حجامہ: سنت کے نام پر ایک اور ڈرامہ

حجامہ کی اہمیت

سلیم جاوید

پاکستان کے ہرچھوٹے بڑے شہر میں ”حجامہ کلینک“ رواج پکڑ رہے ہیں۔ بات کاروبار تک ہوتی تو جہاں میڈیکل کے نام پر کئی اور ناٹک کھیلے جا رہے ہیں، وہاں یہ بھی سہی۔ چونکہ اسے تقدس کا رنگ دے کرعوام کو ٹریپ کیا جارہا ہے تو اس پہ لکھنا ضروری معلوم ہوا۔ مضمون ذرا طویل ہے، اس لئے اپنی معروضات کا خلاصہ شروع میں عرض کر دیتا ہوں۔

1۔ پہلی بات یہ کہ سائنس یا دین میں ”طب نبوی“ نامی کوئی ٹرمینالوجی نہیں ہے۔ یہ اصطلاح، ہمارے خوش ذوق احباب کی ایجاد ہے۔ جناب نبی کریم، انسانوں کی ہدایت کے لئے مبعوث ہوئے تھے نہ کہ ڈاکٹری کرنے کے لئے۔
2۔ بر تقاضائے بشریت، نبی کریم جب کبھی بیمار پڑے تو اپنے زمانے میں مروج بہترین طریقہ علاج اختیار کیا۔ پس اپنی بیماری کا، اپنے زمانے کے لحاظ سے بروقت اور جدید ترین علاج کرانا ہی سنت عمل ہے۔

3۔ شہد اور کلونجی سمیت کسی بھی چیز کو اسلام نے بطور دواء استعمال کرنے کا ”حکم“ نہیں دیا۔ قرآن وحدیث میں، دیگر فنون کی طرح، فنِ طب کے ماہرین کو بھی چند اشارے دیے گئے مگراسے حجت نہیں بنایا۔

4۔ آج سے پندرہ سال قبل بڑے زور وشور سے حجامہ والی ”سنت“ کو پروموٹ کیا گیا۔ (شروع میں اس کے لئے صرف 4 احادیث اور ابتک ماشاء اللہ 70 احادیث دریافت ہو چکی ہیں) ۔ اس بارے ہمارا موقف یہی ہے کہ یہ سب پیٹ کا دھندہ ہے۔

5۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ حجامہ کے کاروبار کو ریگولیٹ کیا جائے یعنی اس کی طبی گریڈیشن اور رجسٹریشن کی جائے۔

اب مذکورہ بالا پانچ نکات بارے تٖفصیل پیش کرنے قبل ذرا اپنی ذاتی کارگذاری عرض کردوں (یہ بتانے کے لئے کہ خاکسار پہلے ”حجامہ“ کا حامی کیوں تھا؟ اور اب ناقد کیوں ہے؟) ۔

میں نے ابتک کل تین مرتبہ حجامہ کروایا ہے۔

کسی زمانے میں شیشے کا گلاس گرم کرکے اس کو جلد پر رکھا جاتا، وہ چپک جاتا جس سے کھال کے اس حصے تک خون کی سپلائی رک جاتی تھی۔ جب وہ حصہ سن ہو جاتا تو گلاس ہٹا کر، تیز چاقو سے ہلکے کٹ لگا کر، کچھ خون نکال دیا جاتا۔ (چائنہ والوں نے ”سنت“ کی فکر کرتے ہوئے اس کے لئے پلاسٹک کے کپ اور پمپ بنادیئے ہیں۔ اب یہ کپ جلد پہ رکھ کر، پمپ سے ہوا باہر کو کھینچی جاتی ہے جس سے وہ حصہ سن ہوجاتا ہے اور بلیڈ سے کٹ لگائے جاتے ہیں) ۔

پندرہ سال قبل ہمارے محلہ (عزیزیہ۔ جدہ) میں ہمارے ایک پاکستانی تبلیغی دوست (جو کہ انجنئر ہیں) ، انہوں نے سنتِ حجامہ بارے مہم چلائی۔ (شروع میں احیائے سنت کی خاطر ”فری حجامہ“ کیا کرتے تھے، اب ”تجارت کی سنت“ کی نیت ہے اورخاصی ”برکت“ ہے) ۔ ان کے گھرمیں ”تلبینہ“ والی سنت کے مٹکے بھرے ہوتے تھے۔ تواضع کے لئے بھی کلونجی کی پھکی اور شہد ملا ستو کا شربت دستیاب تھا (وہ بھی لکڑی کے ”سنت“ پیالے میں)۔ جَو کی روٹی کے ساتھ کدو اوراونٹ کا گوشت تناول فرماتے۔ غرض قرن اول کا دسترخوان تھا۔ (دعا فرمائیں خدا انکوصحت دے کہ آج کل گوناگوں امراض کا شکار ہیں) ۔

حجامہ بارے، خاکسار کو اس وقت بھی شرح صدر نہیں تھا مگر اپنے تجربہ کے لئے ان سے حجامہ کروایا تھا۔ (ان کا ہاتھ ”بھاری“ ہے تو بلیڈ مارتے ہوئے، اکثر ”مریضوں“ کی چیخیں نکلوا دیا کرتے ہیں) ۔

چونکہ حجامہ والی جگہ پہ خون کی گردش رک چکی ہوتی ہے اور پریشر کی وجہ سے اس کی رنگت قدرے سیاہ ہوجاتی ہے تو موصوف، اپنے مریضون کو خون کی رنگت دکھا کریہ بھی انکشاف کرتے کہ یہ جادو، نظربد، سایہ وغیرہ کا اثر تھا جوحجامہ سے ختم ہوگیا۔ وغیرہ وغیرہ۔

اگرچہ اسی وقت ہی اس ”علاج“ کا کھوکھلا پن عیاں ہو گیا تھا تاہم میں کافی عرصہ، اس کی حمایت کرتا رہا تھا۔ انگریزی طریقہ علاج میں جس طرح لوٹ کھسوٹ شروع ہوچکی ہے اور غریبوں کی چمڑی ادھیڑی جا رہی ہے تومجھے خیال ہوا کہ خدا نے ان ظالموں کو شرمسار کرنے کے لئے، حجامہ میں شفا رکھ دی ہوگی۔ (ظاہر ہے کہ شفا، صرف خدا کے ہاتھ میں ہے، چاہے جہاں رکھ دے) ۔ تصور کیجئے کہ ایک فارن ڈگری ہولڈر ڈاکٹر، کروڑوں کا ہسپتال بنا کر، خدا کی مخلوق کو لوٹنے کا پروگرام بنائے بیٹھا ہو مگر ”ویہلا“ بیٹھا ہو اوراسکے سامنے والے سبزی فروش کے پاس مریضوں کا رش لگا ہو تواس کی کیا حالت ہوگی؟ چنانچہ اس خیال کی بنا پر، حجامہ کی حمایت کرتا تھا کہ ایک غریب آدمی، اپنے یقین کی بدولت اگر اس سستے علاج سے شفا یاب ہوجائے (جبکہ ذرا سا خون نکلنے سے کچھ فرق نہیں پڑتا) تو اس میں کیا برا ہے؟ ۔

چنانچہ دوسری بار حجامہ، تبلیغی جماعت میں نکل کروایا تھا۔ اسلام آباد کے پڑھے لکھے احباب کے ساتھ بھلوال شہر میں تشکیل تھی۔ وہاں کا ایک مقامی ویگن ڈرائیور، حجامہ لگانے کا کام کرتا تھا جسے امیر صاحب نے بک کر لیا تھا۔ صبح ”ڈاکٹر صاحب“ اپنی سواریاں اتار کر، اپنے آلات جراحی سمیت (کوئی درجن بھر پلاسٹک کپ۔ پھونکنا، کچھ شاپر اور بلیڈیں) جماعت والوں کے امراض کا علاج کرنے تشریف لائے۔ دوسروں کی ترغیب کی خاطر، خاکسار نے بھی تین کپ لگوائے (30 روپے فی کپ، 12 مولوی، اور ہر مولوی کے بدن پہ کئی کپ لگائے جا سکتے تھے) ۔ ”ڈرائیور ڈاکٹر صاحب“، پھونکنے سے کھال کھینچنے کے بعد، ہر ”مریض“ سے فیڈبیک بھی لیتے تھے۔ ”ہلکا محسوس ہورہا ہے نا؟ “۔

عرض کیا۔ ”جی ہاں، پھونکنے سے کھال کھنچوانے اور بلیڈ کھانے کے بعد، رلیف ہی محسوس ہوگا“۔

تیسری بار حجامہ، اپنی بڑی ہمشیرہ کے ہاتھوں کروایا تھا مگرصرف ان کا دل رکھنے کے لئے۔ عالمہ ہیں۔ تبلیغی جماعت میں کئی ملکوں کا سفرکر چکی ہیں۔ مستورات کو نہ صرف فی سبیل اللہ حجامہ کرتی ہیں بلکہ کئی ایک کو یہ ”فن“ سکھایا بھی ہے۔ ان کی ”پروفشنل رائے“ تھی کہ ناچیز پر ”اثرات“ ہیں جو صرف حجامہ سے دور ہوسکتے ہیں۔ بہن کے خلوص کو رد نہیں کرسکتا تھا مگر یہ بھی انکشاف ہوا کہ ”حجامہ“ کا ”علم“ مزید ایڈوانس ہوچکا تھا۔ مثلاً منگل کی صبح، بعد فجر، نہار منہ حجامہ کرانا بہترہے کہ پتہ نہیں کس حضرت سے روایت ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔

حجامہ بارے میرے تحفظات، ایک اردو کتاب سے شروع ہوئے۔ یہ کتاب کراچی کے ایک معروف تبلیغی ڈاکٹر صاحب کی تائید سے شائع ہوئی ہے جس کے ہر صفحے پر، انسانی ہیکل کی آؤٹ لائن ہے اور اس کے ہر عضو پر، کچھ دائرے لگے ہیں جن پر حجامہ کرنے سے، تاریخ انسانی میں آجتک معلوم سارے امراض کا افاقہ ہوسکتا ہے۔ (ماشاء اللہ) ۔ برسبیل تذکرہ، امریکہ پلٹ ڈاکٹر صاحب، مستورات کا مدرسہ چلایا کرتے ہیں۔ (اچھے خاصے پروفشنل لوگوں پہ عقیدہ بھاری پڑجاتا ہے حتی کہ نوبل پرائز لینے والا ایک جینئس پاکستانی، اپنے عقیدہ کی خاطراپنا وطن چھوڑ جاتا ہے) ۔

پہلے تو حجامہ کا کپ، صرف پیٹھ پر لگایا جاتا تھا۔ آج کل، کان کی لو تک پہ حجامہ کرنے کے لئے ”قہوہ کی پیالی“ جتنے کپ بھی دستیاب ہیں اور دھڑلے سے دماغ کے تالو پربھی بلیڈ مارے جارہے ہیں۔ جمعیت علماء سے تعلق رکھنے والے ایک حکیم صاحب کے الفاظ ملاحظہ فرمائیں۔ لکھتے ہیں : ”ایک اللہ والے نے ہمارے ایک دوست کا حجامہ کیا۔ بلیڈ سے ریڑھ کے قریب اعصاب پر گہرا کٹ لگنے سے اس کا نچلا دھڑ مفلوج ہوگیا اور یوں 27 سالہ شادی شدہ نوجوان زندگی بھر کے لیے مفلوج ہو چکا ہے۔ حجامہ کا سنت ہونا یا نہ ہونا الگ بحث ہے۔ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ حجامہ کا استرہ بندر کے ہاتھ لگ چکا ہے“۔

امید ہے کہ آپ کو اس موضوع پر میری کایا پلٹ کا پس منظر سمجھ آگیا ہوگا۔ اب واپس، شروع میں ذکر کردہ، پانچ نکات کی تشریح پر چلتے ہیں۔

1۔ حضور نبی کریم کی آمد کا اصل منشا، انسانیت کو خدا سے جوڑنا تھا۔ وہ میڈیکل سپیشلسٹ کے طور پر نہیں آئے تھے۔ دنیاوی معاملات میں بھی وہ سب لوگوں سے ذہین تھے چنانچہ ہر فیلڈ میں نبی کا مشورہ موجود ہے۔ مثلاً مسجد نبوی و ملحقہ بازار کا نقشہ خود نبی نے زمین پر لکیریں ڈال کر بتایا تھا۔ خاکسار، بآسانی، اس پہ ”نبوی انجنئرنگ“ نامی رسالہ لکھ سکتا ہے۔ (جس بنیاد پر ”طب نبوی“ والی اصطلاح بنائی گئی ہے، اسی بنیاد پر ”نبوی کوکنگ“، نبوی ٹیلرنگ ”بھی ایجاد کی جاسکتی ہے) ۔ ایک حدیث کے مطابق، صحابہ کو خود رسول کریم نے فرمایا تھا کہ دنیاوی معاملات میں میرے مشورہ پر“ سیکنڈ اوپینئین ”بھی لے لیا کرو۔ پس ہم تو عرض کرتے ہیں کہ جس کام کے لئے رسول کریم، مبعوث ہوئے تھے اگر اسی تک محدود رہا جائے تو یہ دین کے لئے بھی بہتر ہوگا۔

2۔ نبی کریم جب کبھی بیمار پڑے تو اس زمانے میں مروج بہترین علاج کو اختیارفرمایا۔ فصد لگانا (حجامہ کرنا) بھی پہلے سے عرب میں مروج تھا۔ جونک / سینگیاں لگوانا بھی ایک علاج تھا جو نبی نے کیا۔ تیز بخار کا علاج، سر پہ بھیگی پٹیاں باندھ کر اور زخم مندمل کرنے کا علاج، بوری کا پھاہا جلا کررکھنے سے کیا جاتا تھا۔ یہ بھی حضور نے کیا۔ نجد کے لوگ، یرقان کے علاج کے لئے باکرہ اونٹنی کا صباحی پیشاب استعمال کرتے تھے (یہ مکی لوگوں میں معروف نہیں تھا) تو یہ بھی حضور نے تجویز کیا۔

پس جان لیجیے کہ بیماری کا بہترین علاج کرنا ہی سنت رسول ہے نہ کہ خاص حجامہ وغیرہ۔ (حجامہ میں بھی حضور نے پلاسٹک کے پھونکنے استعمال نہیں کیے تھے) ۔ چنانچہ واضح ہوکہ حجامہ سمیت یہ سارے طریقہ ہائے علاج، اعلان نبوت سے پہلے عرب میں مروج تھے جن کو حضور نے اختیار کیا تھا۔ ان میں سے کوئی چیزآسمان سے نازل شدہ وحی نہیں ہے۔

3۔ شہد اور کلونجی سمیت کسی بھی چیز کو اسلام نے بطور دواء ”حکم“ نہیں دیا بلکہ ”تجویز“ کیا ہے۔ (اسلام اور فارمیسی الگ چیزیں ہیں) ۔ قرآن کا اعجاز یہ ہے کہ جیالوجی سمیت ہرعلم بارے بعض ایسے اشارے دیے ہوئے ہیں جو ریسرچ کرنے والوں کے لئے گائیڈ بن سکتے ہیں۔ یہ اشارے ”حکم“ کا درجہ نہیں رکھتے۔ عوام کے لئے قرآن وحدیث کا اصول یہ ہے کہ کسی بھی شعبہ بارے، اس زمانے کے معروف ماہرین فن سے رجوع کیا جائے۔

قرآن میں فرمایا گیا ہے کہ شہد میں خدا نے شفا رکھی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ سردیوں میں رضائی سیتے ہوئے، ایک مدرسہ کے طالبعلم کی آنکھ میں موٹی سوئی لگ گئی تھی تو حضرت شیخ نے اس کی آنکھ میں شہد ڈلوا دیا تھا (کہ اس میں شفا ہے) ۔ اس کو بعد میں میو ہسپتال لے جانا پڑا تھا۔

چنانچہ، مذکورہ آیت کے ذیل میں بھی کئی پہلو سے سوچنا ضروری ہوگا مثلاً۔

قرآن میں اگر شہد کا اگر بطور دوا ذکر ہے تو کیا شہد کے علاوہ کوئی اور دوائی لینا کفر شمار ہوگا؟ (کیونکہ قرآن میں تو صرف شہد کا ذکر ہے) ۔ پھر تو احادیث میں اگر کلونجی وغیرہ کو بطور دوا بتایا گیا تو یہ گویا قرآن میں کمی یا نقص کا اشارہ ہوا۔

قرآن نے شہد کا ذکر کیا ہے۔ کیا یہ چھتے والا شہد ہے یا بیری والا؟ کیا فیکٹری میں کیمیکل اور چینی سے تیار شدہ شہد بھی اس الوہی ”حکم“ میں شامل ہوگا؟ (کیونکہ اب اس کا نام بھی شہد ہی رکھا گیا ہے) ۔

قرآن نے شہد کے استعمال کی ترتیب تو بتائی نہیں کہ کس مرض کے لئے، کتنے چمچے، کس وقت اور مہینے میں کتنی بار لینا ہیں؟ ۔ کیا اس بارے اپنی عقل استعمال کرنا شرک تو نہیں ہوگا؟ وغیرہ

بنا بریں، شہد والی آیت کو بھی خاکسار، ایک نصیحت سمجھتا ہے، امر شرعی نہیں۔

اسی طرح، ایک حدیث پیش کی جاتی ہے کہ کلونجی میں موت کے سوا ہر بیماری کی شفا ہے (ایسی احادیث دوسری چیزوں بارے بھی ہیں)۔ اس پہ بھی اہل فن کی رائے ہی اصل ہوگی (یعنی ڈاکٹر حضرات کی)۔ حضور نے کلونجی استعمال کی ہے اور اس کی نصیحت بھی کی ہے مگربلغمی مزاج والے، اس کی وجہ سے بلند فشار خون میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ حضرت عامر ایک صحابی ہیں۔ انہوں نے رسول پاک کو جونک لگاتے دیکھ لیا اور اسے سنت سمجھ کر انھوں نے بھی ایسا ہی کیا۔ خود فرماتے ہیں کہ اس کے نتیجے میں حافظہ پر اثر پڑا حتی کہ نماز میں سورہ فاتحہ ہی بھول جاتا تھا۔ (اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ انہوں نے بخار کی حالت میں ایسا کیا تھا) ۔ پس اگر مستند حدیث رسول بھی موجود ہو تو بھی اس میں احوال وظروف، زمان ومکان اورافراد کے مزاج کی رعایت کرنا عین شریعت ہے۔

بلکہ یوں سنا ہے کہ اگر شوگر کے مریض کو، کوئی مستند ڈاکٹرصاحب، شہد کھانے سے منع کردے اور پھر بھی وہ شہد کھائے جس کے نتیجے میں مرجائے تویہ خودکشی شمار ہوگا۔

4۔ حجامہ بارے کافی احادیث پیش کی جاتی ہیں (جس ملک میں گالی کا جواز ثابت کرنے کو قرآن وحدیث سے دلیل لائی جائے، وہاں یہ کوئی بڑی بات نہیں) ۔ ہمارے ملک کے ایک مشہور خطیب نے حدیث سنائی کہ معراج کی رات، ہر آسمان کے فرشتوں نے حضور کو حجامہ بارے تاکید کی۔ بھائی، ہمیں تو معراج اور حجامہ کی کوئی ”ریلونسی“ سمجھ نہیں آتی کہ خدا اور رسول کی اس اہم میٹنگ میں حجامہ کیوں ایجنڈا پررکھا گیا؟ موصوف نے مگر عوام کو نصیحت کی کہ حجامہ اختیار کرو اور ڈاکٹروں سے جان چھڑاؤ۔ (بعد میں جب اپنے دل کے سٹنٹ ڈلوانے گئے تو خود کو بھی اور اپنے دین کو بھی مذاق کا نشانہ بنوالیا) ۔

دیکھئے، اگر یہ حجامہ ”سنت“ ہوتی تو فقہ کے ائمہ کرام ضرور اس کی اتباع کرتے۔ یار لوگوں نے تو ائمہ فقہاٰء بارے 40 سال تک یہ بھی مشاہدہ کیا ہوا ہے کہ وہ عشاء کے وضو سے فجر پڑھا کرتے تھے، تو ان کی حجامہ بارے کوئی روایت کیوں دستیاب نہیں؟ تبلیغی جماعت کے موسس مولانا الیاس تو ہر چھوٹی بڑی سنت کا اہتمام کیا کرتے تھے۔ خاصا عرصہ بیمار بھی رہے تھے مگر ان کی سوانح میں بھی حجامہ کا ذکر نہیں ملتا۔

ایک دوست نے خاکسار پر توہین حجامہ کا الزام لگایا تو عرض کیا کہ وہ صحابہ اوراسلاف، جنہوں نے حجامہ نہیں کروایا بلکہ دیگر علاج کروائے (بلکہ دیگر دواؤں پہ کتب بھی لکھیں) ، کیا وہ بھی توہین حجامہ کے مرتکب ہوئے ہیں؟ ۔

سخت الفاظ کے لئے بالکل معذرت خواہ نہیں ہوں کہ لوگوں نے اپنے کاروبار کے لئے ”سنت“ کے نام پر ڈرامے رچا رکھے ہیں۔ سماجی معاملات میں قرآن وحدیث کی راہنمائی لینے سے ہمیں کوئی انکار نہیں مگر یہ راہنمائی، کسی مولوی کی بجائے ”اسلامی نظریاتی کونسل“ کے پلیٹ فارم سے مہیا کی جائے۔

5۔ حجامہ کے موضوع پرمندرجہ ذیل چار سٹیک ہولڈرز ہیں۔ کسٹمرز، دکاندار، مولوی حضرات اور گورنمنٹ۔ ان چاروں سے ہم الگ الگ درخواست کرتے ہیں۔

حجامہ کے ”پیشنٹ حضرات“ سے ہماری پہلی عرض تو یہ ہے کہ حجامہ کے نام پرخون بہانے کی بجائے، کسی مستحق کودے دیا کریں۔ آج کل لاکھوں تھلیسیمیا پیشنٹ خون کی ضرورت کی وجہ سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر رہے ہیں۔ ان کو خون دینا، ”ساری انسانیت کا بچاو“، والی آیت کے زمرے میں آتا ہے۔ تاہم، اگر آپ نے حجامہ ہی کرانا ہے تو خیال رہے کہ حجامہ وغیرہ صرف رجسٹرڈ پروفشنل لوگوں سے کروایا جائے۔ (ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ خدا کو وہ کام پسند ہے جو ٹیکنیکلی اعلی معیار کا ہو۔ اسی کو سنت کہتے ہیں) ۔

حجامہ کرنے والے دکانداریا شوقین حضرات سے گذارش ہے کہ بدن کی عام جگہوں پہ کپ شپ لگاتے رہا کریں لیکن بعض جگہوں پہ باریک شریانیں اور وریدیں ہوتی ہیں۔ ان کو نقصان پہنچ جائے تو تلافی مشکل ہوتی ہے، پس ہر جگہ یہ کھیل نہ کھیلا کریں۔ ماہرِ حجامہ نہ ہونے کی صورت میں خون کے کلاٹ بننے کے امکانات بھی پیدا ہو جاتے ہیں جو خطرناک صورتحال ہے۔

جہاں تک مولوی صاحبان کا تعلق ہے تو کاش کہ مولوی اپنے منصب کو پہچان لیتا تو قوم کی تقدیر بدل جاتی۔ مولوی کویہ بتانا چاہیے تھا کہ اسلام نے دیگر مسائل سمیت، انسانی صحت بارے بھی کیونکر راہنمائی کی ہے؟ (آنکھ، دانت تک کی صحت کی بارے ہدایات دی ہیں) ۔ چنانچہ مسلمان کے ذمہ ہے کہ ہر شعبہ میں ریسرچ کرے اورجدید سے جدید ترعلاج دریافت کرے۔ مگر مولوی نے اب اسی کو دینی علم بنا دیا ہے کہ آنکھ میں سرمہ کیسے ڈالا جائے یا مسواک کی کون سی موٹائی شرعی ہے؟ ۔

مولوی صاحبان سے ہماری فقط یہ گذارش ہے کہ اس فطری دین کو، کسی کا بزنس چلانے کے لئے، اسلامی طوطوں والا دین نہ بنائیں، کہ کراچی کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو گھاٹا ہو تو سبز، کلیجی عمامے کو سنت منوا کر، کسی کی بند مل چلا دی جائے۔

گورنمنٹ سے ہم ہرگز یہ مطالبہ نہیں کرتے کہ حجامہ پرپابندی لگائی جائے۔ حکومت کا کام یہ نہیں ہوتا کہ لوگوں کے مشاغل پر قدغن لگائے بلکہ حکومت کا کام اس پہ چیک رکھنا ہے کہ کسی کی ”ہوبی“ یا ”بزنس“ کسی کے لئے ضرر کا باعث نہ بن جائے۔ پس ہمارا گورنمنٹ سے مطالبہ ہے کہ حجامہ کے کاروبارکو ریگولیٹ کیا جائے یعنی اس کی طبی گریڈیشن اور رجسٹریشن کی جائے۔

بشکریہ ہم سب

(Visited 31 times, 3 visits today)
loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں