چوہے دان

دیکھ کبیرا رویا

شوکت کوچُوہے پکڑنے میں بہت مہارت حاصل ہے۔ وہ مجھ سے کہا کرتا ہے یہ ایک فن ہے جس کو باقاعدہ سیکھنا پڑتا ہے اور سچ پوچھیے تو جو جو ترکیبیں شوکت کوچُوہے پکڑنے کے لیے یاد ہیں۔

ان سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس نے کافی محنت کی ہے۔ اگر چوہے پکڑنے کا کوئی فن نہیں ہے تو اس نے اپنی ذہانت سے اسے فن بنا دیا ہے۔ اس کو آپ کوئی چوہا دکھا دیجیے، وہ فوراً آپ کو بتا دے گا کہ اس ترکیب سے وہ اتنے گھنٹوں میں پکڑا جائے گا اور اس طریقے سے اگر آپ اسے پکڑنے کی کوشش کریں تو اتنے دن لگ جائیں گے۔ چوہوں کی نسلوں اور ان کی مختلف عادات و اطوار کا شوکت بہت گہرا مطالعہ کرچکا ہے۔ اس کو اچھی طرح معلوم ہے کہ کس ذات کے چوہے جلدی پھنس جاتے ہیں اور کِس نسل کے چوہے بڑی مشکل کے بعد قابو میں آتے ہیں اور پھر ہر قسم کے چوہوں کو پھانسنے کی ایک سو ایک ترکیب شوکت کو معلوم ہے۔

موٹے موٹے اصول اس نے ایک روز مجھے بتائے تھے کہ چھوٹی چھوٹی چوہیاں اگر پکڑنا ہوں تو ہمیشہ نیا چوہے دان استعمال کرنا چاہیے۔ چوہے دان کی ساخت کسی قسم کی بھی ہو، اس کی کوئی پرواہ نہیں خیال اس بات کا رکھنا چاہیے کہ چوہے دان ایسی جگہ پر نہ رکھا جائے جہاں آپ نے چوہیا یا چوہیاں دیکھی تھیں۔ ٹرنکوں کے پیچھے۔ الماریوں کے نیچے، کہیں بھی جہاں آپ نے چوہیا نہ دیکھی ہو۔ چوہے دان رکھ دیا جائے اور اس میں تلی ہوئی مچھلی کا چھوٹا سا ٹکڑا رکھ دیا جائے۔ ٹکڑا بڑا نہ ہو۔ اگر چوہے دان کھٹ سے بند ہونیوالا ہے تو اس میں خاص طور پر بڑا ٹکرا نہیں لگانا چاہیے کہ چوہیا اندر آکر اس ٹکرے کا کچھ حصہ کتر کر باہر چلی جائے گی۔ ٹکڑا چھوٹا ہو گا تو وہ اسے اتارنے کی کوشش کرے گی اور یوں جھٹ پٹ پنجرے میں قید ہو جائے گی۔

ایک چوہیا پکڑنے کے بعد چوہے دان کو گرم پانی سے دھو لینا چاہیے۔ اگر آپ اسے اچھی طرح نہ دھوئیں گے تو پہلی چوہیا کی بُو اس میں رہ جائے گی جو دوسری چوہیوں کے لیے خطرے کے الارم کا کام دے گی۔ اس لیے اس بات کا خاص طور پر خیال رکھنا چاہیے۔ ہر چوہے یا چوہیا کو پکڑنے کے بعد چوہے دان کو دھو لینا چاہیے۔ اگر گھر میں زیادہ چوہے چوہیاں ہوں اور ان سب کو پکڑنا ہو تو ایک چوہے دان کام نہیں دے گا۔ تین چار چوہے دان پاس رکھنے چاہئیں جو بدل بدل کر کام میں لائے جائیں چوہے کی ذات بڑی سیانی ہوتی ہے، اگر ایک ہی چوہے دان گھر میں رکھا جائے گا تو چوہے اس سے خوف کھانا شروع کردینگے اور اس کے نزدیک تک نہیں آئیں گے۔

بعض اوقات ان تمام باتوں کا خیال رکھنے پر بھی چوہے چوہیاں قابو میں نہیں آتیں۔ اس کی بہت سی وجہیں ہوتی ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ آپ سے پہلے جو مکان میں رہتا تھا اس نے اسی قسم کا چوہے دان استعمال کیا تھا جیسا کہ آپ کررہے ہیں، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس نے چوہے پکڑ کر باہر گلی یا بازار میں چھوڑ دیا ہو اور وہ چند دنوں کے بعد پھر واپس گھر آگیا ہے۔ ایسے چوہے جو ایک بار چوہے دان میں پھنس کر پھر اپنی جگہ پر واپس آجائیں اس قدر ہوشیار ہو جاتے ہیں کہ بڑی مشکل سے قابو میں آتے ہیں۔ یہ چوہے دوسرے چوہوں کو بھی خبردار کردیتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آپ کی تمام کوششیں بے سود ثابت ہوتی ہیں اور چوہے بڑے اطمینان سے اِدھر اُدھر دوڑتے رہتے ہیں اور آپ کا اور آپکے چوہے دان کا منہ چڑاتے رہتے ہیں۔

چوہے کے بِل کے پاس تو چوہے دان ہرگز ہرگز نہیں رکھنا چاہئے، اس لیے کہ اتنی بڑی چیز اپنے گھر کے پاس دیکھ کر جو پہلے کبھی نہیں ہوتی تھی چوہا فوراً چوکنا ہو جاتا ہے اور اس کو دال میں کالا کالا نظرآجاتا ہے۔ جب کسی حیلے سے چوہے نہ پکڑے جائیں تو گردوپیش کی فضا کا مطالعہ و مشاہدہ کرکے یہ معلوم کرنا چاہیے کہ آس پاس کے لوگ کیسے ہیں، کس قسم کی چیزیں کھاتے ہیں اور ان کے گھروں کے چوہے کس چیز پر جلدی گرتے ہیں۔ یہ تمام باتیں معلوم کرکے آپکو تجربے کرنا پڑیں گے اور ایسی ترکیب ڈھونڈنا پڑے گی جسکے ذریعہ سے آپ اپنے گھر کے چوہے گرفتار کرسکیں۔

شوکت چوہے پکڑنے کے فن پر ایک طویل لکچر دے سکتا ہے۔ کتاب لکھ سکتا ہے مگر چونکہ وہ طبعاً خاموشی پسند ہے اس لیے اس کے متعلق زیادہ بات چیت نہیں کرتا۔ صرف مجھے معلوم ہے کہ وہ اس فن میں کافی مہارت رکھتا ہے، محلے کے دوسرے آدمیوں کو اس کی مطلق خبر نہیں، البتہ اس کے پڑوسی اس کے یہاں سے کبھی کبھی چوہے دان عاریتاً ضرور منگایا کرتے ہیں اور اس نے اس غرض کے لیے ایک پرانا چوہے دان مخصوص کررکھا ہے۔ پچھلی برسات کی بات ہے۔ میں شوکت کے یہاں بیٹھا تھا کہ اس کے پڑوسی خواجہ احمد صادق صاحب ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس کا بڑا لڑکا ارشد صادق آیا، میں نے جب اٹھ کر دروازہ کھولا تو اس نے کہنا شروع کیا۔

’’ان کم بخت چوہوں نے ناک میں دم کر رکھا ہے۔ ابا جی سے بار ہا کہہ چکا ہوں کہ زہر منگوائیے ان کو مارنے کے لیے مگر انھیں اپنے کاموں ہی سے فرصت نہیں ملتی اور یہاں ہر روز میری کتابوں کا ستیاناس ہورہا ہے۔ آج الماری کھولی تو یہ بڑا چوہا میرے سر پر آن گرا۔ تمہیں کیا بتاؤں ان چوہوں نے مجھے کتنا تنگ کیا ہے۔ کسی کتاب کی جلد سلامت نہیں۔ بعض بڑی کتابوں کی جلد تو اس صفائی سے ان کم بختوں نے کتری ہے کہ معلوم ہوتا ہے کسی نے آری سے کاٹ دی ہے۔ ‘‘

میں ارشد کو شوکت کے پاس لے گیا اور کہا۔

’’ارشد صاحب تشریف لائے ہیں۔ چوہوں کی شکایت لے کر آئے ہیں۔ ‘‘

ارشد کرسی پر بیٹھ گیا اور پیشانی پر سے پسینہ پونچھ کر کہنے لگا۔

’’شوکت صاحب، میں کیا عرض کروں۔ ابھی الماری کی تمام کتابیں میں باہر نکال کر آیا ہوں۔ ایک بھی ان میں ایسی نہیں جس پرچوہوں نے اپنے دانت تیز نہ کیے ہوں۔ باورچی خانہ موجود ہے، دوسری الماریاں ہیں جن میں ہر وقت کھانے پینے کی چیزیں پڑی رہتی ہیں، سمجھ میں نہیں آتا کہ میری کتابیں کُترنے میں ان کو کیا مزا آتا ہے۔ یعنی کاغذ اور دفنی بھلا کوئی غذا ہے۔ اجی صاحب ایک انبار کُترے ہوئے گتے اور دُھنکے ہوئے کاغذوں کا میں نے الماری میں سے نکالا ہے۔ ‘‘

شوکت مسکرایا۔

’’ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس کے گھر میں چوہے ہر روز سیندھ لگاتے پھریں۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟‘‘

ارشد نے اس مذاق سے لُطف نہ اُٹھایا اس لیے کہ وہ واقعی بہت پریشان تھا۔

’’شوکت صاحب، وہ معمولی چوہے تھوڑے ہیں۔ موٹے موٹے سنڈے ہیں جو کھلے بندوں پھرتے رہتے ہیں۔ میرے پرسرپر ایک آن پڑا۔ خدا کی قسم ابھی تک درد ہورہا ہے۔ ‘‘

شوکت اور میں دونوں کِھلکِھلا کر ہنس پڑے۔ ارشد بھی مسکرا دیا۔

’’آپ تو دل لگی کررہے ہیں اور یہاں غصہ کے مارے میرا بُرا حال ہورہا ہے۔ ‘‘

شوکت نے اٹھ کر ارشد کو سگرٹ پیش کیا۔

’’اپنے دل کا غبار اس کے دھوئیں کے ساتھ باہر نکالیے اور مجھے بتائیے کہ میں آپکی کیا خدمت کرسکتا ہوں۔ ‘‘

ارشد نے سگرٹ سلگایا اور کہا۔

’’میں آپ سے چوہے دان مانگنے آیا تھا۔ امی جان نے مجھ سے کہا تھا کہ شوکت کے گھر میں میں نے دو تین پڑے دیکھے ہیں۔ ‘‘

شوکت نے فوراً نوکر کو آواز دی اور اُس ے کہا۔

’’وہ چوہے دان جو تم نے کل گرم پانی سے دھوکر خوب صاف کیا تھا ارشد صاحب کے گھر دے آؤ اور دیکھو ان کے نوکر سے کہنا کہ اس الماری کے نیچے اس کونہ میں رکھے جہاں ارشد صاحب اپنی کتابیں رکھتے ہیں۔ اس الماری سے دور بھی نہیں۔ اس میں مچھلی یا تیل میں تلی ہوئی کسی چیز کا ٹکڑا لگا کر رکھ دیا جائے۔ ‘‘

پھر ارشد سے مخاطب ہو کرکہا۔

’’آپ بھی اچھی طرح سُن لیجیے گا۔ بازار سے اگرپکوڑے مل جائیں تو ایک پکوڑا کافی رہے گا۔ اور جب چوہا پکڑا جائے تو خدا کے لیے اسے میرے گھر کے پاس نہ چھوڑ دیجیے گا اور بہت جگہیں آپکو مل جائیں گی جہاں سے وہ پھر واپس نہ آسکے۔ ‘‘

دیر تک ارشد ہمارے پاس بیٹھا رہا۔ شوکت اسکو مزید ہدایات دیتا رہا۔ جب نوکر چوہے دان اس کے گھر پہنچا کر واپس آگیا تو اس نے اجازت چاہی اور چلا گیا۔ اس واقعہ کے چار روز بعد ارشد میرے گھر آیا۔ میں اور وہ چونکہ اکٹھے کالج میں پڑھتے رہے ہیں۔ اسی لیے وہ میرے بے تکلف دوست ہیں، شوکت سے اس کا تعارف میں نے ہی کرایا تھا۔ آتے ہی اس نے اِدھر اُدھر دیکھا جیسے مجھ سے کوئی راز کی بات تخلیہ میں کہنا چاہتا ہے۔ میں نے پوچھا۔

’’کیا بات ہے۔ تم اتنے پریشان کیوں ہو؟‘‘

’’میں تمہیں ایک بڑی دلچسپ بات سنانے آیا ہوں مگر یہاں نہیں سناؤں گا تم باہر چلو۔ یہ کہہ کر اس نے مجھے بازو سے پکڑا اور باہر لے گیا۔ راستے میں اس نے مجھے اپنی داستان سنانا شروع کی۔

’’عجیب وغریب کہانی ہے جو میں تمہیں سنانے والا ہوں۔ بخدا ایسی بات ہُوئی کہ میری حیرت کی کوئی انتہا نہیں رہی۔ یعنی کسے یقین تھا کہ اتنی ضدی اور نفاست پسند لڑکی ایک چوہے دان کے ذریعہ سے میرے قابو میں آجائے گی۔ اُسی چوہے د ان کے ذریعہ سے جو اس روز تمہارے سامنے میں نے شوکت سے لیا تھا۔ ‘‘

میں نے حیرت زدہ ہوکر پوچھا۔

’’کون سی لڑکی اُس چوہے دان میں پھنس گئی۔ لڑکی نہ ہوئی چوہیا ہو گئی۔ آخر بتاؤ تو سہی لڑکی کون ہے۔ ‘‘

’’اماں وہی سلیمہ جس کی نفاست پسندیوں کی بڑی دھوم ہے اور جس کی ضدی طبیعت کے بڑے چرچے ہیں۔ ‘‘

میری حیرت اور زیادہ بڑھ گئی۔

’’سلیمہ۔ جھوٹ؟‘‘

’’خدا کی قسم۔ جھوٹ بولنے والے پر لعنت۔ اور بھلا میں تم سے جھوٹ کیوں کہنے لگا۔ یہی سلیمہ، شوکت کے دئے ہُوئے چوہے دان کے ذریعہ سے میرے قابو میں آگئی اور بخدا یہ میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ وہ ایسی آسانی سے پھنس جائے گی۔ ‘‘

میں نے پھر اس سے حیرت بھرے لہجہ میں کہا۔

’’لیکن یہ ہوا کیوں کر۔ تم مجھے پوری داستان سناؤ توکچھ پتا چلے۔ چوہے دانوں سے بھی کبھی کسی نے لڑکیاں پھانسی ہیں۔ بڑی بے تُکی سی بات معلوم ہوتی ہے مجھے۔ ‘‘

میں سلیمہ کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ ہمارے یہاں اس کا اکثر آنا جانا ہے۔ وہ صرف نفاست پسند ہی نہیں بلکہ بڑی ذہین لڑکی ہے۔ انگریزی زبان پر اسے خوب عبورحاصل ہے۔ تین چار مرتبہ اُس سے مجھے گفتگو کرنے کا اتفاق ہوا تو میں نے معلوم کیا کہ ادب اور شعر کے متعلق اس کی معلومات بہت وسیع ہیں۔ مصور بھی ہے، پیانو بجانے میں بڑی مہارت رکھتی ہے۔ اس کی ضدی اور نفاست پسند طبیعت کے بارے میں بھی چونکہ مجھے بہت کچھ معلوم ہے، اسی لیے مجھے ارشد کی یہ بات سن کر سخت تعجب ہوا۔ وہ تو کسی کو خاطر ہی میں لانیوالی نہیں۔ ارشد جیسے چُغد کو اُس نے کیسے پسند کرلیا۔ یہ معّمہ میری سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ ارشد بے حد خوش تھا۔ اس نے میری طرف فتحمند نظروں سے دیکھا اور کہا۔

’’میں تمہیں ساراواقعہ سنا دیتا ہوں۔ اس کے بعد کسی قسم کی وضاحت کی ضرورت نہ رہے گی۔ قصّہ یہ ہے کہ پرسوں رات کو امی جان اور ابا جی اور دوسرے لوگ سب سینما دیکھنے چلے گئے۔ میں گھر میں اکیلا تھا۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کروں۔ آرام کرسی میں ٹانگیں پھیلائے لیٹا یہی سوچ رہا تھا کہ ایک موٹا سا چوہا مجھے نظر آیا۔ اس کو دیکھنا تھا کہ مارے غصہ کے میرا خون کھولنے لگا۔ فوراً اٹھا اور اس کو پکڑنے کی ترکیب سوچنے لگا۔ اسے ہاتھ سے پکڑنا تو ظاہر ہے۔ بالکل محال تھا، میں کسی طریقے سے اس کو مار بھی نہیں سکتا تھا، اس لیے کہ کمرے میں بے شمار فرنیچر اور ٹرنک وغیرہ پڑے تھے۔ میں نے شوکت کے دیئے ہُوئے چوہے دان کا خیال کیا جس سے آٹھ چوہے ہم لوگ پکڑ چکے تھے مگر شوکت کی ہدایات کے مطابق اس کو گرم پانی سے دھونا ضروری تھا۔ مجھے کوئی کام تو تھا نہیں اور وقت بھی کافی تھا، چنانچہ میں نے خود ہی سما وار میں پانی گرم کیا اور چوہے دان کو دھونا شروع کردیا۔ ابھی میں نے لوٹے سے گرم پانی کی دھار اس کے آہنی تاروں پر ڈالی ہی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ دروازہ کھولا تو کیا دیکھتا ہوں کہ سلیمہ کھڑی ہے۔ میں نے کہا۔

’’آئیے، آئیے۔ ‘‘

وہ اندر چلی آئی اور کہنے لگی۔

’’کیا کررہے ہیں آپ؟‘‘

میں نے جھینپ کر جواب دیا۔

’’جی چوہے دان دھو رہا ہوں۔ ‘‘

وہ بے اختیار ہنس پڑی۔

’’چوہے دان دھو رہے ہیں۔ یہ صفائی آخر کس لیے ہورہی ہے۔ کوئی بڑا چوہا انسپکشن کے لیے تو نہیں آرہا۔ ‘‘

یہ سُن کر میری جھینپ دُور ہو گئی اور میں نے قہقہہ لگا کر کہا۔

’’جی ہاں۔ ایک بہت بڑا چوہا انسپکشن کے لیے آنا چاہتا ہے یہ صفائی اسی سلسلے میں ہورہی ہے۔ ‘‘

یہ کہہ کر ارشد خاموش ہو گیا۔ اس پر میں نے اس سے کہا۔

’’سناتے جاؤ۔ رُکو نہیں۔ تمہاری داستان بہت دلچسپ ہے۔ ہاں تو پھر سلیمہ نے کیا کہا۔

’’کچھ نہیں۔ میری بات سن کروہ صحن ہی میں چوکی پر بیٹھ گئی اور کہنے۔

’’آپ صفائی کیجیے۔ اس صفائی کی انسپکشن میں کروں گی۔ ہاں یہ تو بتائیے آج یہ سب لوگ کہاں گئے ہیں۔ ‘‘

میں نے جواب دیا

’’سینما گئے ہیں، میں بے کار بیٹھا تھا کہ ایک چوہا اپنے کمرے میں مجھے نظر آیا۔ میں کیا عرض کروں ہمارے گھر میں کس طرح بڑے بڑے موٹے سنڈے چوہے سیندھ مارتے پھرتے ہیں۔ میری کتابوں کا تو انھوں نے ستیاناس کردیا ہے۔ اب ان کے ظلم و ستم سے میرے اندر ایک انتقامی جذبہ پیدا ہو گیا ہے۔ یہ چوہے دان لے آیا ہوں اس سے ہر روز دو تین چوہے پکڑتا ہوں اور ان کو کالے پانی بھیج دیتا ہوں۔ ‘‘

سلیمہ نے میری گفتگو میں دلچسپی ظاہر کی۔

’’خوب، خوب۔ لیکن یہ تو بتائیے کالا پانی یہاں سے کتنی دور ہے۔ ‘‘

میں نے کہا۔

’’بہت دور نہیں۔ کوتوالی پاس ہی جو گندہ نالا بہتا ہے اسی کو فی الحال میں نے کالا پانی بنا لیا ہے۔ چوہوں نے اس پر اعتراض نہیں کیا، کیونکہ اس موری کا پانی کالا ہی ہے۔ ‘‘

ہم دونوں خوب ہنسے۔ پھر میں نے لوٹا اٹھایا اور چوہے دان کو برش کے ساتھ دھونا شروع کردیا۔ جب چھینٹے اڑے تو میں نے سلیمہ سے کہا۔

’’آپ یہاں سے اُٹھ جائیے، چھینٹے اُڑ رہے ہیں۔ ویسے بھی یہ میری بڑی بدتمیزی ہے کہ میں آپ کے سامنے ایسی غلیظ چیز صاف کرنے بیٹھ گیا ہوں۔ ‘‘

اس نے فوراً ہی کہا۔ آپ تکلف نہ کیجیے اور اپنا کام کرتے چلے جائیے۔ چھینٹوں کے متعلق بھی آپ کوئی فکر نہ کریں۔ ‘‘

جب میں نے چوہے دان اچھی طرح دھو کر صاف کرلیا تو سلیمہ نے پوچھا۔

’’اچھا، اب آپ یہ بتائیے کہ اس کو دھونے کی کیا ضرورت تھی، بغیر دھوئے کیا آپ اس ظالم چوہے کو نہیں پکڑ سکتے۔ ‘‘

میں نے کہا۔

’’جی نہیں۔ اس سے پہلے چونکہ اس چوہے دان میں ہم ایک چوہا پکڑ چکے ہیں اور اُس کی بو اس میں ابھی تک باقی ہے اس لیے دھونا ضروری ہے۔ گرم پانی سے پہلے چوہے کی بُو غائب ہو جائے گی۔ اس لیے دوسرا چوہا آسانی کے ساتھ پھنس جائے گا۔ ‘‘

میری یہ بات سن کر سلیمہ نے بالکل بچوں کی طرح کہا۔

’’اگر چوہے دان میں چوہے کی بو رہ جائے تو دوسرا چوہا نہیں آتا۔ ‘‘

میں نے اسکول ماسٹروں کا سا انداز اختیار کرلیا۔

’’بالکل نہیں، اس لیے کہ چوہوں کی ناک بڑی تیز ہوتی ہے۔ آپ نے سنا نہیں عام طور پر یہ کہا کرتے ہیں کہ فلاں آدمی کی تو چوہے کی ناک ہے۔ یعنی اس کی قوتِ شامہّ بڑی تیز ہے۔ سمجھیں آپ؟‘‘

سلیمہ نے میری طرف جب دیکھا تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں نے ایک بہت بڑی بات اس سے کہہ دی ہے جس کو سن کر وہ بہت مرعوب ہو گئی ہے۔ اس کی نگاہوں میں مجھے اپنے متعلق قدرو منزلت کی جھلک نظر آئی۔ اس سے مجھے شہ مل گئی۔ چنانچہ وہ تمام باتیں جو میں نے شوکت سے اس روز سُنی تھیں۔ ایک لیکچر کی صورت میں دہرانا شروع کردیں اور وہ۔ ‘‘

میں نے اس کی بات کاٹ کرکہا۔

’’یہ سب مجھے افسانہ معلوم ہوتا ہے۔ تم جھوٹ کہتے ہو۔ ‘‘

’’تم بھی عجیب قسم کے منکر ہو۔ ‘‘

ارشد نے بگڑ کر کہا۔

’’بھئی قسم خدا کی، اس کا ایک ایک لفظ سچ ہے۔ مجھے جھوٹ بولنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ تمہیں حیرت ضرور ہو گی، اس لیے کہ میں خود بہت متحیر ہُوں۔ سلیمہ جیسی پڑھی لکھی اور ذہین لڑکی ایسی فضول باتوں سے متاثر ہو گئی۔ یہ بات مجھے ہمیشہ متحیرّ رکھے گی، مگر بھئی حقیقت سے تو انکار نہیں ہوسکتا۔ اس نے میری اوٹ پٹانگ باتیں بڑے غور سے سنیں جیسے اُسے دنیا کا کوئی راز نہفتہ بتا رہا ہُوں۔ واللہ یہ ذہین لڑکیاں بھی پرلے درجے کی سادہ لوح ہوتی ہیں۔ سادہ لوح نہیں کہنا چاہیے۔ خدا معلوم کیا ہوتی ہے۔ تم اُن سے کوئی عقل کی بات کہوتو بس بگڑ جائیں گی یہ سمجھیں گی کہ ہم نے اُن کی عقل و دانش پر حملہ کردیا ہے اور جب اُن سے کوئی معمولی سی بات کہو جس سے ذہانت کا دُور سے تعلق بھی نہ ہو تو وہ یہ سمجھیں گی کہ اُن کی معلومات میں اضافہ ہورہا ہے۔ تم کسی فلسفہ دان اور بال کی کھال اُتارنے والی عورت سے کہوکہ خدا ایک ہے تو وہ نکتہ چینی شروع کردے گی۔ اگر اُس سے یہ کہو دیکھو میں نے تمہارے سامنے ماچس کی ڈبیا سے یہ ایک تیلی نکالی ہے، یہ ہُوئی ایک تیلی، اب میں دوسری نکالتا ہُوں۔ میز پر ان تیلیوں کو پاس پاس رکھ کر جب تم اس سے یہ کہو گے، دیکھو، اب یہ دو تیلیاں ہو گئی ہیں تو وہ اس قدر خوش ہو گی کہ اٹھ کر تمہیں چُومنا شروع کردے گی۔ ‘‘

یہ کہہ کر ارشد خوب ہنسا۔ مجھے بھی ہنسنا پڑا اس لیے کہ بات ہی ہنسی پیدا کرنے والی تھی۔ جب ہم دونوں کی ہنسی کم ہوئی میں نے اُس سے کہا۔

’’اب تم نے اپنی بقایا کہانی سناؤ اور ہنسی مذاق کو چھوڑو۔ ‘‘

’’ہنسی مذاق میں کیسے چھوڑ سکتا ہوں بھائی‘‘

ارشد نے بڑی سنجیدگی سے کہا۔

’’میں تو اس سے ہنسی مذاق ہی میں باتیں کررہا تھا مگر وہ بڑی سنجیدگی سے سن رہی تھی۔ ہاں تو جب میں نے چوہے پکڑنے کے اصول اس کو بتا دیئے تو اور زیادہ بچہ بن کر اس نے مجھ سے کہا۔

’’ارشد صاحب آپ تو فوراً چوہے پکڑ لیتے ہوں گے؟‘‘

میں نے بڑے فخر کے ساتھ جواب دیا۔

’’جی ہاں، کیوں نہیں‘‘

اس پر سلیمہ نے بڑے اشتیاق کے ساتھ کہا۔

’’کیا آپ اس چوہے کو جو آپ نے ابھی ابھی دیکھا تھا میرے سامنے پکڑ سکتے ہیں؟‘‘

اجی یہ بھی کوئی مشکل بات ہے، یوں چٹکیوں میں اسے گرفتار کیا جاسکتا ہے۔ ‘‘

سلیمہ اُٹھ کھڑی ہُوئی۔

’’تو چلیے، میرے سامنے اسے گرفتار کیجیے۔ میں سمجھتی ہوں آپ کبھی اس چوہے کو پکڑ نہیں سکیں گے۔ ‘‘

میں یہ سُن کر یونہی مسکرا دیا۔

’’آپ غلط سمجھتی ہیں۔ پندرہ نہیں تو بیس منٹ میں وہ چوہا اس چوہے دان میں ہو گا۔ اور آپ کی نظروں کے سامنے بشرطیکہ آپ اتنے عرصہ تک انتظار کرسکیں۔ ‘‘

سلیمہ نے کہا۔

’’میں ایک گھنٹے تک یہاں بیٹھنے کے لیے تیار ہوں مگر میں آپ سے پھر کہتی ہوں کہ آپ ناکام رہیں گے؟۔ وقت مقرر کرکے آپ چوہے کو کیسے پکڑ سکتے ہیں؟‘‘

۔ میں اس وقت عجیب و غریب موڈ میں تھا۔ اگر کوئی مجھ سے یہ کہتا کہ تم خدا دکھا سکتے ہو تو میں فوراً کہتا، ہاں دکھا سکتا ہوں۔ چنانچہ میں نے بڑے فخریہ لہجہ میں سلیمہ سے کہا۔

’’ہاتھ کنگن کو آرسی کیا۔ میں ابھی آپکو وہ چوہا پکڑ کے دکھا دیتا ہوں مگر شرط باندھیے۔ ‘‘

اس نے کہا میں ہر شرط باندھنے کے لیے تیار ہُوں، اس لیے کہ ہار آپ ہی کی ہو گی۔ اس پر خدا معلوم مجھ میں کہاں سے جرأت آگئی جو میں نے اس سے کہا۔

’’تو یہ وعدہ کیجیے کہ اگر میں نے چوہا پکڑ لیا تو آپ سے جو چیز طلب کروں گا آپ بخوشی دے دیں گی۔ ‘‘

سلیمہ نے جواب دیا۔

’’مجھے منظور ہے۔ ‘‘

چنانچہ میں نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے چوہے دان میں صبح کی تلی ہوئی مچھلی کا ایک ٹکڑا لگایا اور اس کو اپنی کتابوں کی الماری سے دور صوفے کے پاس رکھ دیا۔ شرط ورط کا مجھے اس وقت کوئی خیال نہیں تھا۔ لیکن میں دل میں یہ دعا ضرور مانگ رہا تھا کہ کوئی نہ کوئی چوہا ضرور پھنس جائے تاکہ میری سرخروئی ہو۔ نہ جانے کس جذبہ کے ماتحت میں نے گپ ہانک دی۔ بعد میں مجھے افسوس ہوا کہ خواہ مخواہ شرمندہ ہونا پڑے گا۔ چنانچہ ایک بار میرے جی میںآئی کہ اس سے کہہ دوں، میں تو آپ سے یونہی مذاق کررہا تھا۔ چوہا پندرہ منٹ میں کیسے پکڑا جاسکتا ہے۔ گاندھی جی کا ستیہ گرہ ہی ہوتا تو اُسے جب چاہے پکڑ لیتے مگر یہ تو چوہا ہے۔ آپ خود ہی غور فرمائیں۔ مگر میں اس سے یہ نہ کہہ سکا۔ اس لیے کہ اس میں میری شکست تھی۔ ‘‘

یہ کہہ کر ارشد نے جیب سے سگرٹ نکال کر سلگایا اور مجھ سے پوچھا۔

’’کیا خیال ہے تمہارا اس داستان کے متعلق؟‘‘

میں نے کہا۔

’’بہت دلچسپ ہے، مگر اس کا دلچسپ ترین حصّہ تو ابھی باقی ہے۔ جلدی جلدی وہ بھی سنا دو۔ ‘‘

’’کیا پوچھتے ہو دوست۔ وہ پندرہ منٹ جو میں نے انتظار میں گزارے ساری عمر مجھے یاد رہیں گے۔ میں اور سلیمہ کمرے کے باہر کرسیوں پر بیٹھے تھے۔ وہ خدا معلوم کیا سوچ رہی تھی۔ مگر میری بری حالت تھی۔ سلیمہ نے میری جیب گھڑی اپنی ران پرر کھی ہوئی تھی۔ میں بار بار جھک کر اس میں وقت دیکھ رہا تھا۔ دس منٹ گزر گئے مگر پاس والے کمرہ میں چوہے دان بند ہونے کی کھٹ نہ سنائی دی۔ گیارہ منٹ گزر گئے۔ کوئی آواز نہ آئی۔ ساڑھے گیارہ منٹ ہو گئے۔ خاموشی طاری رہی۔ بارہ منٹ گزرنے پر بھی کچھ نہ ہُوا۔ سوا بارہ منٹ ہو گئے، ساڑھے بارہ ہُوئے کہ دفعتاً کھٹ کی آواز بُلند ہُوئی۔ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ چوہے دان میرے سینے میں بند ہُوا ہے۔ ایک لمحہ کے لیے میرے دل کی دھڑکن بند سی ہو گئی۔ لیکن فوراً ہی ہم دونوں اُٹھے۔ دوڑ کر کمرے میں گئے اور چوہے دان کے تاروں میں سے جب مجھے ایک موٹے چوہے کی تھوتھنی اور اس کی لمبی لمبی مونچھیں نظر آئیں تو میں خوشی سے اچھل پڑا۔ پاس ہی سلیمہ کھڑی تھی، اس کی طرف میں نے فتح مند نظروں سے دیکھا اور جھٹ پٹ اس کے حیرت سے کھلے ہُوئے ہونٹوں کو چُوم لیا۔ یہ سب کچھ اس قدرجلدی میں ہوا کہ سلیمہ چند لمحات تک بالکل خاموش رہی، لیکن اس کے بعد اس نے خفگی آمیز لہجہ میں مجھ سے کہا

’’یہ کیا بیہودگی ہے؟‘‘

اُس وقت خدا معلوم میں کیسے موڈ میں تھاکہ ایک بار میں نے پھر اسی افراتفری میں اس کا بوسہ لے لیا اور کہا۔

’’اجی مولانا آپ نے شرط ہاری ہے۔ ‘‘

اور۔ تیسری مرتبہ اس نے اپنے ہونٹ بوسے کے لیے خود پیش کردیے۔ جس طرح چوہا ہاتھ آیا اسی طرح سلیمہ بھی ہاتھ آگئی، مگر بھئی میں شوکت کا بہت ممنون ہُوں۔ اگر میں نے چوہے دان کو گرم پانی سے نہ دھویا ہوتا توچوہا کبھی نہ پھنستا۔ ‘‘

یہ داستان سُن کر مجھے بہت لطف آیا۔ لیکن افسوس بھی ہُوا، اس لیے کہ شوکت اس لڑکی سلیمہ کی محبت میں بُری طرح گرفتار ہے۔

سعادت حسن منٹو
loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں