بی آر ٹی پشاور کے لیے عذاب بن گیا ہے، مولانا فضل الرحمان

مولانا فضل الرحمان

پشاور: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ ملک میں سیاستدانوں کے بجائے ٹیکنوکریٹس کی حکومت بنائی جارہی ہے۔

پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ بی آر ٹی پشاور کے لیے عذاب بن گیا ہے اور 30 ارب کا منصوبہ ایک کھرب تک پہنچ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بی آر ٹی کے خلاف مرتب رپورٹس پرعمل درآمد کیوں روکا گیا؟ لگتا ہے کہ ساری دال ہی کالی ہے، گورنر انسپکشن ٹیم کی رپورٹ پر کیا اقدامات ہوئے؟ احتساب صرف اپوزیشن کا ہے۔

حکومت کواپنے ڈائریکشن کا ہی نہیں پتا اورمعیشت کے حوالے سے کوئی سمت نہیں ہے، بلاول

ان کا کہنا ہے کہ ’محسوس ہوتا ہے ملک میں سیاسی حکومت کے بجائے ٹیکنوکریٹس کی حکومت بنائی جارہی ہے اور منتخب نمائندوں کی جگہ نامزد لوگوں کے ذریعے حکومت چلائی جارہی ہے، اس وقت ضروری ہے کہ عمران خان مستعفیٰ ہوں‘۔

سربراہ جے یو آئی کا کہناتھا کہ ملک کی معیشت کی کشتی ہچکولے کھارہی ہے لیکن اس کو سہارا دینے والا کوئی نظر نہیں آرہا، مہنگائی آخری حد تک پہنچ گئی ہے اور مہنگائی سے عام آدمی کراہ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آصف زرداری چور تھا تو ان کے دور کے وزیر خزانہ حفیظ شیخ کو کابینہ میں کیوں لیا؟ اب حفیظ شیخ ’امرت دھارا‘ بن گیا ہے تو ملک کی معیشت ٹھیک کرے گا لیکن کیسے کرے گا؟ لہٰذا ایک ہی حل ہے کہ اس حکومت کو مستعفیٰ ہونا چاہئے اور اپوزیشن دوبارہ انتخابات پر متفق ہے۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ صدارتی نظام پاکستان کی تاریخ میں ڈیکٹیٹرشپ کی علامت ہے اور روز ایسے تجربے نہیں کرنے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ رمضان کے بعد بڑا فیصلہ آئےگا اور اسلام آباد کا لاک ڈاون کریں گے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں