خان صاحب۔۔۔ کون غریب 25 لاکھ کا گھر خریدے گا؟

خان صاحب ۔۔۔ 50 لاکھ گھر کیسے بنیں گے؟

اخبار کے دفتر میں کام کرنا اور میں۔۔۔ خوامخواہ کی حب الوطنی نکل نکل کر باہر آ رہی ہوتی ہے۔ کئی دفعہ تو نیوز پوسٹنگ کرتے کرتے چھوڑ کر دعائیں شروع کر دیتی ہوں، “یا اللہ! میرے ملک کو سنوار دے” . آپ confidence چیک کریں میرا۔۔۔ جیسے اللہ نے 22 کروڑ عوام کے حق میں میری ہی دعا تو سننی ہو۔

میں خیالی طور پر پاکستان کے مسائل اور عوام کا درد عمران خان صاحب کے کندھوں پر ڈال کر دوبارہ کام پر لگ جاتی ہوں اور خود کو سمجھاتی ہوں “میں خان صاحب نہیں ہوں۔ بھلا خان صاحب کو کس نے کہا تھا کہ سیاست میں آئیں۔ 23 سال ضائع کریں۔ 50 لاکھ گھر اور 1 کروڑ نوکریوں دینے کا وعدہ کریں۔ ریاست مدینہ کا خواب دکھائیں۔ 70 سالوں سے بھوک و افلاس، قرض و مہنگائی کی چکی میں پستی قوم کو۔ خیر وزیراعظم جاننے اور ان کا کام۔۔۔

پچھلے جمعے امی کے گھر گئی۔ ابو، امی اور بہن بھائیوں کے ساتھ بیٹھک ہوئی۔ میرا حب الوطنی کا کیڑا پھر پھدک کر باہر نکل آیا۔

میں نے ابو سے کہا کہ، ابو مجھے ایسا کیوں لگتا ہے کہ پورے ملک میں عمران خان کے واحد سپورٹرز اور حمایتی آپ اور میں ہی ہیں؟۔ باقی تو پورا ملک اس کے خلاف ہے اور اس کو ناکام ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے؟

ابو نے فورآ میری بات کاٹی، نہیں بیٹا ایسی بات نہیں ہے۔ بے تحاشہ لوگ ہیں جو عمران خان کو آج بھی سپورٹ کررہے ہیں اور اس کے خوابوں پر پر یقین رکھتے ہیں کہ ملک میں تبدیلی آئے گی۔

(اوہ! ابو کو تو آپ جانتے ہی ہوں گے نا؟ چوہدری غلام حسین، جن کو دنیا ان کے بے باک، کھلے ڈُلے انداز، کھری اور سچی باتوں کی وجہ سے جانتے ہیں۔ ان کی سیاسی سمجھ بوجھ کسی سے بھی کم نہیں۔ صحافت سے انکا تعلق 40 سال پرانا ہے اور وہ آج کل ایک چینل میں سینیئر اینکر ہیں)

Twitter Account:- @Chghulamhusain

پھر میں نے ابو سے کہا کہ، میں میڈیا والوں کی جس محفل میں چلی جاؤں ( کیونکہ میرے شوہر کا تعلق بھی میڈیا سے ہے تو میں ان کے ساتھ اکثر پارٹیز میں جاتی رہتی ہوں) صحافیوں کا بس نہیں چل رہا ہوتا کہ وہ عمران خان کو برا بھلا بولنے کی ساری کسر پوری کر دیں۔ وہ تو اس طرح سے ظاہر کر رہے ہوتے ہیں کہ جیسے واقعی عمران صاحب سیلیکڈ وزیر اعظم ہیں اور اسٹیبلشمنٹ بھی عمران خان کو وزیراعظم بنوا کر پچھتا رہی ہے۔

عمران خان پر شائد یہ فرض تھا کہ وہ ایک ہی مہینے میں کوئی جادو کی چھڑی گھماتا۔ کوئی چراغ یا جن بلاتا اور تمام ملکی مسائل حل ہوجاتے۔ اب چونکہ ایسا ہوا نہیں ہے تو سب لوگ اس پارٹی کے مزے کو اپنی طرف سے یا تو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں یا اسکی عمران خان کی برائیاں کر کے مزے لے رہے ہوتے ہیں۔ شائد انکو اسکی برائیاں کر کے تسکین مل رہی ہوتی ہے۔

پھر میں نے اپنے دکھ کو مزید بیان کرتے ہوئے کہا، دیکھیں ابو اب فلاں کسی ویب سائیٹ پر ماہر معاشیات میاں عاطف (جس کو عمران خان نے مذہبی اختلاف اقلیت سے تعلق رکھنے کی وجہ سے اپنی معاشی ٹاسک فورس کا ہیڈ نہیں بنایا) نے بیان دیا ہے کہ کسی بھی معاشی ترقی کی ابتدا میں گھر بنانا کوئی اچھا اقدام نہیں ہے۔ بلکہ وہ اسکی معاشی ترقی کو روک دیتا ہے اور الٹا گلے پڑ جاتا ہے۔ یہ میاں عاطف کا بیان ہے۔ تو کیا واقعی یہ 50 لاکھ گھر عمران خان کو مزید پریشانی میں مبتلا کر دیں گے؟۔

خان صاحب ۔۔۔ 50 لاکھ گھر کیسے بنیں گے؟
PC: scholar.princeton.edu – Mian Atif

جواب میں ابو نے کہا، ہاں پریشانی تو ہے۔ کچھ دن پہلے کسی نے ٹویٹ کیا کہ کونسا ایسا غریب انسان ہو گا جو کہ 25 لاکھ کا گھر خرید پائے گا؟۔

پورے اطمینان سے میری بات سننے کے بعد ابو نے کہا، بیٹا بات یہ ہے کہ ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے۔ بس ہمیں اسے سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

loading...

مثال کے طور پر یہ 50 لاکھ گھر ہی لے لو۔ چلو مان لیا ایک غریب شخص 25 لاکھ کا گھر نہیں خرید سکتا۔ چلو مان لیا کہ 50 لاکھ گھر بنانا بہت مشکل کام ہے۔ لیکن اب یہ ایسی بھی ناممکن بات نہیں ہے۔ اس کے لئے صرف ہوم ورک کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم پاکستان کا کوئی بھی ایک علاقہ اٹھا لیں۔ وہاں پر ایک کمیٹی بنائیں اور وہاں پر پی ٹی آئی کا کوئی قابل اور ہونہار ممبر سربراہ بنے۔ وہ اس علاقے کے تمام گھروں کا سروے کرے۔ ایک پوری ٹیم بنائے۔ وہاں نادرہ سے بھی مدد حاصل کرلے کہ اس علاقے میں کتنے گھر ہیں۔ کتنے خاندان آباد ہیں۔ کتنے لوگوں کے پاس اپنا ذاتی گھر ہے اور کتنوں کے پاس نہیں ہے۔ کن لوگوں کو زیادہ ضرورت ہے گھر کی اور انکا ذریعہ معاش کیا ہے؟۔

خان صاحب۔۔۔آخر کب تک

مثال کے طور پر اگر پانچ خاندان ایسے ہیں کہ جن کے پاس اپنا گھر بھی نہیں ہے اور انکا ذریعہ معاش بھی بہت کم ہے۔ اس طرح اگر انہیں ایک دو مرلے کا ہی گھر مل جائے تو وہ اس پر ہی شکر ادا کریں گے۔ کیونکہ وہ مہینے کا بس ایک دو ہزار ہی نکال سکتے ہیں۔ ان لوگوں کی لسٹ کو الگ کر لیں۔

خان صاحب ۔۔۔ 50 لاکھ گھر کیسے بنیں گے؟
File Photo

کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ جن کا گھر نہیں ہے اور وہ پانچ مرلے کا گھر خریدنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ وہ مہینے کی دس بیس ہزار قسط نکال سکتے ہیں۔ اب ان کی بھی الگ لسٹ بنا لی جائے۔سرویز کر کے لسٹیں تیار کی جائیں اور پھر ان سے فارم فِل کروائے جائیں کہ کون کتنی ماہانہ قسط ادا کر سکتا ہے اور اسے گھر کی کتنی ضرورت ہے۔ پھر اس علاقے میں جتنے بھی گھر درکار ہیں۔ ان کے لئے جتنی زمین چاہیئے۔ پہلے اسکا بندوبست کیا جائے۔ کیونکہ زمین آ گئی سمجھ لو آدھا گھر بن گیا۔ زمین خریدنا ہی اہم مسئلہ ہوتا ہے۔ زمین ہی نہیں ہوتی لوگوں کے پاس۔

اگر حکومت ایسا کرتی ہے۔ تو وہ یقینًا کامیاب ہو جائے گی انشااللہ اور میرا خیال ہے کہ اس طرح آسانی سے 50 لاکھ گھر بنائے جا سکتے ہیں اور اس طرح ہر شخص کو اسکی ضرورت کے مطابق گھر بھی مل جائے گا اور اس پر بوجھ بھی نہیں پڑے گا۔

خان صاحب ۔۔۔ 50 لاکھ گھر کیسے بنیں گے؟
PC: ghar47.com

اتنا آسان حل سن کر میرے چہرے پر مسکراہٹ آگئ۔

(دل ہی دل میں دعائیں کر رہی تھی کہ کاش، یہ حل جلدی سے عمران خان صاحب تک پہنچ جائے. کاش اس پر ایسے ہی عمل درآمد شروع ہو جائے اور ملک حقیقی طور پر ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے۔ ملک میں تبدیلی آجائے۔ اس لئے نہیں کےخان صاحب نےمجھے کوئی تمغہ یا وزارت دینی ہے بلکہ اس لئے کہ بات میری حب الوطنی کی ہے۔ بات میرے پاکستان کی ہے۔ جس کی عمران خان آخری امید ہیں)

خان صاحب ۔۔۔ 50 لاکھ گھر کیسے بنیں گے؟
Nadra

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں