کال گرل کی حلال و حرام محبت!

فہیم صدیقی

وہ میرے کال کرنے پر آئی تھی اور اس وقت میرے سامنے بیٹھی الجھن بھری نظروں سے مجھے دیکھ رہی تھی اس کے حسین چہرے پر کچھ عجیب سے تاثرات تھے جیسے وہ سمجھ ہی نا پارہی ہو کہ اس کا ردعمل کیا ہونا چاہیے اور یہ شاید اس کے ساتھ پہلی بار ہوا تھا اس لیے اسے اندازہ بھی نہیں تھا کہ مجھے کیسے ڈیل کرنا چاہیے

میرے بڑھے ہوئے ہاتھ کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک بار پھر اس نے مجھ سے سوال کیا،،،

کیا واقعی ؟؟؟

میں نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا اور کہاں “ہاں ں ں” ۔۔۔۔ صرف باتیں”

الجھے الجھے انداز میں بیڈ سے اٹھ کر کمرے میں پڑے صوفے پر بیٹھتے ہوئے وہ بولی

“تو کرو”

وہ اپنے اندر بلا کی کشش رکھتی تھی سیاہ جینز اور اس پر جھلملاتے سیاہ رنگ کی ہی شرٹ میں اس کا حسن دو آتشہ ہوگیا تھا لمبے سیاہ بالوں کو اس نے کھلا چھوڑ دیا تھا اور ایسے میں کبھی کبھی کوئی لٹ جب شرارتا اس کے چہرے کو چھونے آجاتی تو وہ ایک ادا سے اسے پیچھے لوٹاتی تھی چہرے پر میک اپ کے ہلکی سی تہہ تھی جو غور سے دیکھنے پر ہی نظر آتی تھی ہونٹوں پر گلاب جیسے رنگ کی لپ اسٹک اور پھر تھوڑا ڈارک کلر سے بنائی گئی آوٹ لائن نے اس کے چہرے پر ہونٹوں کو ایک الگ ہی دنیا بنادیا تھا

مجھے اتنے انہماک سے اپنی طرف دیکھتا پا کر اس کے چہرے پر ایک طنزیہ مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ چہرے پر آئی لٹ کو انگلی سے پیچھے ڈالتے ہوئے بولی

کیا ساری باتیں آنکھوں سے ہی کرلو گے

میں نے ایک گہرے سانس لی اور اس کے چہرے سے نظریں ہٹاتے ہوئے بولا

آپ کیا آئے کہ رخصت سب اندھیرے ہو گئے

اس قدر گھر میں کبھی بھی روشنی دیکھی نہ تھی

اچانک ہر طرف جیسے جلترنگ بجنے لگے ہوں میں شاید اس کے حسن کے سحر میں تھا اس لیے اس کی ہنسی مجھے کچھ زیادہ ہی دلکش لگی ہر طرف جیسے رنگ ہی رنگ بکھر گئے میں نے اس کی ہنسی سمیت پورے منظر کو اپنے اندر سمیٹنے کے لیے آنکھیں موند لیں۔

رنگ پیراہن کا خوشبو زلف لہرانےکا نام
موسم گل ہے ہمارے بام پر آنے کا نام

اس کی آواز کانوں میں پڑنے پر میں نے آنکھیں کھولیں وہ سامنے بیٹھی شوخ نظروں سے مجھے دیکھ رہی تھی

میری آنکھوں میں حیرانی پڑھ کر اس نے کہا

غالب نے یہ ہمارے لیے ہی تو کہا تھا
میں نے ایک گہری سانس لی اور بولا

“خوب گویا ۔۔۔

سنا ہے اس کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف
سو اس کے شہر میں کچھ دن ٹہر کے دیکھتے ہیں

وہ ہنسی اور جواب میں پھر شعر پڑھ دیا

سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
یہ بات ہے تو چلو بات کرکے دیکھتے ہیں

شعرپڑھتے ہی وہ بولی

اب ذرا مدعے پر آجاو مجھے بلانے کا مقصد کیا ہے

میں جو اس ساری گفتگو کے دوران صوفے کی پشت سے ٹیک لگا کر آرام دہ انداز میں بیٹھ گیا تھا سیدھا ہوتے ہوئے بولا
میں جاننا چاہتا ہوں تہمارے نزدیک محبت کی تعریف کیا ہے ؟؟؟

“محبت رزق کی مانند ہے جو کسی پر اترتا ہے کسی دوسرے کے لیے اور حق دار تک اس کا حق پہنچا دینا چاہیے”
میں اس کے فوری جواب کی توقع نہیں کررہا تھا اور اس کا جواب اتنا سادہ لیکن مکمل تھا کہ چند لمحوں تک تو میں سمجھ ہی نہیں سکا کہ آگے کیا کہوں وہ ہر لمحے خود کو اس کردار سے نہایت مختلف پیش کررہی تھی جو اسے یہاں کال کرنے کا سبب تھا
اور اگر رزق حق دار تک نہ پہنچے تو ؟؟؟؟

تو ذمے دار رازق تھوڑی ہے ۔۔۔ میرے کمزور لہجے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے اس نے کہا لیکن اس دفعہ اس کے چہرے پر سوچ کے آثار تھے جیسے یہ گفتگو اسے کہیں اور لے جارہی ہو

اب کہ وہ بولی تو اس کا لہجہ کوئی اور ہی کہانی سنا رہا تھا

محبت میں بھی حلال اور حرام کا فلسفہ ہوتا ہے اگر خود پر اترنے والا یہ رزق حقدارتک پہنچانے کی بجائے اس میں خیانت کی جائے تو پھر یہ رزق حلال نہیں رہتا حرام ہوجاتا ہے محبت کے درخت پر تو پھل آتا ہی جب ہے جب اسے خون دل سے سینچا گیا ہو اور یہی پھل محبت کا رزق بھی ہے جو اسے زندہ رکھتا ہے

میں خاموشی سے اسے سن رہا تھا اور میری خاموشی نے اس کے لیے مہمیز کا کام کیا

” محبت مانگتی ہے یوں گواہی اپنے ہونے کی
کہ جیسے طفل سادہ شام کو اک بیج بوئے

اور شب میں بار ہا اٹھے
زمیں کو کھود کر دیکھے کہ پودا اب کہاں تک ہے؟”

امجد اسلام امجد کی نظم میں سے چند مصرعے پڑھ کر وہ ٹہری اور پھر ایک گہری سانس لے کر بولی

“محبت اپنے ہونے کی گواہی مانگتی ہے جناب ایک طفل سادہ کی طرح”
“لگتا ہے چوٹ کافی گہری ہے”

میں جو اس کے چہرے کو کافی غور سے دیکھ رہا تھا خود کو یہ کہنے سے باز نہ رکھ سکا

اس نے زخمی نظروں سے میری طرف دیکھا جیسے کہہ رہی ہو اڑالو مذاق
میں اپنے اندر کٹ سا گیا

وہ اپنی جگہ سے اٹھی اور جانے کے لیے ڈریسنگ ٹیبل پر رکھا اپنا بیگ اٹھانے لگی لیکن اس بار بھی اس نے ڈریسنگ ٹیبل پر رکھی رقم نہیں اٹھائی جو میں نے شروع میں ہی اس کی طرف بڑھائی تھی اور اس کے نہ لینے پر ڈریسنگ ٹیبل پر اس کی بیگ کے پاس ہی رکھ دی تھی میرے توجہ دلانے پر وہ کمرے سے باہر جاتے ہوئے پلٹی اور بولی ۔۔۔

“حرامی صرف وہ نہیں جو حرام کے نطفے سے پیدا ہوا ہو حرامی وہ بھی ہے جس کے پیٹ میں ایک لقمہ حرام گیا۔ ہو میں کال گرل ضرور ہوں لیکن حرام اور حلال میں تمیز رکھتی ہو یہ رقم میرے لیے حلال نہیں ہے”

وہ پلٹی اور دروازہ کھول کر کمرے سے باہر نکل گئی اور میں سن بیٹھا اسے جاتے دیکھتا رہ گیا

(Visited 1 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں