شاداں

مائی نانکی

خان بہادر محمد اسلم خان کے گھرمیں خوشیاں کھیلتی تھیں۔ اورصحیح معنوں میں کھیلتی تھی۔ ان کی دو لڑکیاں تھیں۔ ایک لڑکا۔ اگر بڑی لڑکی کی عمرتیرہ برس کی ہو گی تو چھوٹی کی یہی گیارہ ساڑھے گیارہ۔ اور جو لڑکا تھا گو سب سے چھوٹا مگر قد کاٹھ کے لحاظ سے وہ اپنی بڑی بہنوں کے برابر معلوم ہوتا تھا۔

تینوں کی عمر جیسا کہ ظاہر ہے اس دور سے گزررہی تھی جب کہ ہر آس پاس کی چیز کھلونا معلوم ہوتی ہے۔ حادثے بھی یوں آتے ہیں، جیسے ربڑ کے اڑتے ہوئے غبارے۔ ان سے بھی کھیلنے کو چاہتا ہے۔ خان بہادر محمد اسلم کا گھر خوشیوں کا گھر تھا۔ اس میں سب سے بڑی تین خوشیاں، اس کی اولاد تھیں۔ فریدہ، سعیدہ اور نجیب۔ یہ تینوں اسکول جاتے تھے جیسے کھیل کے میدان میں جاتے ہیں۔ ہنسی خوشی جاتے تھے۔ ہنسی خوشی واپس آتے تھے اور امتحان یوں پاس کرتے تھے جیسے کھیل میں کوئی ایک دوسرے سے بازی لے جائے۔ کبھی فریدہ فرسٹ آتی تھی، کبھی نجیب اور کبھی سعیدہ۔ خان بہادر محمد اسلم بچوں سے مطمئن، ریٹائرڈ زندگی بسر کررہے تھے انھوں نے محکمہ زراعت میں بتیس برس نوکری کی تھی۔

معمولی عہدہ سے بڑھتے بڑھتے وہ بلند ترین مقام پر پہنچ گئے۔ اس دوران میں انھوں نے بڑی محنت کی تھی، دن رات دفتری کام کیے تھے۔ اب وہ سستا رہے تھے۔ اپنے کمرے میں کتابیں لے کر پڑے رہتے اور ان کے مطالعے میں مصروف رہتے۔ فریدہ، سعیدہ اور نجیب کبھی کبھی ماں کا کوئی پیغام لے کر آتے تو وہ اس کا جواب بھجوا دیتے۔ ریٹائر ہونے کے بعد انھوں نے اپنا بستر وہیں اپنے کمرے میں لگا لیا تھا۔ دن کی طرح ان کی رات بھی یہیں گزرتی تھی۔ دنیا کے جھگڑے ٹنٹنوں سے بالکل الگ۔ کبھی کبھی ان کی بیوی جو ادھیڑ عمر کی عورت تھی ان کے پاس آجاتی اور چاہتی کہ وہ اس سے دو گھڑی باتیں کریں مگر وہ جلد ہی اسے کسی بہانے سے ٹال دیتے۔ یہ بہانہ عام طور پر فریدہ اور سعیدہ کے جہیز کے متعلق ہوتا

’’جاؤ، یہ عمر چونچلے بگھارنے کی نہیں۔ گھر میں دو جوان بیٹیاں ہیں، ان کے دان دہیج کی فکر کرو۔ سونا دن بدن مہنگا ہورہاہے۔ دس بیس تولے خرید کر کیوں نہیں رکھ لیتیں۔ وقت آئے گا تو پھر چیخو گی کہ ہائے اللہ، خالی زیوروں پر اتنا روپیہ اٹھ رہا ہے۔ ‘‘

یا پھر وہ کبھی اس سے یہ کہتے۔

’’فرخندہ خانم۔ میری جان ہم بڈھے ہو چکے ہیں۔ تمہیں اب میری فکر اور مجھے تمہاری فکر ایک بچے کی طرح کرنی چاہیے۔ میری ساری پگڑیاں لیرلیر ہو چکی ہیں مگر تمہیں اتنی توفیق نہیں ہوتی کہ ململ کے دو تھان ہی منگوالو۔ دو نہیں چار۔ تمہارے اور بچیوں کے دوپٹے بھی بن جائیں گے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ تم کیا چاہتی ہو؟۔ اور ہاں وہ میری مسواکیں ختم ہو گئی ہیں۔ ‘‘

فرخندہ، خان بہادر کے پلنگ پر بیٹھ جاتی اور بڑے پیار سے کہتی۔

’’ساری دنیا برش استعمال کرتی ہے۔ آپ ابھی تک پرانی لکیر کے فقیر بنے ہیں۔ ‘‘

خان بہادر کے لہجے میں نرمی آجاتی۔

’’نہیں فرخندہ جان۔ یہ برش اورٹوتھ پیسٹ سب واہیات چیزیں ہیں۔ ‘‘

فرخندہ کے ادھیڑ چہرے پر لکیروں کی کوڑیاں اور مولیاں سی بکھر جاتیں۔ مگر صرف ایک لحظے کے لیے خان بہادر اس کی طرف دیکھتے اور باہر صحن میں بچوں کی کھیل کود کا شور و غل سنتے ہوئے کہتے

’’فرخندہ۔ تو کل ململ کے تھان آجائیں۔ اور لٹھے کے بھی۔ ‘‘

لیکن فوراً ہی معلوم نہیں کیوں ان کے بدن پر جھرجھری سی دوڑ جاتی اور وہ فرخندہ کو منع کردیتے۔

’’نہیں نہیں، لٹھا منگوانے کی ابھی ضرورت نہیں۔ !‘‘

باہر صحن میں بچے کھیل کود میں مصروف ہوتے۔ سہ پہر کو شاداں عموماً ان کے ساتھ ہوتی۔ یہ گو نئی نئی آئی تھی۔ لیکن ان میں فوراً ہی گھل مل گئی تھی۔ سعیدہ اور فریدہ تو اس کے انتظار میں رہتی تھیں کہ وہ کب آئے اور سب مل کر

’’لکن میٹی‘‘

یا کِھدو‘‘

کھیلیں۔ شاداں کے ماں باپ عیسائی تھے۔ مگر جب سے شاداں خان بہادر کے گھر میں داخل ہوئی تھی۔ فریدہ کی ماں نے اس کا اصلی نام بدل کر شاداں رکھ دیا تھا۔ اس لیے کہ وہ بڑی ہنس مکھ لڑکی تھی اور اس کی بچیاں اس سے پیار کرنے لگی تھیں۔ شاداں صبح سویرے آتی تو فریدہ، سعیدہ اور نجیب اسکول جانے کی تیاریوں میں مصروف ہوتے۔ وہ اس سے باتیں کرنا چاہتے مگر ماں ان سے کہتی

’’بچوجلدی کرو۔ اسکول کا وقت ہورہا ہے۔ ‘‘

اور بچے جلدی جلدی تیاری سے فارغ ہو کر شاداں کو سلام کہتے ہوئے اسکول چلے جاتے۔ سہ پہر کے قریب شاداں جلدی جلدی محلے کے دوسرے کاموں سے فارغ ہو کرآجاتی اور فریدہ، سعیدہ اور نجیب کھیل میں مشغول ہو جاتے اور اتنا شور مچتا کہ بعض اوقات خان بہادر کو اپنے کمرے سے نوکر کے ذریعے سے کہلوانا پڑتا کہ شور ذرا کم کیا جائے۔ یہ حکم سن کر شاداں سہم کر الگ ہو جاتی، مگر سعیدہ اور فریدہ اس سے کہتیں

’’کوئی بات نہیں شاداں۔ ہم اس سے بھی زیادہ شور مچائیں تو وہ اب کچھ نہیں کہیں گے۔ ایک سے زیادہ بار وہ کوئی بات نہیں کہا کرتے۔ ‘‘

اور کھیل پھر شروع ہو جاتا۔ کبھی لکن میٹی، کبھی کِھدو اور کبھی لوڈو۔ لوڈو، شاداں کو بہت پسند تھی، اس لیے کہ یہ کھیل اس کے لیے نیا تھا۔ چنانچہ جب سے نجیب لوڈو لایا تھا، شاداں اسی کھیل پر مصر ہوتی۔ مگر فریدہ، سعیدہ اور نجیب تینوں کو یہ پسند نہیں تھا۔ اس لیے کہ اس میں کوئی ہنگامہ برپا نہیں ہوتا۔ بس وہ جو

’’چٹو‘‘

سا ہوتا ہے، اس میں پانسہ ہلاتے اور پھینکتے رہو اور اپنی گوٹیں آگے پیچھے کرتے رہو۔ شاداں کھلی کھلی رنگت کی درمیانے قد کی لڑکی تھی۔ اس کی عمر فریدہ جتنی ہو گی مگر اس میں جوانی زیادہ نمایاں تھی۔ جیسے خود جوانی نے اپنی شوخیوں پر لال پنسل کے نشان لگا دیے ہیں۔ محض شرارت کے لیے۔ ورنہ فریدہ اور سعیدہ میں وہ تمام رنگ، وہ تمام لکیریں، وہ تمام قوسیں موجود تھیں جو اس عمر کی لڑکیوں میں ہوتی ہیں۔ لیکن فریدہ، سعیدہ اور شاداں جب پاس کھڑی ہوتیں تو شاداں کی جوانی زیر لب کچھ گنگناتی معلوم ہوتی۔

کھلی کھلی رنگت۔ پریشان بال اور دھڑکتا ہوا دوپٹہ جو کس کر اس نے اپنے سینے اور کمرکے اردگرد باندھا ہوتا۔ ایسی ناک، جس کے نتھنے گویا ہوا میں انجانی خوشبو میں ڈھونڈنے کے لیے کانپ رہے ہیں۔ کان ایسے جو ذرا سی آہٹ پر چونک کر سننے کے لیے تیار ہوں۔ چہرے کے خد وخال میں کوئی خوبی نہیں تھی۔ اگر کوئی عیب گننے لگتا تو بڑی آسانی سے گن سکتا تھا، صرف اسی صورت میں اگر اس کا چہرہ اس کے جسم سے الگ کرکے رکھ دیا جاتا۔

مگر ایسا کیا جانا ناممکن تھا، اس لیے کہ اس کے چہرے اور اس کے بقایا جسم کا چولی دامن کا ساتھ تھا۔ جس طرح چولی علیحدہ کرنے پر جسم کے آثار اس میں باقی رہ جاتے ہیں، اسی طرح اس کے چہرے پر بھی رہ جاتے اور اس کو پھر اس کی سالمیت ہی میں دیکھنا پڑتا۔ شاداں بے حد پھرتیلی تھی۔ صبح آتی اور یوں منٹا مٹنی میں اپنا کام ختم کرکے یہ جا وہ جا۔ سہ پہر کو آتی۔ گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ کھیل کود میں مصروف رہتی۔ جب خان بہادر کی بیوی آخری بار چلا کر کہتی۔

’’شاداں، اب خدا کے لیے کام تو کرو۔ ‘‘

تو وہ وہیں کھیل بند کرکے اپنے کام میں مشغول ہو جاتی۔ ٹوکرہ اٹھاتی اور دو دو زینے ایک جست میں طے کرتی کوٹھے پر پہنچ جاتی۔ وہاں سے فارغ ہو کر دھڑ دھڑ دھڑ نیچے اترتی اور صحن میں جھاڑو شروع کردیتی۔ اس کے ہاتھ میں پھرتی اور صفائی دونوں چیزیں تھیں۔ خان بہادر اور اس کی بیوی فرخندہ کو صفائی کا بہت خیال تھا، لیکن مجال ہے جو شاداں نے کبھی ان کو شکایت کا موقع دیا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس کے کھیل کود پر معترض نہیں ہوتے تھے۔ یوں بھی وہ اس کو پیار کی نظروں سے دیکھتے تھے۔

روشن خیال تھے، اس لیے چھوت چھات ان کے نزدیک بالکل فضول تھی۔ شروع شروع میں تو خان بہادر کی بیوی نے اتنی اجازت دی تھی کہ لکن میٹی میں اگر کوئی شاداں کو چھوئے تو لکڑی استعمال کرے اور اگر وہ چھوئے تو بھی لکڑی کا کوئی ٹکڑا استعمال کرے، لیکن کچھ دیر کے بعد یہ شرط ہٹا دی گئی اور شاداں سے کہا گیا کہ وہ آتے ہی صابن سے اپنا ہاتھ منہ دھو لیا کرے۔ جب شاداں کی ماں کمانے کے لیے آتی تھی تو خان بہادر اپنے کمرے کی کسی چیز سے اس کو چھونے نہیں دیتے تھے، مگر شاداں کو اجازت تھی کہ وہ صفائی کے وقت چیزوں کی جھاڑ پونچھ بھی کرسکتی ہے۔ صبح سب سے پہلے شاداں، خان بہادر کے کمرے کی صفائی کرتی تھی۔ وہ اخبار پڑھنے میں مشغول ہوتے۔ شاداں ہاتھ میں برش لیے آتی تو ان سے کہتی

’’خان بہادر صاحب۔ ذرا برآمدے میں چلے جائیے!‘‘

خان بہادر اخبارسے نظریں ہٹا کر اس کی طرف دیکھتے شاداں فوراً ان کے پلنگ کے نیچے سے ان کے سلیپر اٹھا کر ان کو پہنا دیتی اور وہ برآمدے میں چلے جاتے۔ جب کمرے کی صفائی اور جھاڑ پونچھ ہو جاتی تو شاداں دروازے کی دہلیز کے پاس ہی سے کمر میں ذرا سا جھانکنے کا خم پیدا کرکے خان بہادر کو پکارتی

’’آجائیے خان بہادر صاحب۔ ‘‘

خان بہادر صاحب اخبار اور سلیپر کھڑکھڑاتے اندر آجاتے۔ اور شاداں دوسرے کاموں میں مشغول ہو جاتی۔ شاداں کو کام پر لگے، دو مہینے ہو گئے تھے۔ یہ گزرے تو خان بہادر کی بیوی نے ایک دن یوں محسوس کیا کہ شاداں میں کچھ تبدیلی آگئی ہے۔ اس نے سرسری غور کیا تو یہی بات ذہن میں آئی کہ محلے کے کسی نوجوان سے آنکھ لڑ گئی ہو گی۔ اب وہ زیادہ بن ٹھن کے رہتی تھی۔ اگر وہ پہلے کوری ململ تھی۔

تو اب ایسا لگتاتھا کہ اسے کلف لگا ہوا ہے۔ مگر یہ کلف بھی کچھ ایسا تھا جو ململ کے ساتھ انگلیوں میں چنا نہیں گیا تھا۔ شادان دن بدن تبدیل ہو رہی تھی۔ پہلے وہ اترن پہنتی تھی، پر اب اس کے بدن پر نئے جوڑے نظر آتے تھے۔ بڑے اچھے فیشن کے بڑے عمدہ سلے ہوئے۔ ایک دن جب وہ سفید لٹھے کی شلوار اور پھولوں والی جارجٹ کی قمیض پہن کر آئی تو فریدہ کو باریک کپڑے کے نیچے سفید سفید گول چیزیں نظر آئیں۔ لکن میٹی ہورہی تھی۔ شاداں نے دیوار کے ساتھ منہ لگا کر زور سے اپنی آنکھیں میچی ہوئی تھیں۔ فریدہ نے اس کی قمیض کے نیچے سفید سفید گول چیزیں دیکھی تھیں۔ وہ بوکھلائی ہوئی تھی۔ جب شاداں نے پکارا

’’چھپ گئے؟‘‘

تو فریدہ نے سعیدہ کو بازو سے پکڑا اور گھسیٹ کر ایک کمرے میں لے گئی اور دھڑکتے ہوئے دل سے اس کے کان میں کہا۔

’’سعیدہ۔ تم نے دیکھا، اس نے کیا پہنا ہوا تھا؟‘‘

سعیدہ نے پوچھا۔

’’کس نے؟‘‘

فریدہ نے اس کے کان ہی میں کہا۔

’’شاداں نے؟‘‘

’’کیا پہنا ہوا تھا؟‘‘

فریدہ کی جوابی سرگوشی سعیدہ کے کان میں غڑاپ سے غوطہ لگا گئی۔ جب ابھری تو سعیدہ نے اپنے سینے پہ ہاتھ رکھا اور ایک بھنچی بھنچی حیرت کی

’’میں‘‘

اس کے لبوں سے خود کو گھسیٹتی ہوئی باہر نکلی۔ دونوں بہنیں کچھ دیر کھسر پھسر کرتی رہیں۔ اتنے میں دھماکا سا ہوا اور شاداں نے ان کو ڈھونڈ لیا۔ اس پر سعیدہ اور فریدہ کی طرف سے قاعدے کے مطابق چخم ڈھاڑ ہونا چاہیے تھی مگر وہ چپ رہیں۔ شاداں کی خوشی کی مزید چیخیں اس کے حلق میں رک گئیں۔ فریدہ اور سعیدہ کمرے کے اندھیرے کونے میں کچھ سہمی سہمی کھڑی تھیں شاداں بھی قدرے خوفزدہ ہو گئی۔ ماحول کے مطابق اس نے اپنی آواز دبا کر ان سے پوچھا۔

’’کیا بات ہے؟‘‘

فریدہ نے سعیدہ کے کان میں کچھ کہا، سعیدہ نے فریدہ کے کان میں۔ دونوں نے ایک دوسری کو کہنیوں سے ٹھوکے دیے۔ آخر فریدہ نے کانپتے ہوئے لہجے میں شاداں سے کہا۔

’’یہ تم نے۔ یہ تم نے قمیض کے نیچے کیا پہن رکھا ہے!‘‘

شاداں کے حلق سے ہنسی کے گول گول ٹکڑے نکلے۔ سعیدہ نے پوچھا۔

’’کہاں سے لی تو نے یہ؟‘‘

شاداں نے جواب دیا۔

’’بازار سے؟‘‘

فریدہ نے بڑے اشتیاق سے پوچھا۔

’’کتنے میں؟‘‘

’’دس روپے میں!‘‘

دونوں بہنیں ایک دم چلاتے چلاتے رک گئیں۔

’’اتنی مہنگی!‘‘

شاداں نے صرف اتنا کہا۔

’’کیا ہم غریب دل کو اچھی لگنے والی چیزیں نہیں خرید سکتے؟‘‘

اس بات نے فوراً ہی ساری بات ختم کردی۔ تھوڑی دیر خاموشی رہی اس کے بعد پھر کھیل شروع ہو گیا۔ کھیل جاری تھا۔ مگر کہاں جاری تھا۔ یہ خان بہادر کی بیوی کی سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ اب تو شاداں بڑھیا قسم کا تیل بالوں میں لگاتی تھی۔ پہلے ننگے پاؤں ہوتی تھی، پر اب اس کے پیروں میں اس نے سینڈل دیکھے۔ کھیل یقیناً جاری تھا۔ مگر خان بہادر کی بیوی کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی تھی کہ اگر کھیل جاری ہے تو اس کی آواز شاداں کے جسم سے کیوں نہیں آتی۔ ایسے کھیل بے آواز اور بے نشان تو نہیں ہوا کرتے۔

یہ کیسا کھیل ہے جو صرف کپڑے کا گز بنا ہوا ہے۔ اس نے کچھ دیر اس معاملے کے بارے میں سوچا، لیکن پھر سوچا کہ وہ کیوں بیکار مغز پاشی کرے۔ ایسی لڑکیاں خراب ہوا ہی کرتی ہیں اور کتنی د استانیں ہیں جو ان کی خرابیوں سے وابستہ ہیں اور شہر کے گلی کوچوں میں ان ہی کی طرح رُلتی پھرتی ہیں۔ دن گزرتے رہے اور کھیل جاری رہا۔ فریدہ کی ایک سہیلی کی شادی تھی۔ اس کی ماں خان بہادر کی بیوی کی منہ بولی بہن تھی۔ اس لیے سب کی شرکت لازمی تھی۔ گھر میں صرف خان بہادر تھے سردی کا موسم تھا۔

رات کو خان بہادر کی بیوی کو معاً خیال آیا کہ اپنی گرم شال منگوالے۔ پہلے تو اس نے سوچا کہ نوکر بھیج دے مگر وہ ایسے صندوق میں پڑی تھی۔ جس میں زیورات بھی تھے، اس لیے اس نے نجیب کو ساتھ لیا اور اپنے گھر آئی۔ رات کے دس بجے چکے تھے۔ اسکا خیال تھا کہ دروازہ بند ہو گا، چنانچہ اس نے دستک دی۔ جب کسی نے نہ کھولا تو نجیب نے دروازے کو ذرا سا دھکا دیا۔ وہ کھل گیا۔ اندر داخل ہوکر اس نے صندوق سے شال نکالی اور نجیب سے کہا۔

’’جاؤ، دیکھو تمہارے ابا کیا کررہے ہیں۔ ان سے کہہ دینا کہ تم تو ابھی تھوڑی دیر کے بعد لوٹ آؤ گے، لیکن ہم سب کل صبح آئیں گے۔ جاؤ بیٹا!‘‘

صندوق میں چیزیں قرینے سے رکھ کر وہ تالا لگا رہی تھی کہ نجیب واپس آیا اور کہنے لگا۔

’’ابا جی تو اپنے کمرے میں نہیں ہیں۔ ‘‘

’’اپنے کمرے میں نہیں ہیں؟۔ اپنے کمرے میں نہیں ہیں تو کہاں ہیں؟

’’خان بہادرکی بیوی نے تالا بند کیا اور چابی اپنے بیگ میں ڈالی۔

’’تم یہاں کھڑے رہو، میں ابھی آتی ہوں!‘‘

یہ کہہ کر وہ اپنے شوہر کے کمرے میں گئی جو کہ خالی تھا مگر بتی چل رہی تھی۔ بستر پر سے چادر غائب تھی۔ فرش دھلا ہوا تھا۔ ایک عجیب قسم کی بُو کمرے میں بسی ہوئی تھی۔ خان بہادر کی بیوی چکرا گئی کہ یہ کیا معاملہ ہے۔ پلنگ کے نیچے جھک کر دیکھا، مگر وہاں کوئی بھی نہیں تھا۔

لیکن ایک چیز تھی۔ اس نے رینگ کر اسے پکڑا اور باہر نکل کر دیکھا۔ خان بہادر کی موٹی مسواک تھی۔ اتنے میں آہٹ ہوئی۔ خان بہادر کی بیوی نے مسواک چھپالی۔ خان بہادر اندر داخل ہوئے اور ان کے ساتھ ہی مٹی کے تیل کی بو۔ ان کا رنگ زرد تھا جیسے سارا لہو نچڑ چکا ہے۔ کانپتی ہوئی آواز میں خان بہادر نے اپنی بیوی سے پوچھا۔

’’تم یہاں کیا کررہی ہو؟‘‘

’’کچھ نہیں۔ شال لینے آئی تھی۔ میں نے سوچا، آپ کو دیکھتی چلوں۔ ‘‘

’’جاؤ!‘‘

خان بہادر کی بیوی چلی گئی۔ چند قدم صحن میں چلی ہو گی کہ اسے دروازہ بند کرنے کی آواز آئی۔ وہ بہت دیر تک اپنے کمرے میں بیٹھی رہی پھر نجیب کو لے کر چلی گئی۔ دوسرے روز فریدہ کی سہیلی کے گھر خان بہادر کی بیوی کو یہ خبر ملی کہ خان بہادر گرفتار ہو گئے ہیں۔ جب اس نے پتا لیا تو معلوم ہوا کہ جرم بہت سنگین ہے۔ شاداں جب گھر پہنچی تو لہولہان تھی۔ وہاں پہنچتے ہی وہ بے ہوش ہو گئی۔ اس کے ماں باپ اسے ہسپتال لے گئے۔ پولیس ساتھ تھی۔ شاداں کو وہاں ایک لحظے کے لیے ہوش آیا اور اس نے صرف

’’خان بہادر‘‘

کہا۔ اس کے بعد وہ ایسی بے ہوش ہوئی کہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سو گئی۔ جرم بہت سنگین تھا۔ تفتیش ہوئی۔ مقدمہ چلا۔ استغاثے کے پاس کوئی عینی شہادت موجود نہیں تھی۔ ایک صرف شاداں کے لہو میں لتھرے ہوئے کپڑے تھے اور وہ دو لفظ جو اس نے مرنے سے پہلے اپنے منہ سے ادا کیے تھے۔ لیکن اس کے باوجود اسغاثے کو پختہ یقین تھا کہ مجرم خان بہادر ہے، کیونکہ ایک گواہ ایسا تھا جس نے شاداں کو شام کے وقت خان بہادر کے گھر کی طرف جاتے دیکھا تھا۔

صفائی کے گواہ صرف دو تھے۔ خان بہادر کی بیوی اور ایک ڈاکٹر۔ ڈاکٹر نے کہا کہ خان بہادر اس قابل ہی نہیں کہ وہ کسی عورت سے ایسا رشتہ قائم کرسکے۔ شاداں کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ وہ نابالغ تھی۔ اس کی بیوی نے اس کی تصدیق کی۔ خان بہادر محمد اسلم خان بری ہو گئے۔ مقدمے میں انھیں بہت کوفت اٹھانی پڑی۔ بری ہو کر جب گھر آئے تو ان کی زندگی کے معمول میں کوئی فرق نہ آیا۔ ایک صرف انھوں نے مسواک کا استعمال چھوڑ دیا۔

سعادت حسن منٹو

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں