روس پاکستان تعلقات اور گوادر پورٹ

روس پاکستان تعلقات اور گوادر پورٹ

روس نے “گوادر پورٹ” کے زریعے گرم پانیوں تک رسائی مانگی ہے، بدلے میں “مسئلہ کشمیر” حل کروانےکیلیے پاکستان اور بھارت کے درمیاں ثالثی کروائےگا۔

پیوٹن نے ثالثی کی پیشکش کی ہے اور پاکستان نے بھی گرین سگنل دیا ہے لیکن کیا بھارت روس کی ثالثی کو قبول کرے گا؟ قوی امکان یہی ہے کہ ہندو مشرک مودی انکار کردے گا کیونکہ بھارت جانتا ہے کہ روس کی ثالثی قبول کرنا مطلب کشمیر مسئلہ حل کرنا ہی ہوگا جبکہ بھارت مسئلہ کشمیر حل کرنا ہی نہیں چاہتا صرف زور زبردستی سے کشمیر پر قبضہ قائم رکھنا چاہتا ہے۔

دراصل بھارت جس عالمی کفار کے بلاک سے تعلق رکھتا ہے روس اس بلاک کا دشمن ہے۔

بھارت کے بلاک میں امریکہ، اسرائیل، فرانس، برطانیہ، آسٹریلیا اور جرمی وغیرہ شامل ہیں۔ یہ بلاک عالم کفر پر مشتمل ہے۔ دوسری طرف روسی بھی لادین کافر ہی ہیں مگر سیاسی اور معاشی حساب سے روس کا تعلق ان کے مخالف بلاک سے ہے۔ امریکہ تو روس اور چین کا سب سے بڑا مخالف ہے کیونکہ یہ دو ممالک امریکہ کی عالمی اجارہ داری ختم کرنے کے درپے ہیں بلکہ ختم کرچکے ہیں۔

روس پہلے اپنا الگ بلاک “سویت یونین” کے نام سے رکھتا تھا لیکن علاقائی سیاست اور امریکی بلاک کی مشرق وسطہ (ایشیا) میں مسلسل دخل اندازی، اسرائیل کی عرب ممالک پر قبضے اور ایران کے خلاف محاز آرائی نے روس کو بھی اس خطے کی طرف کھینچ لیا ہے۔

روس کا اتحاد سویت یونین ٹوٹ چکا ہے لیکن چونکہ امریکی و اسرائیلی صیہونی اتحاد اب بھی موجود ہے لہذہ اب دنیا میں امریکی بلاک کے خلاف “نیا عالمی بلاک” بنتا دکھائی دے رہا ہے جس میں پاکستان کا کردار گوادر پورٹ اور اکانومک کوریڈور کی وجہ سے سب سے اہم ہوگا۔

دراصل پاک چائنہ کورڈیور (سی پیک) اس دنیا کا نیا “سلک روڈ” ہے جہاں سے دنیا کا 70 فیصد کاروبار گزرےگا۔ سلک روڈ اس روڈ ہو کہتے ہیں جو تقریبا آدھی سے زائد دنیا کے ممالک سے تجارتی قافلے گزارے اور اب یہ سلک روڈ وطن عزیز کے گوادر پورٹ سے شروع ہوکر آدھی دنیا تک پھیلنے والا ہے۔ الحمداللہ

گوادر پورٹ
File Photo

امریکی و اسرائیلی بلاک کے خلاف بننے والے بلاک میں دوسرے اہم ممالک روس، چین، اور باقی علاقائی ممالک جیسے ایران، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قازقستان، ازبکستان، افغانستان وغیرہ ہوں گے۔

یہ بھی ذہن نشین کرلیں کہ مستقل میں چین عالمی معاشی طاقت بن چکا ہوگا بلکہ عین ممکن ہے امریکہ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے عالمی جنگی قوت بھی بن جائے یا روس اور پاکستان کے ساتھ مل ٹرائیکا سپر پاور بلاک بنایا جاسکتا ہے۔

چین کا تقریبا 70 فیصد عالمی کاروبار پاکستانی گوادر پورٹ اور وہاں سے نکلنے والے “نئے سلک روڈ “Silk Road سے گزرے گا جو کہ پاکستان سے ہوتا ہوا پوری دنیا سے گزرے گا، یوں چین عالمی سپر پاور ہوتے ہوئے بھی ہمارے حکم کا پابند ہوگا کیونکہ ہم کسی بھی وقت راستہ بند یا پورٹ سے چینیوں کو فارغ کرسکتے ہیں۔

روڈ بند ہونے سے عالمی تجارت رک جائے گی یوں عالمی ممالک میں سے کوئی بھی ہمارے خلاف ایک قدم نہیں اٹھا سکے گا ورنہ اس ملک کی تجارتی ترسیل ہم روک دیں گے۔

وزیراعظم عمران خان کی بڑی کامیابی ، بھارت پاکستان سے مذاکرات پر آمادہ

روس عالمی تجارت سے منہ نہیں موڑ سکتا، اسے بھی سلک روڈ تک رسائی چاہیے، خاص کر سمندر کے گہری پانیوں تک رسائی چاہیے تاکہ وہ بھی اپنی تجارت چین کی طرح بڑھاسکے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے پاکستان سے مجبورا تعلقات بنانے پڑ رہے ہیں ورنہ روسی اچھی طرح جانتے ہیں کہ افغانستان میں انہیں عبرتناک شکست دینے والی اصل قوت کوئی اور نہیں یہی پاکستان تھی جس نے “افغان طالبان” کو تخلیق کرکے روسیوں کے پرخچے اڑائے۔

آج روس ماضی کو بھول کر صرف اور صرف گرم پانیوں تک رسائی اور گوادر پورٹ سے مالی تجارتی فوائد حاصل کرنے کے لیے پاکستان کی ہاں اور ناں کا محتاج ہونے جارہا ہے۔

باقی رہا انڈیا تو یہ چاہے جتنی بھی سرکشی دکھائے، بالآخر اسے بھی ایک نہ ایک دن گوادر میں شمولیت اختیار کرنی ہی پڑے گی ورنہ اس کی اکانومی پاکستان سے بھی پیچھے رہ جائے گی۔ خطے کا جو ملک میں نئے سلک روڈ سے فائدہ نہیں اٹھائے گا اسکی معیشیت ختم ہوجائے گی۔ دیکھتے ہیں انڈیا کب تک سرکش بنا رہتا ہے۔ آج یا کل یہ ضرور شامل ہوگا۔ خطے کے دوسرے ممالک جیسے افغانستان، ایران، قازقستان، سعودی عربیہ پہلے ہی شمولیت اختیار کرکے پاکستان کی ہاں اور ناں کے محتاج ہوچکے ہیں۔

اللہ کے ولی حضرت صوفی برکت نے سچ فرمایا تھا کہ ” ایک دن آئے گا جب دنیا کے فیصلے پاکستان کی ہاں اور ناں سے ہوں گے۔”

تحریر : Pakistan superpower

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں