شادی

شلجم

جمیل کو اپنا شیفر لائف ٹائم قلم مرمت کے لیے دینا تھا۔ اس نے ٹیلی فون ڈائریکٹری میں شیفر کمپنی کا نمبر تلاش کیا۔ فون کرنے سے معلوم ہوا کہ ان کے ایجنٹ میسرز ڈی، جے، سمتوئر ہیں جن کا دفتر گرین ہوٹل کے پاس واقع ہے۔ جمیل نے ٹیکسی اور فورٹ کی طرف چل دیا۔

گرین ہوٹل پہنچ کر اسے میسرز ڈی، جے، سمتوئر کا دفتر تلاش کرنے میں دقت نہ ہوئی۔ بالکل پاس تھا مگر تیسری منزل پر۔ لفٹ کے ذریعے جمیل وہاں پہنچا۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی چوبی دیوار کی چھوٹی سی کھڑکی کے پیچھے اسے ایک خوش شکل اینگلو انڈین لڑکی نظر آئی، جس کی چھاتیاں غیر معمولی طور پر نمایاں تھیں۔ جمیل نے قلم اس کی کھڑکی کے اندر داخل کردیا اور منہ سے کچھ نہ بولا۔ لڑکی نے قلم اس کے ہاتھ سے لے لیا، کھول کر ایک نظر دیکھا اور ایک چٹ پر کچھ لکھ کر جمیل کے حوالے کردیا۔ منہ سے وہ بھی کچھ نہ بولی۔ جمیل نے چٹ دیکھی۔ قلم کی رسید تھی۔ چلنے ہی والا تھا کہ پلٹ کر اس نے لڑکی سے پوچھا۔

’’دس بارہ روز تک تیار ہو جائے گا، میرا خیال ہے۔ ‘‘

لڑکی بڑے زور سے ہنسی۔ جمیل کچھ کھسیانا سا ہو گیا۔

’’میں آپ کی اس ہنسی کا مطلب نہیں سمجھا۔ ‘‘

لڑکی نے کھڑکی کے ساتھ منہ لگا کر کہا۔

’’مسٹر۔ آج کل وار ہے وار۔ یہ قلم امریکہ جائے گا۔ تم نو مہینے کے بعد پتا کرنا۔ ‘‘

جمیل بوکھلا گا۔

’’نو مہینے!‘‘

لڑکی نے اپنے بریدہ بالوں والا سر ہلایا۔ جمیل نے لفٹ کا رخ کیا۔ یہ نو مہینے کا سلسلہ خوب تھا۔ نو مہینے۔ اتنی مدت کے بعد تو عورت گل گوتھنا بچہ پیداکرکے ایک طرف رکھ دیتی ہے۔ نو مہینے۔ نو مہینے تک اس چھوٹی سی چٹ کو سنبھالے رکھو۔ اوریہ بھی کون وثوق سے کہہ سکتا ہے کہ نو مہینے تک آدمی یاد رکھ سکتا ہے کہ اس نے ایک قلم مرمت کے لیے دیا تھا۔ ہو سکتا ہے اس دوران میں وہ کم بخت مرکھپ ہی جائے۔ جمیل نے سوچا، یہ سب ڈھکوسلا ہے۔ قلم میں معمولی سی خرابی تھی کہ اس کا فیڈر ضرورت سے زیادہ روشنائی سپلائی کرتا تھا۔ اس کے لیے اسے امریکہ کے ہسپتال میں بھیجنا صریحاً چالبازی تھی۔ مگر پھر اس نے سوچا، لعنت بھیجو اس قلم پر۔ امریکہ جائے یا افریقہ۔ اس میں شک نہیں کہ اس نے یہ بلیک مارکیٹ سے ایک سو پچھتر روپے میں خریدا تھا۔ مگر اس نے ایک برس اسے خوب استعمال بھی تو کیا تھا۔ ہزاروں صفحے کالے کر ڈالے تھے۔ چنانچہ وہ قنوطی سے ایک دم رجائی بن گیا۔

اور رجائی بنتے ہی اسے خیال آیا کہ وہ فورٹ میں ہے اور فورٹ میں شراب کی بے شمار دکانیں۔ وسکی تو ظاہر ہے نہیں ملے گی لیکن فرانس کی بہترین کونک برانڈی تو مل جائے گی، چنانچہ اس نے قریب والی شراب کی دکان کا رخ کیا۔ برانڈی کی ایک بوتل خرید کر وہ لوٹ رہا تھا کہ گرین ہوٹل کے پاس آکے رک گیا۔ ہوٹل کے نیچے قد آدم شیشوں کا بنا ہوا قالینوں کا شو روم تھا۔ یہ جمیل کے دوست پیر صاحب کا تھا۔ اس نے سوچا چلو اندر چلیں۔ چنانچہ چند لمحات کے بعد ہی وہ شو روم میں تھا اور اپنے دوست پیر سے، جو عمر میں اس سے کافی بڑا تھا، اور ہنسی مذاق کی گفتگو کررہا تھا۔ برانڈی کی بوتل باریک کاغذ میں لپٹی دبیز ایرانی قالین پر لیٹی ہوئی تھی۔ پیر صاحب نے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جمیل سے کہا۔

’’یار اس دلہن کا گھونگٹ تو کھولو۔ ذرا اس سے چھیڑ خانی تو کرو۔ ‘‘

جمیل مطلب سمجھ گیا۔

’’سو پیر صاحب گلاس اور سوڈے منگوادئیے۔ پھر دیکھیے کیا رنگ جمتا ہے۔ ‘‘

فوراً گلاس اور یخ بستہ سوڈے آگئے۔ پہلا دور ہوا۔ دوسرا دور شروع ہونے ہی والا تھا کہ پیر صاحب کے ایک گجراتی دوست اندر چلے آئے اور بڑی بے تکلفی سے قالین پر بیٹھ گئے۔ اتفاق سے ہوٹل کا چھوکرا دو کے بجائے تین گلاس اٹھالایا تھا۔ پیر صاحب کے گجراتی دوست نے بڑی صاف اردو میں چند ادھر ادھر کی باتیں کیں اور گلاس میں یہ بڑا پیگ ڈال کر اس کو سوڈے سے لبالب بھر دیا۔ تین چار لمبے لمبے گھونٹ لے کر انھوں نے رومال سے اپنا منہ صاف کیا۔

’’سگریٹ نکالو یار!‘‘

پیر صاحب میں ساتوں عیب شرعی تھے۔ مگر وہ سگریٹ نہیں پیتے تھے۔ جمیل نے جیب سے اپنا سگریٹ کیس نکالا اور قالین پر رکھ دیا۔ ساتھ ہی لائٹر۔ اس پر پیر صاحب نے جمیل سے اس گجراتی کا تعارف کرایا

’’مسٹر نٹورلال۔ آپ موتیوں کی دلالی کرتے ہیں۔ ‘‘

جمیل نے ایک لحظے کے لیے سوچا، کوئلوں کی دلالی میں تو انسان کا منہ کالا ہوتا ہے۔ موتیوں کی دلالی میں۔ پیر صاحب نے جمیل کی طرف دیکھتے ہوئے کہا

’’مسٹر جمیل۔ مشہور سونگ رائٹر۔ ‘‘

دونوں نے ہاتھ ملایااور برانڈی کا نیا دور شروع ہوا اور ایسا شروع ہوا کہ بوتل خالی ہو گئی۔ جمیل نے دل میں سوچا یہ کم بخت موتیوں کا دلال بلا کا پینے والا ہے۔ میری پیاس اور سرور کی ساری برانڈی چڑھا گیا۔ خدا کرے اسے موتیا بند ہو۔ مگر جونہی آخری دور کے پیگ نے جمیل کے پیٹ میں اپنے قدم جمائے، اس نے نٹور لال کو معاف کردیا۔ اورآخر میں اس سے کہا۔

’’مسٹر نٹور! اٹھیے، ایک بوتل اور ہو جائے۔ ‘‘

نٹور لال فوراً اٹھا۔ اپنے سفید و گلے کی شکنیں درست کیں۔ دھوتی کی لانگ ٹھیک کی اور کہا۔

’’چلیے!‘‘

جمیل پیر صاحب سے مخاطب ہوا۔

’’ہم ابھی حاضر ہوتے ہیں۔ ‘‘

جمیل اور نٹور نے باہر نکل کر ٹیکسی لی اور شراب کی دکان پرپہنچے۔ جمیل نے ٹیکسی روکی مگر نٹور نے کہا۔

’’مسٹر جمیل۔ یہ دکان ٹھیک نہیں۔ ساری چیزیں مہنگی بیچتا ہے۔ ‘‘

یہ کہہ کر وہ ٹیکسی ڈرائیور سے مخاطب ہوا۔

’’دیکھو کولابہ چلو!‘‘

کولابہ پہنچ کر نٹور، جمیل کوشراب کی ایک چھوٹی سی دکان میں لے گیا۔ جو برانڈ جمیل نے فورٹ سے لیا، وہ تو نہ مل سکا، ایک دوسرا مل گیا جس کی نٹور نے بہت تعریف کی کہ نمبر ون ہے۔ یہ نمبر ون چیز خرید کر دونوں باہر نکلے۔ ساتھ ہی بار تھی۔ نٹور رک گیا۔

’’مسٹر جمیل! کیا خیال ہے آپ کا، ایک دو پیگ یہیں سے پی کر چلتے ہیں۔ ‘‘

جمیل کو کوئی اعتراض نہیں تھا، اس لیے کہ اس کا نشہ حالت نزع میں تھا۔ چنانچہ دونوں بار کے اندر داخل ہوئے۔ معاً جمیل کو خیال آیا کہ بار والے تو کبھی باہر کی شراب پینے کی اجازت نہیں دیا کرتے۔

’’مسٹر نٹور آپ یہاں کیسے پی سکتے ہیں۔ یہ لوگ اجازت نہیں دیں گے۔ ‘‘

نٹور نے زور سے آنکھ ماری۔

’’سب چلتا ہے۔ ‘‘

اور یہ کہہ کر ایک کیبن کے اندر گھس گیا۔ جمیل بھی اس کے پیچھے ہولیا۔ نٹور نے بوتل سنگین تپائی پر رکھی اور بیرے کو آواز دی۔ جب وہ آیا تو اس کو بھی آنکھ ماری۔

’’دیکھو! دو سوڈے روجرز۔ ٹھنڈے۔ اور دو گلاس۔ ایک دم صاف‘‘

بیرا یہ حکم سن کر چلا گیا اور فوراً سوڈے اور گلاس حاضر کردیے۔ اس پر نٹور نے اسے دوسرا حکم دیا۔

’’فسٹ کلاس چپس اور ٹومیٹوسوس۔ اور فسٹ کلاس کٹلس!‘‘

بیرا چلا گیا۔ نٹور جمیل کی طرف دیکھ کر ایسے ہی مسکرایا۔ بوتل کا کارک نکالا اور جمیل کو گلاس میں اس سے پوچھے بغیر ایک ڈبل ڈال دیا۔ خود اس سے کچھ زیادہ۔ سوڈا حل ہو گیا تو دونوں نے اپنے گلاس ٹکرائے۔ جمیل پیا سا تھا۔ ایک جرعے میں اس نے آدھا گلاس ختم کردیا۔ سوڈا چونکہ بہت ٹھنڈا اور تیز تھا اس لیے پھوں پھوں کرنے لگا۔ دس پندرہ منٹ کے بعد چپس اور کٹلس آگئے۔ جمیل صبح گھر سے ناشتہ کرکے نکلا تھا لیکن برانڈی نے اسے بھوک لگادی۔ چپس گرم گرم تھے، کٹلس بھی۔ وہ پل پڑا۔ نٹور نے اس کا ساتھ دیا۔ چنانچہ دو منٹ میں دونوں پلیٹیں صاف! دو پلیٹیں اور منگوائی گئیں۔ جمیل نے اپنے لیے چپس بھی منگوائے۔

دو گھنٹے اسی طرح گزر گئے۔ بوتل کی تین چوتھائی غائب ہو چکی تھی۔ جمیل نے سوچا کہ اب پیر صاحب کے پاس جانا بے کار ہے۔ نشے خوب جم رہے تھے، سرور خوب گھٹ رہے تھے۔ نٹور اور جمیل دونوں ہوا کے گھوڑوں پر سوار تھے۔ ایسے سواروں کو عام طور پر ایسی وادیوں میں جانے کی بڑی خواہش ہوتی ہے، جہاں انھیں عریاں بدن حسین عورتیں ملیں۔ وہ ان کی کمر میں ہاتھ ڈال کر گھوڑے پر بٹھالیں اور یہ جا، وہ جا۔ جمیل کا دل و دماغ اس وقت کسی ایسی وادی کے متعلق سوچ رہا تھا جہاں اس کی کسی ایسی خوبصورت عورت سے مڈبھیڑ ہو جائے جس کو وہ اپنے تپتے ہوئے سینے کے ساتھ بیھنچ لے، اس زور سے کہ اس کی ہڈیاں تک چٹخ جائیں۔ جمیل کو اتنا تو معلوم تھا کہ وہ ایسی جگہ پر ہے۔ مطلب ہے ایسے علاقے میں ہے جو اپنے بروتھلز(قحبہ خانے) کی وجہ سے ساری بمبئی میں مشہور ہے، جنھیں عیاشی کرنا ہوتی ہے وہ ادھر کا رخ کرتے ہیں۔ شہر سے بھی جس لڑکی کو لُک چھپ کر پیشہ کرنا ہوتا ہے، یہیں آتی ہے۔ ان معلومات کی بنا پر اس نے نٹورسے کہا۔

’’میں نے کہا۔ وہ۔ وہ۔ میرا مطلب ہے، ادھر کوئی چھوکری ووکری نہیں ملتی؟‘‘

نٹور نے اپنے گلاس میں ایک بڑا پیگ انڈیلا اور ہنسا۔

’’مسٹر جمیل! ایک نہیں ہزاروں۔ ہزاروں۔ ہزاروں۔ !‘‘

یہ ہزاروں کی گردان جاری رہتی اگر جمیل نے اس کی بات کاٹی نہ ہوتی۔

’’ان ہزاروں میں سے آج ایک ہی مل جائے تو ہم سمجھیں کہ نٹور بھائی نے کمال کردیا۔ ‘‘

نٹور بھائی مزے میں تھے۔ جھوم کرکہا۔

’’جمیل بھائی۔ ایک نہیں ہزاروں۔ چلو، اس کو ختم کرو۔ ‘‘

دونوں نے بوتل میں جو کچھ بچا تھا، آدھ گھنٹے کے اندر اندر ختم کردیا۔ بل ادا کرنے اور بیرے کو تکڑی ٹِپ دینے کے بعد دونوں باہر نکلے۔ اندر اندھیرا تھا۔ باہر دھوپ چمک رہی تھی۔ جمیل کی آنکھیں چندھیا گئیں۔ ایک لحظے کے لیے اسے کچھ نظر نہ آیا۔ آہستہ آہستہ اس کی آنکھیں تیز روشنی کی عادی ہوئیں تو اس نے نٹور سے کہا۔

’’چلو بھئی!‘‘

نٹور نے تلاشی لینے والی نگاہوں سے جمیل کی طرف دیکھا۔

’’مال پانی ہے نا؟‘‘

جمیل کے ہونٹوں پر نشیلی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ نٹور کی پسلیوں میں کہنی سے ٹھوکا دے کر اس نے کہا۔

’’بہت۔ نٹور بھائی، بہت۔ ‘‘

اور اس نے جیب سے پانچ نوٹ سو سو کے نکالے۔

’’کیا اتنے کافی نہیں؟‘‘

نٹور کی باچھیں کھل گئیں۔

’’کافی۔ ؟ بہت زیادہ ہیں۔ چلو آؤ، پہلے ایک بوتل خرید لیں، وہاں ضرورت پڑے گی۔ ‘‘

جمیل نے سوچا بات بالکل ٹھیک ہے، وہاں ضرورت نہیں پڑے گی تو کیا کسی مسجد میں پڑے گی۔ چنانچہ فوراً ایک بوتل خرید لی گئی۔ ٹیکسی کھڑی تھی۔ دونوں اس میں بیٹھ گئے اور اس وادی کی سیاحی کرنے لگے۔ سینکڑوں بروتھلز تھے۔ ان میں سے بیس پچیس کا جائزہ لیا گیا، مگر جمیل کو کوئی عورت پسند نہ آئی۔ سب میک اپ کی موٹی اور شوخ تہوں کے اندر چھپی ہوئی تھیں۔ جمیل چاہتا تھا کہ ایسی لڑکی ملے جو مرمت شدہ مکان معلوم نہ ہو۔ جس کو دیکھ کر یہ احساس نہ ہو کہ جگہ جگہ اکھڑے ہوئے پلستر کے ٹکڑوں پر بڑے اناڑی پن سے سرخی اور چونا لگایا گیا ہے۔ نٹور تنگ آگیا۔ اس کے سامنے جو بھی عورت آتی تھی، وہ جمیل کا کندھا پکڑ کر کہتا۔

’’جمیل بھائی، چلے گی!‘‘

مگر جمیل بھائی اٹھ کھڑا ہوتا۔

’’ہاں چلے گی۔ اور ہم بھی چلیں گے!‘‘

دو جگہیں اور دیکھی گئیں مگر جمیل کو مایوسی کا منہ دیکھنا پڑا۔ وہ سوچتا تھا کہ ان عورتوں کے پاس کون آتا ہے جو سؤر کے سوکھے ہوئے گوشت کے ٹکڑوں کی طرح دکھائی دیتی ہیں۔ ان کی ادائیں کتنی مکروہ ہیں۔ اٹھنے بیٹھنے کا انداز کتنا فحش ہے اور کہنے کو یہ پرائیویٹ ہیں یعنی ایسی عورتیں جو در پردہ پیشہ کراتی ہیں۔ جمیل کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ پردہ کہاں ہے جس کے پیچھے یہ دھندہ کراتی ہیں۔ جمیل سوچ ہی رہا تھا کہ اب پروگرام کیا ہونا چاہیے، کہ نٹور نے ٹیکسی رکوائی اور اتر کرچلا گیا کہ ایک دم اسے ایک ضروری کام یاد آگیا تھا۔ اب جمیل اکیلا تھا۔ ٹیکسی تیس میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی تھی۔ اس وقت ساڑھے چار بج چکے تھے۔ اس نے ڈرائیور سے پوچھا۔

’’یہاں کوئی بھڑوا ملے گا؟‘‘

ڈرائیور نے جواب دیا۔

’’ملے گا جناب!‘‘

’’تو چلو اس کے پاس!‘‘

ڈرائیور نے دو تین موڑ گھومے اور ایک پہاڑی بنگلہ نما بلڈنگ کے پاس گاڑی کھڑی کردی۔ دو تین مرتبہ ہارن بجایا۔ جمیل کا سر نشے کے باعث سخت بوجھل ہورہا تھا۔ آنکھوں کے سامنے دھند سی چھائی ہوئی تھی۔ اسے معلوم نہیں تھا کیسے اور کس طرح، مگر جب اس نے ذرا دماغ کو جھٹکا تو اس نے دیکھا کہ وہ ایک پلنگ پر بیٹھا ہے اور اس کے پاس ہی ایک جوان لڑکی، جس کی ناک کی پھننگ پر چھوٹی سی پھنسی تھی، اپنے بریدہ بالوں میں کنگھی کررہی ہے۔ جمیل نے اس کو غور سے دیکھا۔ سوچنے ہی والا تھا کہ وہ یہاں کیسے پہنچا مگر اس کے شعور نے اس کو مشورہ دیا کہ دیکھو یہ سب عبث ہے۔ جمیل نے سوچا، یہ ٹھیک ہے لیکن پھر بھی اس نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈال کر اندر ہی اندر نوٹ گن کر اور پاس پڑی ہوئی تپائی پر برانڈی کی سالم بوتل دیکھ کر اپنی تشفی کرلی کہ سب خیریت ہے۔ اس کا نشہ کسی قدر نیچے اترگیا۔ اٹھ کروہ اس گیسو بریدہ لڑکی کے پاس گیا اور کچھ سمجھ میں نہ آیا۔ مسکرا کر اس سے کہا۔

’’کہیے، مزاج کیسا ہے؟‘‘

اس لڑکی نے کنگھی میز پر رکھی اور کہا۔

’’کہیے آپ کا کیسا ہے؟‘‘

’’ٹھیک ہوں!‘‘

یہ کہہ کر اس نے لڑکی کی کمر میں ہاتھ ڈالا۔

’’آپ کا نام؟‘‘

’’بتا تو چکی ایک دفعہ۔ آپ کو میرا خیال ہے یہ بھی یاد نہ رہا ہو گا کہ آپ ٹیکسی میں یہاں آئے۔ جانے کہاں کہاں گھومتے رہے ہوں گے کہ بل اڑتیس روپے بنا جو آپ نے ادا کیا اور ایک شخص کا نام شاید نٹور تھا، آپ نے اس کو بے شمار گالیاں دیں۔

شاداں

جمیل اپنے اندر ڈوب کر سارے معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرنے ہی والا تھا کہ اس نے سوچا کہ فی الحال اس کی ضرورت نہیں، میں بھول جایا کرتا ہوں۔ یا یوں سمجھیے کہ مجھے بار بار پوچھنے میں مزا آتا ہے۔ وہ صرف اتنا یاد کرسکا کہ اس نے ٹیکسی والے کا بل جو کہ اڑتیس روپے بنتا تھا، ادا کیا تھا۔ لڑکی پلنگ پر بیٹھ گئی۔

’’میرا نام تارہ ہے۔ ‘‘

جمیل نے اس کو لٹا دیا اور اس سے مصنوعی پیار کرنے لگا۔ تھوڑی دیر کے بعد اس کو پیاس محسوس ہوئی تو اس نے تارہ سے کہا۔

’’دو یخ بستہ سوڈے اور گلاس!‘‘

تارہ نے یہ دونوں چیزیں فوراً حاضر کردیں۔ جمیل نے بوتل کھولی۔ اپنے لیے ایک پیگ ڈال کر اس نے دوسرا تارہ کے لیے ڈالا۔ پھر دونوں پینے لگے۔ تین پیگ پینے کے بعد جمیل نے محسوس کیا کہ اس کی حالت بہتر ہو گئی ہے۔ تارہ کو چومنے چاٹنے کے بعد اس نے سوچا کہ اب قصہ مختصر ہو جانا چاہیے۔

’’کپڑے اتار دو!‘‘

’’سارے؟‘‘

’’ہاں سارے!‘‘

تارہ نے کپڑے اتار دیے اور لیٹ گئی۔ جمیل نے اس کے ننگے جسم کو ایک نظر دیکھا اور یہ رائے قائم کی کہ اچھا ہے۔ اس کے ساتھ ہی خیالات کا ایک تانتا بندھ گیا۔ جمیل کا نکاح ہو چکا تھا۔ اس نے اپنی بیوی کو دو تین مرتبہ دیکھا تھا۔ اس کا بدن کیسا ہو گا۔ کیا وہ تارہ کی طرح اس کے ایک مرتبہ کہنے پر اپنے سارے کپڑے اتار کر اس کے ساتھ لیٹ جائے گی؟ کیا وہ اس کے ساتھ برانڈی پیے گی؟ کیا اس کے بال کٹے ہوئے ہیں؟ پھرفوراً اس کا ضمیر جاگا جس نے اس کو لعنت ملامت شروع کردی۔ نکاح کا یہ مطلب تھا کہ اس کی شادی ہو چکی تھی۔ صرف ایک مرحلہ باقی تھا کہ وہ اپنی سسرال جائے اور لڑکی کا ہاتھ پکڑ کر لے آئے۔ کیا اس کے لیے یہ واجب تھا کہ ایک بازاری عورت کو اپنی آغوش کی زینت بنائے۔ خم کے خم لنڈھاتا پھرے۔ جمیل بہت خفیف ہوا اور اسی خفت میں اس کی آنکھیں مندنا شروع ہو گئیں اور وہ سو گیا۔ تارہ بھی تھوڑی دیر کے بعد خواب غفلت کے مزے لینے لگی۔ جمیل نے کئی بے ربط، اوٹ پٹانگ خواب دیکھے۔ کوئی دو گھنٹے کے بعد جب کہ ایک بہت ہی ڈراؤنا خواب دیکھ رہا تھا، وہ ہڑبڑا کے اٹھا۔ جب اچھی طرح آنکھیں کھلیں تو اس نے دیکھا کہ وہ ایک اجنبی کمرے میں ہے اور اس کے ساتھ الف ننگی لڑکی لیٹی ہے۔ لیکن تھوڑی ہی دیر کے بعد واقعات آہستہ آہستہ اس کے دماغ کی دھند چیر کر نمودار ہونے لگے۔ وہ خود بھی الف ننگا تھا۔ بوکھلاہٹ میں اس نے الٹا پاجامہ پہن لیا، مگر اس کو احساس نہ ہوا۔ کرتا پہن کر اس نے جیبیں ٹٹولیں۔ نوٹ سب کے سب موجود تھے۔ اس نے سوڈا کھولا اور ایک پیگ بنا کر پیا۔ پھر اس نے تارہ کو ہولے سے جھنجھوڑا۔

’’اٹھو!‘‘

تارہ آنکھیں ملتی اٹھی۔ جمیل نے اس سے کہا

’’کپڑے پہن لو!‘‘

تارہ نے کپڑے پہن لیے۔ باہر گہری شام رات بننے کی تیاریاں کررہی تھی۔ جمیل نے سوچا، اب کُوچ کرنا چاہیے۔ لیکن وہ تارہ سے کچھ پوچھنا چاہتا تھا، کیوں کہ بہت سی باتیں اس کے ذہن سے نکل گئیں تھیں۔

’’کیوں تارہ جب ہم لیٹے۔ میرا مطلب ہے جب میں نے تم سے کپڑے اتارنے کو کہا تو اس کے بعد کیا ہوا؟‘‘

تارہ نے جواب دیا۔

’’کچھ نہیں۔ آپ نے اپنے کپڑے اتارے اور میرے بازو پر ہاتھ پھیرتے پھیرتے سو گئے۔ ‘‘

’’بس؟‘‘

’’ہاں۔ لیکن سونے سے پہلے آپ دو تین مرتبہ بڑبڑائے اور کہا۔

’’میں گنہگار ہوں۔ میں گنہگار ہوں۔ ‘‘

یہ کہہ کر تارہ اٹھی اور اپنے بال سنوارنے لگی۔ جمیل بھی اٹھا۔ گناہ کا احساس دبانے کے لیے اس نے ڈبل پیگ اپنے حلق میں جلدی جلدی انڈیلا۔ بوتل کو کاغذ میں لپیٹا اور دروازے کی طرف بڑھا۔ تارہ نے پوچھا۔

’’چلے؟‘‘

’’ہاں، پھر کبھی آؤں گا۔ ‘‘

یہ کہہ کر وہ لوہے کی پیچ دار سیڑھیوں سے نیچے اتر گیا۔ بڑے بازار کی طرف اس کے قدم اٹھنے ہی والے تھے کہ ہارن بجا اس نے مڑ کر دیکھا تو ایک ٹیکسی کھڑی تھی۔ اس نے کہا چلو، اچھا ہوا، یہیں مل گئی۔ پیدل چلنے کی زحمت سے بچ گئے۔ اس نے ڈرائیور سے پوچھا۔

’’کیوں بھائی خالی ہے؟‘‘

ڈرائیور نے جواب دیا۔

’’خالی ہے کا کیا مطلب۔ لگی ہوئی ہے!‘‘

’’تو پھر۔ ‘‘

یہ کہہ کر جمیل مڑا، لیکن ڈرائیور نے اس کو پکارا۔

’’کدھر جاتا ہے سیٹھ؟‘‘

جمیل نے جواب دیا۔

’’کوئی اور ٹیکسی دیکھتا ہوں۔ ‘‘

ڈرائیور باہر نکل آیا۔

’’مستک تو نہیں پھرے لا۔ یہ ٹیکسی تمہیں نے تو لے رکھی یہ!‘‘

جمیل بوکھلا گیا۔

’’میں نے؟‘‘

ڈرائیور نے بڑے گنوار لہجے میں اس سے کہا۔

’’ہاں تو نے۔ سالا دارو پی کرسب کچھ بھول گیا۔ ‘‘

اس پر تُو تُو میں میں شروع ہوئی۔ ادھر ادھر سے لوگ اکٹھے ہو گئے۔ جمیل نے ٹیکسی کا دروازہ کھولا اور اندر بیٹھ گیا۔

’’چلو!‘‘

ڈرائیور نے ٹیکسی چلائی۔

’’کدھر؟‘‘

جمیل نے کہا۔

’’پولیس اسٹیشن!‘‘

ڈرائیور نے اس پر جانے کیا واہی تباہی بکی۔ جمیل سوچ میں پڑ گیا۔ جو ٹیکسی اس نے لی تھی، اس کا بل جو اڑتیس روپے تھا، اس نے ادا کردیا تھا۔ اب یہ نئی ٹیکسی کہاں سے آن ٹپکی۔ گو وہ نشے کی حالت میں تھا مگر وہ یقینی طور پر کہہ سکتا تھا کہ یہ وہ ٹیکسی نہیں تھی، اور نہ یہ ڈرائیور وہ ڈرائیور جو اسے یہاں لایا تھا۔ پولیس اسٹیشن پہنچے۔ جمیل کے قدم بہت بری طرح لڑکھڑا رہے تھے۔ سب انسپکٹر جو اس وقت ڈیوٹی پر تھا، فوراً بھانپ گیا کہ معاملہ کیا ہے۔ اس نے جمیل کو کرسی پر بیٹھنے کے لیے کہا۔ ڈرائیور نے اپنی داستان شروع کردی جو سرتاپا غلط تھی۔ جمیل یقیناً اس کی تردید کرتا مگر اس میں زیادہ بولنے کی ہمت نہیں تھی۔ سب انسپکٹر سے مخاطب ہو کر اس نے کہا۔

’’جناب! میری سمجھ میں نہیں آتا۔ یہ کیا قصہ ہے، جو ٹیکسی میں نے لی تھی، اس کا کرایہ میں نے اڑتیس روپے ادا کردیا تھا۔ اب معلوم نہیں کہ یہ کون ہے اور مجھ سے کیسا کرایہ مانگتا ہے؟‘‘

ڈرائیور نے کہا۔

’’حضور انسپکٹر بہادر! یہ دارو پئے ہے۔ ‘‘

اور ثبوت کے طور پر اس نے جمیل کی برانڈی کی بوتل میز پر رکھ دی۔ جمیل جھنجھلا گیا۔

’’ارے بھئی! کون سؤر کہتا ہے کہ اس نے نہیں پی۔ سوال تو یہ ہے کہ آپ کہاں سے تشریف لے آئے۔ ‘‘

سب انسپکٹر شریف آدمی تھا۔ کرایہ ڈرائیور کے حساب سے بیالیس روپے بنتا تھا۔ اس نے پندرہ روپے میں فیصلہ کردیا۔ ڈرائیور بہت چیخا چلایا مگر سب انسپکٹر نے اس کو ڈانٹ ڈپٹ کر تھانے سے نکلوا دیا۔ پھر اس نے ایک سپاہی سے کہا کہ وہ دوسری ٹیکسی لائے۔ ٹیکسی آئی تو اس نے ایک سپاہی جمیل کے ساتھ کردیا کہ وہ اسے گھر چھوڑ آئے۔ جمیل نے لکنت بھرے لہجے میں اس کا بہت بہت شکریہ ادا کیا اور پوچھا۔

’’جناب کیا یہ گرانٹ روڈ پولیس اسٹیشن ہے؟‘‘

سب انسپکٹر نے زور کا قہقہہ لگایا اور پیٹ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔

’’مسٹر! اب ثابت ہو گیا کہ تم نے خوب پی رکھی ہے۔ یہ کولابہ پولیس اسٹیشن ہے۔ جاؤ، اب گھر جا کر سو جاؤ۔ ‘‘

جمیل گھر جا کے کھانا کھائے اور کپڑے اتارے بغیر سو گیا۔ برانڈی کی بوتل بھی اس کے ساتھ سوتی رہی۔ دوسرے روز وہ دس بجے کے قریب اٹھا۔ جوڑ جوڑ میں درد تھا۔ سر میں جیسے بڑے بڑے و زنی پتھر تھے۔ منہ کا ذائقہ خراب۔ اس نے اٹھ کر دو تین گلاس فروٹ سالٹ کے پیے، چار پنچ پیالے چائے کے۔ تب کہیں شام کو جا کر طبیعت کسی قدر بحال ہوئی اور اس نے خود کو گزشتہ واقعات کے متعلق سوچنے کے قابل محسوس کیا۔ بہت لمبی زنجیر تھی۔ ان میں سے بعض کڑیاں تو سلامت تھیں، مگر بعض غائب۔ واقعات کا تسلسل شروع سے لے کر گرین ہوٹل اور وہاں سے لے کر کولابہ تک بالکل صاف تھا۔ اس کے بعد جب نٹور کے ساتھ خاص وادی کی سیاحی شروح ہوئی تھی، معاملہ گڈمڈ ہو جاتا تھا۔ چند جھلکیاں دکھائی دیتی تھیں۔ بڑی واضح، مگر فوراً مبہم پرچھائیوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا تھا۔ وہ کیسے اس لڑکی کے گھر پہنچا۔ اس کا نام جمیل کے حافظے سے پھسل کر جانے کس کھڈ میں جا گرا تھا۔ اس کی شکل و صورت اسے البتہ بڑی اچھی طرح یاد تھی۔ وہ اس کے گھر کیسے پہنچا تھا۔ یہ جاننا بہت اہم تھا۔ اگر جمیل کا حافظہ اس کی مدد کرتا تو بہت سی چیزیں صاف ہو جاتیں۔ مگر بصد کوشش وہ کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکا۔ اور یہ ٹیکسیوں کا کیا سلسلہ تھا۔ اس نے پہلی کوتوچھوڑ دیا تھا، مگر وہ دوسری کہاں سے ٹپک پڑی تھی؟ سوچ سوچ کے جمیل کا دماغ پاش پاش ہو گیا۔ اس نے محسوس کیا کہ جتنے وزنی پتھر تھے، سب آپس میں ٹکرا ٹکرا کر چُور چُور ہو گئے ہیں۔ رات کو اس نے برانڈی کے تین پیگ پئے، تھوڑا سا ہلکا کھانا کھایا اور گزشتہ واقعات کے متعلق سوچتاسوچتا سو گیا۔ وہ ٹکڑے جو گم ہو گئے تھے، ان کو تلاش کرنا اب جمیل کا شغل ہو گیا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ جو کچھ اس روز ہوا، من و عن اس کی آنکھوں کے سامنے آجائے اور یہ روز روز کی مغزپاشی دور ہو۔ اس کے علاوہ اس کو اس بات کا بھی بڑا قلق تھا کہ اس کا گناہ نامکمل رہ گیا۔ وہ سوچتا یہ ادھورا گناہ جائے گا کس کھاتے میں۔ وہ چاہتا تھا کہ بس ایک دفعہ اس کی بھی تکمیل ہو جائے۔ مگر تلاش بسیار کے باوجود وہ پہاڑی بنگلوں جیسا مکان جمیل کی آنکھوں سے اوجھل رہا۔ جب وہ تھک ہار گیا تو اس نے ایک دن سوچا کہ یہ سب خواب ہی تو نہیں تھا! مگر خواب کیسے ہو سکتا تھا۔ خواب میں آدمی اتنے روپے تو خرچ نہیں کرتا۔ اس روز اس کے کم از کم ڈھائی سو روپے خرچ ہوئے تھے۔ پیر صاحب سے اس نے نٹور کے متعلق پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ وہ اس روز کے بعد دوسرے دن ہی سمندر پار کہیں چلا گیا ہے۔ غالباً موتیوں کے سلسلے میں۔ جمیل نے اس پر ہزار لعنتیں بھیجیں اورا پنی تلاش شروع کردی۔ اس نے جب اپنے حافظے پر بہت زور دیا تو اسے بنگلے کی دیوار کے ساتھ پیتل کی ایک پلیٹ نظر آئی۔ اس پرکچھ لکھا تھا۔ غالباً۔ ڈاکٹر۔ ڈاکٹر بیرام جی۔ آگے جانے کیا۔ ایک دن کولابہ کی گلیوں میں چلتے چلتے آخر وہ ایک ایسی گلی میں پہنچا جو اس کو جانی پہچانی معلوم ہوئی۔ دو رویہ اسی قسم کی بنگلہ نما عمارتیں تھیں۔ ہر عمارت کے باہر چھوٹے چھوٹے پیتل کے بورڈ لگے تھے۔ کسی پر چار کسی پر پانچ۔ کسی پر تین۔ وہ ادھر ادھر غور سے دیکھتا چلا جارہا تھا، مگر اس کے دماغ میں وہ خط گھوم رہا تھا جو صبح اس کی ساس کی طرف سے موصول ہوا تھا کہ اب انتظار کی حد ہو گئی ہے۔ میں نے تاریخ مقرر کردی ہے، آؤ اور اپنی دلہن کو لے جاؤ۔ اور وہ ادھر ایک نامکمل گناہ کومکمل بنانے کی کوشش میں مارا مارا پھر رہا تھا۔ جمیل نے کہا۔

’’ہٹاؤ جی اس وقت۔ پھرنے دو مارا مارا۔ ایک دم اس نے اپنا داہنے ہاتھ پیتل کا ایک چھوٹا سا بورڈ دیکھا۔ اس پر لکھا تھا۔ ڈاکٹر ایم بیرام جی۔ ایم ڈی۔ جمیل کانپنے لگا۔ یہ وہی بلڈنگ۔ بالکل وہی۔ وہی رنگ، وہی بل کھاتی ہوئی آہنی سیڑھیاں۔ جمیل بے دھڑک اوپر چلا گیا۔ اس کے لیے اب ہر چیز جانی پہچانی تھی۔ کوریڈور سے نکل کر اس نے سامنے والے دروازے پر دستک دی۔ ایک لڑکے نے دروازہ کھولا۔ اسی لڑکے نے جو اس روز سوڈا اور برف لایا تھا۔ جمیل نے ہونٹوں پر مصنوعی مسکراہٹ پیدا کرتے ہوئے اس سے پوچھا۔

’’بیٹا، بائی جی ہیں؟‘‘

لڑکے نے اثبات میں سر ہلایا۔

’’جی ہاں!‘‘

’’جاؤ، ان سے کہو، صاحب ملنے آئے ہیں۔ ‘‘

جمیل کے لہجے میں بے تکلفی تھی۔ لڑکا دروازہ بھیڑ کر اندر چلا گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد دروازہ کھلا اور تارہ نمودار ہوئی۔ اس کو دیکھتے ہی جمیل نے پہچان لیا کہ وہ لڑکی ہے، مگر اب اس کی ناک پر پھنسی نہیں تھی۔

’’نمستے!‘‘

’’نمستے! کہیے مزاج کیسے ہیں؟‘‘

یہ کہہ کر اس نے اپنے کٹے ہوئے بالوں کو ایک خفیف سا جھٹکا دیا۔ جمیل نے جواب دیا۔

’’اچھے ہیں۔ میں پچھلے دنوں بہت مصروف رہا، اس لیے آ نہ سکا۔ کہو، پھر کیا ارادہ ہے؟‘‘

تارہ نے بڑی سنجیدگی سے کہا۔

’’معاف کیجیے، میری شادی ہو چکی ہے۔ ‘‘

جمیل بوکھلا گی۔

’’شادی۔ کب؟‘‘

تارہ نے اسی سنجیدگی سے جواب دیا۔

’’جی، آج صبح۔ آئیے میں آپ کو اپنے پتی سے ملاؤں۔ ‘‘

جمیل چکرا گیا اور کچھ کہے سنے بغیر کھٹا کھٹ نیچے اتر گیا۔ سامنے ٹیکسی کھڑی تھی۔ جمیل کا دل ایک لحظے کے لیے ساکت سا ہو گیا۔ تیز قدم اٹھاتا، وہ بڑے بازار کی طرف نکل گیا۔ معاً جمیل کو جاتے دیکھ کرڈرائیور نے زور سے کہا۔

’’سیٹھ صاحب ٹیکسی!‘‘

جمیل نے جھنجھلا کر کہا۔

’’نہیں کم بخت، شادی!‘‘

سعادت حسن منٹو

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں