بھارتی وزیراعظم نریندر مودی بڑی مشکل میں پھنس گئے

نریندر مودی

آسٹن: مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر امریکی عدالت نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو طلب کرلیا۔

ہوسٹن کی ضلعی عدالت نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی، بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ اور لیفٹیننٹ جنرل کنول جیت کو مقبوضہ کشمیر میں بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور انسانیت سوز مظالم پر طلب کرلیا ہے۔ امریکی عدالت نے 21 کے اندر جواب داخل کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

مودی سرکار کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے، قابض بھارتی فوج کے نہتے کشمیریوں پر مظالم اور انسانی حقوق کی معطلی کے خلاف خالصتان تحریک آزادی کے رہنماؤں نے ہوسٹن کی عدالت میں معروف سکھ وکیل گرپتوانت سنگھ کے توسط سے بھارتی وزیراعظم اور دیگر 2 افراد کیخلاف درخواست دائر کی تھی۔

امریکی عدالت نے بھارتی وزیراعظم کو اس وقت طلب کیا ہے جب نریندر مودی دو روزہ امریکی دورے پر ٹیکساس پہنچے ہیں اور ہوسٹن میں ایک جلسہ عام سے بھی خطاب کیا ہے جس کے بعد وہ نیویارک جائیں گے اور اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ بھارتی حکومت کی جانب سے عدالت طلبی پر کسی قسم کا تبصرہ سامنا نہیں آیا ہے۔

پاکستان نریندرمودی کے طیارے کو اپنی فضائی حدود سے گزرنے دے، بھارتی حکومت کی درخواست

امریکی عدالت میں بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کی طلبی کا پہلا موقع نہیں ہے، پہلے بار وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد 2014 میں امریکا کے دورے پر بھی انہیں عدالت نے طلب کیا تھا تاہم اُس وقت بھارتی وزیراعطم کو گجرات میں مسلم کش فسادات پر طلب کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا ہے جب کہ مسلسل کرفیو نافذ ہے اور ذرائع آمد ورفت اور مواصلاتی نظام معطل ہیں۔ وادی میں کھانے پینے کی اشیاء کی قلت کا سامنا ہے اور جان بچانے والی ادویہ کا فقدان ہے۔

(Visited 108 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں