عشق رنگ

عشق

انسان جس کی جبلت میں خود پرستی اور دوسرے کو نیچا دکھانا ہے اسی انسان میں کبھی کبھی ایک ایسا لمحہ آتا ہے جب وہ دوسروں کو یا کسی دوسرے انسان کو خود پر ترجیح دیتا ہے…

روز اول سے آج تک کروڑوں انسان اِس کرہ ارض پر اپنے اپنے وقت پر آئے اور مٹی کا حصہ بنتے چلے گئے. روز اول سے جو بھی انسان اِس جہان سنگ خشت میں آیا، اس کی ترجیح اول اپنی ذات کی پرورش تھی. انسان اقتدار، شہرت، دولت اور عروجِ طاقت حاصل کر نے کے لیے لاکھوں انسانوں کو لقمہ اجل بنانے سے بھی گریز نہیں کرتا. انسان کی یہ فطری کمزوری ہے کہ اسے اپنے علا وہ کوئی اور نظر ہی نہیں آتا….

اپنی تسکین کے لیے وہ دوسرے انسانوں کو کیڑے مکوڑے کی طرح روندتا آیا ہے اور قیا مت تک یہ سلسلہ اِسی طرح رواں دواں رہے گا. لیکن مادیت پرستی خو دپر ستی کے اِس جنون میں غرق انسانوں کے درمیان کوئی ایسا واقعہ بھی تواتر سے ہو تا آرہا ہے جب انسان کسی دوسرے کو خود پر ترجیح دیتا ہے. کسی کے آبروئے چشم پر اپنی زندگی تک ایک لمحے میں سوچے سمجھے بغیر وار دیتا ہے.
انسان جس کی جبلت میں خود پرستی اور دوسرے کو نیچا دکھانا ہے اسی انسان میں کبھی کبھی ایک ایسا لمحہ آتا ہے جب وہ دوسروں کو یا کسی دوسرے انسان کو خود پر ترجیح دیتا ہے، کسی دوسرے کی خو شی آرام کے لیے وہ اپنی خو شی آرام تیاگ دیتا ہے. وہ اُس کسی ایک کے ایک ادنی سے اشارے پر یا کسی کو پا نے کے لیے اپنا مال و دولت جا ئیداد حتی کہ تخت با دشاہت تک کو جوتے کی نوک پر رکھ کر ہوا میں اڑا دیتا ہے یہ جذبہ کبھی کبھی یا خاص موقعوں پر بیدار ہوتا ہے.
یہ جذبہ چنگاری بن کر ہر انسان میں کہیں نہ کہیں موجود ہوتا ہے اور جب یہی چنگاری سلگ اٹھتی ہے تو یہ چنگاری آگ کے بھا نبھڑ میں تبدیل ہو کر نفس کے رزائل کو ایک لمحے میں راکھ کا ڈھیر بنا دیتی ہے. اِس کا ئنات کی تخلیق میں بھی یہ جذبہ تھا اگر خا لق کا ئنات نے اِس خوبصورت ترین گلیکسی کو بنا یا ہے تو اِس کے پیچھے بھی یہی جذبہ ہے اِس جذبے کو اگر انسانوں سے نکال دیا جائے تو یقینا انسان جا نور کا روپ دھا ر لے۔ خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جن کے اندر خالق کا ئنات اِس جذبے کو زیا دہ مقدار میں رکھ دیتا ہے اِس جذبے جنون کا نام ہے… عشق!!!

بندہ اور بندگی

تاریخ کے اوراق لاکھوں ایسے واقعات سے بھرے پڑے ہیں جب عشق کے مظاہر کو دیکھ کر اہل دنیا عالم حیرت میں غرق ہو گئے. عشق اور سوزعشق سے دنیا کی کوئی چیز خالی نہیں ہے. یہ ہو بھی نہیں سکتا کیونکہ دنیا کی تخلیق بھی اِسی جذبے عشق ہی کے بھر پور جذبے کی کرشمہ سازی ہے عشق کے معنی کسی چیز کو نہا یت دوست رکھنا، یا محبت جب حد اعتدال سے تجاوز کر جائے تو اسے عشق کا نام دیا جاتا ہے۔
حکیموں کی نظر میں عشق ایک مرض ہے جنون کی قسم ہے جو کسی حسین شے کو دیکھنے سے پیدا ہوتا ہے یہ لفظ عشق لفظ عشقہ سے بھی منسوب کیا جا تا ہے یہ جس درخت سے لپٹی ہے اس کو خشک بے جان کر دیتی ہے یہی حالت عاشق کی بھی ہو تی ہے جس کو ہوتا ہے اس کو خشک اور ویران کر دیتا ہے.

loading...

ابو العاس احمد سے جب عشق و محبت کے با رے میں پوچھا گیا کہ محبت اور عشق دونوں میں سے کون زیادہ قابل تعریف ہے تو انہوں نے کہا محبت کیوں عشق میں انسان حد اعتدال سے تجاوز کر جاتا ہے امام غزالی فرماتے ہیں محبت نام ہے پسندیدہ چیز کی طرف میلان طبع کا اگر یہ میلان شدت اختیار کر جا ئے تو اسے عشق کہتے ہیں حضرت با یزید بسطامی محبت کے با رے میں یوں فرماتے ہیں محبت یہ ہے کہ محبوب پر اپنی ہر چیز کو قربان کر دیا جا ئے اور اپنے لیے کو ئی چیز با قی نہ رہے اور کہتے ہیں دل سے محبوب کے سوا سب کچھ فنا کر دینے کا نام محبت ہے اور یہی کمال ہے کہ دل میں غیر کے آنے اور غیر کی محبت رہنے کی جگہ ہی با قی نہ رہے اور عاشقوں کے سردار منصور حلاج کو جب قید میں اٹھا رہ دن گزر گئے تو جناب شبلی نے ان کے پاس جا کر پو چھا اے منصور محبت کیا ہے تو منصور نے جواب دیا اِس سوال کا جواب آج نہیں تمہیں کل دوں گا اور اگلے دن جب منصور کو قید سے نکال کر مقتل کی طرف لے جا رہے تھے تو منصور نے شبلی کو دیکھ کر کہا محبت کی ابتدا جلنا اور انتہا قتل ہو جا نا ہے.
تصوف میں عشق کو بنیا دی مقام حاصل ہے ڈاکٹر وزیر آغا لکھتے ہیں تصوف میں پہلا درجہ حسن کے ظہور سے متعلق سے عام زندگی میں بھی بقائے نسل کا سلسلہ اِسی جذبے کا مرہون منت ہے جو محبوب کے سراپا کو دیکھ کر عاشق کے دل میں کروٹ لیتا ہے محبوب کی کشش محض جسم کی حد تک رہے تو جنبی کشش کہلا ئے گی اور اگر اِس کی تہذیب ہو جا ئے تو محبت کی لطا فت میں تبدیل ہو جا ئے گی بہت سارے اہل دانش نے عشق مجازی کو عشق حقیقی کا زینہ بھی قرار دیا ہے.
یعنی عشقِ حقیقی سے پہلے عشق مجا زی کی لذتوں سے بھی گزرنا ہو گا عشقِ مجا زی بہت حساس راستہ ہے قدم قدم پر راہنما ئی کی ضرورت ہو تی ہے تا کہ با طن کا آئینہ بے غبا ررہے اور سالک دائمی مسرتوں سے بھی ہمکنار ہو جائے اِس خطرے کے پیش ِ نظر اہل حق نے محبت کو دو قسموں میں تقسیم کیا ہے ایک جنس سے محبت ایسی محبت نفس پرستی بھی کہلا تی ہے اِس وادی میں طالب محبوب کی ذات کا اسیر ہو جا تا ہے دوسری قسم ایک جنس کی محبت کسی غیر جنس کے ساتھ ہو اِس محبت میں اپنے محبوب کی کسی ادا پر سکو ن وقرار حاصل کر نا ہو تا ہے تاکہ وہ آرام و راحت پا ئے.
عاشقوں کے سرتاج جلال الدین رومی نے عشق مجا زی کو اپنی حکا یت میں اِسطرح بیان کیا ہے۔عارضی حسن معشوق بنا نے کے قابل نہیں ہے عشق اِسی ذات سے ہونا چاہیے جو لا زوال انسان کی ابتدا وہی ہے اور انتہا بھی وہی ہے اللہ ہی شروع میں پیدا کر تا ہے پھر وہی دوبا رہ پیدا کر ے گا پھر کم اس کے پاس لو ٹ کر جا ئے گا اللہ کے وصل کے بعد پھر کسی معشوق کا منتظر نہ بن وہی ظاہر ہے وہی باطن عاشق خدا احوال پر حاکم ہو تا احوال کا محکوم نہیں ہو تا جو شخص احوال کے تابع ہے وہ کامل نہیں فنا کے درجے پر پہنچ کر احوال عاشق کے تا بع ہو جا تے ہیں جس حال کی اس کو خوا ہش ہو وہ پیدا ہو جا ئے گا وہ چاہے تو موت جیسی تلخ چیز بھی شیریں بن جا تی ہے اور کانٹے پھول بن جاتے ہیں عشق کیسا جذبہ ہے کہ جب تیر بن کے کسی کے دل میں پیوست ہو جا ئے تو محبت جب اپنے کمال کو پہنچ جا ئے تو عاشق محبوب کا قیدی بن جاتا ہے اب تصور محبوب ذکر محبوب کے بغیر اس کا کہیں بھی دل نہیں لگتا پھر محبوب کے چہرے پر تبسم دیکھنے کے لیے وہ ہر طرح کی قربا نی کے لیے تیا ر ہو جا تا ہے عزت شہرت مال و دولت اپنی جان تک محبوب کے قدموں میں نثار کر نے کو تیا ررہتا ہے جس طرح حضرت ذلیخا نے حضرت یو سف کے عشق میں اپنا حسن جوانی مال و دولت سب قربان کر دی ذلیخا کے پاس ستر اونٹوں کے وزن کے برابر ہیرے جو اہرات سونے چاندی تھا یہ سارا خزانہ عشقِ یو سفی میں نثار کر دیا جب بھی کو ئی آکر اسے حضرت یو سف کی اطلاع دیتا تو وہ سونے چاندی جواہرات سے نواز دیتی یہاں تک کہ کچھ بھی باقی نہ رہا اس نے ہر چیز کو یوسف کہہ کر پکا رنا شروع کردیا تھا اور حضرت یوسف کے علا وہ سب کچھ بھول گئی اسے آسمان یہ چاند ستاروں کی جگہ بھی حضرت یو سف ہی نظر آتے بلا شبہ کائنات میں ہر طرف عشق و محبت کے جلو ے بکھرے ہو ئے ہیں کائنات کی ہر چیز میں عشق کا نور نظر آتا ہے یہ نظر کیوں نہ آئے کیونکہ خالقِ کائنات نے اپنے محبوب کے لیے اِس جہاں رنگ و بو نظاروں سے سجا دیا اِس کا ئنات کی تخلیق کے پیچھے بھی یہی جذبہ عشق یہی تو تھا جب خدا نے اپنے محبوب کے کائنات میں رنگ و نور کے کروڑوں جلوے ہر طرف بکھیر دیے ۔

(Visited 25 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں