نئی دہلی:بنگال کے علاقے میں پیش آیا افسوسناک واقعہ، وائلڈ لائف نے کیا تحقیقات کا آغاز،آخر کیوں؟

بنگال

نئی دہلی: بھارت کے مغربی بنگال میں ایک شخص نے ہاتھی کے ننھے بچے کو پتھر مار کر ہلاک کردیا، ہتھنی کی تصاویر نے صارفین کے دل موم کردیے۔

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق مغربی بنگال کے علاقے اجناسہولی میں افسوسناک واقعے کی حقیقت اُس وقت سامنے آئی جب محکمہ وائلڈ لائف نے تحقیقات کا آغاز کیا۔

قبل ازیں تصاویر وائرل ہوئیں تھیں کہ ایک ہتھنی اپنے بچے کو بچانے کی کوشش کررہی ہے اور اُسے پانی سے خشکی کی طرف لارہی ہے تاکہ کچھ کرسکے مگر ایسا نہ ہوسکا۔اور وہ سر پر چوٹ کی وجہ سے ہلاک ہو چکا تھا.

اجناسہولی سے گزرنے والے ایک شخص نے دل پسیج دینے والے منظر کی تصاویر بنائیں اور انہیں سوشل میڈیا پر شیئر کیا جس کے بعد محکمہ وائلڈ لائف نے تحقیقات شروع کیں۔

تصاویر لینے والے نوجوان کا کہنا تھا کہ ’’اُس کے بچے کے سر سے خون بہہ رہا تھا اور ماں اپنے بچے کو خشکی کی طرف لے جانا چاہتی تھی، اُس نے بچے کو اٹھانے کی کوشش کی مگر ناکام رہی جس کے بعد مجبوراً اُس نے ٹانگیں مار کر بچے کو پانی سے باہر نکالا مگر اُس وقت تک بچہ مر چکا تھا‘‘۔

انہوں نے بتایا کہ مغربی بنگال کے جنگل میں واقع ایک نہر کنارے یہ واقعہ پیش آیا۔ بعد ازاں محکمہ وائلڈ لائف نے تحقیقات کا آغاز کیا اور معمے کو حل کرتے ہوئے خاتون کو حراست میں لیا۔

حکام کے مطابق 27 سالہ شالین ماہتا نہر کنارے کسی کام سے گئی تھیں انہوں نے دیکھا کہ ہتھنی اور اُس کا بچہ پانی میں موجود ہیں، انہوں نے وہاں سے دونوں کو ہٹانے کے لیے پہلے چھوٹے پتھر مارے پھر بھی وہ نہیں ہٹے تو انہوں نے بڑا اینٹ اٹھا کر بچے کی طرف پھینکا جو سیدھا اُس کے سر پر جاکر لگا۔

ہاتھی کے بچے کی ہلاکت کے بعد دیگر ہاتھیوں نے بستی پر حملے کی کوشش بھی کی مگر اس خدشے سے قبل ہی گاؤں کے تمام لوگ گھروں میں محصور ہوگئے تھے۔

Comments

(Visited 2 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں