بالی وڈ اسٹار بنانے والی ممبئی کی ‘فیکٹری’

‘انسانوں کا جنگل’ کہلائے جانے والے بھارتی شہر ممبئی میں واقع ‘دھراوی’ ایشیا کی بڑی کچی آبادیوں میں سے ایک ہے۔ یہاں کے بیشتر گھروں سے غربت جھلکتی ہے لیکن یہاں کے بچوں اور نوجوانوں کی اکثریت بالی وڈ اسٹار بننے کی خواہش مند ہے۔

اور ان کے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے بابو راؤ لاٹ صاحب 35 برسوں سے ایک اکیڈمی چلا رہے ہیں جس سے اب تک 15 ہزار سے زائد بچوں اور نوجوانوں کو تربیت دی جاچکی ہے۔

فلم نگری میں کسی نہ کسی حیثیت سے حصہ بننے کی خواہش رکھنے والے یہاں تربیت حاصل کرتے ہیں اور اپنے خوابوں کو شرمندہ تعبیر بنانے میں مصروف عمل ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق اس اکیڈمی کے بانی بابو راؤ ‘لاٹ صاحب’ بڑی عمر کے آدمی ہیں مگر اب ‘فائیو اسٹار ایکٹنگ، ڈانسنگ اور فائٹنگ’ کے نام سے ایک اکیڈمی چلا رہے ہیں۔

بابو راؤ عرف لاٹ صاحب کے بقول اُن کے متعدد شاگرد اس وقت بالی وڈ کے مشہور ڈانسرز ہیں جبکہ بہت سے شہرت یافتہ فنکار بھی ان سے تربیت لے چکے ہیں۔

‘لاٹ صاحب’ ایک فلم بھی بنا چکے ہیں جس کی ناصرف انہوں نے کہانی خود لکھی تھی بلکہ ہدایات بھی انہوں نے ہی دی تھیں۔ یہی نہیں لاٹ صاحب فلم میں 12 مختلف کرداروں میں بھی دکھائی دیے تھے۔

بابو راؤ کے شاگردوں کے مقاصد زیادہ بڑے نہیں بلکہ وہ بالی وڈ فلم میں معمولی کردار اور اسٹنٹ کرنا چاہتے ہیں۔ یہاں تربیت لینے والے بچے فلم میں ہیرو کے پیچھے ڈانس کرنے کو ہی اپنی منزل سمجھتے ہیں۔

بابو راؤ لاٹ صاحب کا کہنا ہے کہ اُن کی زندگی میں اہم موڑ اُس وقت آیا جب ان کے 30 شاگردوں نے ڈینی بوئل کی سن 2008 میں آسکر ایوارڈ حاصل کرنے والی فلم ‘سلم ڈاگ ملینیئر’ میں کام کیا اور خوب داد سمیٹی۔

ان کے بقول فلم سلم ڈاگ کے بعد انہیں کاسٹنگ ڈائریکٹرز کی سی حیثیت حاصل ہوگئی اور لوگ اُن کے پاس آکر تربیت یافتہ اداکار طلب کرتے تھے اور تب سے اب تک یہ سلسلہ جاری ہے۔

loading...

اُن کے مطابق وہ پانچ سال سے 55 سال تک کی عمر کے فنکاروں کی فلم انڈسٹری میں رسائی کو ممکن بناتے ہیں اور اب تک 120 سے زائد کاسٹنگڈائریکٹراداکاروں کی تلاش میں اُن سے رابطہ کرچکے ہیں۔

لاٹ صاحب کہتے ہیں کہ انتہائی غریب نوجوان مفت کلاسز جوائن کرسکتے ہیں لیکن جو لوگ خرچ برداشت کرسکتے ہیں اُنہیں 100 روپے سے 600 روپے تک فیس ادا کرنا پڑتی ہے۔

لاٹ صاحب ناصرف بچوں اور نوجوانوں کو تربیت فراہم کرتے ہیں بلکہ انڈسٹری کے لیے نیٹ ورکنگ اور آڈیشن میں بھی تعاون فراہم کرتے ہیں۔ جو لوگ فلمی دنیا سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ کام اور خدمات بالی وڈ کے لیے کتنی اہم ہیں۔

اُن کے 35 سالہ طالب علم رازق شیخ کو فلم نگری میں کام کرنے کا ایک موقع مل چکا ہے اور اب اُنہیں سلور اسکرین پر کام کرنے کے دوسرے موقع کا انتظار ہے۔

ایک اور صاحب فلم انڈسٹری میں کام حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں لیکن فی الحال وہ ڈرائیور ہیں اور اسی کی آمدنی سے اپنا اور اپنے اہل خانہ کا پیٹ پالتے ہیں۔

بالی وڈ میں چھوٹے کرداروں کے لیے فنکاروں کی دستیابی کے علاوہ لاٹ صاحب اسٹریمنگ کے کام سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔ بہت سے کلائنٹس کی نظر میں لاٹ صاحب کی اسٹریمنگ کی خدمات نایاب ہیں کیوں کہ بھارت کے ایک کروڑ تیس لاکھ افراد اس وقت اسٹریمنگ سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

نیٹ فلکس نامی دنیا کی بڑی امریکی اسٹریمنگ کمپنی بھارتی پروڈکشن کمپنیوں کے ساتھ مل کر ملکی و بین الاقوامی ناظرین کے لیے مزید فلمیں اور سیریز بنانے کی خواہاں ہے۔

نیٹ فلکس نے رواں ماہ متعدد بلاک بسٹر فلموں کے ڈائریکٹر اور پروڈیوسر سے رابطہ کیا ہے اور حال ہی میں اس نے کرن جوہر سے طویل مدتی شراکتی معاہدہ کیا ہے۔

ہندوستان میں بنی ایک نیٹ فلکس سیریز لیلیٰ کی کاسٹ میں شامل دس سالہ منیشا میتری بھی لاٹ صاحب کی اکیڈمی سے تربیت حاصل کرچکی ہیں۔

(Visited 55 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں