قادرا قصائی

مائی نانکی

عیدن بائی آگرے والی چھوٹی عید کو پیدا ہوئی تھی‘ یہی وجہ ہے کہ اس کی ماں زہرہ جان نے اس کا نام اسی مناسبت سے عیدن رکھا۔ زہرہ جان اپنے وقت کی بہت مشہور گانے والی تھی‘ بڑی دُور دُور سے رئیس اس کا مجرا سننے کے لیے آتے تھے۔

کہا جاتا ہے کہ میرٹھ کے ایک تاجر عبداﷲ سے جو لاکھوں میں کھیلتا تھا ‘ اسے محبت ہو گئی‘ اُس نے چنانچہ اسی جذبے کے ماتحت اپنا پیشہ چھوڑ دیا۔ عبداﷲ بہت متاثر ہوا اور اس کی ماہوار تنخواہ مقرر کر دی کوئی تین سو کے قریب۔ ہفتے میں تین مرتبہ اُس کے پاس آتا، رات ٹھہرتا۔ صبح سویرے وہاں سے روانہ ہو جاتا۔ جو شخص زہرہ جان کو جانتے ہیں اور آگرے کے رہنے والے ہیں اُن کا یہ بیان ہے کہ اُس کا چاہنے والا ایک بڑھئی تھا مگر وہ اُسے منہ نہیں لگاتی تھی۔

وہ بیچارہ ضرورت سے زیادہ محنت و مشقت کرتا اور تین چار مہینے کے بعد روپے جمع کر کے زہرہ جان کے پاس جاتا مگر وہ اُسے دُھتکار دیتی۔ آخر ایک روز اُس بڑھئی کو زہرہ جان سے مفصل گفتگو کرنے کا موقعہ مل ہی گیا‘ پہلے تو وہ کوئی بات نہ کر سکا۔ اس لیے کہ اس پر اپنی محبوبہ کے حسن کا رعب طاری تھا لیکن اُس نے تھوڑی دیر کے بعد جرأت سے کام لیا اور اُس سے کہا:

’’زہرہ جان۔ میں غریب آدمی ہوں‘ مجھے معلوم ہے کہ بڑے بڑے دھن والے تمہارے پاس آتے ہیں اور تمہاری ہر ادا پر سینکڑوں روپے نچھاور کرتے ہیں۔ لیکن تمھیں شاید یہ بات معلوم نہیں کہ غریب کی محبت دھن دولت والوں کے لاکھوں روپوں سے بڑی ہوتی ہے۔ میں تم سے محبت کرتا ہوں۔ معلوم نہیں کیوں‘‘

زہرہ جان ہنسی‘ اس ہنسی سے بڑھئی کا دل مجروح ہو گیا

’’تم ہنستی ہو۔ میری محبت کا مذاق اُڑاتی ہو‘ اس لیے کہ یہ کنگلے کی محبت ہے جو لکڑیاں چیر کر اپنی روزی کماتا ہے۔ یاد رکھو یہ تمہارے لاکھوں میں کھیلنے والے تمھیں وہ محبت اور پیار نہیں دے سکتے جو میرے دل میں تمہارے لیے موجود ہے‘‘

زہرہ جان اُکتا گئی‘ اُس نے اپنے ایک میراثی کو بلایا اور اس سے کہا کہ بڑھئی کو باہر نکال دو ‘ لیکن وہ اس سے پہلے ہی چلا گیا۔ ایک برس کے بعد عیدن پیدا ہوئی۔ اس کا باپ عبداﷲ تھا یا کوئی اور‘ اس کے متعلق کوئی بھی وثوق سے کچھ نہیں کہہ سکتا‘ بعض کا خیال ہے کہ وہ غازی آباد کے ایک ہندو سیٹھ کے نطفے سے ہے۔ کسی کے نطفے سے بھی ہو مگر بلا کی خوبصورت تھی۔ اِدھر زہرہ جان کی عمر ڈھلتی گئی‘ اُدھر عیدن جوان ہوتی گئی‘ اُس کی ماں نے اُس کو موسیقی کی بڑی اچھی تعلیم دی‘ لڑکی ذہین تھی‘ کئی اُستادوں سے اُس نے سبق لیے اور اُن سے داد وصول کی۔

زہرہ جان کی عمر اب چالیس برس کے قریب ہو گئی‘ وہ اب اُس منزل سے گزر چکی تھی جب کسی طوائف میں کشش باقی رہتی ہے‘ وہ اپنی اکلوتی لڑکی عیدن کے سہارے جی رہی تھی‘ ابھی تک اُس نے اُس سے مجرا نہیں کرایا تھا۔ وہ چاہتی تھی کہ بہت بڑی تقریب ہو جس کا افتتاح کوئی راجہ نواب کرے۔ عیدن بائی کے حسن کے چرچے عام تھے۔ دُور دُور تک عیاش رئیسوں میں اس کے تذکرے ہوتے تھے‘ وہ اپنے ایجنٹوں کو زہرہ جان کے پاس بھیجتے اور عیدن کی نتھنی اُتارنے کے لیے اپنی اپنی پیش کش بھیجتے‘ مگر اُس کو اتنی جلدی نہیں تھی‘ وہ چاہتی تھی کہ مسّی کی رسم بڑی دھوم دھام سے ہو اور وہ زیادہ سے زیادہ قیمت وصول کرے۔ اس کی لڑکی لاکھوں میں ایک تھی‘ سارے شہر میں اُس جیسی حسین لڑکی اور کوئی نہیں تھی۔

اُس کے حسن کی نمائش کرنے کے لیے وہ ہر جمعرات کی شام کو اُس کے ساتھ پیدل باہر سیر کو جاتی‘ عشق پیشہ مرد اس کو دیکھتے تو دل تھام تھام لیتے۔ پھنسی پھنسی چولی میں گدرایا ہوا جوبن‘ سڈول بانھیں‘ مخروطی انگلیاں جن کے ناخنوں پر جیتا جیتا لہو‘ ایسا رنگ ‘ ٹھمکا سا قد‘ گھنگریالے بال۔ قدم قدم پر قیامت ڈھاتی تھی۔ آخر ایک روز زہرہ جان کی اُمید بَر آئی۔ ایک نواب عیدن پر ایسا لٹّو ہوا کہ وہ منہ مانگے دام دینے پر رضامند ہو گیا۔ زہرہ جان نے اپنی بیٹی کی مسّی کی رسم کے لیے بڑا اہتمام کیا‘ کئی دیگیں پلاؤ اور متنجن کی چڑھائی گئیں۔ شام کو نواب صاحب اپنی بگھی میں آئے‘ زہرہ جان نے ان کی بڑی آؤ بھگت کی۔ نواب صاحب بہت خوش ہوئے‘ عیدن دولہن بنی ہوئی تھی ‘ نواب صاحب کے ارشاد کے مطابق اُس کا مجرا شروع ہوا۔

پھٹ پڑنے والا شباب تھا جو محوِ نغمہ سرائی تھا۔ عیدن اُس شام بلا کی خوبصورت دکھائی دے رہی تھی‘ اُس کی ہر جنبش ‘ ہر ادا ‘ اس کے گانے کی ہر سُر زہد شکن تھی۔ نواب صاحب گاؤ تکیے کا سہارا لیے بیٹھے تھے۔ انھوں نے سوچا کہ آج رات وہ جنت کی سیر کریں گے جو کسی اور کو نصیب نہیں ہوئی۔ وہ یہ سوچ ہی رہے تھے کہ اچانک ایک بے ہنگم سا آدمی اندر داخل ہوا اور زہرہ جان کے پاس بیٹھ گیا‘ وہ بہت گھبرائی‘ یہ وہی بڑھئی تھا۔ اُس کا عاشقِ راز‘ بہت میلے اور گندے کپڑے پہنے تھا۔ نواب صاحب کو جو بہت نفاست پسند تھے ‘ ابکائیاں آنے لگیں۔ انھوں نے زہرہ جان سے کہا :

’’یہ کون بدتمیز ہے؟‘‘

بڑھئی مسکرایا‘

’’حضور! میں ان کا عاشق ہوں‘‘

نواب صاحب کی طبیعت اور زیادہ مکدّر ہو گئی‘ زہرہ جان‘ نکالو اس حیوان کو باہر‘‘

بڑھئی نے اپنے تھیلے سے آری نکالی اور بڑی مضبوطی سے زہرہ جان کو پکڑ کر اُس کی گردن پر تیزی سے چلانا شروع کر دی‘ نواب صاحب اور میراثی وہاں سے بھاگ گئے ‘ عیدن بیہوش ہو گئی۔ بڑھئی نے اپنا کام بڑے اطمینان سے ختم کیا اور لہو بھری آری اپنے تھیلے میں ڈال کر سیدھا تھانے گیا اور اقبالِ جرم کر لیا۔ کہا جاتا ہے کہ اُسے عمر قید ہو گئی تھی۔

عیدن کو اپنی ماں کے قتل ہونے کا اس قدر صدمہ ہوا کہ وہ دو اڑھائی مہینے تک بیمار رہی۔ ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ وہ زندہ نہیں رہے گی مگر آہستہ آہستہ اس کی طبیعت سنبھلنے لگی اور وہ اس قابل ہو گئی کہ چل پھر سکے۔ ہسپتال میں اس کی تیمار داری صرف اُس کے استاد اور میراثی ہی کرتے تھے۔ وہ نواب اور رئیس جو اس پر اپنی جان چھڑکتے تھے‘ بُھولے سے بھی اس کو پوچھنے کے لیے نہ آئے۔ وہ بہت دل برداشتہ ہو گئی۔ وہ آگرہ چھوڑ کر دہلی چلی آئی۔ مگر اس کی طبیعت اتنی اُداس تھی کہ اس کا جی قطعاً مجرا کرنے کو نہیں چاہتا تھا۔ اُس کے پاس بیس پچیس ہزار روپے کے زیورات تھے جن میں آدھے اس کی مقتول ماں کے تھے وہ انھیں بیچتی رہی اور گزارہ کرتی رہی۔ عورت کو زیور بڑے عزیز ہوتے ہیں‘ اس کو بڑا دُکھ ہوتا تھا جب وہ کوئی چُوڑی یا نکلس اونے پونے داموں بیچتی تھی۔ عجب عالم تھا‘ خون پانی سے بھی ارزاں ہو رہا تھا۔ مسلمان دھڑا دھڑ پاکستان جا رہے تھے کہ ان کی جانیں محفوظ رہیں۔ عیدن نے بھی فیصلہ کر لیا کہ وہ دہلی میں نہیں رہے گی۔

لاہور چلی آئے گی۔ بڑی مشکلوں سے اپنے کئی زیورات بیچ کر وہ لاہور پہنچ گئی لیکن راستے میں اس کی تمام بیش قیمت پشوازیں اور باقی ماندہ زیور اس کے اپنے بھائی مسلمانوں ہی نے غائب کر دیے۔ جب وہ لاہور پہنچی تو وہ لُٹی پٹی تھی۔ لیکن اس کا حسن ویسے کا ویسا تھا۔ دہلی سے لاہور آتے ہوئے ہزاروں للچائی ہوئی آنکھوں نے اُس کی طرف دیکھا مگر اس نے بے اعتنائی برتی۔ وہ جب لاہور پہنچی تو اس نے سوچا کہ زندگی بسر کیسے ہو گی؟ اُس کے پاس تو چنے کھانے کے لیے بھی چند پیسے نہیں تھے لیکن لڑکی ذہین تھی‘ سیدھی اُس جگہ پہنچی جہاں ان کی ہم پیشہ رہتی تھیں‘ یہاں اس کی بڑی آؤ بھگت کی گئی۔ ان دنوں لاہور میں روپیہ عام تھا‘ ہندو جو کچھ یہاں چھوڑ گئے تھے‘ مسلمانوں کی ملکیت بن گیا تھا۔ ہیرا منڈی کے وارے نیارے تھے۔ عیدن کو جب لوگوں نے دیکھا تو وہ اس کے عاشق ہو گئے۔ رات بھر اُس کو سینکڑوں گانے سننے والوں کی فرمائشیں پوری کرنا پڑتیں۔

صبح چار بجے کے قریب جب کہ اُس کی آواز جواب دے چکی ہوتی وہ اپنے سامعین سے معذرت طلب کرتی اور اوندھے منہ اپنی چارپائی پر لیٹ جاتی۔ یہ سلسلہ قریب قریب ڈیڑھ برس تک جاری رہا۔ عیدن اس کے بعد ایک علیحدہ کوٹھا کرایے پر لے کر وہاں اُٹھ آئی‘ چونکہ جہاں وہ مقیم تھی‘ اس نائکہ کو اسے اپنی آدھی آمدن دینا پڑتی تھی۔ جب اُس نے علیحدہ اپنے کوٹھے پر مجرا کرنا شروع کیا تو اُس کی آمدن میں اضافہ ہو گیا۔ اب اسے ہر قسم کی فراغت حاصل تھی‘ اس نے کئی زیور بنا لیے‘ کپڑے بھی اچھے سے اچھے تیار کرا لیے۔

اُسی دوران میں اس کی ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جو بلیک مارکیٹ کا بادشاہ تھا‘ اُس نے کم از کم دو کروڑ روپے کمائے تھے‘ خوبصورت تھا‘ اُس کے پاس تین کاریں تھیں ‘ پہلی ہی ملاقات پر وہ عیدن کے حسن سے اس قدر متاثر ہوا کہ اُس نے اپنی کھڑی سفید پیکارڈ اُس کے حوالے کر دی۔ اس کے علاوہ وہ ہر شام آتا اور کم از کم دو ڈھائی سو روپے اُس کی نذر ضرور کرتا۔ ایک شام وہ آیا تو چاندنی کسی قدر میلی تھی‘ اُس نے عیدن سے پوچھا

’’کیا بات ہے آج تمہاری چاندنی اتنی گندی ہے‘‘

عیدن نے ایک ادا کے ساتھ جواب دیا

’’آج کل لٹھا کہاں ملتا ہے؟‘‘

دوسرے دن اُس بلیک مارکیٹ بادشاہ نے چالیس تھان لٹھے کے بھجوا دیے‘ اُس کے تیسرے روز بعد اُس نے ڈھائی ہزار روپے دیے کہ عیدن اپنے گھر کی آرائش کا سامان خرید لے۔ عیدن کو اچھا گوشت کھانے کا بہت شوق تھا‘ جب وہ آگرے اور دلّی میں تھی تو اُسے عمدہ گوشت نہیں ملتا تھا مگر لاہور میں اُسے قادرا قصائی بہترین گوشت مہیا کرتا تھا۔ بغیر ریشے کے‘ ہر بوٹی ایسی ہوتی تھی جیسے ریشم کی بنی ہو۔

’’دُکان پر اپنا شاگرد بٹھا کر قادرا صبح سویرے آتا اور ڈیڑھ سیر گوشت جس کی بوٹی بوٹی پھڑک رہی ہوتی‘ عیدن کے حوالے کر دیتا‘ اس سے دیر تک باتیں کرتا رہتا جو عام طور پر گوشت ہی کے بارے میں ہوتیں۔ بلیک مارکیٹ کا بادشاہ جس کا نام ظفر شاہ تھا‘ عیدن کے عشق میں بہت بُری طرح گرفتار ہو چکا تھا‘ اُس نے ایک شام عیدن سے کہا کہ وہ اپنی ساری جائیداد‘ منقولہ اور غیرمنقولہ اُس کے نام منتقل کرنے کے لیے تیار ہے‘ اگر وہ اس سے شادی کر لے۔ مگر عیدن نہ مانی‘ ظفر شاہ بہت مایوس ہوا۔

اُس نے کئی بار کوشش کی کہ عیدن اُس کی ہو جائے مگر ہر بار اُسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ مجرے سے فارغ ہو کر رات کے دو تین بجے کے قریب باہر نکل جاتی تھی‘ معلوم نہیں کہاں۔ ایک رات جب ظفر شاہ اپنا غم غلط کر کے۔ یعنی شراب پی کر پیدل ہی چلا آ رہا تھا کہ اس نے دیکھا کہ سائیں۔ کے تکیے کے باہر عیدن ایک نہایت بدنما آدمی کے پاؤں پکڑے التجائیں کر رہی ہے کہ خدا کے لیے مجھ پر نظر کرم کرو‘ میں دل و جان سے تم پر فدا ہوں۔ تم اتنے ظالم کیوں ہو۔ اور وہ شخص جسے غور سے دیکھنے پر ظفر شاہ نے پہچان لیا کہ قادرا قصائی ہے‘ اُسے دُھتکار رہا ہے۔

’’جا۔ ہم نے آج تک کسی کنجری کو منہ نہیں لگایا۔ مجھے تنگ نہ کیا کر‘‘

قادرا اُسے ٹھوکریں مارتا رہا اور عیدن اُسی میں لذت محسوس کرتی رہی۔ ۲۴، مئی ۵۴ء

سعادت حسن منٹو
(Visited 8 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں