عورت خور شیر اور عقل مند بادشاہ کی کہانی

عقل مند بادشاہ

ملک نیمروز پہاڑوں کی ترائی میں واقعہ ہے۔ پہاڑوں پر گھنے جنگل ہیں جن میں ہاتھی، گینڈے، گھوڑے، بھیڑیے، بھیڑیں اور دیگر جانور بکثرت پائے جاتے ہیں۔ شہر نیمروز پر ایک خدا ترس بادشاہ کی حکومت تھی جس کے انصاف کا ایسا شہرہ تھا کہ لوگ نوشیرواں کی بجائے اس کی مثالیں دیا کرتے تھے۔

پر قسمت کا چکر تو کسی لمحے بھی الٹا چل سکتا ہے۔ یہی نیمروز کے ساتھ ہوا۔ اس کو کسی کی نظر لگ گئی۔ ایک آدم خور شیر وہاں آ گیا۔ صبح، دوپہر شام جس وقت اسے بھوک لگتی وہ جنگل سے شہر میں آ جاتا اور اپنی بھوک مٹاتا۔ اس شیر کے بارے میں ایک چیز عجیب تھی۔ وہ صرف عورتوں کو شکار بنتا تھا، مردوں کو اگر وہ صرف اسی وقت مارتا جب وہ کسی عورت کا شکار کرنے میں اس کے خلاف مزاحمت کرتے۔

شیر کا ایسا خوف طاری ہوا کہ دن کے وقت بھی گلی کوچے ویران ہو گئے۔ سب شہری اپنے اپنے گھروں کو تالے لگا کر اور کھڑکی دروازوں کو مضبوطی سے بند کر کے گھر میں چھپے رہتے۔ صرف بالغ مردوں کو باہر نکلنے کا حوصلہ ہوتا کیونکہ انہیں پتہ تھا کہ شیر انہیں نقصان نہیں پہنچائے گا۔

بادشاہ تک یہ خبریں پہنچیں تو اس نے دربار خاص طلب کر لیا تاکہ اس مسئلے پر غور و خوض کیا جائے۔ اس نے وزیراعظم سے رائے طلب کی ”وحشی درندے سے عورتوں کو کیسے بچایا جائے؟ اس مسئلے کا کیا حل ہے؟ “ وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے پاس اعداد و شمار تو نہیں ہیں لیکن سنا ہے کہ شیر عموماً اس عورت کو شکار بناتا ہے جو سرخ یا گلابی لباس پہنتی ہے۔ اگر عورتوں پر پابندی لگا دی جائے وہ سرخ یا گلابی کپڑے نہیں پہنیں گی تو شیر انہیں نہیں مارے گا۔

بدقسمتیے درباری مسخرے نے اس موقعے پر بولنے کی غلطی کر دی۔ اس نے کہا کہ ”میری سوچ کے مطابق۔ ۔ ۔ “ سب درباری اس کے یہ الفاظ سن کر ہنسنے لگے۔

بادشاہ نے ہنستے ہوئے کہا ”میاں مسخرے، تم اب سوچنے بھی لگے ہو؟ کیا تم نے سنا نہیں کہ وزیراعظم نے کیا کہا ہے؟ وہ اسی وجہ سے وزیراعظم ہیں کہ وہ بہت عقلمند ہیں، اور تم اس وجہ سے شاہی مسخرے ہو کہ تم سوچ نہیں سکتے اور تمہاری بے وقوفیوں پر سب ہنستے ہیں“۔ بادشاہ نے حکم جاری کیا کہ آئندہ سے کوئی عورت سرخ یا گلابی لباس نہیں پہنے گی اور اب تمام لوگ گھروں کے دروازے کھول دیں اور عورتیں اپنے کام دوبارہ معمول کے مطابق سرانجام دینے لگیں۔

بدقسمتی سے اسی شام شیر نے ایک اور عورت کا شکار کر لیا۔ اس نے سبز کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ بادشاہ نے اگلی صبح دوبارہ دربار لگایا اور پھر غور ہونے لگا کہ شیر کے حملے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے اور مسئلے کو کیسے حل کیا جائے اور وحشی درندے سے عورتوں کو کیسے بچایا جائے۔ اس مرتبہ کوتوال نے بات کی۔ ”میرے خیال میں مسئلہ کپڑوں کی رنگت کا نہیں ہے۔ اس عورت نے لہنگا پہنا ہوا تھا۔ شیر سمجھا کہ یہ کوئی بہت موٹا تازہ سا شکار ہے جس میں سے خوب گوشت نکلے گا، اس لئے اس پر حملہ آور ہو گیا“۔

درباری مسخرے نے دوبارہ بولنے کی کوشش کی ”میری سوچ کے مطابق۔ ۔ ۔ “۔ بادشاہ اپنا پیٹ پکڑ کر ہنسنے لگا اور باقی درباری بھی ہنس ہنس کر دوہرے ہو گئے اور مسخرے کی بات قہقہوں کے شور میں دب گئی۔ کوتوال کی بات سب کی سمجھ میں آ گئی تھی۔ چنانچہ بادشاہ نے حکم جاری کر دیا کہ آئندہ شہر میں کوئی عورت لہنگا نہیں پہنے گی اور سب عورتیں بے فکر ہو کر گلی محلے اور بازار میں آزادی سے گھومیں۔

ہوا یوں کہ اس شام ایک اور عورت کو شیر اٹھا کر لے گیا۔ اس نے نہ تو سرخ کپڑے پہن رکھے تھے اور نہ ہی لہنگا۔ بادشاہ نے دوبارہ خصوصی اجلاس طلب کر لیا اور پوچھا ”وحشی درندے سے عورتوں کو کیسے بچایا جائے؟ اس مسئلے کا کیا حل ہے؟ “

loading...

اب درباری مسخرے نے سب سے پہلے بولنے کی کوشش کی ”میرے خیال میں۔ ۔ ۔ “ سب زار و قطار ہنسنے لگے۔ بادشاہ نے ہاتھ اٹھا کر مسخرے کو مزید کچھ کہنے سے منع کیا اور اپنے استاد سے مخاطب ہوا ”یا حضرت، وزیر اور کوتوال کا مشاہدہ تو غلط نکلا۔ آپ دونوں جہانوں کا علم رکھتے ہیں۔ ہمیں بتائیں کہ اس مسئلے کو کیسے حل کیا جا سکتا ہے؟ “

شیخ صاحب نے فرمایا ”مسئلہ لباس کے رنگ یا قسم کا نہیں ہے۔ مسئلہ لباس کی تراش خراش کا ہے۔ جب لباس میں سے عورت کے بازو، ٹانگیں اور چہرہ دکھائی دیتا ہے تو گوشت دیکھ کر شیر وحشی ہو جاتا ہے۔ ساری غلطی عورت کی ہے جو شیر کے جذبات کو مشتعل کرتی ہے۔ اب اس وحشی سے عورتوں کو بچانا ہے تو انہیں افغانی برقعہ پہننے کا حکم دیا جائے جس میں ہاتھ پیر کیا آنکھیں تک دکھائی نہیں دیتی۔ شیر کو گوشت دکھائی نہیں دے گا تو وہ حملہ نہیں کرے گا“۔

مسخرے نے پھر بولنے کی کوشش کی ”میرے دماغ میں یہ بات آتی ہے۔ ۔ ۔ “۔ سب درباری بے تحاشا ہنسنے لگے۔ بادشاہ نے ہنستے ہوئے کہا ”میاں اگر تمہارے پاس دماغ ہوتا تو تم شاہی مسخرے کیوں ہوتے؟ تمہارے پاس دماغ نہیں ہے اسی لئے تو سب تمہاری باتوں پر اتنا ہنستے ہیں کہ تمہیں درباری مسخرہ مقرر کیا گیا ہے۔ شیخ صاحب نے درست فرمایا ہے، یہی مسئلہ ہے اور ان کے مشورے پر عمل کرنے سے حل ہو جائے گا“۔

حکم جاری کر دیا گیا کہ آئندہ نیم روز کی تمام عورتیں افغانی برقعہ پہنا کریں گی اور شیر انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ بدقسمتی سے اس مرتبہ تو شیر نے عین بارہ بجے دوپہر ایک عورت پر حملہ کر دیا اور اسے اٹھا کر لے گیا۔

ایک بار پھر دربار لگایا گیا۔ بادشاہ اب بہت پریشان تھا۔ اس کے قابل ترین وزیراعظم، امن عامہ برقرار رکھنے کے لئے مشہور کوتوال اور سب سے بڑے عالم کا کل علم بھی یہ مسئلہ حل نہیں کر سکا تھا۔ اب بادشاہ پر عوام بھی عدم اعتماد کرنے لگے تھے اور اس کی بات پر یقین کرنے کو تیار نہیں تھے کہ لباس ٹھیک کر لیا جائے تو شیر شہر کی عورتوں کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔

بادشاہ نے پھر سب سے مشورہ طلب کیا ”وحشی درندے سے عورتوں کو کیسے بچایا جائے؟ اس مسئلے کا کیا حل ہے؟ خوب سوچ سمجھ کر حل بتانا، حل ناکام ہوا تو حل تجویز کرنے والے کو عبرتناک سزا دی جائے گی“۔

سب درباریوں کو سزا کا سن کر سانپ سونگھ گیا مگر احمق مسخرہ پھر بول اٹھا ”میرے خیال کے مطابق۔ ۔ ۔“۔ سب درباری مسکرانے لگے مگر بادشاہ ایک تناؤ کی کیفیت میں تھا۔

اس نے چڑ کر کہا ”ایک بار ہی بتا دو کہ تمہارے ننھے سے دماغ میں کیا کھچڑی پک رہی ہے تاکہ ہم اسے ایک مرتبہ سن کر کوڑے کے ڈھیر پر پھینکیں اور پھر سب عاقل و دانا لوگ اس مسئلے پر یکسوئی سے غور کر سکیں“۔

مسخرے نے کہا ”میرے خیال کے مطابق مسئلہ عورت کے لباس میں نہیں ہے۔ شیر کی فطرت میں وحشت ہے۔ عورت خواہ جو بھی لباس پہنے اس درندے نے اس پر حملہ کرنا ہی کرنا ہے تاکہ اپنی بھوک مٹائے۔ بہتر ہے کہ عورت پر پابندی لگانے کی بجائے شیر کو قابو میں لایا جائے۔ شہر کے دروازے کے پاس تمام چھتوں پر تیر انداز مقرر کر دیے جائیں اور جیسے ہی شیر شہر میں داخل ہو وہ اسے تیروں سے چھلنی کر دیں“۔

کسی دوسرے درباری نے کوئی مشورہ نہ دیا تو بادشاہ نے لاچار ہو کر مسخرے کی تجویز کے مطابق چھتوں پر تیرانداز مقرر کر دیے۔ سہ پہر کو جیسے ہی شیر شہر میں داخل ہوا تو اس پر ہر طرف سے تیر برسنے لگے اور چند لمحوں میں وہ مارا گیا۔ یہ دیکھتے ہی شہری اپنے گھروں سے نکل آئے اور پورے نیمروز میں ایک بڑا جشن منایا جانے لگا۔ اب عورتیں اس وحشی درندے سے محفوظ ہو گئی تھیں۔
نتیجہ: درندے کو قابو کرنا مفید ہوتا ہے، لباس پر پابندی لگانے سے وحشت نہیں رکتی۔ لباس جیسا بھی ہو، درندہ اپنی فطرت پر چلتا ہے۔

(Visited 611 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں