گوجرانوالہ میں گندگی سے نہر کا پانی اور ماحول آلودہ، ذمہ دار کون؟

گوجرانوالہ گندگی

 بات کریں گوجرانوالہ کی تو  یہ شہر کچھ عرصے سے بہت ذیادہ گندگی کا شکار ہے ، اسے لوگوں کی بے حسی کہیں  یہ گوجرانوالہ کی سالڈ ویسٹ منیجمنٹ کی نا اہلی کہ ایک خوبصورت ماحول تباہ ہورہا ہے ۔

اسی پراگر اس شہر سے گزرتی ہوئی نہر کی بات کی جائے تو اس کوڑے اور گندگی سے یہ نہر اور روڈ بھی نہ بچ سکا۔ جس سے علاقہ مکینوں میں کئی اقسام کے مرض لاحق ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ کوڑا نہر پر بہت سی جگہوں پر پھینکا جا رہا ہے ۔

نہر کے کنارے پر پھینکا گیا کچرا

اس تصویر میں آپ با آسانی دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح یہ کچرا نا صرف ماحول کو گندا کر رہا ہے بلکہ لگے ہوئے پودوں کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے۔

گوجرانوالہ گندگی
ایک بندہ سر عام اپنے لوڈر سے کچر نہر کے کناروں پر پھینکتے ہوئے
گوجرانوالہ گندگی
روڈ کے اوپر بھی کچرا پھینکا گیا ہے جو کہ راہگیروں کے لیے بھی پریشانی کا سبب بن رہا ہے

یہاں اپ کو یہ بتاتے جائیں کہ تصویر میں نظر آتے  روڈ کو سیا لکوٹ بائی پاس روڈ کہا جاتا ہے ، یہ سڑک سیالکوٹ اور لاہور کو ملاتی ہے اور اس اہم شاہ راہ  پر بھی کچرا پھینکا گیا ہے ۔ مزید اس پر علاقہ مکین کا کہنا تھا کہ یہ روڈ کئی دفع آدھی سے ذیادہ کچرے سے بھر جاتی ہے اور اسے دیکھتے ہوئے سالڈ ویسٹ کا عملہ اپنی کاروائی کرتا ہے  اور کوڑے کی صفائی کرتے ہیں۔

اسی کچرے میں لگا ہوا نلکا
اس تصویر میں آپ پانی پیتے ہوئے بچوں اور ان کے پیچھے کچرا دیکھ سکتے ہیں جو نہر کے پانی میں مل رہا ہے

یہ نہر ناصرف گوجرانولہ کے زرعی رقبے کو سیراب کرتی ہے بلکہ پنجاب کے ایک وسیع زرعی علاقے کو سیراب کرتی ہے اور اس تصویر میں آپ باخوبی دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح پلاسٹک شاپر اور کچرا نہر کے پانی میں مل رہیں ہیں ۔

یہی پانی فصلوں کو سیراب کرتا ہے اور کیا یہ پانی اب صاف ہے جسے کئی علاقوں میں لوگ پیتے بھی ہیں؟

اس پر علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں سالڈ ویسٹ یعنی حکومت کی طرف سے صفائی والا عملہ نہیں آتا اور یہ کچرا اس قدر ذیادہ مقدار میں ہوجاتا ہے کہ اسے آخر نہر میں بھی ہم خود پھینک دیتے ہیں۔

اب آپ یہ نہر پرائیوٹ ہاوسنگ سکیموں میں کس حال میں ہے یہ بھی دیکھیئے۔

گوجرانوالہ گندگی
نجی ہاؤنگ سکیم سے گزرتی ہوئی نہر جو کچرے والی جگہ سے کچھ فاصلے پر واقع ہے
گوجرانوالہ گندگی
فائل فوٹو

 یہ نجی ہاؤسنگ سکیمیں نہر کے ماحول کا خوبصورت بنا کر عوام کو اپنا پیسہ یہاں استعمال کرنے کے لیے مائل کررہیں ہیں اور فرق صرف اتنا ہے کہ ان لوگوں نے کاروبار کرنا کے لیے اپنا کثیر پیسہ صرف نہر کی خوبصورتی پر ہی خرچ کیا ہے ۔

اور اسی طرح کی خوبصورتی کچرے کو ختم کرنے ،پاکستان کے دیگر شہروں اور خاص طور پر نہروں پر کوڑا پھینکنے والوں پر جرمانہ نافذ کرنےسے ہی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ جو ناممکن بلکل نہیں ہے ۔

 حکومتی اراکین کا کہنا ہے کہ ہماری عوام جاہل ہے جو اپنے وسائل کو اچھے طریقے سے بروئے کار نہ لاتے ہوئے اسے تباہ و برباد کر رہے ہیں اور ایسے حالات میں زندگی گزارنے کے عادی ہوگئے ہیں۔

یہ بات نہیں کہ ہر بندہ ہی اس کا عادی ہوگیا ہے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ جو لوگ اس کے خلاف ہیں وہ صرف اپنے ہی دائرے میں محدود حکومتی اراکین کو اور میونسپل عملے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ خود ان لوگوں کو چاہیے کہ باہر آ کر ان تمام حالات کی طرف لوگوں کی توجہ کروائیں اور اپنے ملک و قوم کی سلامتی میں ایک اہم حصہ ادا کریں۔

اور ہاں ان لوگوں کے پاس وافر ذرائع آمدن ہونے کے باوجود اپنی  جیب سے حکومتی کام میں خرچ کرنا حرام سمجھتے ہیں اگر کوئی سڑک، گلی خراب ہو جاتی ہے تو یہ لوگ اس پر ذرا توجہ نہیں دیتے اور کہتے ہیں کہ یہ حکومت ہی صحیح کرے گی۔

تو ان معاملات پر جب تمام قوم ایک آواز ہوگی تب ہی جا کر پاکستان ترقی کرے گا۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں