گورمکھ سنگھ کی وصیت

مائی نانکی

پہلے چھرا بھونکنے کی اِکا دُکا واردات ہوتی تھیں، اب دونوں فریقوں میں باقاعدہ لڑائی کی خبریں آنے لگی جن میں چاقو چھریوں کے علاوہ کرپانیں، تلواریں اور بندوقیں عام استعمال کی جاتی تھیں۔ کبھی کبھی دیسی ساخت کے بم پھٹنے کی اطلاع بھی ملتی تھی۔

امرتسر میں قریب قریب ہر ایک کا یہی خیال تھا کہ یہ فرقہ واردانہ فسادات دیر تک جاری نہیں رہیں گے۔ جوش ہے، جونہی ٹھنڈا ہوا، فضا پھر اپنی اصلی حالت پر آجائے گی۔ اس سے پہلے ایسے کئی فساد امرتسر میں ہو چکے تھے جو دیر پا نہیں تھے۔ دس سے پندرہ روز تک مار کٹائی کا ہنگامہ رہتا تھا، پھر خود بخود فرو ہو جاتا تھا۔ چنانچہ پرانے تجربے کی بنا پر لوگوں کا یہی خیال تھا کہ یہ آگ تھوڑی دیر کے بعد اپنا زور ختم کرکے ٹھنڈی ہو جائے گی۔ مگر ایسا نہ ہوا۔ بلووں کا زور دن بدن بڑھتا ہی گیا۔ ہندوؤں کے محلے میں جو مسلمان رہتے تھے بھاگنے لگے۔

اسی طرح وہ ہندو جو مسلمانوں کے محلے میں تھے اپنا گھر بار چھوڑ کے محفوظ مقاموں کا رخ کرنے لگے۔ مگر یہ انتظام سب کے نزدیک عارضی تھا، اس وقت تک کے لیے جب فضا فسادات کے تکدر سے پاک ہو جانے والی تھی۔ میاں عبدالحیی ریٹائرڈ سب جج کو تو سو فی صدی یقین تھا کہ صورت حال بہت جلد درست ہو جائے گی، یہی وجہ ہے کہ وہ زیادہ پریشان نہیں تھے ان کا ایک لڑکا تھا گیارہ برس کا۔ ایک لڑکی تھی سترہ برس کی۔ ایک پرانا ملازم تھا جس کی عمر ستر کے لگ بھگ تھی۔ مختصر سا خاندان تھا۔

جب فسادات شروع ہوئے تو میاں صاحب نے بطور حفظِ ماتقدم کافی راشن گھر میں جمع کرلیا تھا۔ اس طرح سے وہ بالکل مطمئن تھے کہ اگر خدانخواستہ حالات کچھ زیادہ بگڑ گئے اور دکانیں وغیرہ بند ہو گئیں تو انھیں کھانے پینے کے معاملے میں تردو نہیں کرنا پڑے گا۔ لیکن ان کی جوان لڑکی صغریٰ بہت متردد تھی۔

ان کا گھر تین منزلہ تھا۔ دوسری عمارتوں کے مقابلے میں کافی اونچا۔ اس کی ممٹی سے شہر کا تین چوتھائی حصہ بخوبی نظر آتا تھا۔ صغریٰ اب کئی دنوں سے دیکھ رہی تھی کہ نزدیک دور کہیں نہ کہیں آگ لگی ہوتی ہے۔ شروع شروع میں تو فائر بریگیڈ کی ٹن ٹن سنائی دیتی تھی پر اب وہ بھی بند ہو گئی تھی، اس لیے کہ جگہ جگہ آگ بھڑکنے لگی تھی۔

رات کو اب کچھ اور ہی سماں ہوتا۔ گھپ اندھیرے میں آگ کے بڑے بڑے شعلے اٹھتے جیسے دیو ہیں جو اپنے منہ سے آگ کے فوارے سے چھوڑ رہے ہیں۔ پھر عجیب عجیب سی آوازیں آتیں جو ہر ہر مہادیو اور اللہ اکبر کے نعروں کے ساتھ مل کر بہت ہی وحشت ناک بن جاتیں۔ صغریٰ باپ سے اپنے خوف و ہراس کا ذکر نہیں کرتی تھی۔ اس لیے کہ وہ ایک بار گھر میں کہہ چکے تھے کہ ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ سب ٹھیک ٹھاک ہو جائے گا۔ میاں صاحب کی باتیں اکثر درست ہوا کرتی تھیں۔ صغریٰ کو اس سے ایک گونہ اطمینان تھا۔

مگرجب بجلی کا سلسلہ منقطع ہو گیا اور ساتھ ہی نلوں میں پانی آنا بند ہو گیا تو اس نے میاں صاحب سے اپنی تشویش کا اظہار کیا اور ڈرتے ڈرتے رائے دی تھی کہ چند روز کے لیے شریف پورے اٹھ جائیں جہاں اڑوس پڑوس کے سارے مسلمان آہستہ آہستہ جارہے تھے۔ میاں صاحب نے اپنا فیصلہ نہ بدلا اور کہا۔

’’بیکار گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ حالات بہت جلد ٹھیک ہو جائیں گے۔ ‘‘

مگر حالات بہت جلدی ٹھیک نہ ہو جائے اور دن بدن بگڑتے گئے۔ وہ محلہ جس میں میاں عبدالحیی کا مکان تھا مسلمانوں سے خالی ہو گیا۔ اور خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ میاں صاحب پر ایک روز اچانک فالج گرا جس کے باعث وہ صاحبِ فراش ہو گئے۔ ان کا لڑکا بشارت بھی جو پہلے اکیلا گھرمیں اوپر نیچے طرح طرح کے کھیلوں میں مصروف رہتا تھا اب باپ کی چارپائی کے ساتھ لگ کر بیٹھ گیا اور حالات کی نزاکت سمجھنے لگا۔ وہ بازار جو اُن کے مکان کے ساتھ ملحق تھا سنسنان پڑا تھا۔ ڈاکٹر غلام مصطفےٰ کی ڈسپنسری مدت سے بند پڑی تھی۔ اس سے کچھ دور ہٹ کر ڈاکٹر گوراندتامل تھے۔ صغریٰ نے شہ نشین سے دیکھا تھا کہ ان کی دکان میں بھی تالے پڑے ہیں۔ میاں صاحب کی حالت بہت مخدوش تھی۔ صغریٰ اس قدر پریشان تھی کہ اس کے ہوش و حواس بالکل جواب دے گئے تھے۔ بشارت کو الگ لے جا کر اس نے کہا۔

’’خدا کے لیے، تم ہی کچھ کرو۔ میں جانتی ہوں کہ باہر نکلنا خطرے سے خالی نہیں، مگر تم جاؤ۔ کسی کو بھی بلا لاؤ۔ اباجی کی حالت بہت خطرناک ہے۔ ‘‘

بشارت گیا، مگر فوراً ہی واپس آگیا۔ اس کا چہرہ ہلدی کی طرح زرد تھا۔ چوک میں نے اس نے ایک لاش دیکھی تھی، خون سے تر بتر۔ اور پاس ہی بہت سے آدمی ٹھاٹے باندھے ایک دکان لوٹ رہے تھے۔ صغریٰ نے اپنے خوفزدہ بھائی کو سینے کے ساتھ لگایا اور صبر شکر کے بیٹھ گئی۔ مگر اُس سے اپنے باپ کی حالت نہیں دیکھی جاتی تھی۔ میاں صاحب کے جسم کا داہنا حصہ بالکل سن ہو گیا تھا جیسے اس میں جان ہی نہیں۔ گویائی میں بھی فرق پڑ گیا تھا اور وہ زیادہ تر اشاروں ہی سے باتیں کرتے تھے جس کا مطلب یہ تھا کہ صغریٰ گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔

خدا کے فضل وکرم سے سب ٹھیک ہو جائے گا۔ کچھ بھی نہ ہوا۔ روزے ختم ہونے والے تھے۔ صرف دو رہ گئے تھے۔ میاں صاحب کا خیال تھا کہ عید سے پہلے پہلے فضا بالکل صاف ہو جائیگی مگر اب ایسا معلوم ہوتا تھا کہ شاید عید ہی کا روز روزِ قیامت ہو، کیونکہ ممٹی پر سے اب شہر کے قریب قریب ہر حصے سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دیتے تھے۔ رات کو بم پھٹنے کی ایسی ایسی ہولناک آوازیں آتی تھیں کہ صغریٰ اور بشارت ایک لحظے کے لیے بھی سو نہیں سکتے تھے۔

صغریٰ کو یوں بھی باپ کی تیمارداری کے لیے جاگنا پڑتا تھا، مگر اب یہ دھماکے، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس کے دماغ کے اندر ہورہے ہیں۔ کبھی وہ اپنے مفلوج باپ کی طرف دیکھتی اور کبھی اپنے وحشت زدہ بھائی کی طرف۔ ستر برس کا بڈھا ملازم اکبر تھا جس کا وجود ہونے نہ ہونے کے برابر تھا۔ وہ سارا دن اور ساری رات پر اپنی کوٹھڑی میں کھانستا کھنکارتا اور بلغم نکالتا رہتا تھا۔ ایک روز تنگ آکر صغریٰ اس پر برس پڑی۔

’’تم کس مرض کی دوا ہو۔ دیکھتے نہیں ہو، میاں صاحب کی کیا حالت ہے۔ اصل میں تم پرلے درجے کے نمک حرام ہو۔ اب خدمت کا موقعہ آیا ہے تو دمے کا بہانہ کرکے یہاں پڑے رہتے ہو۔ وہ بھی خادم تھے جو آقا کے لیے اپنی جان تک قربان کردیتے تھے۔ ‘‘

صغریٰ اپنا جی ہلکا کرکے چلی گئی۔ بعد میں اس کو افسوس ہوا کہ ناحق اس غریب کو اتنی لعنت ملامت کی۔ رات کا کھانا تھال میں لگا کر اس کی کوٹھڑی میں گئی تو دیکھا خالی ہے۔ بشارت نے گھر میں اِدھر اُدھر تلاش کیا مگر وہ نہ ملا۔ باہر کے دروازے کی کنڈی کھلی تھی جس کا یہ مطلب تھا کہ وہ میاں صاحب کے لیے کچھ کرنے گیا ہے۔ صغریٰ نے بہت دعائیں مانگیں کہ خدا اُسے کامیاب کرے لیکن دو دن گزر گئے اور وہ نہ آیا۔ شام کا وقت تھا۔ ایسی کئی شامیں صغریٰ اور بشارت دیکھ چکے تھے۔

جب عید کی آمد آمد کے ہنگامے برپا ہوتے تھے جب آسمان پر چاند دیکھنے کے لیے ان کی نظریں جمی رہتی تھیں۔ دوسرے روز عید تھی۔ صرف چاند کو اس کا اعلان کرنا تھا۔ دونوں اس اعلان کے لیے کتنے بے تاب ہوا کرتے تھے۔ آسمان پر چاند والی جگہ پر اگر بادل کا کوئی ہٹیلا ٹکڑہ جم جاتا توکتنی کوفت ہوتی تھی انھیں مگر اب چاروں صرف دھوئیں کے بادل تھے۔ صغریٰ اور بشارت دونوں ممٹی پر چڑھے۔ دور کہیں کہیں کوٹھوں لوگوں کے سائے دھبوں کی صورت میں دکھائی دیتے تھے، مگر معلوم نہیں یہ چاند دیکھ رہے تھے یا جگہ جگہ سلگتی اور بھڑکتی ہوئی آگ۔ چاند بھی کچھ ایسا ڈھیٹ تھا کہ دھوئیں کی چادر میں سے بھی نظر آگیا۔ صغریٰ نے ہاتھ اٹھا کر دعا مانگی کہ خدا اپنا فضل کرے اور اس کے باپ کو تندرستی عطا فرمائے۔

بشارت دل ہی دل میں کوفت محسوس کررہا تھا کہ گڑ بڑ کے باعث ایک اچھی بھلی عید غارت ہو گئی۔ دن ابھی پوری طرح ڈھلا نہیں تھا۔ یعنی شام کی سیاہی ابھی گہری نہیں ہوئی تھی۔ میاں صاحب کی چارپائی چھڑکاؤ کیے ہوئے صحن میں بچھی تھی۔ وہ اس پر بے حس و حرکت لیٹے تھے اور دور آسمان پر نگاہیں جمائے جانے کیا سوچ رہے تھے۔ عید کا چاند دیکھ کر جب صغریٰ نے پاس آکر انھیں سلام کیا تو انھوں نے اشارے سے جواب دیا۔ صغریٰ نے سر جھکایا تو انھوں نے وہ بازو جو ٹھیک تھا اٹھایا اور اس پر شفقت سے ہاتھ پھیرا۔ صغریٰ کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے تو میاں صاحب کی آنکھیں بھی نمناک ہو گئیں، مگر انھوں نے تسلی دینے کی خاطر بمشکل اپنی نیم مفلوج زبان سے یہ الفاظ نکالے۔

’’اللہ تبارک و تعالیٰ سب ٹھیک کردے گا۔ ‘‘

عین اسی وقت باہر دروازے پر دستک ہوئی۔ صغریٰ کا کلیجہ دھک سے رہ گیا۔ اس نے بشارت کی طرف دیکھا۔ جس کا چہرہ کاغذ کی طرح سفید ہو گیا تھا۔ دروازے پر دستک ہوئی۔ میاں صاحب صغریٰ سے مخاطب ہوئے۔

’’دیکھو، کون ہے!‘‘

صغریٰ نے سوچا کہ شاید بڈھا اکبر ہو۔ اس خیال ہی سے اس کی آنکھیں تمتما اٹھیں۔ بشارت کا بازو پکڑ کر اس نے کہا۔

’’جاؤ دیکھو۔ شاید اکبر آیا ہے۔ ‘‘

یہ سن کر میاں صاحب نے نفی میں یوں سر ہلایا جیسے وہ یہ کہہ رہے ہیں۔

’’نہیں۔ یہ اکبر نہیں ہے۔ ‘‘

صغریٰ نے کہا۔

’’تو اور کون ہو سکتا ہے ابا جی؟‘‘

میاں عبدالحیی نے اپنی قوتِ گویائی پر زور دے کر کچھ کہنے کی کوشش کی کہ بشارت آگیا۔ وہ سخت خوفزدہ تھا۔ ایک سانس اوپر، ایک نیچے، صغریٰ کو میاں صاحب کی چارپائی سے ایک طرف ہٹا کر اس نے ہولے سے کہا۔

’’ایک سکھ ہے!‘‘

صغریٰ کی چیخ نکل گئی۔

’’سکھ؟۔ کیا کہتا ہے؟‘‘

بشارت نے جواب دیا۔

’’کہتا ہے دروازہ کھولو۔ ‘‘

صغریٰ نے کانپتے ہوئے بشارت کو کھینچ کر اپنے ساتھ چمٹا لیا اور باپ کی چارپائی پر بیٹھ گئی اور اپنے باپ کی طرف ویران نظروں سے دیکھنے لگی۔ میاں عبدالحیّ کے پتلے پتلے بے جان ہونٹوں پر ایک عجیب سی مسکراہٹ پیدا ہو گئی۔

’’جاؤ۔ گورمکھ سنگھ ہے!‘‘

بشارت نے نفی میں سر ہلایا۔

’’کوئی اور ہے؟‘‘

میاں صاحب نے فیصلہ کن انداز میں کہا۔

’’جاؤ صغریٰ وہی ہے!‘‘

صغریٰ اٹھی۔ وہ گورمکھ سنگھ کو جانتی تھی۔ پنشن لینے سے کچھ دیر پہلے اس کے باپ نے اس نام کے ایک سکھ کا کوئی کام کیا تھا۔ صغریٰ کو اچھی طرح یاد نہیں تھا۔ شاید اس کو ایک جھوٹے مقدمے سے نجات دلائی تھی۔ جب سے وہ ہر چھوٹی عید سے ایک دن پہلے رومالی سویوں کا ایک تھیلا لیکر آیا کرتا تھا۔ اس کے باپ نے کئی مرتبہ اس سے کہا تھا۔

’’سردار جی، آپ یہ تکلیف نہ کیا کریں۔ ‘‘

مگر وہ ہاتھ جوڑ کر جواب دیا کرتا تھا۔

’’میاں صاحب واہگورو جی کی کرپا سے آپ کے پاس سب کچھ ہے۔ یہ تو ایک تحفہ یہ جو میں جناب کی خدمت میں ہر سال لے کر آتا ہوں۔ مجھ پر جو آپ نے احسان کیا تھا۔ اس کا بدلہ تو میر ی سو پشت بھی نہیں چکا سکتی۔ خدا آپ خوش رکھے۔ ‘‘

سردار گورمکھ سنگھ کو ہر سال عید سے ایک روز پہلے سویوں کا تھیلا لاتے اتنا عرصہ ہو گیا تھا کہ صغریٰ کو حیرت ہوئی کہ اس نے دستک سن کر یہ کیوں خیال نہ کیا کہ وہی ہو گا، مگر بشارت بھی تو اس کو سینکڑوں مرتبہ دیکھ چکا تھا، پھر اس نے کیوں کہا کوئی اور ہے۔ اور کون ہو سکتا ہے۔ یہ سوچتی صغریٰ ڈیوڑھی تک پہنچی۔ دروازہ کھولے یا اندر ہی سے پوچھے، اس کے متعلق وہ ابھی فیصلہ ہی کررہی تھی کہ دروازے پر زور سے دستک ہوئی۔ صغریٰ کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ بمشکل تمام اس نے حلق سے آواز نکالی ہے۔

’’کون ہے؟‘‘

بشارت پاس کھڑا تھا۔ اس نے دروازے کی ایک درز کی طرف اشارہ کیا اور صغریٰ سے کہا۔

’’اس میں سے دیکھو؟‘‘

صغریٰ نے درز میں سے دیکھا۔ گورمکھ سنگھ نہیں تھا۔ وہ تو بہت بوڑھا تھا، لیکن یہ جو باہر تھڑے پر کھڑا تھا جوان تھا۔ صغریٰ ابھی درز پر آنکھ جمائے اس کا جائزہ لے رہی تھی کہ اس نے پھر دروازہ کھٹکھٹایا۔ صغریٰ نے دیکھا کہ اس کے ہاتھ میں کاغذ کا تھیلا تھا ویسا ہی جیسا گورمکھ سنگھ لایا کرتا تھا۔ صغریٰ نے درز سے آنکھ ہٹائی اور ذرا بلند آواز میں دستک دینے والا سے پوچھا۔

’’کون ہیں آپ؟‘‘

باہر سے آواز آئی۔

’’جی۔ جی میں۔ میں سردار گورمکھ سنگھ کا بیٹا ہوں۔ سنتو کھ!‘‘

صغریٰ کا خوف بہت حد تک دور ہو گیا۔ بڑی شائستگی سے اس نے پوچھا۔

’’فرمائیے۔ آپ کیسے آئے ہیں؟‘‘

باہرسے آواز آئی۔

’’جی۔ جج صاحب کہاں ہیں۔ ‘‘

صغریٰ نے جواب دیا۔

’’بیمار ہیں۔ ‘‘

سردار سنتوکھ سنگھ نے افسوس آمیز لہجے میں کہا۔

’’اوہ۔ پھر اس نے کاغذ کا تھیلا کھڑکھڑایا۔

’’جی یہ سویاں ہیں۔ سردار جی کا دیہانت ہو گیا ہے۔ وہ مر گئے ہیں!‘‘

صغریٰ نے جلدی سے پوچھا۔

’’مر گئے ہیں؟‘‘

باہر سے آواز آئی۔

’’جی ہاں۔ ایک مہینہ ہو گیا ہے۔ مرنے سے پہلے انھوں نے مجھے تاکید کی تھی کہ دیکھو بیٹھا، میں جج صاحب کی خدمت میں پورے دس برسوں سے ہر چھوٹی عید پر سویاں لے جاتا رہا ہوں۔ یہ کام میرے مرنے کے بعد اب تمہیں کرنا ہو گا۔ میں نے انھیں بچن دیا تھا۔ جو میں پورا کررہا ہوں۔ لے لیجئے سویاں۔ ‘‘

صغریٰ اس قدر متاثر ہوئی کہ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اس نے تھوڑا سا دروازہ کھولا۔ سردار گورمکھ سنگھ کے لڑکے نے سویوں کا تھیلا آگے بڑھادیا جو صغریٰ نے پکڑ لیا اور کہا۔

’’خدا سردار جی کو جنت نصیب کرے۔ ‘‘

گورمکھ سنگھ کا لڑکا کچھ توقف کے بعد بولا۔

’’جج صاحب بیمار ہیں؟‘‘

صغریٰ نے جواب دیا۔

’’جی ہاں!‘‘

’’کیا بیماری ہے؟‘‘

’’فالج‘‘

’’اوہ۔ سردار جی زندہ ہوتے تو یہ انھیں یہ سُن کر بہت دکھ ہوتا۔ مرتے دم تک انھیں جج صاحب کا احسان یاد تھا۔ کہتے تھے کہ وہ انسان نہیں دیوتا ہے۔ اللہ میاں انھیں زندہ رکھے۔ انھیں میرا سلام۔ ‘‘

اور یہ کہہ کر وہ تھرے سے اتر گیا۔ صغریٰ سوچتی ہی رہ گئی کہ وہ اسے ٹھہرائے اور کہے کے جج صاحب کے لیے کسی ڈاکٹر کا بندوبست کردے۔ سردار گورمکھ سنگھ کا لڑکا سنتوکھ جج صاحب کے مکان سے تھڑے سے اتر کر چند گز کے آگے بڑھا تو چار ٹھاٹا باندھے ہوئے آدمی اس کے پاس آئے۔ دوکے پاس جلتی مشعلیں تھیں اور دو کے پاس مٹی کے تیل کے کنستر اور کچھ دوسری آتش خیز چیزیں۔ ایک نے سنتوکھ سے پوچھا۔

’’کیوں سردار جی، اپنا کام کر آئے؟‘‘

سنتوکھ نے سر ہلا کر جواب دیا۔

’’ہاں کر آیا۔ ‘‘

اس آدمی نے ٹھاٹے کے اندر ہنس کر پوچھا۔

’’تو کردیں معاملہ ٹھنڈا جج صاحب کا۔ ‘‘

’’ہاں۔ جیسے تمہاری مرضی!‘‘

یہ کہہ کر سردار گورمکھ سنگھ کا لڑکا چل دیا۔

سعادت حسن منٹو

loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں