موسم گرما میں جلد کا خیال کیسے رکھا جائے ؟

موسم گرما

گرمیوں میں سورج پوری آب و تاب کے ساتھ نکلتا ہے اور ہماری جلد کو نہ صرف نقصان پہنچاتا ہے بلکہ جلد کو کالا بھی کر دیتا ہے۔

خواتین کی اکثریت کی جلد حساس ہوتی ہے جس سے گرمیوں کے موسم میں چہرے سے شادابی ختم ہو جاتی ہے جو کافی بدنما معلوم ہوتی ہے اسے نکھارنے اور تروتازہ کرنے کیلئے پانی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں۔

ٹھنڈی تاثیر والی چیزیں کھائیں، گرمی کے موسم میں درجہ حرارت زیادہ ہونے کی وجہ سے پسینہ زیادہ آتا ہے تاکہ جسم کا اندرونی درجہ حرارت نارمل رہ سکے اس کی وجہ سے جلد کو بہت زیادہ کام کرنا پڑتا ہے۔ اس کے مسام کھل جاتے ہیں ان میں میل کچیل جمع ہوکر بدنما دانے بناتے ہیں۔

اسی سے بچنے کیلئے کم از کم تین چار مرتبہ چہرہ دھوئیں گھر سے باہر نکلیں تو کوشش کریں کہ چھتری کا استعمال کریں۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ آپ کی جلد کیسی ہے چکنی ، خشک، نارمل، یا ملی جلی ہر جلد کے اپنے مسائل ہوتے ہیں.

جلد کی حفاظت کے لیے ضروری ہے کہ آپ کو یہ معلوم ہو آپ کی جلد کس قسم کی ہے؟ آیا یہ جلد چکنی ہے یا پھر خشک ہے اور یا ملی جلی سی ہے۔ ہر جلد کے مسائل اور ان کے حل مختلف ہوتے ہیں۔ آپ جو بھی پروڈکٹ خرید کر استعمال کریں، وہ آپ کی جلد کی مناسبت سے ہونی چاہیے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی غلط پرُاڈکٹ استعمال کرکے اپنی اچھی خاصی جلد کو نقصان پہنچالیں۔

ایک اور بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ کسی دوست یا سہیلی کے مشورے پر یا کسی کی اچھی جلد دیکھ کر وہی پروڈکٹ خود بھی استعمال کرنا شروع نہ کردیں بلکہ اپنی جلد کے مطابق صرف وہ پرُاڈکٹ استعمال کریں جو آپ کی جلد کے لیے کسی بھی قیمت پر نقصان دہ نہ ہو۔ یہ بھی خیال رکھنا ہوگا کہ جو بھی پروڈکٹ خریدیں، اس کی تاریخ استعمال ضرور چیک کریں۔عموماً پروڈکٹس کی تاریخ استعمال ایک سال تک ہوتی ہے۔ اس کے بعد وہ ضائع کردینی چاہیے۔

چکنی جلد

اس جلد کی علامت یہ ہے کہ اس میں ماتھا یعنی پیشانی، ناک اور ٹھوڑی چکنی ہوتی ہے جب کہ باقی چہرہ خشک ہوتا ہے۔ چکنی جلد کی حامل خواتیں کے چہرے پر دانے، کیل اور مہاسے زیادہ بنتے ہیں اور گرمیوں کے موسم میں تو ان میں اور بھی زیادہ اضافہ ہوجاتا ہے۔

موسم گرما
Photo:File

ان خواتین کے لیے ملتانی مٹی کا ماسک بہترین حل ہے۔ اس کے علاوہ وہ نیم کے پتوں کو ابال کر پانی ٹھنڈا کرکے اس پانی سے منہ دھوئیں تو کیل مہاسوں میں کمی واقع ہو جائے گی۔

بیوٹی کریم نہیں ، خوبصورتی کیلئے ایلوویرا (کوار گندل) استعمال کریں۔

نارمل جلد

یہ نارمل جلد نہ تو زیادہ خشک ہوتی ہے اور نہ ہی زیادہ چکنی ہوتی ہے۔ اس قسم کی جلد کے لیے بہت زیادہ محنت درکار ہوتی ہے۔ ایسی جلد کے لیے زیادہ احتیاط کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ گرمیوں میں جب بھی باہر دھوپ سے اندر گھر میں آئیں تو چہرے پر عرق گلاب کا اسپرے ضرورکریں۔

گلاب

آج کل اسپرے والے عرق گلاب بھی بازار میں بہ آسانی دست یاب ہیں۔ اس کے علاوہ کلینزنگ کریم کا استعمال بھی کیا جاسکتا ہے جو آپ گھر پر خود بھی تیار کرسکتی ہیں۔اس کے لیے ایک کھانے کا چمچہ خشک دودھ اور چند عرق گلاب کے قطرے مکس کرکے چہرے اور گردن پر اچھی طرح لگائیں جس کے بعد آپ کی جلد بالکل فریش اور تروتازہ ہوجائے گی۔

خشک جلد

خشک جلد والی خواتین کی جلد گرمیوں میں نارمل رہتی ہے اور سردیوں میں اکڑ جاتی ہے جس سے داغ دھبے اور جھریاں ظاہر ہونے لگتی ہیں اور یہ سب بہت بری اور بھدی لگتی ہیں۔ خشک جلد والی خواتین شہد، زیتون کا تیل اور عرق گلاب مکس کرکے اپنے چہرے پر لگائیں تو جلد کی خوب صورتی بر قرار رہے گی، بلکہ اس میں اور بھی اضافہ ہوگا۔

موسم گرما
Photo:File

ان سب باتوں کے علاوہ جلد کی خوب صورتی کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ متوازن غذا کا استعمال کریں اور سمندری جھاگ تھوڑے سے لیمن جوس یعنی لیموں کے رس میں مکس کر کے لگائیں۔ اس کے علاوہ پانی خوب پیئں اور کام کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی جلد اور اپنے چہرے کا بھی خاص خیال رکھیں، آخر اچھا لگنا آپ کا بھی تو حق ہے!

(Visited 12 times, 1 visits today)
loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں