امن و آشتی کا سبق: نفرتوں کا خاتمہ

دہشت گرد

ہالینڈ کے شہر اتریخت میں نامعلوم دہشت گرد نے ٹرام پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں 3 مسافر ہلاک 9 زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد حکام نے ٹرام سٹیشن کے قریب علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔

مقامی میڈیا کے مطابق فائرنگ کا واقعہ 10 بجکر 45 منٹ پر پیش آیا جس کے بعد انسداد دہشت گردی پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر ایک عمارت کو حصار میں لے لیا ۔پولیس نے ہیلی کاپٹرز کی مدد سے جائے وقوعہ کا جائزہ بھی لیا۔

پولیس ترجمان نے فائرنگ کے واقعہ میں تین افراد کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کی جا نب سے فائرنگ میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے جنہیں طبی امداد کیلئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ۔ترجمان کے مطابق فائرنگ کرنے والا دہشت گرد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔

اتریخت پولیس نے سوشل میڈیا پر ٹرام فائرنگ کے مشتبہ حملہ آور کی تصویر جاری کر دی۔ اتریخت میں تمام ٹرامزسروسز کو معطل اور سکولوں کو بند کردیا گیا۔ہالینڈ میں خطرے کا درجہ سب سے انتہائی بلند سطح تک بڑھا دیا گیا اور ایئرپورٹ اور مساجد کے حفاظت کیلئے پیرا ملٹری پولیس تعینات کر دی گئی۔ بعدازاں اتریخت میں ٹرام پر حملہ کرنے والا مشتبہ شخص گرفتار کر لیا گیا اس حوالے سے ڈچ حکام نے بھی گرفتاری کی تصدیق کر دی ،حملہ آور کا تعلق ترکی سے بتایا گیا ہے۔

ہالینڈ کے وزیر اعظم مارک روٹے نے اس صورت حال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے شہریوں کو اطمینان دلانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ کرائسٹ چرچ حادثہ کے بعد یہ بات بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ نیوزی لینڈ، آسٹریلیا کے علاوہ یورپ اور امریکہ میں مسلمانوں کے لئے ہمدردی کی جو لہر ابھری تھی اور سیاسی نظریہ کی بنیاد پر جان لیوا تشدد کی مذمت کرتے ہوئے مغربی ممالک میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور اسلام فوبیا کے حوالے سے جو رائے عامہ ہموار ہورہی تھی، ہالینڈ میں دہشت گردی کے بعد اس کام کو نقصان پہنچے گا۔

مسلمان لیڈروں نے نیوزی لینڈ میں دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے یہ نکتہ سامنے لانے کی کوشش کی تھی کہ دہشت گردی کا کسی ایک عقیدہ اور مذہب سے تعلق نہیں ہوتا۔ اس طرح اسلام اور دہشت گردی کو خلط ملط کرنے کے طرز عمل کو مسترد کرنے کی کوشش کی گئی۔

نیوزی لینڈ میں دہشت گردی، حملہ آور کے پاس اسلحہ کہاں سے آیا؟

اگرچہ برینٹن ٹیرینٹ نے خود کو ایک فسطائی اور سفید فام برتری کا نمائندہ قرار دیا لیکن مسلمان معاشروں میں اس سانحہ کو ایک عیسائی کے مسلمانوں پر حملہ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش بھی کی جارہی تھی۔ اب ایک مسلمان نے ایک عیسائی معاشرہ میں دہشت گردی کی ایک نئی واردات کے ذریعے ایک بار پھر لوگوں کو عقیدہ اور نسل و رنگ کے خانوں میں بانٹنے کے مزاج کو قوت دینے فراہم کی ہے۔نیوزی لینڈ کی دو مساجد پر حملے اور وہاں پچاس بے گناہ نمازیوں کی شہادت سے صرف یہی سبق اخذ ہو سکتا ہے کہ دنیا کو سب لوگوں کے رہنے کے قابل بنانے اور امن و آشتی کا ماحول پیدا کرنے کے لئے فاصلے اور نفرتوں کو ختم کرنا ضروری ہے۔

نیوزی لینڈ میں مسلمانوں کے قتل عام کے بعد اب ایک مسلمان کے ہاتھوں ہالینڈ کے تین بے گنا ہ لوگوں کے قتل سے دہشت گردی کے خلاف پیدا ہونے والے اتفاق رائے میں دراڑ پڑ سکتی ہے۔ یہ درست ہے کہ یورپی ملکوں میں مسلمانوں کے ہاتھوں تشدد کے واقعات میں ہلاکتوں کے بعد بھی بعض انتہا پسند عناصر اسلام اور مسلمانوں پر الزام تراشی کرتے ہیں اور دہشت گردی کا تعلق ان کے عقیدہ اور سماجی و معاشرتی رویوں سے جوڑتے ہیں۔

امریکہ سے لے کر آسٹریلیا تک اور بھارت سے لے کر یورپی ملکوں تک مسلمانوں اور دہشت گردی کو ملاکر دیکھنے کا ایک عمومی رویہ مستحکم ہوا ہے اور انتہا پسند لیڈروں نے اس صورت حال کا سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش بھی کی ہے۔

یورپی ملکوں کے متعدد مین سٹریم لیڈر اس صورت حال سے نمٹنے اور مسلمانوں کے خلاف ایک گروہ کے طور پر پیدا ہونے والی نفرت کو قابو میں رکھنے کی خواہش کے باوجود ، اس میں پوری طرح کامیاب نہیں ہو پاتے۔ قوم پرست اور تارکین وطن دشمن پارٹیاں سویڈن سے لے کر بلجئیم اور فرانس تک قوت پکڑ رہی ہیں۔ متعدد یورپی ملکوں میں ایسے انتہا پسندانہ سیاسی نظریات رکھنے والی پارٹیوں کی سیاسی نمائندہ حیثیت کی وجہ سے انہیں حکومت سازی میں شریک کیا جارہا ہے۔

البتہ بعض ممالک میں مسلسل ایسے سیاسی عناصر کے خلاف مین سٹریم پارٹیاں مزاحمت بھی کررہی ہیں۔ لیکن جمہوریت میں اگر ہزار خوبیاں ہیں تو یہ برائی بھی موجود ہے کہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے لوگوں کی اہمیت کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ اس لئے سب سے اہم یہ ہے کہ عوام کو نسل پرستی کی طرح مذہبی شدت پسندی سے گریز کی طرف راغب کیا جائے ، اس کے علاوہ دو تاثر ختم کرنے کے لئے کام کرنا اہم ہے ۔ ایک یہ کہ تارکین وطن مقامی باشندوں کے روزگار چھین رہے ہیں اور دوسرے یہ کہ مسلمان تارکین وطن کی وجہ سے معاشروں میں دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی میں اضافہ ہورہا ہے۔

اس تناظر میں ہالینڈ کے مسلمان حملہ آور نے مسلمانوں کے کاز کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔مسلمان لیڈروں کو بھی یہ بات سمجھنی چاہئے کہ مذہب کو سیاست کا موضوع بنا کر وہ ان مسلمانوں کی کوئی خدمت نہیں کرسکتے جو روزگار کی تلاش میں مغربی ممالک میں جا کر آباد ہوئے اور ان معاشروں میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس حوالے سے یہ بنیادی نکتہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مسلمان اکثریت والے ممالک اپنی اقلیتوں کی حفاظت اور عقیدہ کو دہشت گردی کے عذر کے طور پر استعمال کرنے کے مزاج کو تبدیل کرکے ہی مغرب اور امریکہ و آسٹریلیا میں آباد مسلمانوں کے بارے میں منفی رویہ کو بدلنے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔

کرائسٹ چرچ کے سانحہ کو مسلمانوں کی مظلومیت اور اپنی سچائی کا اشتہا ر بنانے کی بجائے، اس سے نفرت اور تعصبات کے خلاف کام کرنے کا سبق سیکھا اور عام کیا جائے۔ دوسروں کے تعصبات پر بات کرنے سے پہلے اپنے دلوں میں دوسروں کے لئے بھری ہوئی نفرت و عناد کو ختم کرنا ضروری ہے۔

تمام قوموں کے قائدین اور مذہبی رہنماء الزام تراشی کرنے اور سیاسی تماشہ لگانے کی بجائے، اپنے لوگوں میں مفاہمت اور احترام کا جذبہ عام کرسکیں تب ہی وہ ایک بہتر اور پر امن دنیا کے لئے کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ایسی ہی دنیا میں دوسرے لوگوں کی طرح اسلام پر عمل کرنے والوں کے خلاف بھی نفرت و تعصب ازخود ختم ہوجائے گی ۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں