فوبھا بائی

گھوگا

حیدر آباد سے شہاب آیا تو اس نے بمبئے سنٹرل اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر پہلا قدم رکھتے ہی حنیف سے کہا۔

’’دیکھو بھائی۔ آج شام کو وہ معاملہ ضرور ہو گا ورنہ یاد رکھو میں واپس چلا جاؤں گا۔ ‘‘

حنیف کو معلوم تھا کہ

’’وہ معاملہ‘‘

کیا ہے۔ چنانچہ شام کو اس نے ٹیکسی لی۔ شہاب کو ساتھ لیا۔ گرانٹ روڈ کے ناکے پر ایک دلال کو بلایا اور اس سے کہا۔

’’میرے دوست حیدر آباد سے آئے ہیں۔ ان کے لیے اچھی چھوکری چاوئے۔ ‘‘

دلال نے اپنے کان سے اڑسی ہوئی بیڑی نکالی اور اس کو ہونٹوں میں دبا کر کہا۔

’’دکنی چلے گی؟‘‘

حنیف نے شہاب کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ شہاب نے کہا نہیں بھائی۔ مجھے کوئی مسلمان چاہیے‘‘

’’مسلمان؟‘‘

دلال نے بیڑی کو چوسا

’’چلیے‘‘

اور یہ کہہ کر وہ ٹیکسی کی اگلی نشست پر بیٹھ گیا۔ ڈرائیور اس نے کچھ کہا۔ ٹیکسی اسٹارٹ ہوئی اور مختلف بازاروں سے ہوتی ہوئی فورجٹ اسٹریٹ کی ساتھ والی گلی میں داخل ہوئی یہ گلی ایک پہاڑی پر تھی۔ بہت اونچان تھی۔ ڈرائیور نے گاڑی کو فرسٹ گیئر میں ڈالا۔ حنیف کو ایسا محسوس ہوا کہ راستے میں ٹیکسی رک کر واپس چلنا شروع کردیگی۔ مگر ایسا نہ ہوا دلال نے ڈرائیور کو اونچان کے عین آخری سرے پر جہاں چوک سا بنا تھا رکنے کے لیے کہا۔ حنیف کبھی اس طرف نہیں آیا تھا۔ اونچی پہاڑی تھی جس کے دائیں طرف ایک دم ڈھلان تھی۔ جس بلڈنگ میں دلال داخل ہوا اس کی طرف دومنزلیں تھیں حالانکہ دوسری طرف کی بلڈنگ سب کی سب چار منزلہ تھیں۔ حنیف کو بعد میں معلوم ہوا کہ ڈھلان کے باعث اس بلڈنگ کی تین منزلیں نیچے تھیں جہاں لفٹ جاتی تھی۔ شہاب اور حنیف دونوں خاموش بیٹھے رہے۔ انھوں نے کوئی بات نہ کی۔ راستے میں دلال نے اس لڑکی کی بہت تعریف کی تھی جس کو لانے وہ اس بلڈنگ میں گیا تھا۔ اس نے کہا تھا

’’بڑے اچھے خاندان کی لڑکی ہے۔ اسپیشل طور پر آپ کے لیے نکال رہا ہوں۔ ‘‘

دونوں سوچ رہے تھے یہ لڑکی کیسی ہو گی جو اسپیشل طور پر نکالی جارہی ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد دلال نمودار ہوا وہ اکیلا تھا۔ ڈرائیور سے اس نے کہا

’’گاڑی واپس کرو‘‘

یہ کہہ کر وہ اگلی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ گاڑی ایک چکر لے کر مڑی۔ تین چار بلڈنگ چھوڑ کر دلال نے ڈرائیور سے کہا

’’روک لو‘‘

پھر حنیف سے مخاطب ہوا

’’آرہی ہے۔ پوچھ رہی تھی کیسے آدمی ہیں، میں نے کہا نمبر ون‘‘

دس پندرہ منٹ کے بعد ایک دم ٹیکسی کا دروازہ کھلا۔ اور ایک عورت حنیف کے ساتھ بیٹھ گئی۔ رات کا وقت تھا۔ گلی میں روشنی کم تھی۔ اس لیے شہاب اور حنیف دونوں اس کو اچھی طرح نہ دیکھ سکے۔ سیٹ پر بیٹھتے ہی اس نے کہا

’’چلو‘‘

ٹیکسی تیزی سے نیچے اترنے لگی۔ حنیف کے پاس کوئی ایسی جگہ نہ تھی جہاں کوئی معاملہ ہوسکے چنانچہ جیسا طے پایا تھا۔ وہ ڈاکٹر خاں صاحب کے ہاں چلے گئے وہ ملٹری ہاسپیٹل میں متعین تھا اور اس کو وہیں دو کمرے ملے ہوئے تھے۔ شہاب نے بمبئی آتے ہی اس کو فون کردیا تھا کہ وہ حنیف کے ساتھ رات کو اسکے پاس آئے گا اور معاملہ ساتھ ہو گا، چنانچہ ٹیکسی ملٹری ہسپتال میں پہنچی۔ دلال سو روپیہ لے کر گرانٹ روڈ پر اتر گیا۔ راستے میں بھی شہاب اور حنیف اس عورت کو اچھی طرح نہ دیکھ سکے۔ کوئی خاص باتیں بھی نہ ہوئیں۔ شہاب نے جب اس سے اپنے ٹھیٹ حیدر آبادی لہجے میں پوچھا

’’آپ کا اسمِ گرمی‘‘

تو اس عورت نے کہا۔

’’فوبھابائی‘‘

’’فوبھا بائی؟‘‘

حنیف سوچتا رہ گیا کہ یہ کیسا نام ہے۔ ڈاکٹر خان ان کا انتظار کررہا تھا سب سے پہلے شہاب کمرے میں داخل ہوا۔ دونوں گلے ملے اور خواب ایک دوسرے کو گالیاں دیں۔ ڈاکٹر خان نے جب ایک جوان عورت کو دروازے میں دیکھا تو ایک دم خاموش ہو گیا۔

’’آئیے آئیے‘‘

اس نے اپنے سینے پر ہاتھ ر کھا۔

’’ڈاکٹر خان۔ آپ؟‘‘

اُس نے شہاب کی طرف دیکھا۔ شہاب نے اس عورت کی طرف دیکھا۔ عورت نے کہا

’’فوبھا بائی‘‘

ڈاکٹر خان نے بڑھ کر اس سے ہاتھ ملایا

’’آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔ ‘‘

فوبھا بائی مسکرائی

’’مجھے بھی خُفی ہوئی۔ ‘‘

شہاب اور حنیف نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ ڈاکٹر خان نے دروازہ بند کردیا اور اپنے دوستوں سے کہا

’’آپ دوسرے کمرے میں چلے جائیے۔ مجھے کچھ کام کرنا ہے۔ ‘‘

شہاب نے جب فوبھا بائی سے کہا

’’چلیے تو اس نے ڈاکٹر خان کا ہاتھ پکڑ لیا، نہیں آپ بھی تشریف لائیے‘‘

’’آپ تشریف لے چلیے میں آتا ہوں‘‘

یہ کہہ کر ڈاکٹر خان نے اپنا ہاتھ چُھڑا لیا۔ شہاب اور حنیف فوبھا بائی کو اندر لے گئے۔ تھوڑی دیر گفتگو ہوئی تو اس کو معلوم ہوا کہ اسکی زبان موٹی تھی۔ وہ شین اور سین ادا نہیں کرسکتی تھی۔ اس کے بدلے اس کے منہ سے فے نکلتی تھی۔ اس کا نام اس لحاظ سے شوبھا بائی تھا۔ لیکن کچھ دیر اور باتیں کرنے کے بعد ان کو پتہ چلا کہ شوبھا اس کا اصلی نام نہیں تھا۔ وہ مسلمان تھی جے پور اس کا وطن تھا جہاں سے وہ چار سال ہوئے بھاگ کر بمبئی چلی آئی تھی۔ اس سے زیادہ اس نے اپنے حالات نہ بتائے۔ معمولی شکل و صورت تھی۔ آنکھیں بڑی نہیں تھیں۔ ناک بھی خوش وضع تھی۔ بالائی ہونٹ کے عین درمیان ایک چھوٹے سے زخم کا نشان تھا۔ جب وہ بات کرتی تو یہ نشان تھوڑا سا پھیل جاتا۔ گلے میں اس نے جڑاؤ نکلس پہنا ہواتھا۔ دونوں ہاتھوں میں سونے کی چوڑیاں تھیں۔ بہت ہی باتونی عورت تھی۔ بیٹھتے ہی اس نے ادھر ادھر کی باتیں شروع کردیں۔ حنیف اور شہاب صرف ہوں ہاں کرتے رہے۔ پھر اس نے ان کے بارے میں پوچھنا شروع کیا کہ وہ کیا کرتے ہیں، کہاں رہتے ہیں، کیا عمر ہے، فادی فدہ ہیں یا غیر فادی فدہ۔ حنیف اتنا دبلا کیوں ہے۔ فہاب نے دو مصنوعی دانت کیوں لگوائے ہیں۔ گوفت خورہ تھا تو اس کا علاج ڈاکٹر خاں سے کیوں نہ کرایا۔ فرماتا کیوں ہے۔ فعر کیوں نہیں گاتا۔ شہاب نے اسے کچھ شعر سنائے۔ شوبھا نے بڑے زوروں کی داد دی۔ شہاب نے یہ شعر سنایا ؂ کھیتوں کو دے لو پانی اب بہہ رہی ہے گنگا کچھ کر لو نوجوانو اٹھتی جوانیاں ہیں تو شوبھا اچھل پڑی۔

’’واہ جناب صاحب واہ۔ بہت اچھا فعر ہے۔ اٹھتی جوانیاں ہیں۔ واہ وا!‘‘

اس کے بعد شوبھا نے بے شمار شعر سنائے، بالکل بے جوڑے بے تکے۔ جن کا سر تھا نہ پیر۔ شعر سنا کر اس نے شہاب سے کہا

’’فہاب صاحب۔ مزا آیا آپ کو‘‘

شہاب نے جواب دیا۔

’’بہت‘‘

شوبھا نے سرما کر کہا

’’یہ فعر میرے تھے۔ مجھے فاعری کا بہت فوق ہے‘‘

شہاب اور حنیف دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور مسکرا دیے۔ اس کے بعد صرف ایک صحیح شعر شوبھا نے سنایا ؂ کبھی تو مرے درد دل کی خبر لے مرے درد سے آفنا ہونے الے یہ شعر حنیف کئی بار سن چکا تھا اور شاید پڑھ بھی چکا تھا۔ مگر شوبھا نے کہا۔

’’حنیف صاحب یہ فعر بھی میرا ہے۔ ‘‘

حنیف نے خوب داد دی۔

’’مافااللہ آپ تو کمال کرتی ہیں‘‘

شوبھا چونکی۔

’’معاف کیجیے گا، میری زبان میں تو کچھ خرابی ہے لیکن آپ نے کیوں مافا اللہ کے بدلے مافا اللہ کہا‘‘

حنیف اور شہاب دونوں بے اختیار ہنس پڑے۔ شوبھا بھی ہنسنے لگی۔ اتنے میں ڈاکٹر خان آگیا۔ اس نے اندر داخل ہوتے ہی شوبھا سے کہا

’’کیوں جناب اتنی ہنسی کس بات پر آرہی ہے۔ ‘‘

زیادہ ہنسنے کے باعث شوبھا کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔ اس نے رومال سے ان کو پونچھا اور ڈاکٹر خان سے کہا

’’ایک بات ایسی ہوئی کہ ہم سب ہنف پڑے‘‘

ڈاکٹر خان نے بھی ہنسنا شروع کردیا۔ شوبھا نے اس سے کہا

’’آئیے بیٹھئے‘‘

چارپائی کے ایک طرف سرک کر اس نے ڈاکٹر خان کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے پاس بٹھا لیا۔ پھر شعر و شاعری ہو گئی۔ شوبھا نے لمبی لمبی چار بے تکی غزلیں سنائیں۔ سب نے داد دی، شہاب اُکتا گیا۔ وہ معاملہ چاہتا تھا۔ حنیف اسکے بدلے ہوئے تیور دیکھ کر بھانپ گیا۔ چنانچہ اس نے شہاب سے کہا

’’اچھا بھئی میں رخصت چاہتا ہوں انشاء اللہ کل صبح ملاقات ہو گی۔ ‘‘

وہ یہ کہہ کرکرسی پر سے اٹھا مگر شوبھا نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا

’’نہیں، آپ نہیں جاسکتے۔ ‘‘

حنیف نے جواب دیا۔

’’میں معذرت چاہتا ہوں۔ بیوی میرا انتظار کررہی ہو گی‘‘

’’اوہ!۔ لیکن نہیں۔ آپ تھوڑی دیر اور ضرور بیٹھیں۔ ابھی تو صرف گیارہ بجے ہیں‘‘

شوبھا نے اصرار کیا۔ شہاب نے ایک جمائی لی

’’بہت وقت ہو گیا ہے‘‘

شوبھا نے مسکرا کر شہاب کی طرف دیکھا

’’میں فاری رات آپ کے پاف ہوں‘‘

شہاب کا تکدر دور ہو گیا۔ حنیف تھوڑی دیر بیٹھا، پھر رخصت لی اور چلا گیا۔ دوسرے روز صبح نو بجے کے قریب شہاب آیا اوررات کی بات سنانے لگا، عجیب و غریب تھی تھی یہ فوبھا بائی۔ پیٹ پر بالشت پھر آپریشن کا نشان تھا۔ کہتی تھی کہ وہ ایک لکڑی والے سیٹھ کی داشتہ تھی اس نے ایک فلم کمپنی کھول دی تھی اسکے چیکوں پر دستخط شوبھا ہی کے ہوتے تھے۔ موٹر تھی جو اب تک موجود ہے۔ نوکر چاکر ہے۔ لکڑی والا سیٹھ اس سے بے حد محبت کرتا تھا۔ اس کے پیٹ کا آپریشن ہوا تو اس نے ایک ہزار روپیہ یتیم خانے کو دیا۔ ‘‘

حنیف نے پوچھا۔

’’یہ لکڑی والا سیٹھ اب کہاں ہے۔ ‘‘

شہاب نے جواب دیا

’’دوسری دنیا میں ٹال کھولے بیٹھا ہے۔ عورت خوب تھی یہ فوبھا بائی۔ میں دوسرے کمرے میں سو گیا۔ تو وہ ڈا کٹر خان کے ساتھ لیٹ گئی۔ صبح پانچ بجے خان نے اس سے کہا کہ اب جاؤ۔ شوبھانے کہا

’’اچھا میں جاتی ہوں، لیکن یہ میرے زیور تم اپنے پاس رکھ لو۔ میں اکیلی ان کے ساتھ باہر نہیں نکلتی۔ ‘‘

حنیف نے پوچھا

’’ڈاکٹر نے زیور رکھ لیے؟‘‘

شہاب نے سر ہلایا

’’ہاں۔ پہلے تو اس کا خیال تھا کہ نقلی ہیں۔ مگر دن کی روشنی میں جب اس نے دیکھا تو اصلی تھے۔ ‘‘

’’اور وہ چلی گئی۔ ‘‘

’’ہاں چلی گئی۔ یہ کہہ کر وہ کسی روز آکر اپنے زیور واپس لے جائے گی۔ ‘‘

’’یہ تم نے بڑے اچنبھے کی بات سنائی۔ ‘‘

’’خدا کی قسم حقیقت ہے‘‘

شہاب نے سگریٹ سلگایا

’’اسی لیے تو میں نے کہا یہ فوبھا بائی عجیب و غریب عورت ہے۔ ‘‘

حنیف نے پوچھا

’’ویسے کیسی عورت تھی؟‘‘

شہاب جھینپ سا گیا۔

’’بھئی مجھے ایسے معاملوں کا کچھ پتہ نہیں۔ یہ تم خان سے پوچھنا۔ وہ اکسپرٹ ہے۔ ‘‘

شام کودونوں خان سے ملے۔ زیور اس کے پاس محفوظ تھے۔ شوبھا لینے نہیں آئی تھی۔ خان نے بتایا

’’میرا خیال ہے شوبھا، کسی دماغی صدمے کا شکار ہے‘‘

شہاب نے پوچھا

’’تمہارا مطلب ہے پاگل ہے؟‘‘

خان نے کہا

’’نہیں۔ پاگل نہیں ہے لیکن اس کا دماغ یقیناً نورمل نہیں ہے۔ بے حد مخلص عورت ہے۔ ایک لڑکا ہے اس کا جے پور میں اس کو برابر دو سو روپے ماہوار بھیجتی ہے۔ ہر تیسرے مہینے اس سے ملنے جاتی ہے۔ جے پور پہنچتے ہی برقع اوڑھ لیتی ہے وہاں اسے پردہ کرنا پڑتا ہے۔ ‘‘

حنیف نے کہا۔

’’یہ تم نے کیسے سمجھا کہ اس کا دماغ نورمل نہیں۔ ‘‘

خان نے جواب دیا۔

’’بھئی میرا خیال ہے۔ نورمل عورت ہوتی تو اپنے ڈیڑھ دو ہزار کے زیور ایک اجنبی کے پاس کیوں چھوڑ جاتی۔ اسکے علاوہ اس کو مورفیا کے انجکشن لینے کی عادت ہے‘‘

شہاب نے پوچھا

’’نشہ ہوتا ہے ایک قسم کا؟‘‘

خان نے جواب۔

’’بہت ہی خطرناک قسم کا۔ شراب سے بھی بدتر!‘‘

’’اسکی عادت کیسے پڑی اسے‘‘

شہاب نے میز پر سے پیپر ویٹ اٹھا کر دوات پر رکھ دیا۔

’’آپریشن ہوا تو بگڑ گیا۔ درد شدت کا تھا۔ اس کا احساس کم کرنے کے لیے ڈاکٹر مورفیا کے انجکشن دیتے رہے۔ تقریباً دو مہینے تک۔ بس عادت ہو گئی۔ ‘‘

ڈاکٹر خان نے مورفیا اور اس کے خطرناک اثرات پر ایک لیکچرشروع کردیا۔ ایک ہفتہ ہو گیا۔ شوبھا نہ آئی۔ شہاب واپس حیدر آباد چلا گیا۔ ڈاکٹر خان زیور لے کر حنیف کے پاس آیا کہ چلو دے آئیں۔ دونوں نے گرانٹ روڈ کے ناکے پر اُس دلال کو بہت تلاش کیا جو شہاب اور حنیف کو شوبھا کے مکان کے پاس لے گیا تھا مگر وہ نہ ملا۔ حنیف کو اتنا معلوم تھا کہ گلی کون سی ہے اور بلڈنگ کون سی ہے۔ ڈاکٹر خان نے کہا

’’ٹھیک ہے۔ ہم پتا لگا لیں گے۔ یہ زیور میں اپنے پاس نہیں رکھنا چاہتا۔ چوری ہو گئے تو کیا کروں گا۔ وہ تو عجیب بے پروا عورت ہے‘‘

دونوں ٹیکسی میں وہاں پہنچ گئے۔ ڈاکٹر خان کو حنیف نے بلڈنگ بتا دی اور کہا

’’میں نہیں جاؤں گی بھائی، تم تلاش کرو اسے‘‘

ڈاکٹر خان اکیلا اس بلڈنگ میں داخل ہوا تو ایک دو آدمیوں سے پوچھا مگر شوبھا کا کچھ پتہ نہ چلا نیچے سے لفٹ اوپر کو آئی تو ہوٹل کا چھوکرا پیالیاں اٹھائے باہر نکلا خان نے اس سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ

’’سب سے نچلی منزل کے آخری فلیٹ پر چلے جاؤ۔ ‘‘

لفٹ کے ذریعہ سے خان نیچے پہنچا آخری فلیٹ کی گھنٹی بجائی۔ تھوڑی دیر کے بعد ایک بڑھیا عورت نے دروازہ کھولا۔ خان نے اس سے پوچھا

’’شوبھا بائی ہیں؟‘‘

بڑھا نے جواب دیا۔

’’ہاں ہیں۔ ‘‘

خان نے کہا

’’جاؤ اس سے کہوڈاکٹر خان آئے ہیں۔ ‘‘

اندر سے شوبھا کی آواز آئی۔

’’آئیے ڈاکٹر صاحب آئیے‘‘

ڈاکٹر خان اندر داخل ہوا۔ چھوٹا سا ڈرائنگ روم تھا۔ چمکیلے فرنیچرسے بھرا ہوا۔ فرش پر قالین بچھے ہوئے تھے۔ بڑھیا دوسرے کمرے میں چلی گئی۔ فوراً ہی شوبھا کی آواز آئی

’’ڈاکٹر صاحب اندر آجائیے۔ میں باہر نہیں آسکتی۔ ‘‘

ڈاکٹر خان دوسرے کمرے میں داخل ہوا۔ شوبھا چادر اوڑھے لیٹی تھی۔ ان نے اس سے پوچھا

’’کیا بات ہے‘‘

شوبھا مسکرائی

’’کچھ نہیں ڈاکٹر صاحب، تیل مالش کرا رہی تھی‘‘

ڈاکٹر پلنگ کے پاس کرسی پر بیٹھ گیا۔ جیب سے رومال نکالا جس میں زیور بندھے تھے کھول کر اسے پلنگ پر رکھ دیا

’’کب تک میں تمہارے ان زیوروں کی حفاظت کرتا رہوں گا۔ تم ایسی گئیں کہ پھر اُدھر کا رخ تک نہ کیا‘‘

شوبھا ہنسی،

’’مجھے بہت کام تھا۔ لیکن آپ نے کیوں تکلیف کی میں خود آکے لے جاتی‘‘

پھر اس نے بڑھیا سے کہا

’’چائے منگاؤ، ڈاکٹر کے لیے‘‘

ڈاکٹر نے کہا

’’نہیں مجھے اب جانا ہے۔ ‘‘

’’کہاں؟‘‘

’’ہسپتال‘‘

’’ٹیکسی میں آئے ہیں آپ؟‘‘

’’ہاں‘‘

’’باہر کھڑی ہے‘‘

ڈاکٹر نے سر کے اشارے سے ہاں کی۔

’’تو آپ چلیے میں آتی ہوں

’’یہ کہہ کر اس نے زیور تکیے کے نیچے رکھ دیے اور رومال ڈاکٹر خان کو دیدیا۔ ڈاکٹر خان حنیف کے پاس پہنچا تو اس نے پوچھا

’’مل گئی؟‘‘

ڈاکٹر مسکرایا

’’مل گئی۔ آرہی ہے!‘‘

پندرہ بیس منٹ کے بعد شوبھا نے تیزی سے ٹیکسی کا دروازہ کھولا اور اندر بیٹھ گئی۔ ڈاکٹر خان کے کمرے میں دیر تک فضول قسم کی شعر بازی ہوتی رہی۔ ہجرو وصال اور عشق و محبت کے بے شمار عامیانہ اشعار شوبھا نے سنائے اور انھیں اپنے نام سے منسوب کیا۔ ڈاکٹر خان اور حنیف نے خوب داد دی۔ شوبھا بہت خوش ہوئی اور کہنے لگی

’’یعقوب فیٹھ گھنٹوں مجھ سے فعر فنا کرتے تھے۔ ‘‘

یعقوب فیٹھ وہ لکڑی والا سیٹھ تھا جس نے شوبھا کے لیے ایک فلم کمپنی کھولی تھی۔ ڈاکٹر خان اور حنیف ہنس پڑے۔ شوبھا بھی ہنسنے لگی۔ ڈاکٹر خان اور شوبھا کی دوستی ہو گئی۔ شر وع شروع میں تو وہ ہفتے میں دو بار آتی تھی۔ اب قریب قریب ہر روز آنے لگی۔ رات آتی۔ صبح سویرے چلی جاتی۔ شام کو بلاناغہ مورفیا کا انجکشن لیتی۔ ڈاکٹر انجکشن لگانے سے پہلے اس کے بازو پر بے حس کرنے والی دوا لگا دیتا تھا یہ ٹھنڈی ٹھنڈی چیز اسے بہت پسند تھی۔ تین مہینے گزرے تو شوبھا جے پور جانے کے لیے تیار ہوئی۔ موٹر اپنی ڈاکٹر خان کے حوالے کردی کہ وہ اس کا دھیان رکھے۔ ڈاکٹر اسے اسٹیشن پر چھوڑنے گیا۔ دیر تک گاڑی میں ایک دوسرے سے باتیں کرتے رہے۔ جب گاڑی چلنے لگی تو شوبھا نے ایک دم ڈاکٹر کا ہاتھ پکڑ کر کہا

’’مجھے کیوں ایک دم ایفا لگا ہے کہ کچھ ہونے والا ہے۔ ‘‘

ڈاکٹر خان نے کہا۔

’’کیا ہونے والا ہے۔ ‘‘

شوبھا کے چہرے سے وحشت برسنے لگی

’’معلوم نہیں میرا دل بیٹھا جارہا ہے۔ ‘‘

ڈاکٹر خان نے اُسے دم دلاسا دیا گاڑی چل دی۔ دور تک شوبھا کا ہاتھ ہلتا رہا۔ جے پور سے شوبھا کے دو خط آئے جن سے صرف اتنا پتہ چلتا تھا کہ وہ خیریت سے پہنچ گئی ہے۔ جب واپس آئے گی تو اس کے لیے بہت سے تحفے لائے گی۔ اس کے بعد ایک کارڈ آیا جس میں یہ لکھا تھا

’’میری اندھیری زندگی میں صرف ایک دیا تھا وہ کل خدا نے بجھا دیا۔ بھلا ہو اس کا؟‘‘

حنیف نے یہ الفاظ پڑھے تو اسکی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ بھلا ہو اس کا

’’میں بے پناہ غم تھا۔ ‘‘

بہت عرصہ گزر گیا شوبھا کا کوئی خط نہ آیا۔ پورا ایک برس بیت گیا۔ ڈاکٹر خان کو اس کا کوئی پتہ نہ چلا۔ شوبھا اپنی موٹر اس کے حوالے کرگئی تھی۔ اس بلڈنگ میں گیا جس کی سب سے نچلی منزل میں وہ رہا کرتی تھی۔ فلیٹ پر کوئی اور ہی قابض تھا ایک دلال قسم کا آدمی۔ ڈاکٹر خان آخر تھک ہار کر خاموش ہو گیا۔ موٹر اس نے ایک گراج میں رکھوا دی۔ ایک دن حنیف گھبرایا ہوا ہسپتال آیا اس کا چہرہ زرد تھا۔ ڈاکٹر خان کو ڈیوٹی سے ہٹا کر وہ ایک طرف لے گیا اور اس سے کہا

’’میں نے آج شوبھا کو دیکھا۔ ‘‘

ڈاکٹر خان نے حنیف کا بازو پکڑ کر ایک دم پوچھا

’’کہاں؟‘‘

’’چوپاٹی پر۔ میں اسے بالکل نہ پہنچانتا کیونکہ وہ محض ہڈیوں کا ڈھانچہ تھی۔ ‘‘

ڈاکٹر خان کھوکھلی آواز میں بولا۔

’’ہڈیوں کا ڈھانچہ‘‘

حنیف نے سرد آہ بھری

’’شوبھا نہیں تھی اس کا سایہ تھا۔ آنکھیں اندرکو دھنسی ہوئیں۔ بال پریشان اور گرد آلود۔ یوں چلتی تھی کہ اپنے آپ کو گھسیٹ رہی ہے۔ میرے پاس آئی اور کہا

’’مجھے پانچ روپے دو۔ میں نے اسکو نہ پہچانا۔ پوچھا کیا کرو گی پانچ روپے لے کر۔ بولی مورفیا کا ٹیکہ لوں گی۔ ایک دم میں نے غور سے اس کی طرف دیکھا۔ اس کے بالائی ہونٹ پر زخم کا نشان موجود تھا۔ میں چلایا۔

’’شوبھا۔ اس نے تھکی ہوئی ویران آنکھوں سے مجھے دیکھا اور پوچھا، کون ہوتم۔ میں نے کہا حنیف۔ اس نے جواب دیا۔ میں کسی حنیف کو نہیں جانتی۔ میں نے تمہارا ذکر کیا کہ تم نے اسے بہت تلاش کیا، بہت ڈھونڈا۔ یہ سن کر اس کے ہونٹوں پر خفیف سی مسکراہٹ پیدا ہوئی اور کہنے لگی، اس سے کہنا مت ڈھونڈے مجھے۔ میری طرف دیکھو۔ میں اتنی مدت سے اپنا کھویا ہوا لال ڈھونڈتی پھر رہی ہوں۔ یہ ڈھونڈنا بالکل بیکار ہے۔ کچھ نہیں ملتا۔ لاؤ پانچ روپے دو مجھے۔ میں نے اسے پانچ روپے دیے اور کہا، اپنی موٹر تو لے جاؤ ڈاکٹر خان سے

’’وہ قہقہے لگاتی ہوئی چلی گئی۔ ‘‘

خان نے پوچھا

’’کہاں؟‘‘

حنیف نے جواب دیا

’’معلوم نہیں۔ کسی ڈاکٹر کے پاس گئی ہو گی۔ ‘‘

ڈاکٹر خان نے بہت تلاش کیا مگر شوبھا کا کچھ پتہ نہ چلا۔

سعادت حسن منٹو

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں