چار بندوں کی فروٹ چاٹ کا خرچہ

پھلوں

مہنگے پھلوں کی وجہ سے فروٹ چاٹ بنانا عوام کے لئے خواب بن گیا ہے یہ غریبوں کی نہیں امیروں کی ڈش بنتی جارہی ہے۔

پھلوں کے ریٹس

رمضان المبارک کی آمد سے اوپن مارکیٹ میں دکانداروں کی من مانیاں شروع ہو گئی ہیں۔سیب کالا کولو میدانی کی قیمت 126 روپے کی بجائے180روپے،سیب سفید 106روپے کی بجائے140سے 150روپے،کیلا اول درجہ118روپے کی بجائے150سے 170روپے،،آڑو256روپے کی بجائے320روپے،امرود 79روپے کی بجائے 120روپے،انار قندھاری اول 266روپے کی بجائے 350روپے،فالسہ 356روپے کی بجائے480 سے 500روپے فی کلو میں فروخت ہوا۔ رمضان المبارک میں مہنگے پھلوں کی وجہ سے عوام کیلئے فروٹ چاٹ بنانابھی خواب بن کررہ گیاہے۔

اگر ہم چار لوگوں کی فروٹ چاٹ بنائیں تو اس میں ایک دکاندار کا خرچہ  200 سے300  تک آجائے گا جو کہ دکاندار کے لئے نقصان کی بات ہوگی اور گاہک بھی اس فروٹ چاٹ میں کئی نقص نکال دیتے ہیں۔

loading...

اگر ہم بات کریں فروٹ چاٹ گھر بنانے کی تو یہ کسی خواب سے کم نہ ہوگا کیو نکہ گھر میں فروٹ چاٹ بنانے کے لیے کم از کم 500 سے600  روپے کا خرچ آتا ہے۔ آج کل پھلوں کی بڑھتی ہوئی قیمتیں لوگوں کو پھل کھانے سے محروم کررہی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق رمضان رحمتوں اوربرکتوں کامہینہ ہے لوگ اس مہینے میں سحری اورافطاری کاخاص اہتمام کرتے ہیں۔افطاری کے دوران دسترخوان پرسموسے،پکوڑے، ،کھجوریں اورمشروبات کے علاوہ فروٹ چاٹ بھی سجائی جاتی ہے۔لوگوں کاکہناہے کہ مہنگائی کے باعث چاٹ بنانا ان کیلئے مشکل ہورہاہے شہر میں پھل بہت زیادہ نرخوں پر فروخت ہورہے ہیں۔

ان کاکہناہے سب کی کوشش ہوتی ہے کہ افطاری میں فروٹ چاٹ ضرور بنائی جائے۔یہ صحت بخش اورغذائیت سے بھرپورہوتی ہے اس کے بغیرروزہ کھولنے کامزہ نہیں آتا۔

اب پھلوں کی قیمتیں اتنی ہوگئی ہیں کہ یہ غریبوں کی نہیں امیروں کی ڈش بنتی جارہی ہے۔ لوگوں کاکہناہے رحمتوں کے اس بابرکت مہینے میں حکومت مہنگائی کاجن قابوکرلے توافطار کے دوران دسترخوان کی رونقیں بڑھ سکتی ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں