حکیم لقمان اور حاکم وقت کا ایک دلچسپ واقعہ

حضرت لقمان حکیم سے حاکم وقت نے کہا: اے لقمان! کسی بکری کو ذبح کرکے اس کے دو بہترین حصے میرے پاس لاؤ۔ چنانچہ حکیم صاحب نے ایک بکری ذبح کیا، اس کے دل اور زبان آقا کے سامنے پیش کیا۔

حاکم وقت نے کہا: اب جاؤ ایک اور بکری ذبح کرکے اس کے دو بدترین جز میرے پاس لے آئے۔ لقمان نے حکیم نے حکمت سے کام لیتے ہوئے پھر ایک بکری ذبح کی، اس سے دل اور زبان نکال کر آقا کے سامنے پیش کیا۔

حاکم وقت حیران ہو گیا کہ میں نے بہترین چیز طلب کی تو آپ نے دل اور زبان لایا اور جب بدترین چیز کی پیش کش کی تو آپ نے پھر وہی دو چیزیں لائے؟ حکیم نے کہا: اگر ان دو چیزوں کی استعمال صحیح ہو تو اس سے بہترین چیز اور کوئی نہیں، اور اگر یہ دو چیزیں غلط اور بے جا استعمال ہو تو اس سے بدترین چیز کوئی نہیں۔

loading...

حضرت علی کے ایسے اقوال جو زندگی بدل دیں

یہی دو چیزیں ہیں، اگر اس کو صحیح استعمال کی جائے تو سارا جسم صحیح ہو گا۔ حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ جسم میں ایک ٹکڑا ہے اگر یہ صحیح ہو تو سارا جسم صحیح ہوگا اور اگر یہ فاسد ہو تو سارا جسم فاسد ہو گا، اور وہ ٹکڑا دل ہے۔ کیونکہ جب دل میں غلط خیالات آئیں گے تو زبان اور جسم اس کی ترجانی کریں گے، جس سے عمل وجود میں آئی گی ۔

اسی طرح زبان ہے جو بظاہر ایک چھوٹا سا ٹکڑا ہے، لیکن جسم میں اس کا بہت بڑا دخل ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ جب آدمی صبح سو کر اٹھتا ہے تو سارے اعضاء زبان کے سامنے عاجزی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمارے واسطے اللہ تعالی سے ڈرتی رہ! اس لئے کہ ہم تیرے ساتھ ہیں اگر تو سیدھی رہے تو ہم سیدھے رہیں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہوگی تو ہم ٹیڑھی ہو گے۔

معلوم ہو گیا کہ یہ دونوں جزء بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں، ان کی وجہ سے آدمی بہترین بھی بن سکتا ہے اور بدترین بھی، لہذٰا ہمیں چاہیے کہ اس کو سوچ سمجھ سے بروےکار لائیں، اس کی حفاظت کریں، اس کو ایسے استعمال کریں کہ کل قیامت کے دن ہمارے لیے وبال نہ بنے۔

q

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں