این آراو نہیں ہوگا، پلی بارگین کیلئے چیئرمین نیب کو درخواست دیں، شہزاد اکبر

شہزاد اکبر

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے شہباز شریف کو یہ بتائیں گے کہ ان کے کیلئے کن کن لوگوں نے منی لانڈرنگ کی۔

لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شہزاد اکبر نے کہا کہ ‘شہباز شریف صاحب ہم آپ سے ایرا فنڈز سے کی گئی صرف تین ادائیگیوں کا پوچھ رہے ہیں اس کا جواب دے دیں، قوم کو گمراہ نہ کریں، یہ بتائیں کہ آپ کے داماد علی عمران کو 6 کروڑ کیوں دیے گئے؟’

شہزاداکبر نے کہا کہ ہم صرف 3 ادائیگیوں کاپوچھ رہےہیں جو حکومت پنجاب کے ارتھ کوئک ریلیف اینڈ ری کنسٹرکشن اتھارٹی (ایرا) سے کی گئیں۔

شہزاداکبر نے بتایا کہ 6 ستمبر 2012 کو 2کروڑ روپے کی پہلی ادائیگی کی گئی، دوسری ادائیگی ایک کروڑ 30 لاکھ روپے کی مارچ 2013 میں کی گئی، تیسری ادائیگی دو کروڑ 70 لاکھ روپے کی جولائی 2011 میں کی گئی، تینوں ادائیگیوں کی رقم ملا کر 6 کروڑ روپے بنتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 13کروڑ روپے ادائیگی سے زمین خریدی گئی، چیک سے ادائیگی نوید اکرام نے کی، پاور آف اٹارنی علی عمران کے نام کی تھی، نوید اکرام ایرا کے پیسے سے زمین کیسے خریدرہاتھا؟

معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ نوید اکرام نے عدالت میں علی عمران کا کردار بتایا، نوید اکرام کے معاملے میں شہبازشریف کا انصاف سمجھ نہیں آیا، شہبازشریف کی پریس کانفرنس کی اصل وجہ یہ ہے کہ پورے ٹبر کی چوری پکڑی گئی، نوید اکرام غریب تھا تو چھترول کرادی، علی عمران کو لندن بھیج دیا، نوید اکرام نے عدالت میں علی عمران سے تعلق کے بارے میں بتایا۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ نویداکرام کی اصل داستان 2016 سےشروع ہوتی ہے، نوید اکرام، علی عمران اور فرخ شاہ کا گٹھ جوڑ تھا، علی عمران مفرور ہوچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دو لوگوں نے چوری کی لیکن ایک کی چھترول بھی کی اور گرفتار بھی کروادیا لیکن دوسرے کو فرار کروا دیا کیونکہ وہ داماد تھا، حمزہ شہباز، سلمان شہباز، نصرت شہباز اور علی عمران کی ایمپائر ٹی ٹیز پر کھڑی ہے۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ علی عمران کنٹریکٹر تھا نہ سب کنٹریکٹر، یہ سیدھا سیدھا ڈاکا تھا۔

شہزاد اکبر نے مزید کہا کہ ‘شہباز شریف ! اگلے ہفتے بتاؤں گا کہ آپ کے کون کون سے سیاسی حواری آپ کیلئے منی لانڈرنگ کرتے تھے’۔

انہوں نے کہا کہ شریف فیملی پر منی لانڈرنگ کا الزام ہے، منی لامڈرنگ سے نصرت شہباز نے ڈونگا گلی میں گھر خریدا، حمزہ شہباز کا جوہر ٹاؤن کا گھر ٹی ٹیز سے خریدا گیا۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ احتساب سے ملک بدنام نہیں ہورہا بلکہ پتہ چلتا ہے کہ نظام نے کام کرنا شروع کردیا ہے، شہباز نے وعدہ کیا تھا کہ میرے خلاف برطانیہ کی عدالت میں مقدمہ دائر کریں گے، اگر لیگل ایڈ کی کمی ہے تو میں وکیل بھی دوں گا۔

معاون خصوصی نے کہا کہ محکمہ اینٹی کرپشن کو کور اپ کرنے کیلئے استعمال کیا گیا، اگر اینٹی کرپشن کارروائی کررہا تھا تو 2016 سے 2018 تک علی عمران کا نام کیوں نہیں سامنے آیا؟ نیب نے اینٹی کرپشن سے اس کیس کو لیا تو سارا معاملہ کھل کر سامنے آیا۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ نوید اکرام پلی بارگین کرچکا ہے اور علی عمران مفرور ہے، قانون کے مطابق اس کی جائیداد ضبط ہوگی اور ریکوری کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد یہ نہیں کہ یہ جیلوں میں رہیں اور ہم ان پر پیسا خرچ کریں، جتنا پیسا لوٹا ہے واپس کریں اور ہماری جان چھوڑیں، زیادہ تر مطلوب افراد برطانیہ اور یو اے ای میں ہیں،برطانیہ سے حوالگی کا معاہدہ نہیں ا س لیے مشکلات ہیں، ہمیں برطانیہ کے تمام اداروں کا تعاون حاصل ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ہی برطانوی اخبار ڈیلی میل نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے خاندان نے زلزلہ متاثرین کو ملنے والی برطانوی امداد میں چوری کی۔

برطانوی اخبار، وزیر اعظم عمران خان اور ان کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے لیے شہباز شریف کی قانونی ٹیم برطانیہ میں موجود ہے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں