بھارتی دراندازی ایک بار پھر ناکام

بھارت کے جاسوس ڈرون

پاک فوج نے پاکستانی حدود میں گھسنے والے بھارت کے جاسوس ڈرون کو گرادیا۔ ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے اپنی ٹوئٹ کے ذریعے بھارت کے جاسوس ڈرون کو مار گرانے کی اطلاع دی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ بھارتی جاسوس ڈرون کو لائن آف کنٹرول پر رکھ چکری سیکٹر میں گرایا گیا۔

بھارتی جاسوس ڈرون 150 میٹر پاکستانی حدود میں داخل ہوا۔واضح رہے کہ گزشتہ ماہ 26 فروری کو بھارتی طیاروں نے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تاہم پاک فضائیہ کی بروقت جوابی کارروائی میں بھارتی طیارے بدحواسی میں پے لوڈ گراکر چلے گئے۔

جب کہ اگلے روز ایک بار پھر دراندازی کی بھارتی کوشش کو پاک فضائیہ نے ناکام بنایا اور 2 بھارتی طیارے نہ صرف مار گرائے بلکہ بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کیا گیا جسے بعد ازاں جذبہ خیر سگالی کے تحت رہا کیا گیا۔اس کے باوجود بھارت کا جنگی جنون رکنے کا نام نہیں لے رہا۔بھارت نے کنٹرول لائن پر بھی کشیدگی انتہا کو پہنچا رکھی ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر میں بھی بھارتی فوجوں کے مظالم بڑھ گئے ،جس کا مقصد لامحالہ پاکستان کے ساتھ دشمنی کو فروغ دینا ہے۔

یہ بھارتی طرز عمل بالخصوص ریاستی انتخابات میں پانچ میں سے چار ریاستوں میں حکمران بی جے پی کی عبرتناک شکست کے بعد اختیار کیا گیا کیونکہ مودی سرکار کو ریاستی انتخابات کے نتائج کی بنیاد پر لوک سبھا کے آنیوالے انتخابات میں بھی ایسی ہی شکست کا خدشہ لاحق ہوچکا ہے۔بھارتی اور عالمی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق مودی سرکار نے لوک سبھا کے انتخابات میں ہندو اکثریت کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی خاطر پاکستان دشمنی کو بھڑکانا اپنے پارٹی منشور کا حصہ بنایا جس کی بنیاد پر خود وزیراعظم مودی نے پاکستان کے بارے میں انتہائی جارحانہ طرز عمل اختیار کیا اور اسکے ساتھ کسی بھی سطح کے مذاکرات کی راہیں مسدود کرنا شروع کر دیں ساتھ ہی ساتھ پاکستان کی سالمیت کو اپنی گیدڑ بھبکیوں کے ذریعے چیلنج بھی کرنا شروع کر دیا اور پاکستان پر دوبارہ سرجیکل سٹرائیک کی بڑ بھی مار دی جبکہ پاک فضائیہ نے اس نیت سے پاکستان کی فضائی حدود میں داخل کئے گئے.

بھارت کے جاسوس ڈرون یکے بعد دیگرے مار گرائے تو پاکستان کی خلاف مودی سرکار کی ہذیانی کیفیت میں مزید شدت پیدا ہوگئی۔ اس فضا میں کنٹرول لائن پر بالخصوص شہری آبادیوں پر بھارتی فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ تیز کرکے بے گناہ شہریوں کی جانیں لی جانے لگیں اور اسی طرح مقبوضہ کشمیر میں بھی صدر راج نافذ کرکے کشمیریوں کا روزانہ کی بنیاد پر قتل عام شروع کردیا گیا جبکہ یہ بھارتی مظالم عالمی برادری کی آنکھوں سے بھی اوجھل نہ ہو سکے چنانچہ مودی سرکار پر مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے عالمی قیادتوں اور اداروں کا دباؤ بڑھنے لگا اور کشمیریوں کے حق رائے دہی کیلئے بھارت کے اندر سے بھی آوازیں اٹھنے لگیں۔اسی گھمبیر فضا میں پلوامہ میں بھارتی فوجی قافلے پر خودکش حملہ ہوا تو مودی سرکار نے بلاتوقف اس کا الزام پاکستان پر دھر دیا جبکہ نریندر مودی نے خود پاکستان سے بدلہ لینے اور اسے سبق سکھانے کی ہرزہ سرائیوں کا سلسلہ شروع کردیا ۔چنانچہ بھارتی جنگی جنون انتہا پر پہنچا ہوا نظر آتا ہے، جس سے دو ایٹمی ممالک میں جنگ کی صورت میں علاقائی اور عالمی امن و سلامتی پر بھی خطرات کی تلوار لٹک گئی۔ مودی سرکار کے ان جارحانہ عزائم کی بنیاد پر دفاع وطن کے تقاضے نبھانے کیلئے عساکر پاکستان کو ہمہ وقت مستعد و چوکس رکھنے سمیت تمام ضروری اقدامات اٹھانا پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادتوں کیلئے بھی ضروری ہوگیا۔

क्या पाकिस्तान से तनाव में बीजेपी को चुनाव में फायदा होगा؟

بھارت کو پہلے ہی باور کرادیا گیا کہ بھارت کی فضائی دراندازی کا جواب دینے کیلئے پاکستان کی زمینی ،بری اور بحری افواج ہمہ وقت تیار اور چوکس ہیں۔ پاکستان نے مودی سرکار کی پیدا کردہ کشیدگی کی فضا کے باوجود بھارت کو امن کے ساتھ رہنے کی تلقین کی اور اسکے ساتھ خیرسگالی کے تعلقات استوار کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے جذبہ خیرسگالی کے تحت بھارتی زیرحراست پائلٹ ابھی نندن کو بھی آزاد کرکے بھارت واپس بھجوادیا جو پاکستان کی جانب سے عالمی برادری کو بھارت کے ساتھ امن سے رہنے کا ٹھوس پیغام تھا۔ دونوں ممالک کے مابین ثالثی کیلئے بھی کردار ادا کرنے کی پیشکش کی جانے لگی جبکہ پاکستان نے خود بھی بھارت کے ساتھ کسی بھی سطح کے مذاکرات کیلئے ہمہ وقت آمادگی کا عندیہ دیکر کرتارپور راہداری پر بھارت کی جانب سے ملتوی کئے گئے مذاکرات کی بھی دوبارہ پیشکش کی۔

تاہم اس نے کہہ مکرنیوں کی پالیسی برقرار رکھتے ہوئے اس وفد میں شامل پاکستانی صحافیوں کو عین موقع پر بھارتی ویزے جاری کرنے سے انکار کر دیا جس سے پاکستان کے ساتھ دشمنی بڑھائے رکھنے کی بھارتی ہٹ دھرمی کا واضح عندیہ ملتا ہے۔ پاکستان نے باہمی تنازعات کے حل کیلئے کسی بھی سطح کے دوطرفہ مذاکرات کیلئے کبھی مودی سرکار جیسی دوغلی پالیسی اختیار نہیں کی اور ہمیشہ پرامن طریقے سے مسائل کا حل نکالنے کی کوشش کی ہے۔

اگر بھارتی ہٹ دھرمی کی بنیاد پر یہ مذاکرات بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوتے تو پھر پاکستان بھارت مذاکرات کیلئے زور دینے والی عالمی قیادتوں اورمتعلقہ عالمی اداروں بشمول اقوام متحدہ کو ہی بھارتی جنونیت کے آگے بند باندھنے کے عملی اقدامات اٹھانا ہونگے۔ اس میں مسئلہ کشمیر کے یواین قراردادوں کے مطابق حل کیلئے اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی جانب سے اقدامات اٹھانا زیادہ ضروری ہے کیونکہ یہی وہ بنیادی مسئلہ ہے جو پاکستان بھارت خیرسگالی کے تعلقات کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ اگر بھارت کشمیر پر اپنی ہٹ دھرمی برقرار رکھتا ہے اور پاکستان کے ساتھ جنگی جنون بڑھانے سے گریز نہیں کرتا تو پاکستان اپنی سلامتی کے تحفظ کیلئے کوئی بھی قدم اٹھانے میں حق بجانب ہوگا۔ اسکے علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے حوالے سے جو بھی اثرات مرتب ہونگے وہ پوری دنیا بھگتے گی اس لئے یہ عالمی قیادتوں کے سوچنے کا مقام ہے کہ وہ مودی سرکار کی جنونیت روکنے کیلئے کیا اقدامات اٹھاتی ہیں۔

loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں