ہمارے بچے کوئی کام نہیں کرتے،کیسے سکھائیں؟ماہرین نے حل بتا دیا

بچے

ہمارے یہاں اکثر ماؤں کو شکایت ہوتی ہے کہ ان کے بچے اپنے کمرے کو بے ترتیب رکھتے ہیں، اپنا کوئی کام نہیں کرتے اور معمولی سے کام کے لیے بھی انہیں امی یا بہن کی مدد درکار ہوتی ہے۔

یہ عادت نوجوانی تک ساتھ رہتی ہے اور کئی افراد بڑے ہونے کے بعد بھی اپنا کوئی ذاتی کام تک ڈھنگ سے انجام نہیں دے پاتے۔

دارصل مائیں شروع میں تو لاڈ پیار میں بچوں کے سارے کام انجام دے دیتی ہیں لیکن عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ انہیں یہ کام کرنا مشکل معلوم ہوتا ہے اور اس وقت انہیں معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے بچے کو نہایت بدسلیقہ اور کاہل بنا دیا ہے۔

ایسے بچے اس وقت پریشانی کا شکار بھی ہوجاتے ہیں جب انہیں ملک سے باہر اکیلے رہنا پڑے اور سارے کام خود کرنے پڑیں تب انہیں بھی احساس ہوتا ہے انہیں تو کچھ کرنا نہیں سکھایا گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بچوں کو بچپن ہی سے نظم و ضبط میں رہنے کی عادت سکھائی جائے تو وہ آگے اپنی زندگی میں بہت سی مشکلات سے بچ جاتے ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بچوں کو کس طرح سے گھر کے کام سکھائیں جائیں؟ آسٹریلیا میں رہنے والی ایک خاتون جینی اس کا بہت شاندار طریقہ تجویز کرتی ہیں۔

جینی 16 عدد بچوں کی والدہ ہیں، جی ہاں 16 بچے۔ جینی کا کہنا تھا کہ جب ان کے بچوں کی تعداد 7 ہوگئی تو انہوں نے سوچا کہ وہ تو سارا وقت ان کے کام کرنے میں مصروف رہیں گی اور ان کی زندگی میں کچھ باقی نہیں بچے گا۔

چنانچہ انہوں نے سوچا کہ وہ بچوں کو بھی اپنے ساتھ کاموں میں مصروف کریں۔

جینی کا کہنا تھا کہ اتنے سارے بچوں کی موجودگی کے باعث وہ انفرادی طور پر کسی پر توجہ نہیں دے سکتیں تھیں اور انہیں ڈر تھا کہ جب بچے بڑے ہو کر خود مختار زندگی گزاریں گے تو ان کے لیے زندگی مشکل ہوگی۔

اب جبکہ جینی کے گھر میں 4 سے 28 سال تک کی ہر عمر کے افراد موجود ہیں، تو ان کے گھر میں ایک ہفتہ وار شیڈول تیار کیا جاتا ہے۔ اس شیڈول میں ہر شخص کو کام دیے جاتے ہیں کہ کس دن اس نے کون سا کام سر انجام دینا ہے۔

یہ شیڈول دیوار پر ٹانگ دیا جاتا ہے۔ ہر شخص کو ہر بار نئے کام دیے جاتے ہیں تاکہ ہر بچہ تمام کام کرنا سیکھ جائے۔

جینی کی اس حکمت عملی کی بدولت اب ان کا 12 سالہ بیٹا 20 افراد کے لیے باآسانی ڈنر تیار کرسکتا ہے اور اسے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں پڑتی۔

جینی کا کہنا ہے کہ جب بچے چھوٹے تھے تب انہیں سکھانے کی ضرورت پڑی تھی، اب بڑے بچے چھوٹے بچوں کو سکھاتے ہیں یوں تمام کام باآسانی انجام پاجاتے ہیں۔اور تو اور کیھل کیھل میں وہ کام کا طریقہ جان جاتے ہیں

جینی دوسری ماؤں کو بھی یہی حکمت عملی اپنانے کا مشورہ دیتی ہے۔ وہ اپنے بچوں پر فخر کرتی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ نہ صرف ان کے بچے عملی زندگی میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہے ہیں، بلکہ وہ گھر کے کاموں میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔

کیا آپ اس حکمت عملی پر عمل کرنا چاہیں گے؟

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں