جہاں درندے رہتے ہیں ….!

درندے

ملک میں بڑے بڑے سانحات ہو گزرے، دلخراش واقعات کے بعد ایسا لگتا تھا کہ اب یہ بھولنے والی بات نہیں مگر ہم سب نے دیکھا کہ یہاں لوگ سگے رشتے داروں کے قتل بھی بھول جاتے ہیں، یہ رسم دنیا ہے یا پھرزندہ رہنے کا طریقہ، کہ مرنے والوں کو بھلا دیں تبھی زندگی آگے بڑھتی ہے, پھر اگر میں یہ افسوس کروں کہ قصورکی شناخت بدل کر رکھ دینے والا سانحہ زینب عوام کو اتنی جلدی کیوں بھول گیا توشاید میرا افسوس بے جا ہوگا۔

زینب کیساتھ جو کچھ ہوا، اب وہ زخم نہ ہی کریدے جائیں تو بہترہے کیوں کہ مجرم بھی کیفر کردار تک پہنچ گیا لیکن ایک بات سے کبھی نظریں چرائی نہیں جاسکتیں کہ جن واقعات نے برصغیر پاک وہند کے عظیم صوفی شاعر بابا بلھے شاہ کی پُرامن اورروحانی فضاؤں کومعصوم بچوں کے لیے گھٹن کا ماحول بنا کر رکھ دیا تھا. اس کے پیچھے کیا ایک ہی کردار ذمہ دار تھا یا ایک مجرم کو سزا دے کر باقیوں کو نظرانداز کردیا گیا؟

Photo: File

حالانکہ قصورکا شاندار ماضی مذہبی،ثقافتی اور روحانی روایات کا امین ہے، یہ شہر ہماری ملی تاریخ کا ایک ایسا کردار ہے جس نے اسلامی تہذیب وتمدن اور مسلم ثقافت کی ترقی اور اس کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا ،زندہ دلی اور محنت یہاں کے لوگوں کے امتیازی اوصاف ہیں،مگر زینب قتل کیس کے بعدقصور کا جو چہرہ دنیا کے سامنے ظاہر ہوا، وہ انتہائی خوفناک ہے، اب بھی آپ انٹرنیٹ پر قصور سرچ کریں توآپ کو اس شہرکی اصل پہچان کہیں آخری صفحات پر نظرآئے گی، سب سے پہلے زینب قتل اوراس جیسے دیگر ناخوشگوار واقعات کی خبریں نظر آئیں گی۔

زینب کے قاتل کوتختہ دارپرلٹکانے کے بعدوقتی طورپرسب نے سب کچھ بھلادیا لیکن عوامی حلقوں میں یہ شبہ ہمیشہ رہاکہ یہاں کچھ نہ کچھ ایسا ہے جسے تحقیقات کرنے والوں کی بھی ںظروں سےشاید کمال مہارت سے چھپالیاگیا اوراب ایک بار پھر بچوں کے لاپتہ ہونے اور کچھ عرصے بعد لاشوں، ہڈیوں اور پھٹے کپڑوں نے نہ صرف علاقے میں خوف وہراس پھیلا دیا ہے بلکہ ملک بھرمیں لوگ اس سوچ میں مبتلا ہیں کہ ایک عرصہ بعد ایسے واقعات کا سر اٹھانا کس رازسے پردہ اٹھانے کی ممکنہ شروعات ہیں؟

loading...
زینب قتل کیس
فائل فوٹو

حال ہی میں قصور کے قریب چونیاں شہرکے مختلف مقامات سے کم سن بچے فیضان،سلمان اورعلی حسنین کی لاشیں مل چکی ہیں جنہیں پہلے اغواء کیا گیا تھا اور رانا ٹاؤن چونیاں کا ایک بارہ سالہ بچہ عمران ابھی تک لاپتہ ہے،ڈی پی او قصور کے لیے یہ کیسز انتہائی اہمیت کے حامل ہیں جن کی تہہ تک پہنچنے کے لیے تمام ذرائع استعمال کرنے کی ضرورت ہے اوراس کی تحقیقات پر ایسے قابل اور ایماندار پولیس افسران کو لگانے کی ضرورت ہے کہ جن کاماضی ان کی ایمانداری کاگواہ ہو،اگر ایسا نہ کیا گیا تو شاید اصل محرکات ایک بار پھر پردے کے پیچھے ہی رہ جائیں ۔

چونیاں
Photo: File

میرے پاس اس بات کے ثبوت تونہیں البتہ بعض دفعہ ہوا میں ماراجانے والا تیربھی نشانے پرلگ سکتا ہے اور اس باربے
شک آپ ڈاکٹر شاہد مسعود کے انکشافات پریقین نہ کریں مگر یہ تو ہوسکتا ہے کہ آپ اس پہلو کو بھی نظرانداز نہ کریں، ہماری قوم کی طرح ممکن ہے پولیس بھی فراموش کرچکی ہو مگریہ یاد رکھیں کہ شاہد مسعود نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے قصورکے بچوں کے ویڈیو کلپس ڈارک ویب سائٹ پردیکھے ہیں اورانہوں نے انٹرنیشنل پورنو ویڈیوزکے گروہ کابھی باربار ذکر کیا تھا۔ تحقیقاتی ادارے جہاں دیگرپہلوؤں پر کھوج لگارہے ہوں گے وہی انہیں اس پہلو کو بھی ایک بار پھر باریک بینی سے دیکھنے کی ضرورت ہے کیوں کہ یہ بچہ صرف ایک ہی نہیں بلکہ ایک سے زائدایک ہی نوعیت کے کیسزاتفاقیہ نہیں ہوسکتی،ممکن ہے کہ کوئی گروہ کسی مکروہ دھندے میں ایسے بچوں کواستعمال کررہا ہو۔

مجھے آخر میں جنوری دو ہزار اٹھارہ میں اقرارالحسن کے فیس بک اکاؤنٹ سے کی گئی ایک پوسٹ بھی یاد آگئی جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ جس علاقے میں زینب کیساتھ زیادتی ہوئی اس علاقے کا ایس ایچ او عمران سعید چھ ماہ قبل ایک جھوٹی ایف آئی آر کاٹنے کے لیے رشوت لینے کے جرم میں پکڑا گیا تھا، اس اللہ کے بندے کو وقتی طور پر معطل کرکے پھر تھانہ سٹی قصور میں ہی تعینات کردیا گیا، اگر ایک ایس ایچ او کی ایمانداری کی یہ حالت ہے کہ وہ پیسوں کی خاطرجھوٹی ایف آئی آردرج کرسکتا ہے توکیا.

اس طرح کے عناصر کے ہاتھوں کسی مظلوم کو انصاف ملنے کی توقع کی جاسکتی ہے؟۔۔اعلیٰ پولیس افسران حالیہ واقعات کی تحقیقات کسی افسر کے سپرد کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچیں کہ زیادتی کا نشانہ بننے والے بچے بھی آپ کے بچوں کی طرح ہی ہیں، آپ اس بار انصاف قصور کے بچوں کو نہیں بلکہ اپنے بچوں کو دینے کی نیت سے کریں، اگر ایسا نہ ہوا تو بلھے شاہ کی نگری معصوم بچوں کے لیے کسی خوفناک وادی سے کم نہیں رہے گی جہاں انسانوں کے درمیان ہی درندے رہتے ہیں جو مذموم مقاصد کے لیے پھولوں کو بے دردی سے مسل رہے ہیں۔

(Visited 1,632 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں