کیکڑا ون: ذخائر نہ ملنا ’مکمل ناکامی نہیں‘

مسعود رضوانین

منزہ انوار

پاکستان کے ساحلی شہر کراچی کے قریب گہرے سمندر میں تیل اور گیس کے ذخائر نہیں مل سکے ہیں اور کیکڑا ون سائٹ پر ڈرلنگ کا کام بند کر دیا گیا ہے۔

وزیرِ اعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے پیٹرولیم ندیم بابر نے ایک نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ کیکڑا ون کے مقام پر 5500 میٹر سے زیادہ گہرائی تک ڈرلنگ کی گئی تاہم گیس یا تیل کے ذخائر نہیں مل سکے اور آنے والے چند دنوں میں اس کنویں کو بند کر دیا جائے گا۔

اس منصوبے پر کام کرنے والوں کی جانب سے دی گئی ابتدائی اطلاعات کی روشنی میں وزیرِاعظم عمران خان نے بھی اس سے امیدیں جوڑ لی تھیں اور ’بہت جلد عوام کو خوش خبری کی نوید‘ سنا دی تھی۔

حتیٰ کہ جس دن ڈرلنگ بند کرنے کے فیصلے کا اعلان کیا گیا اسی دن پشاور میں شوکت خانم کے افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہو سکتا ہے کہ اس گیس کے کنویں سے اتنا بڑا گیس کا ذخیرہ ملے کہ پاکستان کو اگلے 50 سال تک کسی سے منگوانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔‘

مبصرین اور تجزیہ کارو کے خیال میں اس منصوبے کے بارے میں ہی بنیادی طور پر حکومتی جماعت نے مبالغہ آرائی سے کام لیا اور بڑے بڑے دعوے کیے جس کی وجہ سے عام پاکستانیوں نے اس منصوبے سے غیر معمولی امیدیں وابستہ کر لی تھیں۔

اس صورتحال میں بی بی سی اردو نے اس آف شور ڈرلنگ سے متعلق تفصیلات جاننے کے لیے آئل اینڈ گیس انڈسٹری سے وابستہ چند ماہرین سے بات کی اور یہ پوچھا کہ اس منصوبے کی ناکامی کی وجوہات کیا ہو سکتی ہیں۔

ڈیپ آف شور ڈرلنگ کیا ہوتی ہے؟
سمندر کے اندر کی جانے والی ڈرلنگ کو آف شور ڈرلنگ کہا جاتا ہے۔

برٹش پیٹرولیم کے سابق اہلکار اور آئل اینڈ گیس انڈسٹری کے ماہر جاوید اختر خان کہتے ہیں ’ڈیپ آف شور ڈرلنگ سے مراد ہے گہرے سمندر میں کھدائی۔‘

وہ کہتے ہیں کہ آف شور اور آن شور ڈرلنگ میں کوئی فرق نہیں، دونوں کا طریقہِ کار ایک جیسا ہوتا ہے، مگر آف شور میں دوسری مشینری استعمال ہوتی ہے جنھیں ’فلوٹنگ ڈرلز‘ کہتے ہیں۔ جبکہ آن شور میں فکس مشینری استعمال ہوتی ہے۔

او جی ڈی سی ایل کے ڈائریکٹر آپریشنز احمد حیات لک کا کہا کہنا ہے ’ہم نے 5000 میٹر تک جانا تھا، بعد میں ہم نے اسے ’الٹرا ڈیپ‘ میں اسے لیے شمار کیا کیونکہ ہم اس سے بہت نیچے چلے گئے تھے۔‘

او جی ڈی سی ایل کے سابق مینیجنگ ڈائریکٹر ریاض خان اس عمل کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتے ہیں ’پہلے ایسی مشینری کا استعمال کر کے سروے کیا جاتا ہے جس سے یہ پتہ چل سکے کہ کہاں چٹان ہے، کس پتھر کی موٹائی کتنی ہے، اور کہاں تک ہمیں تیل اور گیس کے ذخائر مل سکتے ہیں۔

’انھوں نے جو سروے کیا تھا اس میں ان کا اندازہ 5000-56000 میٹر نیچے تک کا تھا کہ وہاں پر کچھ ذخیرہ مل سکتا ہے۔ جب تک آپ ڈرلنگ نہ کر لیں یہ بیسٹ ایسٹیمیٹںس (بہترین اندازے) ہوتے ہیں۔‘

ڈیپ آف شور ڈرلنگ کی کامیابی کی شرح دنیا بھر میں کیا ہے؟

احمد حیات لک کہتے ہیں ’دنیا بھر میں تو کامیابی کی شرح صرف 10 فیصد ہوتی ہے، اگر 10 کنویں کھودیں اور ان میں سے ایک کنویں میں بھی ذخیرہ مل جائے تو اسے کامیابی گنا جاتا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں پاکستان میں آن شور میں اس کی شرح تین میں سے ایک ہے ’ایوریج تو ہماری بہت اچھی ہے لیکن ہمارے ہاں جو دریافتیں ہوتی ہیں ان کا سائز بہت چھوٹا ہوتا ہے۔‘

کیکڑا ون کے بارے میں بتاتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ اس کی کامیابی کا امکان ابتدائی اندازوں کے مطابق 13 سے 15 فیصد کے درمیان تھا۔

ڈرلنگ کے دوران کیا واقعات پیش آئے؟
اسی بارے میں بات کرتے ہوئے آئل اینڈ گیس انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے ایک اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا ’عام طور پر پانچ فیصد بھی امکانات ہوں تو ڈرلنگ شروع کر دی جاتی ہے۔ یہاں 20 فیصد امکان تھا۔‘

یاد رہے کہ اطلاعات کے مطابق ڈرلنگ کے دوران 4,799 میٹر کی گہرائی پر پہنچنے پر کہا گیا تھا کہ بہت ہائی پریشر محسوس کیا گیا ہے جس سے مٹی ضائع ہو گئی ہے اور خطرات کے پیشِ نظر کنواں بند کر دیا گیا تھا۔ 3100 میٹر پر بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

ان کے مطابق ’یہ اسے پلگ اور سائیڈ ٹریک کر کے کہیں اور جا نکلے جو بہت غیر معمولی بات ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’ظاہر ہے صرف ٹیکنیکل معاملات نہیں ہوتے اور بھی ایشوز ہوتے ہیں۔‘

200 میٹر مزید کھدائی کے بارے میں وہ کہتے ہیں ’5500 میٹر پر اگر کچھ نہیں ملا تو مزید 200 میٹر پر کیا ملے گا؟‘

اسی بارے میں او جی ڈی سی ایل کے سابق مینیجنگ ڈائریکٹر ریاض خان کا کہنا تھا ’ہاکستان کی خوش قسمتی یہ ہے کہ یہاں ہم تین کنویں کھودتے ہیں تو ایک میں سے ذخائر نکل آتے ہیں۔‘

انڈیا اور لیبیا کے بارے میں بتاتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ انڈیا نے 40 کنویں کھودے جن میں سے کچھ نہیں نکلا اور بعد میں جا کر انھیں کامیابی ملی۔ اسی پر لیبیا کو 50 سے زیادہ کنویں کھودنے کے بعد کامیابی ملی۔

’ناروے میں بھی جسے ہم نارتھ سی کہتے ہیں، انھوں نے تقریباً 10 سال لگائے اور 70 سے زیادہ کنویں کھودنے کے بعد انھیں کامیابی ملی۔‘

ریاض خان کہتے ہیں ہمیں ایک قوم کے طور پر اسے اتنا سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے اور اس بزنس کو سمجھنا چاہیے ’یہ ہائی رسک اور ہائی ریوارڈ بزنس ہوتا ہے۔‘

’یہ نہیں کہہ سکتے کہ ذخائر نہیں ملے‘
آئل اینڈ گیس انڈسٹری کے ماہر جاوید اختر خان کہتے ہیں کہ تیل اور گیس کے ذخائر کی تلاش میں جو چیز کامیابی کا تعین کرتی ہے وہ ہائیڈرو کاربن ہے۔

’جتنی بھی گہرائی میں آپ ڈرل کرتے ہیں تو ہر جگہ کچھ ہائیڈرو کاربن تو آپ کو ملتے ہیں مگر وہ تجارتی لحاظ سے فائدہ مند نہیں ہوتے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ جو چیز تجارتی لحاظ سے فائدہ مند ہوتی ہے وہی کامیاب تصور کی جاتی ہے۔

کیکڑا ون پروجیکٹ کے بارے میں وہ کہتے ہیں ’شروع کے نتائج تو بہت اچھے تھے لیکن جب کھدائی کی گئی تو کہانی بدل گئی۔‘

جاوید اختر خان اسے پروجیکٹ کی ناکامی نہیں مانتے۔ ان کے مطابق ’کیکڑا ون کے آس پاس کے علاقوں میں کافی دفعہ کافی کمپنیوں نے کوشش کی ہے لیکن پہلی بار کیکڑا ون پر ڈرلنگ کی گئی۔‘

وہ کہتے ہیں ’پہلے میں تو ہائیڈرو کاربن اتنی بھی نہیں ملی تھی جتنی اس بار ملی لیکن مجھے نتائج پر حیرت ہوئی ہے، یقیناً یہاں کچھ گڑبڑ ہے ایسا نہیں ہو سکتا کہ بالکل ہی کچھ بھی نہ ملا ہو۔‘

ڈیپ آف شور ڈرلنگ پر کتنی لاگت آتی ہے؟
جاوید اختر کہتے ہیں ’ڈیپ آف شور ڈرلنگ زمین پر ڈرلنگ کے مقابلے میں تین گنا زیادہ مہنگی ہوتی ہے۔‘

احمد حیات لک کہتے ہیں اس پروجیکٹ کا ابتدائی تخمینہ تقریباً 70 سے 75 ملین ڈالر کے درمیان تھا جو 100 ملین ڈالر تک چلا گیا۔

یاد رہے کیکڑا ون پروجیکٹ پر ڈرلنگ کا عمل بنیادی طور پر اطالوی کمپنی اے این ایل نے شروع کیا تھا جو کیکڑا ون کی آپریٹر کمپنی ہے۔

اطالوی کمپنی اے این ایل کے علاوہ اس کنویں کی شراکت داری میں تین اور کمپنیاں امریکی کمپنی ایگزون موبل اور دو پاکستانی کمپنیاں او جی ڈی سی ایل اور پی پی ایل بھی شامل ہیں۔

احمد حیات لک کہتے ہیں تمام کمپنیاں اس پروجیکٹ میں فی کس 25 فیصد کے حساب سے شراکت دار ہیں لہٰذا سب مل کر اس کے اخراجات اٹھائیں گی۔

کیا یہ منصوبہ ناکام رہا اور پاکستان کو اس منصوبے سے کیا حاصل ہوا؟

وائلڈ کیٹ کنویں مہنگے ہوتے ہیں کیونکہ ان کی ڈرلنگ کے لیے انفراسٹکچر محدود ہوتا ہے (فائل فوٹو)
احمد حیات لک اسے ایک ناکامی نہیں مانتے ان کا کہنا تھا ’اس میں ہماری جو کامیابی ہے وہ یہ ہے کہ جس ٹارگٹ گہرائی تک آپ نے جانا تھا، آپ نے ایک ریزروائر مارک کیا ہوا تھا، آپ وہاں تک پہنچے ہیں اور وہ کاربونیٹڈ ریزروائر تھا لیکن اس کے اندر پانی تھا۔

’ہائیڈرو کاربن ہم نے ہٹ نہیں کیے لیکن جو ڈیٹا ہم نے اکٹھا کر لیا ہے وہ بہت کارآمد ہوگا۔‘

ریاض خان بھی اسے ناکامی نہیں مانتے ان کا کہنا تھا ’جب بھی آپ ڈرلنگ کرتے ہیں اس میں بہت سا ڈیٹا اکٹھا ہوتا ہے۔ اور اس دوران جو ڈیٹا اکٹھا ہوا ہے وہ مستقبل میں کسی اور کنویں کی کھدائی میں بہت کارآمد ہو گا۔ یہ ڈیٹا رفائن ہو کر زیادہ بہتر طریقے سے کنویں کی کھدائی میں مدد دے گا۔‘

کنوؤں کے بارے میں چند حقائق:
کنویں دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وائلڈ کیٹ اور دوسرے کو پروڈکشن ڈیولپمنٹ کہہ سکتے ہیں۔

وائلڈ کیٹ ڈرلنگ ایسے علاقے میں کی جاتی ہے جہاں اس علاقے کے ارضیاتی جائزے اور سیزمک سرویز کے مطابق ایک مخصوص عرصے کے لیے ممکنہ زیرِزمین ذخائر کی موجودگی کے نشان ملتے ہیں۔

وائلڈ کیٹ کنویں مہنگے ہوتے ہیں کیونکہ ان کی ڈرلنگ کے لیے انفراسٹرکچر محدود ہوتا ہے اور ان میں خطرہ بھی ہوتا ہے کیونکہ یہ سطح سے لگائے گئے اندازوں کی بنیاد پر کھودے جاتے ہیں۔

پروڈکشن ڈیویلپمنٹ کنویں میں ایک ایسی فیلڈ میں ڈرلنگ کی جاتی ہے جس کے بارے میں معلومات ہوتی ہیں اور عام طور پر کھدائی کا کام کافی عرصے تک چلتا ہے۔

حال ہی میں آنے والی تھری ڈی سیسمک سروے کا استعمال کرتے ہوئے ایک ایسے خاص علاقے میں سوراخ کیا جاتا ہے جسے دوسرے کنویں خشک نہ کر چکے ہوں اور جو چڑھائی سے تھوڑا سا اوپر ہو۔

اس کے دو فائدے ہوتے ہیں، ایک تو آپ کے پاس تھری ڈی سیسمک سروے موجود ہوتا ہے دوسرا فیلڈ میں دیگر کنوؤں سے متعلق ریکارڈ ہوتا ہے جن کی مدد سے آپ یہ جان سکتے ہیں کہ زیرِ زمین کیا موجود ہو سکتا ہے۔

اس طرح کے کیسز میں اس بات کا 100 فیصد امکان ہوتا ہے کہ کنویں سے آپ کو نقصانات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ آپ کو بہت سی چیزوں کا پہلے سے علم ہوتا ہے۔

بشکریہ بی بی سی

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں