ملاوٹ جعل سازی اور بے ضابطگیاں

ملاوٹ جعل سازی

پاکستان میں صارفین کو کہیں بھی اپنے حقوق پورے ہوتے نظر نہیں آ رہے۔ ملاوٹ جعل سازی اور بے ضابطگیاں انتہاء پر پہنچ چکی ہیں.

پاکستانی عوام کو نہ تو خالص خوراک ملتی ہے اور نہ گیس پانی اور بجلی جیسی یوٹیلٹیز ہی ان کی طلب کے مطابق دستیاب ہیں۔ دودھ سے لے کر گوشت اور پھلوں سے لے کر آٹے دال گھی مصالحوں تک مارکیٹ میں کوئی چیز ایسی دستیاب نہیں جس کے بارے میں وثوق سے کہا جا سکے کہ یہ وہی ہے جس کا دعویٰ کیا گیا۔ پینے لائق صاف پانی کا حصول ایک کارِ دشوار بن چکا۔
خوراک میں ملاوٹ جعل سازی اور بے ضابطگیوں کا سلسلہ ہمارے ہاں اس قدر دراز ہو چکا ہے کہ پتا نہیں چلتا اور بندہ فیصلہ نہیں کر پاتا کہ کیا چیز استعمال کرے کیا نہ کرے۔

مردار گوشت ڈیٹرجنٹ اور کھاد ملا دودھ ناپاک اجزا سے حاصل کیا گیا کوکنگ آئل اور ملاوٹ شدہ پسے مصالحہ جات سے ہوتے ہوئے معاملہ جعلی مکھن تک آ پہنچا ۔ اطلاعات کے مطابق نہایت ناقص اجزا سے تیار کیا گیا یہ مکھن نما مواد انسانی صحت کے لیے زہر کا اثر رکھتا ہے مگر لاہور سمیت بڑے چھوٹے شہروں کے مہنگے ریستورانوں میں دھڑلے سے استعمال ہو رہا ہے ۔ ملاوٹ والی اور مضرِ صحت اجزا سے تیار کردہ اشیائے خور و نوش استعمال کرنے سے لوگ پیچیدہ نوعیت کے امراض کا شکار ہو رہے ہیں۔ حکام کو اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا چاہئیں۔

ریستوران کا کھانا دو بچوں کی موت کی وجہ بنا

جعلی اور مضر صحت مکھن اور دوسری اشیائے خور و نوش کی سپلائی کو کاٹا جانا چاہیے اس کی فروخت پر بھاری جرمانے کیے جانے چاہئیں اور اسے تیار کرنے والے یونٹس جہاں بھی ہیں انہیں ختم کر کے مالکان اور ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جانی چاہیے۔

(Visited 7 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں