سستے رمضان بازار۔۔۔ روک سکو تو روک لو تبدیلی آئی رے۔

سستے رمضان بازار

‎کچھ چیزیں کچھ لمحات۔۔۔ سوچنے اور سمجھنے میں بہت آسان لگتے ہیں۔ ہم ان کے متعلق بالکل الگ اور نارمل انداز میں سوچ رہے ہوتے ہیں۔ مگر حقیقت ان سے بہت مختلف ہوتی ہے۔ میری اور سستے رمضان بازار کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے…

‎آج جب گھر میں چکن آیا تو میں نے سوچا کہ اسے صاف کر کے رکھ دوں۔ لیکن مجھے وہ کچھ خاص پسند نہیں آیا اور جب مجھے اسکی قیمت پتہ چلی۔ تو مجھے اور بھی حیرت ہوئی اور تب میں سوچنے لگی کہ ہمارا یہ ملک کوئی نہیں بدلنے والا۔ پھر میرا دل کیا کہ میں پنجاب فوڈ اتھارٹی کو بتاؤں کہ کتنا گندہ چکن دستیاب ہے بازار میں۔ لیکن پھر مجھے خیال آیا کہ جس سے میں ہمیشہ چکن خریدتی ہوں۔ اس کو شکایت کرتی ہوں۔ جس نے میری شکایت پر چکن واپس کرلیا اور مجھے بتایا کہ باجی چھوٹی مرغیوں میں چوٹوں کے زخم زیادہ ہوتے ہیں۔ اس لئے ہم بڑی مرغیاں منگواتے ہیں۔ جو ٹیسٹ میں تو کم زائقہ دار ہوتی ہیں۔ لیکن زخمی نہیں ہوتیں۔

‎پھر جب سبزی لینے کی بات آئی۔ تو آسمان سے باتیں کرتی سبزیوں کی قیمتیں دیکھ میں نے سوچ لیا کہ بھئی ایک بار تو میں نے سستا بازار جانا ہی ہے۔ اس بارے میں سب کی رائے مختلف ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ سستا بازار اچھا ہے لیکن کسی کا کہنا ہے کہ کوئی نہیں یہ بکواس ہے۔ کوئی سستی چیز نہیں ہے تب میں نے سوچا کہ میں ایک رپورٹر ہوں اسی وجہ سے مجھے تو سستا بازار دیکھنا ہی چاہیئے۔
‎بے شک میرے پاس اللہ کا دیا سب کچھ ہے لیکن ہم خواتین چاہتی ہیں کہ ہر خرچ کے ساتھ کچھ بچت بھی کی جائے اور رمضان میں ہماری کوشش یہی ہوتی ہے کہ کچھ نا کچھ تو بچایا ہی جائے۔

سستے رمضان بازار
‎جیسا کہ میرے دماغ میں تھا کہ رمضان بازار عام بازاروں/سبزیوں منڈیوں کے جیسا بازار ہو گا۔ لیکن وہاں جا کر میں بہت حیران ہوئی کہ وہ بازار کسی شادی حال سے کم نا تھا۔ ریڈ کارپٹ بچھا تھا اور شامیانے بھی لگائے گئے تھے اور بازار نہایت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔ وہاں ایک باؤنڈری وال لگی تھی تاکہ خریداروں کو سہولت ہو اور ہر خریدار آتا جاتا اور لائن میں کھڑا ہو کر اپنی باری کا انتظار کرتا۔ جب میں وہاں گئی تو مجھے لگا کہ جیسے میں کسی شاپنک مال میں کھڑی ہوں۔بہت ہی زبردست اور عمدہ بازار۔ میں تو بس دیکھتی ہی رہ گئی اور مزے کی بات کہ وہاں رمضان کے حوالے سے ہر شے موجود تھی۔ ایسی کوئی بھی چیز نہیں تھی کہ جو رمضان میں تو استعمال ہوتی ہو مگر رمضان بازار میں موجود نا ہو اور پھر جب میں نے وہاں چکن دیکھا تو یقین مانیں مجھے پچھتاوا ہونے لگا کہ کاش میں نے چکن پہلے نہیں خریدا ہوتا تو میں یہاں سے ہی خرید لیتی۔

‎وہاں چکن انڈے سب کچھ دستیاب تھا۔ مٹن صرف اور صرف 800 روپے کلو مل رہا تھا۔ جسکی مارکیٹ قیمت 1100 روپے ہے اور بیف مارکیٹ میں 650 روپے کا ہے۔ جبکہ رمضان بازار میں صرف 300 روپے کلو مل رہا ہے۔‎اس کے علاوہ پارکنگ کا نظام بھی بہت ہی اچھا تھا۔

‎مجھے خود نہیں سمجھ میں آرہا کہ آخر میں اس سستے رمضان بازار کی اتنی تعریفیں کیوں کر رہی ہوں مگر بارحال وہ بازار تعریف کے قابل ہی ہے۔
‎آجکل ہر کوئی یہ کہتا نظر آتا ہے کہ اتنی مہنگائی ہو گئی۔ ڈالر اتنا مہنگا ہو گیا ڈالر کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ یہ بات سو آنے درست ہے مجھے بھی اس بات کی کوئی خوشی نہیں ہے بلکہ اختلاف ہی ہے۔ ہاں لیکن اس بار جو یہ رمضان سستا بازار لگایا گیا ہے یہ بھی موجودہ حکومت ہی کی وجہ سے ہے۔ ورنہ آج سے پہلے میں نے ایسا بازار اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھا۔

اور کہانی ابھی باقی ہے ۔ اس رمضان بازار میں ایک میڈیکل کیمپ بھی موجود ہے اگر کسی کو کوئی مسئلہ درپیش آ جائے تو وہ وہاں موجود ڈاکٹرز کے پاس جا کر اپنا علاج کروا سکیں جو کہ بالکل مفت ہے ۔

loading...

سستے رمضان بازار
میں نے وہاں پڑا ایک شکایت باکس بھی دیکھا کہ اگر کسی بھی شخص کو کوئی شکایت ہو بازار سے یا بازار والوں سے تو وہ اس موجود شکایت باکس میں اپنی شکایت لکھ کر ڈال دے تو فورًا اسکی شکایت دور کر دی جائے گی ۔ لیکن آپکو پتہ ہے وہ باکس بالکل خالی تھا اس میں کوئی ایک بھی شکایت موجود نہیں تھی ۔ کیونکہ وہاں اتنا عمدہ نظام تھا کہ کسی کو شکایت کرنے کا موقع ہی نہیں ملا ۔
‎پھر اگر کسی بھی شخص کو کوئی بھی مسئلہ درپیش آتا تو فورًا سے چار پانچ لوگ وہاں آ جاتے اور اس کا مسئلہ حل کر دیتے ۔
‎نہایت عمدہ اور خاص بات تو یہ بھی ہے کہ میں نے اپنی زندگی میں پہلی بار دیکھا کہ ایک ہی جگہ سے امیر اور غریب دونوں لوگ خریداری کر رہے ہیں ۔ وہاں گاؤں کے رہنے والے لوگ بھی موجود تھے اور شہر کے ماڈرن لوگ بھی ۔ یعنی اگر ہم کہیں کہ ” ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز ” تو بالکل بھی غلط نہیں ہو گا ۔
‎سستے رمضان بازار میں عورتوں اور بچوں وغیرہ کے لیئے کرسیاں ، ٹیبل، واٹر کولر اور پنکھے بھی موجود تھے ۔ اگر کوئی شخص خریداری کر کے تھک جاتا تو وہ ان کرسیوں پر بیٹھ کر آرام کر سکتا تھا۔ اور بزرگوں کے لئے الگ کاوئنٹر موجود ہیں.

سستے رمضان بازار
‎پھر میں نے وہاں سے جام شیریں ، پھل ، سبزیاں ، کھجوریں ، گوشت اور دالیں وغیرہ خریدیں ۔ جو کہ مجھے بہت آسانی سے اور مناسب قیمتوں پر مل گئیں اور جو مارکیٹ ریٹس سے کم قیمت میں ملیں ۔
‎بچپن سے ہم سنتے آ رہے ہیں کہ جب رمضان آتا ہے تو سب مسلمان چیزیں سستی کر دیتے ہیں لیکن یہاں رمضان میں مزید مہنگائی ہو جاتی ہے ۔ آج پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ ہمیں بھی رمضان کی خوشیاں مل رہی ہیں کہ واقعی ہمارے ہاں بھی رمضان میں کوئی سستی چیز مل سکتی ہے ۔ سستا رمضان بازار حکومت کا ایک کامیاب اقدام ہے ۔ میں کہتی ہوں حکومت کو اسی طرح سے جنگ کرنی چاہیئے ۔ جو باقی دکاندار ہیں جنہیں کوئی شرم حیا نہیں ہے جو بس چاہتے ہیں یہی موقع ہے لوٹ لو سب کو ۔ انہیں بھی چاہیئے کہ وہ اپنے ریٹس کم کریں ۔ کوشش کر کے تو دیکھیں رمضان کے لیئے ہو سکتا ہے اللہ ان کے کام میں بہت برکت ڈال دے ۔ اور اللہ ایسا ہی کرتا ہے ۔ لیکن کوئی سوچتا نہیں ۔

سستے رمضان بازار
‎آخر میں میں بس اتنا ہی کہوں گی کہ میری زندگی کا یہ پہلا تجربہ تھا کہ میں ایسے رمضان بازار میں گئی جہاں میں نے ہر طرح کے لوگ دیکھے ہر طرح کی چیزیں دیکھیں اور میں نے بہت انجوائے کیا ۔ آج سے پہلے میں نے رمضان بازار سے کبھی اتنا لطف نہیں اٹھایا ۔ اور اس کے لیئے میں پنجاب حکومت کو داد دیتی ہوں۔ جس نے پنجاب بھر میں ایسے سستے رمضان بازار لگائے ہیں اور امید کرتی ہوں کہ جس سستے رمضان بازار کا میں نے دورہ کیا ہے۔ پنجاب کے دیگر شہروں میں لگے دیگر رمضان بازروں کیں بھی ایسی سہولیات ہی دستیاب ہونگیں۔ جو کہ اصل تبدیلی ہے اور جس کی خاطر عوام نے عمران خان کو منتخب کیا ہے۔

(Visited 9 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں