حافظ حسین دین

گورمکھ سنگھ کی وصیت

حافظ حسین دین جو دونوں آنکھوں سے اندھاتھا، ظفر شاہ کے گھر میں آیا۔ پٹیالے کا ایک دوست رمضان علی تھا، جس نے ظفر شاہ سے اُس کا تعارف کرایا۔ وہ حافظ صاحب سے مل کر بہت متاثر ہوا۔

گو اُن کی آنکھیں دیکھتی نہیں تھیں مگر ظفر شاہ نے یوں محسوس کیا کہ اُس کو ایک نئی بصارت مل گئی ہے۔ ظفر شاہ ضعیف الاعتقاد تھا۔ اُس کو پیروں فقیروں سے بڑی عقیدت تھی۔ جب حافظ حسین دین اُس کے پاس آیا تو اُس نے اُس کو اپنے فلیٹ کے نیچے موٹر گراج میں ٹھہرایا۔ اُس کو وہ وائٹ ہاؤس کہتا تھا۔ ظفر شاہ سید تھا۔ مگر اُس کو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ مکمل سید نہیں ہے۔

چنانچہ اُس نے حافظ حسین دین کی خدمت میں گزارش کی کہ وہ اس کی تکمیل کردیں۔ حافظ صاحب نے تھوڑی دیر بعد اپنی بے نُور آنکھیں گھما کر اُس کو جوا ب دیا۔

’’بیٹا۔ تو پورا بننا چاہتا ہے تو غوث اعظم جیلانی سے اجازت لینا پڑے گی۔ ‘‘

حافظ صاحب نے پھر اپنی بے نُور آنکھیں گھمائیں۔

’’اُن کے حضور میں تو فرشتوں کے بھی پر جلتے ہیں۔ ‘‘

ظفر شاہ کو بڑی نااُمیدی ہوئی۔

’’آپ صاحبِ کشف ہیں۔ کوئی مداوا تو ہو گا۔ ‘‘

حافظ صاحب نے اپنے سر کو خفیف سی جنبش دی۔

’’ہاں چلہ کاٹنا پڑے گا مجھے۔ ‘‘

’’اگر آپ کو زحمت نہ ہوتو اپنے اس خادم کے لیے کاٹ لیجیے۔ ‘‘

’’سوچوں گا۔ ‘‘

حافظ حسین دین ایک مہینے تک سوچتا رہا۔ اس دوران ظفر شاہ نے اُن کی خاطر و مدارات میں کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی۔ حافظ صاحب کے لیے صبح اٹھتے ہی ڈیڑھ پاؤ بادام توڑتا۔ ان کے مغز نکا ل کر سردائی تیار کرتا۔ دوپہر کو ایک سیر گوشت بھنوا کے اُس کی خدمت میں پیش کرتا۔ شام کو بالائی ملی ہوئی چائے پلاتا۔ رات کو ایک مُرغ مسلم حاضر کرتا۔ یہ سلسلہ چلتا رہا۔ آخر حافظ حسین نے ظفر شاہ سے کہا۔

’’اب مجھے آوازیں آنی شروع ہو گئی ہیں۔ ‘‘

ظفر شاہ نے پوچھا۔

’’کیسی آوازیں قبلہ۔ ‘‘

’’تمہارے متعلق۔ ‘‘

’’کیا کہتی ہیں۔ ‘‘

’’تم ایسی باتوں کے متعلق مت پوچھا کرو۔ ‘‘

’’معافی چاہتا ہوں۔ ‘‘

حافظ صاحب نے ٹٹول ٹٹول کر مرغ کی ٹانگ اُٹھائی اور اُسے دانتوں سے کاٹتے ہوئے کہا۔

’’تم اصل میں منکر ہو۔ آزمانا چاہتے ہو تو کسی کنوئیں پر چلو۔ ‘‘

ظفر شاہ تھرتھرا گیا۔

’’حضور میں آپ کو آزمانا نہیں چاہتا۔ آپ کا ہر لفظ صداقت سے لبریز ہے۔ ‘‘

حافظ صاحب نے سر کو زور سے جنبش دی۔

’’نہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ تم ہمیں آزماؤ۔ کھانا کھالیں تو ہمیں کسی بھی کنوئیں پر لے چلو۔ ‘‘

’’وہاں کیا ہو گا قبلہ۔ ‘‘

’’میرا معمول آواز دے گا۔ وہ کنواں پانی سے لبا لب بھر جائے گا اور تمہارے پاؤں گیلے ہوئے جائیں گے۔ ڈرو گے تو نہیں؟‘‘

ظفر شاہ ڈر گیا تھا۔ حافظ حسن دین جس لہجے میں باتیں کررہا تھا بڑا پر ہیبت تھا۔ لیکن اُس نے اس خوف پر قابو پاکر حافظ صاحب سے کہا۔

’’جی نہیں۔ آپ کی ذاتِ اقدس میرے ساتھ ہو گی تو ڈر کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جب سارا مرغ ختم ہو گیا تو حافظ صاحب نے ظفر شاہ سے کہا۔

’’میرے ہاتھ دُھلواؤ۔ اور کسی کنوئیں پر لے چلو۔ ‘‘

ظفر شاہ نے اُس کے ہاتھ دُھلوائے تولیے سے پونچھے اور اُسے ایک کنوئیں پر لے گیا جو شہر سے کافی دُور تھا ظفر شاہ چادر لپیٹ کر اُس کی منڈیر کے پاس بیٹھ گیا۔ مگر حافظ صاحب نے چلا کر کہا۔

’’پانچ قدم پیچھے ہٹ جاؤ۔ میں پڑھنے والا ہوں۔ کنوئیں کا پانی لبا لب بھر جائے گا۔ تم ڈر جاؤ گے۔ ‘‘

ظفر شاہ ڈر کر دس قدم پیچھے ہٹ گیا۔ حافظ صاحب نے پڑھنا شروع کردیا۔ رمضان علی بھی ساتھ تھا جس نے ظفر شاہ سے حافظ صاحب کا تعارف کرایا تھا۔ وہ دُور بیٹھا مونگ پھلی کھا رہا تھا۔ حافظ صاحب نے کنوئیں پر آنے سے پہلے ظفر شاہ سے کہا تھا کہ دو سیر چاول، ڈیڑھ سیر شکر اور پاؤ بھر کالی مرچوں کی ضرورت ہے جواس کا معمول کھا جائے گا۔ یہ تمام چیزیں حافظ صاحب کی چادر میں بندھی تھیں۔ دیر تک حافظ حسین دین معلوم نہیں کس زبان میں پڑھتا رہا۔ مگر اُس کے معمول کی کوئی آواز نہ آئی۔ نہ کنوئیں کا پانی اوپر چڑھا۔ حافظ نے چاول، شکر اور مرچیں کنوئیں میں پھینک دیں۔ پھر بھی کچھ نہ ہوا۔ چند لمحات سکوت طاری رہا۔ اس کے بعد حافظ پر جذب کی سی کیفیت طاری ہوئی اور وہ بُلند آواز میں بولا۔

’’ظفر شاہ کو کراچی لے جاؤ۔ اُس سے پانچ سو روپے لو اور گوجرانوالہ میں زمین الاٹ کرالو۔ ‘‘

ظفر شاہ نے پانچ سو روپے حافظ کی خدمت میں پیش کردیے۔ اس نے یہ روپے اپنی جیب میں ڈال کر اُس سے بڑے جلال میں کہا۔

’’ظفر شاہ۔ تو یہ روپے دے کر سمجھتا ہے مجھ پر کوئی احسان کیا۔ ‘‘

ظفر شاہ نے سرتا پا عجز بن کر کہا۔

’’نہیں حضور میں نے تو آپ کے ارشاد کی تعمیل کی ہے۔ ‘‘

حافظ حسین دین کا لہجہ ذرا نرم ہو گیا۔

’’دیکھو سردیوں کا موسم ہے، ہمیں ایک دُھسّے کی ضرورت ہے۔ ‘‘

’’چلیے ابھی خرید لیتے ہیں۔ ‘‘

’’دو گھوڑے کی بوسکی کی قمیص اور ایک پمپ شو۔ ‘‘

ظفر شاہ نے غلاموں کی طرح کہا۔

’’حضور آپ کے حکم کی تعمیل ہو جائے گی۔ ‘‘

حافظ صاحب کے حکم کی تعمیل ہو گئی۔ پانچ سو روپے کا دُھسّہ۔ پچاس روپے کی قراقلی کی ٹوپی۔ بیس روپے کا پمپ شو۔ ظفر شاہ خوش تھا کہ اُس نے ایک پہنچے ہوئے بزرگ کی خدمت کی۔ حافظ صاحب وائٹ ہاؤس میں سو رہے تھے کہ اچانک بڑبڑانے لگے۔ ظفر شاہ فرش پر لیٹا تھا۔ اُس کی آنکھ لگنے ہی والی تھی کہ چونک کر سننے لگا۔ حافظ صاحب کہہ رہے تھے

loading...

’’حکم ہوا ہے۔ ابھی ابھی حکم ہوا ہے کہ حافظ حسین دین تم دریا راوی جاؤ اوروہاں چلہ کاٹو۔ چلہ کاٹو۔ وہاں تم اپنے معمول سے بات کرسکوگے۔ ‘‘

ظفرشاہ، حافظ کو ٹیکسی میں دریائے راوی پر لے گیا۔ وہاں حافظ چھیالیس گھنٹے معلوم نہیں کیا کچھ پڑھتا رہا۔ اُس کے بعد اُس نے ایسی آواز میں جو اُس کی اپنی نہیں تھی کہا۔

’’ظفر شاہ سے تین سو روپیہ اور لو۔ اپنے بھائی کی آنکھوں کا علاج کرو۔ تم اتنے غافل کیوں ہو۔ اگر تم نے علاج نہ کرایا تو وہ بھی تمہاری طرح اندھا ہوجائے گا۔ ‘‘

ظفر شاہ نے تین سو روپے اوردیدیے۔ حافط حسین دین نے اپنی بے نُور آنکھیں گھمائیں جس میں مسرت کی جھلک نظر آسکتی تھی۔ اور کہا

’’ڈاک خانے میں میرے بارہ سو روپے جمع ہیں۔ تم کچھ فکر نہ کرو پہلے پانچ سو اور یہ تین سو۔ کُل آٹھ سو ہوئے۔ میں تمھیں ادا کر دُوں گا۔ ‘‘

ظفر شاہ بہت متاثر ہوا۔

’’جی نہیں۔ ادائیگی کی کیا ضرورت ہے۔ آپ کی خدمت کرنا میرا فرض ہے۔ ‘‘

ظفر شاہ دیر تک حافظ کی خدمت کرتا رہا۔ اس کے عوض حافظ نے چالیس دن کا چلہ کاٹا مگر کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا۔ ظفر شاہ نے ویسے کئی مرتبہ محسوس کیا کہ وہ پورا سید بن گیا ہے اور اُس کی تطہیر ہو گئی ہے مگر بعد میں اُس کو مایوسی ہوئی کیونکہ وہ اپنے میں کوئی فرق نہ دیکھتا اس کی تشفی نہیں ہوئی تھی۔ اس نے سمجھا کہ شاید اُس نے حافظ صاحب کی خدمت پوری طرح ادا نہیں کی۔ جس کی وجہ سے اُس کی اُمید برنہیں آئی۔ چنانچہ اُس نے حافظ صاحب کو روزانہ ایک مرغ کھلانا شروع کر دیا۔ باداموں کی تعداد بڑھا دی۔ دودھ کی مقدار بھی زیادہ کر دی۔ ایک دن اُس نے حافظ صاحب سے کہا۔

’’پیر صاحب۔ میرے حال پر کرم فرمائیے میری مراد کبھی توپوری ہو گی یا نہیں۔ ‘‘

حافظ حسین دین نے بڑے پیرانہ انداز میں جواب دیا

’’ہو گی۔ ضرور ہو گی۔ ہم اتنے چلے کاٹ چکے ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ تم سے ناراض ہیں۔ تم نے ضرور اپنی زندگی میں کوئی گناہ کیا ہو گا۔ ‘‘

ظفر شاہ نے کچھ دیر سوچا۔

’’حضور۔ میں نے۔ ایسا کوئی گناہ نہیں کیا جو۔ ‘‘

حافظ صاحب نے اُس کی بات کاٹ کر کہا۔

’’نہیں ضرور کیا ہو گا۔ ذرا سوچو۔ ‘‘

ظفر شاہ نے کچھ دیر سوچا۔

’’ایک مرتبہ اپنے والد صاحب کے بٹوے سے آٹھ آنے چرائے تھے۔ ‘‘

’’یہ کوئی اتنا بڑا گناہ نہیں۔ اور سوچو۔ کبھی تم نے کسی لڑکی کو بُری نگاہوں سے دیکھا تھا؟‘‘

ظفر شاہ نے ہچکچاہٹ کے بعدجواب دیا۔

’’ہاں پیرو مُرشد۔ صرف ایک مرتبہ۔ ‘‘

’’کون تھی وہ لڑکی؟‘‘

’’جی میرے چچا کی۔ ‘‘

’’کہاں رہتی ہے ؟‘‘

’’جی اسی گھر میں۔ ‘‘

حافظ صاحب نے حکم دیا۔

’’بُلاؤ اُس کو۔ کیا تم اُس سے شادی کرنا چاہتے ہو؟‘‘

’’جی ہاں۔ ہماری منگنی قریب قریب طے ہوچکی ہے۔ ‘‘

حافظ صاحب نے بڑے پر جلال لہجے میں کہا۔

’’ظفر شاہ۔ بُلاؤ اس کو۔ تم نے مجھ سے پہلے ہی یہ بات کہہ دی ہوتی تو مجھے بیکار اتنا وقت ضائع نہ کرنا پڑتا۔ ‘‘

ظفر شاہ شش و پنج میں پڑ گیا۔ وہ حافظ صاحب کا حکم ٹال نہیں سکتا تھا اور پھر اپنی ہونے والی منگیتر سے یہ بھی نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ حافظ صاحب کو ملے۔ بادلِ ناخواستہ اُوپر گیا۔ بلقیس بیٹھی ناول پڑھ رہی تھی۔ ظفر شاہ کودیکھ کر ذرا سمٹ گئی اور کہا۔

’’آپ میرے کمرے میں کیسے آگئے۔ ‘‘

ظفر شاہ نے دبے دبے لہجے میں جواب دیا۔

’’وہ۔ جو حافظ صاحب آئے ہوئے ہیں نا۔ ‘‘

بلقین نے ناول ایک طرف رکھ دیا۔

’’ہاں ہاں۔ میں نے انھیں کئی مرتبہ دیکھا ہے۔ کیا بات ہے۔ ‘‘

’’بات یہ ہے کہ تم سے ملنا چاہتے ہیں۔ ‘‘

بلقیس نے حیرت کااظہار کیا۔

’’وہ مجھ سے کیوں ملنا چاہتے ہیں۔ اُن کی توآنکھیں ہی نہیں۔ ‘‘

وہ تم سے چند باتیں کرناچاہتے ہیں۔ بڑے صاحب کشف بزرگ ہیں۔ اُن کی بات سے ممکن ہے ہم دونوں کا بھلا ہو جائے۔ ‘‘

بلقیس مسکرائی۔

’’معلوم نہیں۔ آپ اتنے ضعیف الاعتقاد کیوں ہیں۔ لیکن چلیے۔ اندھا ہی تو ہے۔ اُس سے کیا پردہ ہے۔ ‘‘

بلقیس ظفر شاہ کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں گئی۔ حافظ حسین دین بیٹھا چلغوزے کھا رہا تھا۔ جب اُس نے قدموں کی چاپ سُنی تو بولا

’’آ گئے ظفر شاہ۔ ‘‘

ظفر شاہ نے تعظیماً جواب دیا

’’جی ہاں حضور۔ ‘‘

’’لڑکی آئی ہے۔ ؟

’’جی ہاں‘‘

حافظ صاحب نے اپنی بے نُور آنکھوں سے بلقیس کو دیکھنے کی کوشش کی اور کہا۔

’’بیٹھ جاؤمیرے سامنے۔ ‘‘

بلقیس سامنے اسٹول پر بیٹھ گئی۔ حافظ صاحب نے ظفر شاہ سے کہا۔

’’اب تمہاری مراد بر آئیگی۔ ہم لڑکی کو وظیفہ بتائیں گے۔ انشاء اللہ سب کام ٹھیک ہو جائیں گے۔ ‘‘

ظفر شاہ بہت خوش ہوا۔ اس نے فوراً پھل منگوائے اور بلقیس سے کہا۔ حافظ صاحب معلوم نہیں کتنی دیر لگائیں۔ ان کی خدمت کرنا نہ بھولنا۔ ‘‘

حافظ صاحب نے کہا۔

’’دیکھو ہم تم سے بہت خوش ہیں۔ آج ہماری طبیعت چاہتی ہے کہ تمیں بھی خوش کردیں۔ جاؤ بازار سے چار تولے نوشادر، ایک تولہ چونا، دس تولے شنگرف اور ایک مٹی کا کُوزا لے آؤ۔ جتنااس کا وزن ہے اتنا ہی سونا بن جائے گا۔ ‘‘

ظفر شاہ بھاگا بھاگا بازار گیا۔ اور یہ چیزیں لے آیا۔ جب اپنے وائٹ ہاؤس پہنچا تو کواڑ کھلے تھے اور اس میں کوئی نہیں تھا۔ اُوپر گیا تو معلوم ہوا کہ بی بی بلقیس بھی نہیں ہے۔

سعادت حسن منٹو

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں