انصاف پر مبنی معاشرہ چاہتے ہیں تو جھوٹی گواہی کا خاتمہ کرنا ہوگا، چیف جسٹس

چیف جسٹس

کراچی: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا ہے کہ عدلیہ کی آزادی کی طرح پولیس کی آزادی بھی ضروری ہے۔

جسٹس سیکٹر ریفارمز کے عنوان سے منعقدہ تقریب سے خطاب میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ ملک چلانے والوں اور قانون سازوں کو سوچنا ہوگا کہ نظامِ انصاف کیسے بہتر بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد عدلیہ کی طرح پولیس کی آزادی بھی ضروری ہے، قانون کا علم نہ ہونے کے سبب پولیس کے تفتیشی افسران کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، انہیں پیغام دیا ہے کہ عدالتی فیصلوں کا مطالعہ کریں اور چالان میں گواہ کا نام سوچ سمجھ کر ڈالیں کیونکہ اب عدالتوں میں جھوٹی گواہی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ماڈل کورٹس کے ذریعے چند ماہ میں ہزاروں زیر التواء مقدمات نمٹائے جاچکے ہیں اور بہت سے اضلاع ایسے ہیں جہاں قتل اور منشیات کا کوئی کیس زیر سماعت نہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اب کوئی کیس ملتوی نہیں ہوگا، تفتیشی افسر کی عدم موجود گی کی صورت میں اسکائپ یا واٹس ایپ پر کیس چلائے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کی پہلی سپریم کورٹ ہیں جس نے ای کورٹس قائم کیں، جنسی زیادتی کا مسئلہ حل کرنے کیلئے ہر ضلع میں جینڈر بیس وائلنس کورٹ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

(Visited 8 times, 1 visits today)
loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں