قبائلی اضلاع میں صوبائی انتخابات؛ پی ٹی آئی اور آزاد امیدواروں نے میدان مار لیا

پولنگ

خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے 7 قبائلی اضلاع کی 16 صوبائی نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں 13 حلقوں کے نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف اور آزاد امیدوار 5، 5 نشستوں کے ساتھ آگے ہیں۔

کے پی کے میں انضمام کے بعد قبائلی اضلاع میں صوبائی اسمبلی کیلئے پہلی بار الیکشن کا انعقاد ہوا۔

صوبائی اسمبلی کے 16 حلقوں میں پولنگ کا عمل صبح 8 بجے شروع ہوا جو شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہا، شام 5 بجے پولنگ کا عمل ختم ہوا جس کے بعد ووٹوں کی گنتی اور ابتدائی نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے۔

غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج کے مطابق صوبائی اسمبلی کی 16 مین سے 13 نشستوں کے انتخابی نتائج سامنے آ چکے ہیں جس میں پاکستان تحریک انصاف اور آزاد امیدواروں نے 5، 5 نشستوں پر میدان مار لیا ہے جب کہ جے یوآئی (ف)، اے این پی اور جماعت اسلامی کو ایک ایک نشست پر کامیابی حاصل ہوئی ہے، تین حلقوں کے انتخابی نتائج سامنے آنا باقی ہیں۔

غیر حتمی و غیر سرکاری ابتدائی نتائج

پی کے 100 باجوڑ 1 (پی ٹی آئی کے انور زیب کامیاب)

104 پولنگ اسٹیشنز کے مکمل غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجے کے مطابق تحریک انصاف کے انور زیب خان 13160 ووٹ لے کر فاتح قرار پائے جب کہ جماعت اسلامی کے وحید گُل 11694 ووٹ کر دوسرے نمبر پر رہے۔

پی کے 101 باجوڑ 2 (پی ٹی آئی کے اجمل خان کامیاب)

103 پولنگ اسٹیشنز کے مکمل غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پی ٹی آئی کے اجمل خان 12204 ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے جب کہ جماعت اسلامی کے صاحبزادہ ہارون الرشید 10448 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

پی کے 102 باجوڑ 3 (پی ٹی آئی کے سراج الدین کامیاب)

131 پولنگ اسٹیشنز کے مکمل غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق جماعت اسلامی کے سراج الدین 19088 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جب کہ پی ٹی آئی کے حامد الرحمان 13436 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

پی کے 103 مہند 1 (اے این پی کے نثار احمد کامیاب)

86 پولنگ اسٹیشنز کے مکمل غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق اے این پی کے نثار احمد 11218 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جب کہ پی ٹی آئی کے رحیم شاہ 10314 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

پی کے 104 مہمند 2 (آزاد امیدوار عباس الرحمان کامیاب)

108 پولنگ اسٹیشنز کے مکمل غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق آزاد امیدوار عباس الرحمان 11751 ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے جب کہ جے یو آئی کے محمد عارف 9801 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

پی کے 105 خیبر 1 (آزاد امیدوار شفیق آفریدی کامیاب)

110 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق آزاد امیدوار شفیق آفریدی 19524 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ آزاد امیدوار شیرمت خان 10744 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔

اس حلقے میں قومی اسمبلی کی نشست پر تحریک انصاف کے امیدوار نورالحق قادری کامیاب ہوئے تھے جو اب وفاقی وزیر مذہبی امور ہیں۔ یوں نورالحق قادری کے اپنے حلقے میں ان کا حریف امیدوار کامیاب ہو گیا ہے۔

پی کے 106 خیبر 2 (آزاد امیدوار بلال آفریدی کامیاب)

89 پولنگ اسٹیشنز کے مکمل غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار بلال آفریدی 12800 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جب کہ پی ٹی آئی کے عامر محمد خان آفریدی 6521 ووٹ کر دوسرے نمبر پر رہے۔

پی کے 107 خیبر 3 (آزاد امیدوار شفیق آفریدی کامیاب)

146 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار محمد شفیق آفریدی 9796 ووٹ لےکر کامیاب قرار پائے جب کہ آزاد امیدوارحمیداللہ جان آفریدی 8426 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔

پی کے 108 کرم 1 (جے یو آئی کے محمد ریاض کامیاب)

135 پولنگ اسٹیشنز کے مکمل غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجے کے مطابق جے یو آئی (ف) کے محمد ریاض 12138 ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے جب کہ آزاد امیدوار جمیل خان 11431ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

پی کے 109 کرم 2 (پی ٹی آئی کے سید اقبال کامیاب)

109 پولنگ اسٹیشنز کے مکمل غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پی ٹی آئی کے سید اقبال میاں 39539 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جب کہ آزاد امیدوار عنایت حسین 22975 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

پی کے 110 اورکزئی

175 میں سے 103 پولنگ اسٹیشن کے نتائج

آزاد امیدوار سید غازی غازن 11651 ووٹ کے ساتھ پہلے نمبر پر

تحریک انصاف کے شعیب حسن 7294 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر

پی کے 111 شمالی وزیرستان 1 (پی ٹی آئی کے محمد اقبال کامیاب)

76 پولنگ اسٹیشنز کے مکمل غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پی ٹی آئی کے محمد اقبال خان 10200 ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے جب کہ جے یو آئی کے سمیع الدین 9288 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

پی کے 112 شمالی وزیرستان 2

102 میں سے 66 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج

آزاد امیدوار میر کلام خان 7660 ووٹ کے ساتھ پہلے نمبر پر

تحریک انصاف کے اورنگزیب خان 5583 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر

پی کے 113 جنوبی وزیرستان 1

139 میں سے 73 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج

آزاد امیدوار وحید خان 6611 ووٹ کے ساتھ پہلے نمبر پر

جے یو آئی (ف) کے حافظ اسلام الدین 5768 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر

پی کے 114 جنوبی وزیرستان 2

98 پولنگ اسٹیشنز میں سے 73 کے نتائج

تحریک انصاف کے نصیر اللہ خان 6824 ووٹ کے ساتھ پہلے نمبر پر

آزاد امیدوار محمد عارف 6395 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر

پی کے 115 سابقہ فرنٹیئر ریجنز (پی ٹی آئی کے عابدالرحمان)

163 پولنگ اسٹیشنز کے مکمل غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پی ٹی آئی کے عابد الرحمان 20669 ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے جب کہ جے یو آئی کے محمد شعیب 18373 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

’دور دراز علاقوں سے نتائج صبح موصول ہوں گے، ترجمان الیکشن کمیشن‘

ترجمان الیکشن کمیشن چوہدری ندیم قاسم کا میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع میں ووٹ ڈالنےکا عمل پرامن انداز میں اختتام پذیر ہوا اور اس دوران الیکشن کمیشن کو 4 شکایات موصول ہوئیں جو معمولی نوعیت کی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ پریزائیڈنگ افسر واٹس ایپ کے ذریعے نتائج ریٹرننگ افسر کو بھیجے گا، دور دراز علاقوں سے پریزائیڈنگ افسر خود جا کر آر او کو نتائج دے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں رات کو نقل وحرکت نہیں ہوتی وہاں نتائج صبح موصول ہونا شروع ہوں گے جب کہ دیگر علاقوں سے نتائج آج رات موصول ہونا شروع ہوجائیں گے۔

کن اضلاع میں ووٹنگ ہوئی؟

ضلع باجوڑ میں صوبائی اسمبلی کی تین، ضلع مہمند میں دو، ضلع خیبر میں 3، ضلع کرم میں 2 اور ضلع اورکزئی میں ایک صوبائی نشست کے لیے ووٹ ڈالے گئے۔

ضلع شمالی اور جنوبی وزیرستان میں بھی 2،2 نشستوں کیلئے پولنگ ہوئی، اس کے علاوہ ڈسٹرکٹ سابق فرنٹیر ریجن میں ایک صوبائی نشست رکھی گئی ہے۔

پی کے 115 کے علاقوں میں جانی خیل، بٹہ خیل، جنگل خیل، تحصیل لالچی، تحصیل گمبٹ اور تحصیل درہ آدم خیل شامل ہیں۔

عام نشستوں پر 282 امیدوار میدان میں ہیں جبکہ خواتین کی 22 اور اقلیتوں کی 6 مخصوص نشستیں ہیں۔

خواتین کا سی سی ٹی وی کیمروں پر تحفظات کا اظہار

ضلع کرم میں خواتین ووٹرز نے سی سی ٹی وی کیمروں پر تحفظات کا اظہار کیا۔

سیکریٹری الیکشن کمیشن نے ڈی آر او کرم ایجنسی کو ٹیلی فون کر کے خواتین کے تحفظات سے آگاہ کیا۔

ترجمان الیکشن کمیشن الطاف حان کا کہنا ہے کہ ڈی آر او نے خواتین کو یقین دہانی کرائی کہ کیمرے صرف سکیورٹی کے لیے ہیں، تحفظات دور ہونے پر 11 خواتین نے ووٹ کاسٹ کر لیے۔

حساس پولنگ اسٹیشنز کے اندر و باہر فوج تعینات

16 حلقوں میں انتخابات کیلئے 1897 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں  جن میں سے 464 پولنگ اسٹیشن کو انتہائی حساس قرار دیا گیا۔

ایک ہزار 39 مخلوط پولنگ اسٹیشن جب کہ صرف مردوں کے لیے 482 اور خواتین کے لیے مختص 376 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں، تمام پولنگ اسٹیشنز کے باہر فوج تعینات ہے جب کہ انتہائی حساس  پولنگ اسٹیشنز کے اندر بھی فوج تعینات کی گئی ہے۔

تمام پولنگ اسٹیشنز پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں جب کہ ووٹنگ کے لیے  28 لاکھ 91 ہزار بیلٹ پیپرز پرنٹ کرائے گئے۔

شکایات اور نتائج موصول کرنے کے لیے الیکشن کمیشن میں سیل قائم کردیا گیا ہے، جو 20 اور 21 جولائی کو 24 گھنٹے کام کرے گا۔

الیکشن سے متعلق شکایات 0519210809 اور 0519210810 پر موصول کی جائیں گی۔

ووٹوں کی گنتی کے بعد نتائج کا اعلان پرانے سسٹم کے ذریعے کیا جائے گا۔

پریزائیڈنگ افسر فارم 45 پولنگ ایجنٹس کے حوالے کرے گا اور ریٹرننگ افسر کے دفتر پہنچائے گا جہاں سے نتائج الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ارسال کر دیئے جائیں گے۔

برطانوی ہائی کمشنر کی قبائلی عوام کو مبارکبادبرطانوی ہائی کمشنر تھامس ڈریو نے ایک بیان میں خیبر پختونخوا میں ضم شدہ قبائلی اضلاع کے عوام کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق فاٹا کے عوام کیلئے یہ ایک تاریخی دن ہے۔

انہوں نے کہا کہ سابق فاٹا کے عوام پہلی مرتبہ خیبر پختونخوا اسمبلی کیلئے اپنے نمائندوں کا انتخاب کررہے ہیں، دعا ہے وہ اس عمل کو محفوظ اور آزادانہ طریقے سے مکمل کریں۔

(Visited 13 times, 1 visits today)
loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں