنے۔ ٹاٹ کا پردہ ہٹا کر جب باہر گلی میں نکلا، اسے یوں محسوس ہوا جیسے آسمان اس پر جھکا ہوا ہے۔ اس میں جا بجا مٹی کے تیل کی کپٹیاں جل رہی تھیں۔ اللہ میاں خدا جانے کہاں تھا۔ اور زینب بھی۔ معلوم نہیں وہ کہاں چلی گئی تھی۔ کہیں سے کچھ مانگنے گئی ہو گی۔ عطاء اللہ ہنسنے لگا۔ لیکن فوراً اسے خیال آیا کہ اسے اللہ میاں بننا تھا۔ سامنے موری کے پاس بہت سے پتھر پڑے تھے۔ ان پر وہ اگر کریم کو دے مارے تو۔ مگر اس میں اتنی طاقت نہیں تھی۔ کریم اس کی گود میں تھا۔ اس نے کوشش کی کہ اسے اپنے بازوؤں میں اٹھائے اور سر سے اوپر لے جا کر پتھروں پر پٹک دے، مگر اسکی طاقت جواب دے گئی۔ اس نے کچھ سوچا اور اپنی بیوی کو آواز دی

’’جیناں۔ جیناں۔ ‘‘

زینب معلوم نہیں کہاں ہے۔ کہیں وہ اس ڈاکٹر کے ساتھ تو نہیں چلی گئی جو ہر وقت اس سے اتنی ہمدردی کا اظہار کرتا رہتا ہے۔ وہ ضرور اس کے فریب میں آگئی ہو گی۔ میرے لیے اس نے کہیں خود کو بیچ تو نہیں دیا۔ یہ سوچتے ہی اس کا خون کھول اٹھا۔ کریم کو پاس بہتی ہوئی بدرو میں پھینک کر وہ ہسپتال کی طرف بھاگا۔ اتنا تیز دوڑا کہ چند منٹ میں ہسپتال پہنچ گیا۔ رات نصف سے زیادہ گزر چکی تھی۔ چاروں طرف سناٹا تھا۔ جب وہ اپنے و ارڈ کے برآمدے میں پہنچا تو دو آوازیں سنائی دیں۔ ایک اس کی بیوی کی تھی۔ وہ کہہ رہی تھی۔

’’تم دغا باز ہو۔ تم نے مجھے دھوکا دیا ہے۔ اس سے جو کچھ تمہیں ملا ہے، تم نے اپنی جیب میں ڈال لیا ہے۔ ‘‘

کسی مرد کی آواز سنائی دی۔

’’تم غلط کہتی ہو۔ تم اس کو پسند نہیں آئیں اس لیے وہ چلا گیا۔ ‘‘

اس کی بیوی دیوانہ وار چلائی۔

’’بکواس کرتے ہو۔ ٹھیک ہے کہ میں دو بچوں کی ماں ہوں۔ میرا وہ پہلا سا رنگ روپ نہیں رہا۔ لیکن وہ مجھے قبول کرلیتا اگر تم بھانجی نہ مارتے۔ تم بہت ظالم ہو۔ بہت کٹھور ہو۔ ‘‘

اس کی آواز گلے میں رندھنے لگی۔

’’میں کبھی تمہارے ساتھ نہ چلتی۔ میں کبھی ذلت میں نہ گرتی اگر میرا خاوند بیمار اور میرے بچے کئی دنوں کے بھوکے نہ ہوتے۔ تم نے کیوں یہ ظلم کیا؟‘‘

اس مرد نے جواب دیا۔

’’وہ۔ وہ کوئی بھی نہیں تھا۔ میں خود تھا۔ جب تم میرے ساتھ چل پڑیں تو میں نے خود کو پہچانا۔ اور تم سے کہا کہ وہ چلا گیا ہے۔ وہ، جس کے لیے میں تمہیں لایا تھا۔ مجھے معلوم ہے کہ تمہارا خاوند مر جائے گا۔ تمہارے بچے مر جائیں گے۔ تم بھی مر جاؤ گی۔ لیکن۔ ‘‘

’’لیکن کیا۔ ‘‘

اس کی بیوی نے تیکھی آواز میں پوچھا۔

’’میں مرتے دم تک زندہ رہوں گا۔ تم نے مجھے اس زندگی سے بچا لیا ہے جو موت سے کہیں زیادہ خوف ناک ہوتی۔ چلو آؤ۔ عطاء اللہ ہمیں بلا رہا ہے۔ ‘‘

’’عطاء اللہ یہاں کھڑا ہے۔ ‘‘

عطاء اللہ نے بھینچی ہوئی آواز میں کہا۔ دو سائے پلٹے۔ اس سے کچھ فاصلے پر وہ ڈاکٹر کھڑا تھا جو زینب سے بڑی ہمدردی کا اظہارکیا کرتا تھا۔ اس کے منہ سے صرف اس قدر نکل سکا تھا۔

’’تم!‘‘

’’ہاں، میں۔ تمہاری سب باتیں سن چکا ہوں۔ ‘‘

یہ کہہ کر عطاء اللہ نے اپنی بیوی کی طرف دیکھا۔

’’جیناں۔ میں نے رحیم اور کریم دونوں کو مار ڈالا ہے۔ اب میں اور تم باقی رہ گئے ہیں۔ ‘‘

زینب چیخی۔

’’مار ڈالا تم نے! دونوں بچوں کو؟‘‘

عطاء اللہ نے بڑے پرسکون لہجے میں کہا۔

’’ہاں۔ انھیں کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔ میرا خیال ہے تمہیں بھی کوئی تکلیف نہیں۔ ڈاکٹر صاحب موجود ہیں!‘‘

ڈاکٹر کانپنے لگا۔ عطاء اللہ آگے بڑھا اور اس سے مخاطب ہوا۔

’’ایسا انجکشن دے دو کہ فوراً مر جائے۔ ‘‘

ڈاکٹر نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے اپنا بیگ کھولا اور سرنج میں زہر بھر کے زینب کے ٹیکہ لگا دیا۔ ٹیکہ لگتے ہی وہ فرش پر گری اور مر گئی۔ اس کی زبان پر آخری الفا٭۔ میرے بچے۔ میرے بچے‘‘

تھے، مگر اچھی طرح ادا نہ ہوسکے۔ عطاء اللہ نے اطمینان کا سانس لیا۔

’’چلو یہ بھی ہو گیا۔ اب میں باقی رہ گیا ہوں۔ ‘‘

غسل خانہ

’’لیکن۔ لیکن میرے پاس زہر ختم ہو گیا ہے۔ ‘‘

ڈاکٹر کے لہجے میں لکنت تھی۔ عطاء اللہ تھوڑی دیر کے لیے پریشان ہو گیا، لیکن فوراً سنبھل کر اس نے ڈاکٹر سے کہا۔

’’کوئی بات نہیں۔ میں اندر اپنے بستر پر لیٹتا ہوں، تم بھاگ کر زہر لے کر آؤ۔ ‘‘

بستر پر لیٹ کر سرخ کھردرے کمبل میں اس نے بڑی مشکل سے کروٹ بدلی اور اپنی مندی ہوئی آنکھیں آہستہ آہستہ کھولیں۔ کہرے کی چادر میں کئی چیزیں لپٹی ہوئی تھیں جن کے صحیح خدوخال نظر نہیں آتے تھے۔ ایک لمبا، بہت ہی لمبا نہ ختم ہونے والا دالان تھا۔ یا شاید کمرہ جس میں دھندلی دھندلی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ ایسی روشنی جو جگہ جگہ میلی ہورہی تھی۔ دور، بہت دور ایک فرشتہ کھڑا تھا۔ جب وہ آگے بڑھنے لگا تو چھوٹا ہوتا گیا۔ عطاء اللہ کی چارپائی کے پاس پہنچ کر وہ ڈاکٹر بن گیا۔ وہی ڈاکٹر جو اس کی بیوی سے ہر وقت ہمدردی کا اظہار کیا کرتا تھا۔ اور اسے بڑے پیار سے دلاسا دیتا تھا۔ عطاء اللہ نے اسے پہچانا تو اٹھنے کی کوشش کی۔

’’آئیے ڈ اکٹر صاحب!‘‘

مگر وہ ایک دم غائب ہو گیا۔ عطاء اللہ لیٹ گیا۔ اس کی آنکھیں کھلی تھیں۔ کہرا دور ہو چکا تھا۔ معلوم نہیں کہاں غائب ہو گیا تھا۔ اس کا دماغ بھی صاف تھا۔ ایک دم وارڈ میں شور بلند ہوا۔ سب سے اونچی آواز جو چیخ سے مشابہ تھی، زینب کی تھی، اس کی بیوی کی۔ وہ کچھ کہہ رہی تھی۔ معلوم نہیں کیا کہہ رہی تھی۔ عطاء اللہ نے اٹھنے کی کوشش کی۔ زینب کو آواز دینے کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔ دھند پھر چھانے لگی اور وارڈ لمبا۔ بہت لمبا ہوتا چلا گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد زینب آئی۔ اس کی حالت دیوانوں کی سی ہورہی تھی۔ دونوں ہاتھوں سے اس نے عطاء اللہ کو جھنجوڑنا شروع کیا۔

’’میں نے اسے مار ڈالا ہے۔ میں نے اس حرام زادے کو مار ڈالا ہے۔ ‘‘

’’کس کو؟‘‘

اسی کو مجھ سے اتنی ہمدردی جتایا کرتا تھا۔ اس نے مجھ سے کہا تھا کہ وہ تمہیں بچا لے گا۔ وہ جھوٹا تھا۔ دغا باز تھا، اس کا دل توے کی کالک سے بھی زیادہ کالا تھا۔ اس نے مجھے۔ اس نے مجھے۔ ‘‘

اس کے آگے زینب کچھ نہ کہہ سکی۔ عطاء اللہ کے دماغ میں بے شمار خیالات آئے اور آپس میں گڈمڈ ہو گئے۔

’’تمہیں تو اس نے مار ڈالا تھا؟‘‘

زینب چیخی۔

’’نہیں۔ میں نے اسے مار ڈالا ہے۔ ‘‘

عطاء اللہ چند لمحے خلا میں دیکھتا رہا۔ پھر اس نے زینب کو ہاتھ سے ایک طرف ہٹایا۔

’’تم ادھر ہو جاؤ۔ وہ آرہا ہے۔ ‘‘

’’کون؟‘‘

’’وہی ڈاکٹر۔ وہی فرشتہ۔ ‘‘

فرشتہ آہستہ آہستہ اس کی چارپائی کے پاس آیا۔ اس کے ہاتھ میں زہر بھری سرنج تھی۔ عطاء اللہ مسکرایا۔

’’لے آئے!‘‘

فرشتے نے اثبات میں سر ہلایا۔

’’ہاں، لے آیا۔ ‘‘

عطاء اللہ نے اپنا لرزاں بازو اس کی طرف بڑھایا۔

’’تو لگا دو۔ ‘‘

فرشتے نے سوئی اس کے بازو میں گھونپ دی۔ عطاء اللہ مر گیا۔ زینب اسے جھنجوڑنے لگی۔

’’اٹھو۔ اٹھو کریم، رحیم کے ابا، اٹھو۔ یہ ہسپتال بہت بری جگہ ہے۔ چلو گھر چلیں۔ ‘‘

تھوڑی دیر کے بعد پولیس آئی اور زینب کو اس کے خاوند کی لاش پر سے ہٹا کر اپنے ساتھ لے گئی!

سعادت حسن منٹو
(Visited 7 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں