تم کرتی کیا ہو سارا دن!

سارا دن

 گھر میں بچے پالنے والی خواتین کو اکثر فارغ رہنے کا طعنہ ملتا ہے لیکن حقیقت میں وہ کتنا کام کرتی ہیں؟

اس کا اندازہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب آپ ان کی جگہ خود کو رکھ کر سوچیں۔ آسٹریلیا میں ایک شوہر کو اپنی بیوی کے بیمار ہونے پر صرف 48گھنٹے کے لیے اپنے تین بچوں کو سنبھالنا پڑ گیا اور اسے اپنی بیوی کے کام کے بوجھ کا ایسا احساس ہوا کہ اس نے اظہار تشکر کے لیے بیوی کو ایک کھلا خط لکھ ڈالا۔

میل آن لائن کے مطابق میلبرن کی رہائشی 33سالہ لورا میزا نے اپنے شوہر کی طرف سے لکھا گیا خط فیس بک پر پوسٹ کیا ہے جس میں اس کا شوہر لکھتا ہے کہ ”اب مجھے سمجھ آیا کہ رات کو تم نہاتے ہوئے باتھ روم کا دروازہ اندر سے لاک کیوں کرتی ہو۔

اب مجھے احساس ہوا کہ تمہارا کام کتنا تھکا دینے والا ہے اور اس کے بعد رات کو کچھ دیر کے لیے خود کو پرسکون کرنا اور ایک شاور لینا کتنا اہم ہوتا ہے۔ “

لورا کا شوہر مزید لکھتا ہے کہ ”میں ہمیشہ سے بطور ماں تمہارے کام کو بہت اہم سمجھتا تھا لیکن اس کا حقیقی اندازہ مجھے ان 48گھنٹوں میں ہوا جب تمہیں گیسٹرو کا مرض لاحق ہوا اور تم بیڈ پر پڑ گئیں اور مجھے وہ تمام وقت تمہاری جگہ کام کرنا پڑا اور بچے سنبھالنے پڑے۔

تم روزانہ رات کو ہمارے بیڈروم میں میرے ساتھ سوتی تھیں لیکن اٹھتی ہمارے بچوں کے بیڈروم سے تھیں۔ اب مجھے سمجھ آیا کہ ایسا کیوں ہوتا تھا۔ ان 48 گھنٹوں میں ہمارے چھوٹے بیٹے لوکا نے مجھے 18 مرتبہ ایسی جگہ پر لات ماری کہ میں بتا بھی نہیں سکتا۔ ہر بار میں درد سے بلبلا اٹھتا تھا۔

اب مجھے احساس ہوا کہ اس سے پہلے میں جتنا تمہارے کام کے بوجھ کا ادراک رکھتا تھا وہ حقیقت سے کہیں کم تھا۔ میں تمہارا شکرگزار ہوں کہ تم اتنا زیادہ کام کرتی ہو، ہمارے بچے پالتی ہو اور میرے بھی کام کرتی ہو۔“

(Visited 8 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں